Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 25 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پاک بھارت 37ارب ڈالر کی تجارت ہوسکتی ہے

ویب ڈیسک بدھ 06 مارچ 2019
پاک بھارت 37ارب ڈالر کی تجارت ہوسکتی ہے

اسلام آ باد…قیام پاکستان سے لیکر اب تک 72برسوں میں پاک بھارت باہمی تجارت میں تغیرات کی وجہ سے بڑی مشکل سے تجارتی حجم 2ارب ڈالر تک پہنچ پایا ،جبکہ دونوں ایٹمی طاقتوں کی 37ارب ڈالر سالانہ کی باہمی تجارت باآ سانی کرسکتے ہیں

وزار ت کامرس کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق 1948- 49میں پاکستان کی مجموعی ایکسپورٹ کا 23.6فیصد بھارت ہوتا تھا او رپاکستان کی مجموعی امپورٹ کا 50.6 فیصد حصہ بھارت سے آ تا تھا۔ لیکن جیسے جیسے پاک بھارت تعلقا ت میں کشیدگی ، جنگ اور دوسری رکاوٹیں رہیں اس میں کمی آ تی گئی اور اس وقت مجموعی تجارتی حجم دو ارب ڈالر تک نیچے آ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاک بھارت تجارتی لین دین شروع‘ تنائو برقرار

اعلیٰ افسر کے مطابق تاریخ بتاتی ہے کہ پاک بھارت کی باہمی تجارت کو پہلا جھٹکا 1949 میں لگا جب پاکستانی فائنانس منسٹر غلام محمد نے اکتوبر کے مہینے میں بھارتی اشیاء فہرست میں کمی کردی جس کے رد عمل پر بھارتی وزیر تجارت نے لوک سبھا کو بتایا کہ بھارت نے پاکستان کو کوئلے کی فروخت معطل کردی ہے کیونکہ پاکستان نے بھارت کی طرف سے خریدی گئی پٹ سنکا زخیرہ روک لیا ہے،اس کے بعد 1965اور 1971کی جنگوں نے پاک بھارت تجارت صفر تک کردی۔

ورلڈ بنک کے ریکا رڈ کا حوالہ دیتے ہوئے افسر کا کہنا تھا کہ اگر جنوبی ایشیاء میں کھڑی ہونے والی رکاوٹیں ختم کردی جائیں تو پاک بھارت تجارت 37ارب ڈالر سالانہ تک باآ سانی پہنچ سکتی ہے۔پلوامہ حادثے سے پہلے پاک بھارت باہمی تجار ت اڑھائی ارب ڈالر تھی جس میں بھارت سے امپورٹ 1.7ارب ڈالر تھی جبکہ ایکسپورٹ 350ملین ڈالر تھی،کشیدگی اور جنگ کی سی صورتحال کی وجہ سے بھارت نے اچانک پاکستانی اشیاء پر 200 فیصد کسٹم ڈیوٹی بڑھادی کیونکہ بھارت نے پاکستان کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ ختم کردیا۔

اب پاکستانی اشیاء کی ایکسپورٹ دو سو فیصد کسٹم ڈیوٹی کے خاتمے کی منظر ہے، بھارت کے اس اقدام کے جواب میں پاکستان نے بھارت کی 90اشیاء کو منفی فہرست میں ڈال دیا جس سے بھارتی امپورٹ کم ہوکر پانچ سے چھ سو ملین ڈالر تک ختم ہوگئی۔

باوجود اس کے پاکستان کے چوٹی رہنمائوں کی رضامندی کے بغیر بھارت سے افغانستان جانے کی راہداری ختم کردی ،اس وقت تک پاک بھارت باہمی تجارت کا کوئی باقائدہ معاہدہ نہیں ہے بلکہ سائوتھ ایشیاء فائنانس ٹریڈ اکارڈ کے تحت تجارت ہورہی ہے۔ورلڈ ٹریڈ آ رڈر (WTO) کے رکن کے طور پر ممالک پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دیتے ہیں۔

(88 بار دیکھا گیا)

تبصرے