Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارت کا جنگی جنون

ویب ڈیسک جمعرات 07 مارچ 2019
بھارت کا جنگی جنون

پوری دنیا کی نظریں جنوب مشرقی ایشیاء پر جمی ہوئی ہیں‘ امریکہ سے یورپ تک ہر ملک تشویش میں مبتلا ہے‘ پاک بھارت جنگ ہوگی یا نہیں؟ یہ سوال ہر ملک میں زیر بحث ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز جاپان کا اہم ترین دورہ بھی بدلتی ہوئی تلخ جغرافیائی صورت حال کے پیش نظر منسوخ کردیا ہے۔ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی متوقع بھارتی حملے کے پیش نظر سیالکوٹ اور دوسرے محاذوں کا دورہ کرچکے ہیں۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجید انور خان نے بھی اپنے چاق و چوبند پائلٹس اور دوسرے عملے سے ملاقاتوں کا رائونڈ مکمل کرلیا ہے۔

بھارت 140 لڑاکا طیارے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہوائی اڈوں پر لے آیا ہے‘ 22 فروری کو بھارتی فوج نے ایک خفیہ مراسلہ میں ہزاروں جوانوں کو فوری طور پر مقبوضہ کشمیر اور پاکستانی سرحد کے قریب انٹرنیشنل بارڈر پر بھیجنے کا حکم جاری کیا تھا۔

بھارت میں پاکستان پر محدود جنگ مسلط کرنے کا نظریہ تقویت پکڑتا جارہا ہے‘ بعض مبصرین کے مطابق پاکستان کا بجٹ بھارتی دفاعی بجٹ سے بھی کم ہے‘ لہٰذا محدود جنگ پر اُٹھنے والے اخراجات پاکستانی معیشت کے لئے ناقابل برداشت اور حکومت کے لئے پریشان کن ہوں گے۔ ایک بھارتی میڈیا نے تو بیک وقت 140 طیاروں سے بڑا حملہ کرنے کا مشورہ دے ڈالا تھا۔

سابق بھارتی فوجی افسران نے خبردار کیا کہ اس کے نتائج ٹھیک نہیں نکلیں گے۔ بھارتی فوج جنگ سے بہت خوفزدہ ہے‘ بھارتی وزارت دفاع کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جبر و بربریت کی فضاء قائم کرنے والے پونے 7 لاکھ فوجیوں میں سے 50 ہزار نے چھٹی کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے تحریک آزادی کو دبانے والے ہزاروں بھارتی فوجی اور نیم فوجی دستے نفسیاتی امراض کا شکار ہوچکے ہیں۔س وشل میڈیا پر بھارتی سیکورٹی فورسز کے کئی سپاہیوں کی گفتگو اس خوف کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ سپاہی بھارتی حکمت عملی پر شدید نالاں ہیں‘ اسی لئے بھارت کو اب مزید فوج اپنی جنوبی ریاستوں سے لائن آف کنٹرول اور سیز فائر لائن پر لانا پڑے گی۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ بھارت لائن آف کنٹرول اور سیز فائر لائن کے پار چھوٹے موٹے حملے کرنا چاہے گا۔

اسی لئے 26 فروری کی بھارتی مگ 2000 طیارے آزاد کشمیر کی حدود میں دو‘ تین کلو میٹر تک اندر گھس آئے مگر پاکستانی ایف 16- طیاروں کے ٹیک آف کرتے ہی یہ طیارے اپنا ’’پے لوڈ‘‘ آف کرتے ہوئے واپس فرار ہوگئے۔ بھارتی طیاروں کی پسپائی کا اعتراف خود انڈین میڈیا نے 26 فروری کو ہی انٹرنیٹ ایڈیشن میں کرلیا تھا۔ ایک میڈیا گروپ کے مطابق ’’جیسے ہی پاکستانی طیاروں نے پرواز کی‘ بھارتی طیارے اپنی سرحدی حدود میں واپس بھاگ گئے۔‘‘ اسی بھارتی میڈیا نے یہ بے پرکی اُڑائی کی فضائی حملہ میں 2 سو سے 3 سو تک کا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ بعدازاں اس جانی نقصان کو کم پاکر مزید 50 کا اضافہ کرکے مرنے والوں کی تعداد 350 بتائی جانے لگی۔ جبکہ ایک شہری بھی شہید نہیں ہوا۔ پاکستان نے اس کے خلاف عالمی فورمز پر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت کے مضحکہ خیز دعوے کی عالمی میڈیا نے بھی تردید کی ہے۔ کیونکہ بالاکوٹ کا یہ علاقہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے بالکل کھلا ہے۔ پاکستان نے بھی یہاں میڈیا کو بھی لے جانے کا اعلان کیا تھا‘ ہوسکتا ہے ایک خوفناک جنگ چھیڑ چکا ہے۔ اسی طرح کی جنگ سابق سوویت یونین کے خلاف یورپ اور امریکہ نے بھی لڑی تھی۔ 1979ء میں افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد یورپی میڈیا نے جتنے افراد کے مرنے کی خبریں جاری کیں‘ ان سب کو اگر جمع کرلیا جائے تو پورا روس ختم ہوجائے‘ مگر بھارتی میڈیا نے تو فیک نیوز میں انہیں بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے نے بھی پاکستان کے اندر لائن آف کنٹرول کے پاس بھارتی طیارے کی دراندازی کی خبر بھارتی ووزیر زراعت گجندر سنگھ کے حوالے سے جاری کی ہیں۔ انہوں نے بھی پاکستان کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی طیارہ پاکستانی طیاروں کی پرواز کے ساتھ ہی ’’پے لوڈ‘‘ اُتارتے ہوئے بھارتی حدود میں واپس بھاگ گیا۔ اس بارے میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے 1:38پر تفصیلی خبر جاری کی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ’’بھارتی فضائیہ نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘ اخبار نے بھارتی سیکریٹری خارجہ کے دعویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس حملے میں ایک تنظیم کے کارکن بڑی تعداد میں ہلاک ہوگئے ہیں۔‘‘ حالانکہ ایک اور خبر رساں ادارے نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ’’پاک فضائیہ کے ایکشن لیتے ہی بھارتی طیارہ پے لوڈ آف کرتے ہی بھاگ نکلا۔‘‘

واشنگٹن پوسٹ نے اعتراف کیا کہ ’’پلوامہ حملہ سمیت کئی معاملات پر دونوں ایٹمی ممالک کے موقف میں فرق ہے۔ بھارت نے انٹرنیشنل بارڈر کی بجائے سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔‘‘ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ پاک فضائیہ کی جانب سے ’’بروقت اور موثر‘‘ جواب ملتے ہی بھارتی طیارہ ’’عجلت میں پے لوڈ آف کرتے ہوئے فرار‘‘ ہوگیا۔ بعدازاں ایک بھارتی افسر نے گزشتہ روز ٹوئٹر پر ایک تصویر اپ لوڈ کی جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ یہ تصویر حملے کے بعد ملبے کے ڈھیر میں بدلنے والی عمارت کی ہے۔ البتہ امریکی اخبار نے لکھا کہ اس واقعے میں کسی قسم کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ وزیرزراعت گوکھلے نے دعویٰ کیا کہ یہ دراندازی ٹھوس خفیہ معلومات کی بناء پر کی گئی تھی اور یہ احتیاطی حملہ ہے‘ یعنی کسی متوقع حملے سے بچائو کی ایک کارروائی ہے۔ بھارت اس قسم کے دعوے گزشتہ کئی مہینوں سے کررہا ہے۔ پاکستان میں بھارت کے نمائندوں کی ایک ملاقات قطر میں 6 اپریل سے 10 اپریل تک متوقع ہے۔

پاکستان اور ہندوستان پڑوسی ہیں اور روایتی حریف بھی۔ پچھلے ستر اکہتر برس کی تاریخ بتاتی ہے کہ دونوں ممالک نے زیادہ وقت حریفانہ طور اختیار کرتے اور مخمصانہ تیور دکھاتے ہوئے گزارا ہے۔

چار جنگیں ہی نہیں، لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی یا سرحدوں پر مسلسل جھڑپ جسے اب سرجیکل اسٹرائیک کہا جاتا ہے، کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ ان دنوں بھی دونوں ملکوں کے مابین ماحول کشیدہ اور فضا خراب ہے۔ ہندوستانی وزیراعظم نے گذشتہ دنوں جس طرح کے بیانات دیے، ان کی وجہ سے خطے پر جنگ کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
صورتِ حال اس حد تک تشویش ناک ہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ چند دنوں میں دو بار یہ بیان دیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تناو کو کم کرنے کے لیے کوشش کی جارہی ہے اور یہ کہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔ صرف امریکا ہی نہیں، کئی اور ممالک، مثلا چین، سعودی عرب اور ترکی نے بھی اس سلسلے میں نہ صرف اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، بلکہ دونوں ممالک کو ذمے دارانہ طریقے اور سفارتی عمل کے ذریعے حالات درست کرنے کی تاکید کی ہے۔ ظاہر ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں ملک جوہری طاقت رکھتے ہیں۔

حالیہ تنائو کی فضا اس وقت بنی جب پلوامہ میں ہندوستان کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی ایک گاڑی پر حملہ کیا گیا جس میں چالیس سپاہی جوان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ ہمیشہ کی طرح اس واقعے پر بھی ہندوستان نے سخت طیش اور نہایت جارحانہ رویے کا اظہار واقعے کی تحقیقات کے بغیر کرتے ہوئے پاکستان پر تخریب کاری کا الزام لگایا اور پاکستان کو اس میں ملوث قرار دیا۔ یہ الزام ہندوستان کی اعلی ترین سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے لگایا گیا، جس کے نتیجے میں یک لخت دونوں ملکوں میں حربی تصادم کا ماحول بن گیا۔

بعد ازاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اس واقعے کی نہ صرف مذمت کی، بلکہ اسے دہشت گردی کا تسلسل بھی قرار دیا جس نے لگ بھگ دو دہائی سے زیادہ عرصے سے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور پاکستان، ہندوستان کے ساتھ ساتھ افغانستان اور ایران بھی جس کا ہدف بنتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کے جنگ کی دھمکی پر بھی ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایسی صورتِ حال میں پاکستان اپنے دفاع کے بارے میں حکمتِ عملی کا سوچے گا نہیں، بلاتامل اور بلاتاخیر ایسا ہر ممکن اقدام کرے گا۔

اس صورتِ حال پر عالمی ذرائع کی مسلسل توجہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں، اور نہ ہی اس توجہ کا سبب یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان روایتی حریف ہیں اور ان کے درمیان تناو کی فضا بنتی رہتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس خطے میں جنگ کے بادلوں کا امڈ آنا عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دیتا ہے۔ اس لیے کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں، اور ان کے درمیان اگر خدانخواستہ واقعی جنگ چھڑتی ہے تو وہ اس علاقے کی آبادی ہی کے لیے ہول ناک تباہی کا ذریعہ نہیں ہوگی، بلکہ اس کی لپیٹ میں دنیا کا اور بھی خاصا بڑا علاقہ آئے گا اور اس کے اثرات تو بہت دور دور تک پہنچیں گے۔ اس لیے عالمی برادری یا امریکی صدر کی طرف سے آنے والے بیانات دراصل کروڑوں انسانوں اور ایک وسیع علاقے تک پھیل جانے والے حالات پر تشویش کا اظہار ہے۔

حیرت انگیز سائنسی ایجادات اور دنیا کے وسیع و عریض علاقے کے تجارتی منڈی بن جانے کے باوجود، اب یہ حقیقت عام آدمی کی نظروں سے بھی پوشیدہ نہیں کہ اس دور کا سب سے بڑا اور نہایت منافع بخش کاروبار دراصل اسلحے کا کاروبار ہے۔ تاہم اسلحے کی تجارت کرنے والے ممالک بھی اس سچائی سے واقف ہیں کہ اب دنیا کے کسی بھی خطے میں جنگ چھڑنے اور خاص طورپر جوہری اسلحے کی جنگ کا مطلب صرف اس خطے کی نہیں، بلکہ ایک بڑے علاقے تک پھیلی ہوئی جنگ ہوگا اور اس کا نقصان پہلی دوسری دونوں عالمی جنگوں کے مجموعی نقصان سے تو اس قدر زیادہ ہوگا کہ فی الحال اس کا تخمینہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔

اب جہاں تک بات ہے پلوامہ کے واقعے کی اس کے بارے میں کوئی بھی ہوش مند اور انسانی احساس رکھنے والا شخص افسوس اور مذمت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے کہ بے مقصد انسانی جانوں کا زیاں کسی کے لیے اور کسی بھی صورت میں قابلِ قبول یا قابلِ برداشت نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ انسانی زندگی خواہ وہ کتنی ہی عام اور ادنی سطح پر ہو، اس کائنات کی بہرحال سب سے بیش قیمت شے ہے۔ اس کا کوئی مول ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ الگ بات کہ اس دنیا کے حالات اور حقائق روز طرح طرح سے اس سچائی کی نفی کرتے ہیں۔ اس لیے کہ دنیا میں اب جتنی سہولت سے اسلحہ پھیل چکا ہے، اس طرح تو بچوں کے کھلونے بھی نہیں ملتے۔ پلوامہ میں ہونے والے واقعے کو پاکستان میں بھلا کیوں کر سراہا جاسکتا تھا، یا اسے کس طرح کامیابی کا نشان سمجھا جاسکتا تھا؟

ساری دنیا جانتی ہے، پاکستان گزشتہ دو عشروں سے دہشت گردی کے خلاف مسلسل اور سخت جنگ میں مصروف ہے۔ دہشت گردی نے دنیا کے ایک بڑے رقبے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، لیکن پاکستان میں اس نے جو مشکلیں اختیار کیں اور پاکستان جس طرح کے حالات سے دوچار ہوا، کوئی دوسرا ملک نہیں ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سیاسی مقتدرہ اور عوام دونوں نے پوری دنیا میں سب سے زیادہ قیمت چکائی ہے۔ یہ قیمت معیشت، سفارت، امنِ عامہ اور ترقیات جیسے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے سارے ہی شعبوں میں بہ یک وقت ادا کی گئی ہے۔ گذشتہ چند برس سے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مکمل کریک ڈاون آپریشن جاری ہے۔ پاکستان کو اس حوالے سے اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر مختلف اور متعدد چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

(242 بار دیکھا گیا)

تبصرے