Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 16 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ابھی نندن کو ۔۔۔ ابھی کیوں چھوڑا

ویب ڈیسک هفته 02 مارچ 2019
ابھی نندن کو ۔۔۔ ابھی کیوں چھوڑا

بھارتی ہوا باز ابھی نندن کی رہائی اس وقت میڈیا پر سب سے زیادہ موضوع بحث ہے صرف میڈیا پر ہی نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کے عوام اورخواص بھی ابھی نندن کی رہائی پر اپنے اپنے انداز میں تبصرے اور تجزیے اور بحث و مباحثہ کررہے ہیں ایک جانب تو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ابھی نندن کی رہائی کو سراہا جارہا ہے اور خطہ میں امن کیلئے عمران خان کو اس فیصلے پرنوبل انعام دیئے جانے کے مطالبے اور تجاویز بھی سامنے آرہے ہیں

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وزیر اعظم کا یہ اقدام نہ صرف خطہ میں امن کے قیام میں مدد گار ہوگا جبکہ ساری دنیا میں پاکستان کے اس عمل کو ایک بہترین فیصلے کے طور پر مانا جارہا ہے تاہم اس فیصلے پر تنقید اور اعتراض بھی کیا جارہا ہے سب سے بڑا اعتراض اور تنقید یہ بھی کی جارہی ہے کہ ابھی نندن کو ابھی کیوں چھوڑا یقینا ابھی نندن کو رہا تو کرنا تھا لیکن بیشتر لوگوں کی رائے ہے کہ ابھی نندن کی رہائی کے عوض پاکستان کو بھی اپنے کچھ مطالبات منوانا چاہیئے تھے

یا جس طرح پاکستان نے بھارت کے 2طیارے گراکر بھارت کو کرارہ جواب دیا تھا اسی طرح ابھی نندن کی رہائی کے عوض بھی کچھ ایسا کیا جاتا کہ پاکستان کو صرف زبانی تعریفوں کے بجائے عملی فائدہ ہوتا بھی نظر آتا اس حوالے سے ایک خیال یہ بھی ہے کہ کم از کم پاکستان بھارت سے یہ بات تسلیم کروالیتا تھا یا دنیا کو باور کرادیتا کہ بھارت نے جارحیت کی اور پاکستان کو اس بات پر مجبور کیا کہ پاکستان اپنے دفاع میں اس کا جواب دے، پاکستان نے جس روز بھارت کے 2طیارے گرائے اور بھارتی ہوا باز کو حراست میں لیا وہ دن پاکستان کا دن تھا پاکستان کے اس کرارے جواب پر جہاں بھارت میں صف ماتم بچھ گئی وہیں پاکستان میں جشن کی کیفیت تھی یہ جشن اس خوشی سے بھی کہیں زیادہ تھا جو عام طور پر پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت کی ٹیم کو شکست سے دوچار کرکے حاصل ہوتی ہے پاکستان کی اس جوابی کارروائی کو پاکستان کی فتح بھی قرار دیا گیا

جبکہ فتح تو جب ہوتی جب جنگ ہوتی، لیکن اللہ نہ کرے کہ ایسا موقع آئے کہ جنگ ہو، اس لیئے کہ جنگ میں فتح و شکست نہیں ہوتی، نقصان ہی نقصان ہوتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس نازک صورت حال میں بھارتی ہوا باز کو رہا کرنے کا اعلان کیا تاکہ دونوں ملکوں میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے سے بچا جا سکے اور پاکستان کی جانب سے امن کاواضح اور عملی پیغام جاسکے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خیر سگالی کے ان جذبات کا اچھا اثر ہوا، اور نہ صرف پوری دنیا بلکہ بھارت میں سمجھ دار طبقے نے پاکستان کے اس عمل کا خیر مقدم کیا یہ الگ بات ہے کہ بھارتی میڈیا نے اپنی روایتی پاکستان دشمنی کو سامنے رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے خیر سگالی کے اس عمل پر بد نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کی بزدلی سے تعبیر کیا

اور یہ تبصرے، تجزیے اور خبریں پھلائی گئی ، پاکستان ڈر گیا اور پاکستان خوف زدہ ہو کر بھارت کی جانب سے بھارتی ہواباز کی رہائی پر زور ڈالے بغیر ہی اس کو رہا کررہا ہے ایک تاثر یہ بھی ہے کہ بھارتی ہوا باز کی رہائی کیلئے عالمی دبائو بھی تھا، یقینا ایسا ہوگا اس لیئے کہ جنگ کے دوران اس طرح کے قیدیوں کو آخر کار رہا کرنا ہوتا ہے پاکستان کے اس عمل سے عالمی برادری میں بھی ایک اچھا تاثر گیا ہے تاہم تمام تر اچھائی کے باوجود بھارت جیسے ملک کیلئے ہم جتنا بھی اچھا کرلیں اس نے ماننا نہیں ہے، بھارت جو اکثریتی ہندوئوں کا ملک ہے ہندوئوں کے بارے میں بڑی پرانی کہاوت ہے کہ بغل میں چھری اور منہ پر رام رام یہ مثال برسوں سے ہندوئوں کیلئے دی جاتی ہے اور ایساہی ہے اس لیئے ہمیں اس ہندو بینئے سے ہر حال میں ہوشیار رہنا ہے اور ان پر احسان کرنے کے بعد بھی یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ وہ احسان کا بدلہ کسی احسان یا اچھائی کی صورت میں دیگا، جہاں ایک جانب وزیر اعظم عمران خان کے اس خیر سگالی کے عمل کو سراہا جارہا ہے تو یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بھارتی ہواباز کو رہا کرنے کی آخر اتنی جلدی کیا تھی نندن کو ابھی تو صرف چائے پلائی تھی کچھ روز اور اسے رکھ کر اس کی مزید مہمان نوازی کرتے، صرف چائے پلانے پر ابھی نندن نے پاکستان کی اتنی تعریف کی ہے اگر کچھ روز رکھ کر اس کی مزید خاطر مدارت کرتے تو ہو سکتا تھا کہ وہ بھارت جانے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان میں رہنا ہی پسند کرتا

ابھی نندن کی اس قدر جلدی اور عجلت میں رہائی پر پاکستان سوشل میڈیا پر بڑے دلچسپ تبصرے کرنے کے ساتھ ہی تمسخر اڑانے کے انداز میں بھی باتیں کی گئیں اس حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ ٹوئٹ بھی آئی کے اتنی جلدی تو پولیس موٹر سائیکل بھی نہیں چھوڑتی جبکہ سیاسی طور پر بھی سیاست دانوں اور سیاسی کارکنوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہ کہا گیا کہ شکر ہے کہ اس وقت نواز شریف ملک کے وزیر اعظم نہیں ہیں ورنہ پی ٹی آئی کے لوگ جینا حرام کر دیتے۔ اس طرح یہ پوسٹ بھی آئی کہ بھارتی ہوا باز ابھی نند ن کی اتنی جلدی رہائی کے اعلان پر وزیر اعظم عمران خان کا ایک یوٹرن تو بنتا ہے اس حوالے سے لوگوں کا یہ کہنابھی تھا کہ جہاں عمران خان نے اتنے یوٹرن لیئے ہیں پاکستان کے عوام کو خوش کرنے کیلئے ایک یوٹرن اور لے لیتے

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان بھارتی ہوا باز کی رہائی کیساتھ ساتھ اگر تباہ شدہ جہاز کی مرمت کراکر واپس کرتا تو خیر سگالی کے جذبے کو چار چاند لگ جاتے ایک پوسٹ میں یہ کہا گیا کہ ابھی نند کو رہا کرکے عمران خان نے بھارتیوں کے دل جیت لیئے ہیں لیکن اپنے ملک کے لوگوں کا دل توڑ دیا ہے ایک پوسٹ میں یہ حوالہ بھی دیا گیا کہ حضور اکرم ﷺ نے بھی ہر جنگ کے بعد جنگی قیدیوں کو معاہدہ کرنے کے بعد رہا کیا ہے بغیر کسی معاہدے کے رہا نہیں کیا بھارت کی طرف سے پاکستان پر حالیہ جارحیت کے 2بڑے فائدے پاکستان کو پہنچے ایک تو پاکستان کی جوابی کارروائی سے بھارت پر واضح ہو گیا کہ پاکستان کو کمزور نہ سمجھے ویسے بھی پاکستان اب ایک ایٹمی ملک ہے اور بھارت کے مقابلے میں کسی طرح بھی کم تر نہیں ہے

پاکستان کے جوابی وار سے بھارت کو ہی نہیں پوری دنیا میں واضح ہو گیا کہ پاکستان ایک طاقتور ایٹمی ملک ہے یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت نے جب پاکستان پر جارحیت کی تو دنیا کے کسی ملک نے اس کی مذمت نہیں کی لیکن جیسے ہی پاکستان نے اس جارحیت کا کرارا جواب دیا دنیا میں کھلبلی مچ گئی اور امریکہ سمیت دیگر ممالک نے امن کی بات کرنا شروع کردی اور پاکستان سے کہا گیا کہ وہ جنگ کے بجائے امن کیلئے راہموار کی جائے بھارت کی اس جارحیت کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پاکستان میں سیاسی طور پر جو افراتفری مچی ہوئی ہے اور حکومت و اپوزیشن جو ایک دوسرے پر الزام تراشی اور کارروائی میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میںلگی ہوئی تھی وہ سب پس منظر میں چلی گئی اور حکومت و اپوزیشن ایک صفحہ پر آگئیں

حکومت اور اپوزیشن نے اپنے تمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر پس پشت ڈال کر مکمل اتحاد اور یکجہتی کا ثبوت دیا اس طرح پوری قوم ایک ہوگئی تاہم حکومت نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھا کر پیٹرول کی مصنوعات میں ڈھائی روپے فی لیٹر اضافہ کرکے عوام پر پیٹرول بم ضرور گرادیا حکومت گزشتہ ماہ پیٹرول پر فی لیٹر صرف 59 پیسے کی کمی کی تھی اور اب اضافہ ڈھائی روپے کرکے ملبہ اتار دیا بے چارے عوام جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اور مہنگائی کے غم میں بے حال تھے انہیں بھارت کے 2طیار ے گرائے جانے سے جو خوشی و مسرت حاصل ہوئی ہے وہ اس خوشی کا جشن منارہے ہیں اورپورے ملک میں پاک فوج کیساتھ یکجہتی کیلئے ریلیاں نکال رہے ہیں۔

عوام اس جشن کی کیفیت سے نکلیں گے تو انہیںپیٹرول بم گرنے کا احساس ہوگا دیکھنا یہ ہے کہ عوام اس مہنگائی کیخلاف اس طرح کی ریلیاں کب نکالیں گے لیکن یہ بات اپنی جگہ موجود ہے کہ ابھی نند ن کو ابھی کیوں چھوڑا اس سے کہا جاتا ہے

کہ ابھی نہ جائو کہ ابھی دل بھرا نہیں ابھی نندن

ابھی نندن کو چھوڑنے سے پہلے پاکستان کی بہو ثانیہ مرزا سے بھی پوچھ لیتے کہ بہو ہم ابھی نندن کو چھوڑ رہے ہیں اسطرح بہو بھی خوش ہوجاتی۔

(184 بار دیکھا گیا)

تبصرے