Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 24 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ٹیوشن سینٹر

ویب ڈیسک بدھ 06 مارچ 2019
ٹیوشن سینٹر

علی ہاتھ میں پکڑی فائل کو چارپائی پہ پٹختے ہوئے خود بھی تھکا تھکا سا چارپائی پہ گرگیا کیا ہوا علی؟ آج بھی نوکری کا کہیں سے آسرا نہیں ملا؟ علی کو پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے اس کی ماں نے اس کے مایوس چہرے سے روز کا اندازہ لگایا نہیں امی۔ مجھے لگتا ہے کہ نوکری میری قسمت میں ہی نہیں ہے مجھے تو اپنی ساری پڑھائی ضایع ہوتی دکھائی دے رہی ہے نہیں بیٹا ایسے نہیں کہتے مایوس نہیں ہوتے امی کے ٹوکنے پہ وہ خاموش ہوگیا۔علی آج پڑوس سے صابرہ اور جمیلہ آئی تھیںوہ کہہ رہی تھیں کہ تم ان کے بچوں کو تھوڑا سا ٹائم پڑھا دیا کرو پڑوس کے بچے؟ یہ مجھے کیا ٹیوشن فیس دیں گے پہلے سے شکستہ دل علی کا ماں کی بات پہ منہ بن گیاعلی! یہ آج کل تمہیں کیا ہوتا جارہا ہے مت بھولو کہ تم بھی کبھی انہیں بچوں کی طرح پڑھائی میں مدد کے لیے ادھر ادھر پھرتے تھے ماں کے سچائی بیان کرنے پر علی کو بے اختیار بچپن کے وہ دن یاد آگئے جب پڑھائی میں مشکل پیش آنے کی وجہ سے غربت کے باعث اس کو کم فیس پر کوئی ٹیوشن پڑھانے کو تیار نہیں تھا۔ اُس نے ماں باپ کی دعاؤں اور اپنی انتھک محنت کے بل بوتے پہ ایم فل کیا تھا وہ اپنی سوچ پہ شرمندہ ہوگیا۔
دیکھو بیٹا تم آج کل ویسے بھی فارغ ہو اس لیے اگر تم اپنی تعلیم کا یہاں پہ فائدہ دیتے ہوئے بنا کسی لالچ اور غرض کے ان غریب بچوں کی پڑھنے میں مدد کردو تو کیا پتا تمہارے اس عمل سے خوش ہوکر تمہارے روزگار کے لیے کوئی در وا کردے ماں کی بات پہ اس کی آنکھوں میں چمک آگئی اور اس نے دل کی رضامندی سے رات کا ڈیڑھ گھنٹہ محلے کے بچوں کو پڑھانے کی حامی بھرلی
بچوں کو پڑھانے میں علی کو بہت مزہ آنے لگا۔ ان بچوں کو پڑھاتے اسے ان باتوں کو بھی سیکھنے، سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کا موقع مل رہا تھا جنہیں وہ زمانہ طالبعلمی میں صرف پڑھتا تھا۔ وہ تاحال دن کو نوکری کے لیے بھٹک رہا تھا لیکن رات کو اس سے مفت میں ٹیوشن پڑھنے والے بچوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ دن کو ہونے والی خواری اور تھکن کے بعد رات کے ان ڈیڑھ گھنٹوں کے پرلطف لمحات نے اس کے ذہن میں ایک نیا خیال ڈالاکچھ دنوں سے علی بہت پریشان اور الجھا الجھا سا پھررہا تھا۔ بچوں کو پڑھانے میں بھی اس کی عدم دلچسپی صاف ظاہر ہورہی تھی۔ آج تو اس نے گھر آئے بچوں کو بھی چھٹی دے دی۔ بچوں کے جانے کے بعد وہ سر تھامے بیٹھا تھا کہ ٹیوشن پڑھنے آنے والے بچوں تنویر اور توقیر کے والد شبیر کے سلام کرنے پہ سر اٹھایا۔وعلیکم السلام۔ شبیر چاچا آپ؟ بیٹھیے۔ علی نے چارپائی پہ ان کے لیے جگہ بنائی۔کیا بات ہے بیٹا؟ آج کل کوئی پریشانی ہے؟ارے نہیں چاچاایسی کوئی بات نہیں۔ علی نے پھیکی ہنسی سے انہیں ٹالنا چاہاپریشانی بتانے سے اگر ختم نہیں ہوتی تو دل کا بوجھ ضرور کم ہوجاتا ہے سو اگر اعتماد کرو تو مجھے بتادو۔ شبیر چاچا کی بات پہ اس کے دل کو حوصلہ ملادراصل چاچا آپ کو تو پتا ہے کہ اتنے وقت سے ادھر ادھر بھٹکنے کے باوجود مجھے کہیں نوکری نہیں مل رہی تو میں نے سوچا کہ کیوں نا کوئی کوچنگ سینٹر کھول لوں سو ادھر ادھر معلومات کرائی۔ اب کوچنگ سینٹر کے لیے ایک جگہ پسند تو آئی ہے وہاں پہ اس کے کامیابی کے چانس بھی زیادہ ہیں لیکن ایڈوانس، کرائے اور اوپر کے کچھ سامان کے لیے تقریبا ایک لاکھ چاہئیں۔ گھر کے حالات تو آپ کے سامنے ہیں۔ دوست احباب ایک لاکھ کا قرضہ دینے کا رسک لینے کو تیار نہیں سود پہ قرضہ تو قرضے سے آدھا تو سود ہے اب سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں؟
علی کی پریشانی سننے کے بعد شبیر تھوڑی دیر سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد ابھی آیا کہہ کر چلے گئے جبکہ علی چارپائی پہ لیٹ کر آسمان کے تاروں میں اپنے نصیب کا تارہ ڈھونڈنے لگایہ لو بیٹا 5منٹ کے بعد وہ دوبارہ اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئے پورا ایک لاکھ ہے بیٹی کی شادی کے زیور بنوانے کے لیے کمیٹی ڈالی تھی اس کے کل پیسے ملے تھے۔ اب بیٹی کی شادی میں تو ایک سال پڑا ہے اس لیے ان پیسوں سے پہلے تم اپنی ضرورت پوری کرلو۔ تمہیں کامیاب کرے لیکن چاچاعلی شبیر چاچا سے پیسے لینے میں کچھ ہچکچایاکیوں بیٹا جب تم بنا کسی لالچ اور غرض کے ہمارے بچوں کی پڑھنے میں اتنی مدد کررہے ہو تو کیا ہم تم کو اس مشکل میں اکیلا چھوڑ سکتے ہیں؟چاچا میں یہ قرض آپ کو جلد سود سمیت واپس کردوں گا شبیر چاچا کے بے غرض خلوص پر علی کی آنکھوں میں پانی آگیانہ بابا سود جیسی حرام چیز کو میں نہیں ہاتھ لگاؤں گا
پھر اللہ کا نام لے کر علی نے اپنے جیسے ہی چند دوستوں کو ساتھ ملا کر کوچنگ سینٹر کھولا جس کی روز بروز ترقی میں ا للہ کی مدد کے بعد ماں باپ اور پرخلوص اپنوں کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ان سب دوستوں کی انتھک محنت اور علی کو ٹیوشن سے حاصل ہونے والی معلومات کا بھی بڑا حصہ تھا سینٹر سے ہونے والی آمدنی کی بدولت علی نے ڈیڑھ سال میں ہی نہ صرف اپنے محسن شبیر چاچا سے لیا ایک لاکھ نہایت احسان مندی سے انہیں واپس کردیا بلکہ اپنے علاقے کے سامنے کسی خدا ترس انسان کے زمین خرید کے دینے پر وہاں پر چھوٹا سا ٹیوشن سینٹر بھی بنالیا جہاں پہ وہ کم وسائل کی وجہ سے تعلیم اور ٹیوشن سے محروم اپنے محلے کے بچوں کے ساتھ ساتھ دوسرے غریب بچوں کو بھی پوری دلجمعی کے ساتھ مفت میں ٹیوشن پڑھانا اپنا فرض سمجھتا تھا۔

(143 بار دیکھا گیا)

تبصرے