Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 10 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مردے کا انتقام

قومی نیوز بدھ 06 مارچ 2019
مردے کا انتقام

پھر وہ تھیلا ایک سائیڈ پر رکھ کر قبر کو بند کرنے لگاکچھ وقت کی محنت کے بعدقبر بند ہو گئی تب گورکن نے مٹی پھر سے قبر پر ڈالی ا ور ہاتھ جھاڑ تا ہوا کہنے لگایہ لو صاحب اپنی مطلوبہ چیز آصف اب اس تھیلے کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بھی گھبرارہا تھا مگر حوصلہ کرکے اس نے تھیلا جیسے ہی پکڑا تو اس کو لگا جیسے اس کی اپنی زندہ سلامت کھوپڑی جو اس کے کاندھوں کے اوپر تھی اس میں گرمی سی بھر گئی ہوگرمی لگنے کا یہ سلسلہ جلد ہی ختم بھی ہو گیامگر ان دونوں کے دل اب بھی گھبراہٹ سی محسوس کررہے تھے گورکن کے مکان تک آنے پر اس نے اس کوباقی پانچ سو روپے پکڑ ا دیے بائیک اسٹارٹ کرکے کھوپڑی والا تھیلا موٹر سائیکل کی ایک سائیڈ پر لٹکا یا
جب وہ رضوان کے گھر کے پاس آئے تو رضوان اُتر گیاتب آصف نے کھوپڑی رضوان کو پکڑا دی پہلے تو رضوان ڈرتا رہا مگر جب آصف نے اِس سے کہاتمہارے پاس لاک والی الماری ہے تم اس کو الماری میں رکھ کر لاک لگا دینامیری الماری کا لاک خراب ہے تو اس کو گھر کا کوئی بھی فرد دیکھ سکتا ہے رضوان یہ وجہ سن کر کھوپڑی اپنے پاس رکھنے پر مان گیاگھر کے اندر جا کر اس نے سب سے پہلا تھیلا الماری میں رکھ کر لاک لگایاکھانا وغیرہ کھا کر ابھی وہ سونے ہی جا رہا تھا کہ اچانک اْس کو زوردار چیخ کی آواز سنائی دی وہ گھبرا کر اپنے کمرے سے باہر نکلا تو اس کے بڑے بھائی اپنے چھوٹے بیٹے کو زمین سے اٹھاتے ہوئے نظر آئے کیا ہوا بھائی جان ؟گھبرا کے بولااِسی وقت اِس کو اپنے بھتیجے کے سر سے خون نکلتا دکھائی دیا۔یہ کیا ہوا بھیا؟وہ چلا یا جلد ہی اسے معلوم ہو گیا کہ اس کا بھتیجاصحن سے اندر بر آمد ے میں داخل ہورہا تھا کہ اِس کے سر پر چھت سے سیمنٹ کا درمیانی ٹکڑا ٹوٹ کر آلگاجس کی وجہ سے اس کے سر پر چوٹ آئی فٹا فٹ محلے کے مقامی ڈاکٹر کو بلایا گیا جس نے بچے کو اپنے چھوٹے سے کلینک پر لے جا کر اس کی مرہم پٹی کی۔
خدا کا شکر ہے کہ سر کی ہڈی ٹوٹی نہیںمقامی ڈاکٹر بولابچے کو گھر واپس لایا گیا تو کافی رات ہو چکی تھی بچے کو جو دوادی گئی تھی اِس میں سکون کی دوا شامل ہونے کی وجہ سے وہ جب سونے لگا تو رضوان خدا کا شکر ادا کرتا ہوا اپنے کمر ے میں آگیا کہ بچہ بچ گیا ہے کمرے میں آکر اس کو ایک عجیب سا خیال آیا کہ آصف اور اْس نے چونکہ مردے کی کھوپڑی نکا لی تھی قبر سے تو ہو سکتا ہے گھر میں بچے کو جوچوٹ لگی ہے اِس کے سر پر تو کیا یہ کوئی عذاب یا انتقام ہے مردے کا ؟ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے موبائل پر آصف کا فون آنے لگاآصف نے فون پر سب سے پہلے ننھے میاں کی خیریت معلوم کی۔تب ہی رضوان نے اس کو اپنا یہ خیال بتایاہو سکتا ہے کہ مردے کی روح ہم سے بدلہ لے رہی ہو ؟جب ہی تو اِس کے بھتیجے کے سر پر چوٹ لگی ہے آصف یہ سن کر بہت ہنساارے بابا یہ 4G اور 21ویں صدی ہے یہاں روحیں وغیرہ نہیں انتقام لیتی؟ویسے بھی یہ کوئی سن 1800 کا زمانہ تو ہے نہیں جہاں تم مجھے مردے اور روحوں سے ڈرا رہے ہو ؟جناب رضوان صاحب ؟مستقبل کے ڈاکٹر صاحب اگر تمہارا یہ ہی حال رہا تو تم آگے ڈاکٹری کیسے کرو گے ؟تم تو اپنے مریض کو دیکھ کر اسپتال سے بھاگ جا ؤ گے آصف رضوان کی بات پر دل کھول کر ہنساآخر میں اس نے یہ کہتے ہوئے فون بند کر دیاکھو پڑی نکال کر سامنے رکھ کر اس کی ساخت پر غور کرنے کا منصوبہ میرا تھا اگر مردے کو انتقام لینا ہے یا ڈرانا ہے تو مجھ کوڈرائے۔اوکے گڈبا ئے ڈاکٹر رضوان کل ملیں گے میں دس بجے آپ کی طرف آؤں گایہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیارضوان نے بھی فون بند کرکے ایک طرف رکھا اور پھر وہ یہ سوچتے سوچتے ہی سو گیا کہ میں بلاوجہ ڈررہا ہوں بھلا جو زمانہ آج کل چل رہا ہے اتنے جدید زمانے میں روحوں اور مردوں کا کیا ڈررضوان کا فون ایک زور دار آواز سے بج اُٹھا وہ گہری نیند سے تھوڑا سا جا گا پھر اْس نے ایک ہاتھ آگے کرکے یہ دیکھنے بنا ہی کہ اس سخت خراب موسم میں کون اِس کو کال کر رہا ہے اس نے فون آف کر دیا اور سو گیاابھی اْس کو سوئے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ اس کے کمرے کا دروازہ ایک دھماکے سے کھلااْس کے بڑے بھائی کی بوکھلائی ہوئی آواز نے رضوان کو جگادیااْس کے سوئے ہوئے دماغ میں رضوان کے بڑے بھائی کی آواز جب آئی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔کیا ہوا بھیا؟رضوان رضوان جلدی اٹھوگہری نیند سے جاگے رضوان کے دماغ میں یہ بات آئی کہ کہیں اْس کے بھتیجے کی طبیعت تو مزید خراب نہیں ؟
بھیا کیا وسیم ٹھیک ہے ؟اْس نے پوچھا
ہاں ہاں وسیم ٹھیک ہے
تم جلدی باہر آؤ آصف کی طرف جانا ہے
آصف کی طرف کیوں کیا ہوا ؟اس وقت تو صبح کے پانچ بجے ہیں
رضوان زیادہ سوال مت کرو لگتا ہے تمہارا دماغ ابھی تک سورہا ہے تم کو آصف کے ابانے فون بھی کیا تھا مگر تم نے فون ہی آف کر دیا
تب انہوں نے ہم کو ایمر جنسی اطلاع دی آصف اب اس دنیا میں نہیں رہابھیا نے ایک بم رضوان کے اوپر گرادیاآصف آصف کو کیا ہوا بھیا ؟وہ جنونی انداز سے چلایاصبر کرو میرے بھائی آصف رات کمرے میں سویا تھا کہ اچانک اْس کے کمرے سے زور دار آواز آئی تو اْس کے دونوں بھائیوں اور ابا اْس کے کمرے میں جب گئے تو انہوں نے ایک ہولناک منظر دیکھا کہ کمرے کی چھت سے پنکھا ٹوٹ کر آصف کے سرپر لگا ہوا ہے اور بے چارہ آصف سوتے میں ہی اپنی کھوپری ٹوٹ جانے سے یہ د نیا چھوڑ کر چلا گیارضوان نے یہ ہولناک بات سنی تو اْس کا دل بھی ڈولنے لگابے ہوش ہوتے ہوتے اْس کے دماغ میں صرف یہ بات ہی چل رہی تھی کہ جس مردے کی کھوپڑی اْن دوستوں نے نکالی تھی آخر کار اْس نے اپنا انتقام آصف سے بھی لے لیااب اْس کی باری ہے آصف کی کھوپڑی تو ٹوٹ گئی اور وہ دنیا چھوڑ گیا مگر مردہ اب اْس کو نہیں چھوڑے گاجب رضوان کو ہوش آیا تو اْس کے عزیز ترین دوست کا جنازہ تیار تھا اگر چہ اْس کی طبیعت بھی بہت خراب تھی مگر اْس نے ضد کرکے اپنے دوست کی ڈیڈباڈی دیکھی چہرہ تو کپڑے کے نیچے چھپا دیا گیا تھا کیونکہ کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹ جانے سے چہرہ دیکھنے کے قابل نہیں تھا
اتفاق دیکھیں آصف کا جنازہ بھی اْس کی قبر ستان میں گیا جہاں سے 24گھنٹے پہلے کھوپڑی نکال کر لے گیا تھا اور اْس کی قبر بھی اْس ہی قطار میں تھی جس کے شروع میں آصف اور رضوان ایک پرانی قبر سے کھوپڑی نکال کر لے کر گئے تھے آصف کے جنازے پر رضوان کو تو نہ لے جایا گیا کہ بے پناہ صدمے سے اْس کی طبیعت خراب تھی آصف کی المناک موت لوگوں کے لیے تو پنکھا گرنے سے ہوئی تھی مگر صدمے سے گم صم رضوان اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ پنکھا بھی مردے کے انتقام کی وجہ سے گرا تھا اور گرا بھی ٹھیک اْسی جگہ تھایعنی کھوپڑی پر مردے کی بھی وہ کھوپڑی ہی نکال کر لائے تھے آصف کی موت کے تین چار دن بعد رضوان کی طبیعت قدرے بہتر ہوئی تو اْس نے کھوپڑی والا تھیلا الماری سے نکالا
تب اچانک اْسے محسوس ہوا کہ کھوپڑی کی آنکھوں کی جگہ سے روشنی سی نکل رہی ہے اس نے باہر آکر بائیک اسٹارٹ کی گھر والوں سے بہانہ بنا کر قبر ستان والی سڑک کی جانب آگیاقبر ستان میں آکر اْس نے جب گورکن کو تلاش کیا تو معلوم ہوا وہ قبر ستان کے جنوبی کونے میں کام کررہا ہے رضوان کا یہ پروگرام تھا کہ آج وہ کھوپڑی دے جائے اورتین چار دن تک آکر آصف کی قبر پر بیٹھ کر کافی دیر قرآن پاک پڑھے گورکن جیسے ہی اْس کو ملاپہلے تو اْس نے آصف کی المناک موت پر بے پناہ افسوس کا اظہار کیاپھر جب رضوان نے اْس کو کھوپڑی رات کو قبر پھر سے کھول کر اْس میں رکھنے کا کہا تو وہ حیران ہوااْس نے پوچھایہ تو آپ کو میڈیکل کے کاموں میں چاہیے تھی اب کیوں واپس رکھنی ہے رضوان نے بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ اْ س کو اب کالج والوں نے اپنے پاس سے انسانی ڈھانچے کے حصے دے دیے ہیںتو اب یہ اْس کو درکار نہیں
صاحب گورکن کی آواز سے وہ دنیا میں واپس آگیایہ تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ کھوپڑی واپس رکھ رہے ہیںیہ تو آصف صاحب کے بار بار کہنے اور واقفیت کی وجہ سے میں نے نکال دی تھی ورنہ ایسا کرنا بہت گناہ ہے مردہ بھی بے چین ہو جاتا ہے۔ٹھیک ہے قمر دین تم یہ کھوپڑی والا تھیلا اور یہ رکھو 500روپے تم آج ہی رات کو قبر کھول کر اس کو اندر رکھ دینااور میرے نمبرپر اس کو مردے کے پاس رکھ کر ایک تصویر بنا کر مجھے ارسال کر دینا تا کہ مجھے اطمینان ہو جائے او کے صاحب گورکن نے تھیلا اور پانچ سو روپے پکڑے اور اْن کو اپنی بیٹھک کی الماری میں رکھنے چل پڑااِدھر رضوان قبرستان کے مین گیٹ پر کھڑی اپنی بائیک کو اسٹارٹ کرکے جب واپس مڑنے لگا تو اسے ایک قبر کا کتبہ نظر آیابالکل نئی نئی قبر پر لگے کتبے پر لکھا تھاآصف اظہر والد اظہر شیخ تاریخ وفات 28جولائی‘یہ تازہ قبر کھوپڑی کے انتقام کا ثبوت تھی

(391 بار دیکھا گیا)

تبصرے