Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ایٹمی ہتھیار آخری آپشن

ویب ڈیسک جمعرات 28 فروری 2019
ایٹمی ہتھیار آخری آپشن

امریکی صدر یونہی دنیا کے سب سے طاقتور شخص نہیں کہلائے جاتے۔ اس وقت اس کے پاس سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں، جن تعداد ہزاروں میں ہے۔یہ ایٹمی ہتھیار بم اور میزائل کے طور پر آبدوزوں سے لے کر پہاڑوں کے نیچے تک خفیہ طور پر رکھے کیے گئے ہیں۔ صدر کا ایک اشارہ ہوا نہیں کہ ایک منٹ کے اندر میزائل اپنے ہدف کی طرف روانہ کیے جا سکتے ہیں۔

بروس بلا امریکہ کے سابق میزائل لانچ کرنے والے افسر ہیں۔ وہ 70 کے عشرے میں امریکہ کے خفیہ ایٹمی میزائل کے ٹھکانوں پر کام کر چکے ہیں۔ بروس کہتے ہیں کہ ایسے افسران کو ‘منٹ مین’ کہا جاتا تھا کیونکہ حملے کا حکم ملنے پر ایک منٹ کے اندر وہ جوہری میزائل لانچ کر سکتے ہیں۔ بروس اور ان کے ساتھیوں کی ڈیوٹی ہر وقت کمپیوٹر کے مانیٹر کی نگرانی کرنا ہوتی تھی جس پر کبھی بھی میزائل لانچ کرنے کا حکم آ سکتا تھا۔ امریکہ میں صرف صدر ہی کو ایٹمی حملے کرنے کا حکم دینے کا حق حاصل ہے۔

وہ کسی اور ملک سے امریکہ پر حملہ ہونے یا حملے کا خدشہ ہونے پر ایٹمی میزائل لانچ کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ روس یا چین اگر میزائل سے امریکہ پر حملہ کرتے ہیں، تو وہاں سے امریکہ تک میزائل پہنچنے میں صرف نصف گھنٹے کا وقت لگے گا‘ لیکن اگر آبدوز سے حملہ کیا گیا تو صرف 15 منٹ میں ہی امریکہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں امریکی صدر کے پاس ایٹمی حملہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے انتہائی کم وقت ہوتا ہے۔ اسی لیے امریکی صدر کے ساتھ ہمیشہ ایک چمڑے کا بریف کیس رہتا ہے۔ اس بریف کیس کو نیوکلیئر فٹ بال کہتے ہیں۔

اس میں وہ مشینیں ہوتی ہیں جن کے ذریعے امریکی صدر اسٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ اور نائب صدر سمیت کچھ خاص لوگوں سے بات کر سکتے ہیں تاکہ ایٹمی حملے سے متعلق فیصلہ کرسکیں۔ بروس بلا بتاتے ہیں کہ اس بریف کیس میں کارٹون نما ایک کتاب بھی ہوتی ہے جس میں مختلف ایٹمی میزائلوں کی طاقت اور ان کے اثرات کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ صدر کچھ سیکنڈ کے اندر میزائل کے اثر کا اندازہ کر کے ایٹمی حملہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر کو ایٹمی میزائل داغنے کا حکم دینے کے لیے میزائل لانچ افسر کو اپنی شناخت ثابت کرنی ہوتی ہے۔ اس کام میں وہی پلاسٹک کارڈ کام آتا ہے، جو ہمیشہ صدر کے پاس موجود رہتا ہے۔ اس کارڈ کو اکثر بسکٹ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ یہی وہ کارڈ ہوتا ہے جو امریکی صدر کو دنیا کا سب سے طاقتور شخص بناتا ہے۔ کیونکہ اسی کی مدد سے وہ ایٹمی حملے کا حکم دے سکتا ہے۔ صدر کو ہمیشہ یہ کارڈ اپنے ساتھ رکھنا ہوتا ہے۔

بروس بلا بتاتے ہیں کہ 80 کی دہائی میں صدر جمی کارٹر نے یہ کارڈ یا بسکٹ اپنے سوٹ کے ساتھ ڈرائی کلین کے لیے دے دیا تھا۔ صدر سے احکامات ملنے کے بعد منٹ مین لانچ کوڈ کی مدد سے میزائل کو حملے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ بروس بلا بتاتے ہیں کہ ان کے پورے کریئر میں ایک بار ایسا ہوا تھا، جب لگا تھا کہ نیوکلیئر جنگ چھڑ جائے گی۔ یہ بات 1973 ء کی ہے۔ اس دوران عرب اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی تھی۔

اسی دوران بروس اور ان کے ایک ساتھی افسر ٹموتھی کو الرٹ پر رہنے کا حکم ملا تھا۔ یہ ڈیفان 3 (DEFCON 3) پیغام تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ ممکنہ ایٹمی جنگ کے لیے تیاری شروع کرو۔ کسی بھی وقت جوہری میزائل لانچ کرنے کے لیے دو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے، جو اپنے اپنے کوڈ بتاتے ہیں۔ ایک طرح سے یہ دونوں لوگ میزائل لانچ کرنے کی چابی ہوتے ہیں۔ بروس ان دنوں کو یاد کر کے بتاتے ہیں کہ انھیں لگا تھا کہ سوویت یونین سے حملہ ہونے والا ہے‘ اس لیے وہ میزائل کا لانچ کوڈ اور چابی لے کر کرسی پر بیٹھ گئے۔ اب بس انھیں اور ان کے ساتھی ٹموتھی کو میزائل لانچ کرنے کے لیے آخری فرمان کا انتظار تھا۔ سکون کی بات یہ تھی کہ وہ وقت کبھی نہیں آیا۔ اس سے قبل بھی کیوبا میزائل بحران کے دوران امریکہ اور سوویت یونین ایٹمی جنگ کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔

سوال یہ ہے کہ اگر امریکی صدر کا دماغ چل جائے اور بغیر کسی وجہ کے ہی ایٹمی حملہ کرنے کا حکم دے دے تو پھر کیا ہو گا؟ بروس بلا کہتے ہیں کہ ایسا ہونے کی صورت میں جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ اس حکم کو ماننے سے انکار کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا ہونے کی توقع بہت کم ہے کیونکہ صدر کے ماتحت کام کرنے والے ایسے لوگوں کو حکم ماننے کی تربیت دی جاتی ہے، حکم عدولی نہیں۔ لہذا اگر کوئی صدر بہک کر ایٹمی حملے کا حکم جاری کرتا ہے تو پھر اسے روک پانا بہت مشکل ہے۔

اگور سرچیگن ایٹمی ہتھیاروں کے ماہر ہیں۔ وہ روس کے رہنے والے ہیں اور ایک وقت تھا کہ جب وہ روسی حکومت کے لیے کام کرتے تھے۔ 1999 میں ان پر ملک کی خفیہ معلومات دشمنوں کو دینے کا الزام لگا کر جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ تقریبا 11 سال جیل میں رہنے کے بعد روس نے انھیں رہا کیا۔ جس کے بعد وہ لندن میں بس گئے۔ ان دنوں اگور لندن کے ایک تھنک ٹینک کے لیے کام کرتے ہیں۔ امریکہ کی طرح روس بھی بڑی ایٹمی طاقت ہے۔ روس کے پاس بھی ہزاروں نیولیئر میزائل ہیں۔ انھیں لانچ کرنے کا حق روس کے صدر کے پاس ہوتا ہے۔

اگور سرچیگن بتاتے ہیں کہ امریکہ کی طرح روس کے صدر کے پاس بھی ایٹمی کوڈ والا ایک بریف کیس ہوتا ہے۔ یہ بریف کیس ہمیشہ صدر کے آس پاس ہی رہتا ہے۔ روس پر کسی حملے کی صورت میں اس بریف کیس کا الارم بج اٹھتا ہے۔ فلیش لائٹ جل جاتی ہیں۔ جس سے صدر کو فورا بریف کیس کے پاس پہنچ کر وزیر اعظم اور وزیر دفاع سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔ روس کے وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے پاس بھی اسی طرح کے بریف کیس ہوتے ہیں۔ لیکن ایٹمی حملے کا حکم صرف روس کے صدر ہی دے سکتے ہیں۔ روس کے صدر اپنے بریف کیس کے ذریعے فوج کے کمانڈروں، وزیر اعظم اور وزیر دفاع سے بات کر سکتے ہیں۔ انھیں اس کے لیے کسی ٹیلیفون یا دوسرے ذریعے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگور بتاتے ہیں کہ روس کے صدر کا ایٹمی حملہ کرنے والا یہ بریف کیس صرف ایک بار کھلا ہے۔

25 جنوری 1995 کو روس کے صدر کے اس بریف کیس کا الارم بج اٹھا تھا۔ اس کی لائٹ فلیش ہونے لگی تھی۔ اس کا دوسرا الارم، جو روس کے صدر کی میز پر ہوتا ہے، وہ بھی بج اٹھا تھا۔ معلوم ہوا کہ بیرینٹس سی کے پاس روس کی سرحد کے قریب ایک میزائل دیکھا گیا ہے جو تیزی سے روس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بورس یلسن نے ایٹمی حملے کے لیے اپنا بریف کیس آن کیا۔ وہ حملے کا حکم دینے سے پہلے وزیر اعظم اور وزیر دفاع سے مشورہ کر رہے تھے۔ اس کے لیے ان کے پاس پانچ سے دس منٹ کا ہی وقت تھا۔ روسی آبدوزوں کو ایٹمی حملے کی تیاری کا حکم دے دیا گیا تھا تاہم بعد میں پتہ چلا کہ وہ ناروے کا ایک راکٹ تھا، جو ایک سائنسی مشن پر جا رہا تھا۔ روس پر حملے کا الارم اسی راکٹ کو روس کی طرف آنے والا میزائل سمجھ کر بج گیا تھا۔ روس میں میزائل لانچ کی تیاری کی جانچ پڑتال کے لیے اکثر ڈرل ہوتی رہتی ہے۔ اگور بتاتے ہیں کہ کئی بار میزائل کی نگرانی کرنے والوں کو غلط لانچ کوڈ دے کر حملے کی تیاری کے لیے کہا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ اصل جنگ چھڑنے کی صورت میں وہ کہیں ایٹمی حملہ کرنے سے ہچکچائیں گے تو نہیں۔ یعنی روس کا بھی نظام ایسا ہے کہ اگر وہاں کے صدر نے ایٹمی حملہ کا حکم دیا، تو ایٹمی جنگ چھڑنا طے ہے۔

ایٹمی ہتھیاروں کی بدولت جن عالمگیر مسائل نے جنم لیا ہے، ان کا حل صرف اور صرف ہمارے صلح رحمی میں پوشیدہ ہے، اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ مستقبل میں اس قدر تباہی و بربادی کا سبب بنیں گے تو سائنسدان بننے کے بجائے میں گھڑی ساز بننے کو ترجیح دیتا۔انیسویں صدی کے وسط میں امریکا سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ میں شامل ہوئے اور وقتا فوقتا ان ممالک کی جانب سے اپنے تیار کردہ ایٹمی ہتھیاروں کو جانچنے کے لیے تجربات بھی کیے جاتے رہے، جن میں سے زیادہ تر خفیہ طور پر نامعلوم مقامات پر کیے گئے جبکہ کئی ممالک نے باقاعدہ اعلان کے ساتھ اپنے ایٹم بم اور دیگر نیو کلیئر ہتھیاروں کے تجربات کیے جس کا مقصد اپنے حریف ممالک کو دبانا اور علاقے میں اپنا تسلط قائم کرنا تھا۔

تاریخ میں پہلا ایٹمی دھماکہ 16 جولائی 1945 ء کو امریکا نے جس مقام پر کیا اسے ٹرانیٹی سائٹ کہا جاتا ہے، اس تجربے میں جو ایٹم بم استعمال کیا گیا وہ 20 ٹن ٹی این ٹی کی طاقت کا تھا، واضح رہے کہ ٹی این ٹی طبیعات میں کسی ایٹمی دھماکے کی شدت کو ظاہر کرنے کی اکائی ہے۔ جنگ عظیم دوئم کے دوران امریکا نے اپنے حریف جاپان کو شکست دینے کے لیے پہلی دفعہ ایٹم بم کا استعمال کرتے ہوئے 6 اگست 1945 کو اسے جاپان کے گنجان آبادی والے شہر ہیروشیما اور محض 3 دن بعد یعنی 9 اگست کو دوسرے شہر ناگا ساکی پر گرایا، ان حملوں اور تابکاری کے شدید ترین اثرات کی وجہ سے اگلے 3 سے چار ماہ میں ہیرو شیما میں 90 ہزار سے لے کر 1 لاکھ 46 ہزار افراد کی ہلاکتیں ہوئیں جب کہ ناگاساکی پر صورتحال نسبتاً کم کشیدہ رہی اور یہاں 39 سے 80 ہزار شہریوں کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی، ان حملوں میں لاکھوں افراد تابکاری کے اثرات سے جنم لینے والے کینسر اور دیگر مہلک جلدی امراض اور قحط کا شکار ہو کر ایڑیاں رگڑ کر مرتے رہے۔

میزائلوں کی جنگ میں دنیا منٹوں میں تباہ ہوجائے گی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا میں جتنی ترقی ہو چکی ہے اور ہو رہی ہے اس سے انسانی زندگی میں کافی سہولتیں میسر آگئی ہیں۔ اب دنیا بھر سے رابطہ محض لمحوں کی بات ہے۔ لیکن اس حیرت انگیز ترقی اور انقلاب کے پیچھے ایک طوفان بھی چھپا ہے۔ اب دنیا میں سب سے زیادہ غیرمحفوظ بھی انسانی جان ہی ہے۔ دنیا بھر میں ایٹمی اسلحہ کے حصول کی جو دوڑ لگی ہے اور دشمن پر پیشگی حملہ کا جو تصور سامنے آیا ہے وہ انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں کو منٹوں میں ماضی کی داستان بنا سکتی ہے۔ مستقبل میں لڑی جانے والی جنگیں سالوں یا مہینوں پر محیط نہیں ہوں گی بلکہ میزائل کا ایک بٹن دبانے سے دشمن کا قصہ ختم ہوجائے گا۔ اس میں شدت سرد جنگ کے زمانے میں پیدا ہوئی جب دنیا امریکی اور روسی بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی اور دونوں ملکوں نے انسانی تباہی کے جو ایٹمی ہتھیار بنائے اگر ان میں سے چند ہی چل جاتے تو آدھی سے زیادہ دنیا کا نام و نشان مٹ چکا ہوتا۔

روس کے ٹوٹنے کے بعد اب تک امریکا دنیا بھر سے ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کرنے اور میزائل سسٹم کو ناکارہ بنانے پر اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ یہ بھی دوعملی کا مظاہرہ ہے کہ امریکا ایک طرف ایٹمی ٹیکنالوجی کو روکنے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور دوسری طرف وہ خود اپنے میزائل ڈیفنس پروگرام کو خاصی ترقی دے چکا ہے۔ جنوری کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی بڑی تعداد ہے۔ ایک اور رپورٹ میں تعداد بتائی گئی ہے۔ امریکا نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ جلد ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کر دی جائے گی۔ امریکا کا میزائل سسٹم ایٹمی ہتھیاروں کو تیرہ ہزار کلو میٹر تک اپنے نشانے پر پہنچا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ آئی سی بی ایم ہتھیاروں کی تعداد ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیفنس سسٹم کسی بھی ملک کے ایٹمی میزائل کو فائر ہونے کے بعد منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس مقصد کیلئے امریکا نے ایسے تمام ممالک کے قریب اپنے اڈے قائم کر لیے ہیں جو ایٹمی قوت بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں یا بن چکے ہیں۔ اپریل کو فرانس رومانیہ روس اسپین برطانیہ شمالی آئرلینڈ اور امریکا نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد نمبر پیش کی تھی۔ اپریل کوہی اس کی منظوری دے دی گئی جس میں ایٹمی کیمیائی اور جراثیمی ہتھیار اور ان کے آلات کا کاروبار کرنے والوں کو سزا دینے کی حمایت کی۔ اس قرارداد کے تحت اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور آلات کا کاروبار کرنے والے افراد کو سزا دینے کے پابند تھے۔

(254 بار دیکھا گیا)

تبصرے