Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

امریکی صدر مجبور انسان

ویب ڈیسک جمعرات 28 فروری 2019
امریکی صدر مجبور انسان

امریکی صدر، اختیار واقتدار کے اعتبار سے دنیا کا سب سے طاقتور انسان مانا جاتا ہے۔ اسے ناصرف اپنے ملک میں بہت سے اختیارات حاصل ہیں بلکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے سب سے بڑے عہدے پر براجمان ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ملک کے مفادات کے حصول کے لیے دنیا کے ہر گوشے اور ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے اور جائز وناجائز طور پر اپنی چودہراہٹ قائم کرنے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتا ہے۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ سرد جنگ کے زمانے سے لے کر آج تک امریکا کی طرف سے مختلف ممالک میں اپنی مخالف حکومتوں کا تختہ الٹنے سے لے کر تیل، گیس اور قدرتی معدنیات رکھنے والے ملکوں کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان پر اپنا اثر ورسوخ قائم کرنے کے مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں امریکی صدر کی آشیرباد کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتیں۔ ماضی قریب میں اس کی جو مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں ان میں گزشتہ چند عشروں کے دوران صدر صدام حسین پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا جھوٹا الزام لگا کر عراق پر چڑھائی، 9/11 کا بہانہ بنا کر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانا اور شام میں جارحیت وغیرہ شامل ہیں۔

بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھنے والے سیاسیات کے ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اِن سب کے پیچھے امریکا کا ایجنڈا جمہوریت کا فروغ نہیں، جیسا کے اس نے دعوی کیا تھا، بلکہ صرف اور صرف اس کے قومی مفادات ہیں کیونکہ اس کا نشانہ بننے والے یہ سارے ملک تیل، گیس اور دیگر معدنیات سے مالامال ہیں جن پر قبضہ کر کے امریکا اِن وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس لحاظ سے امریکی صدور اس پالیسی کے ذمہ دار قرار دیئے جائیں گے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس تمام تر صورتحال کے باوجود وہ کون سے امور ہیں جن میں سپرپاور امریکا کا اس قدر بااختیار صدر مجبورِ محض ہے۔

عام فون کال دوستوں کے ساتھ ویڈیو چیٹ کرنا
وِرجینیا کومن ویلتھ یونیورسٹی (Virginia Commonwealth University) میں ہوم لینڈ سیکورٹی کے پروفیسر میٹ پِنسکر(Matt Pinsker) کہتے ہیں کہ امریکی صدر کی سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے حوالے سے خفیہ ایجنسی والوں کو آپس میں معاونت کے ساتھ بہت گہری منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر صدر کی اپنے دوستوں کے ساتھ فون کال یا ویڈیو چیٹ صِرف محفوظ لائن پر ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ ایک عام آدمی تو کسی بھی وقت فون اٹھا کر آرام سے اپنے دوستوں سے گپ شپ لگا سکتا کہ لیکن امریکی صدر کو ایسا کرنے سے قبل خفیہ ایجنسی والوں کو مطلع کرنا پڑتا ہے۔

فلم دیکھنے جانا
پروفیسر پِنسکر (Pinsker)کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کو فلمیں دیکھنے کے لیے عام طور پر سینما جانے کا اختیار نہیں۔ انھوں نے اگر کوئی فلم دیکھنی ہو تو وہ وائٹ ہائوس میں ہی منگوا کر دیکھ سکتے ہیں۔ گو اپنے گھر میں بیٹھ کر فلم دیکھنا اور ہوم تھیٹر کا مزا لینا بھی ایک منفرد تجربہ ہوتا ہے تاہم کبھی کبھار بہت سے دوسرے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر سینما کی بڑی اسکرین پرفلم دیکھنا اور ساتھ ساتھ کھانے پینے کی ہلکی پھلکی چیزوں اور مشروبات سے لطف اندوز ہونے کی تو بات ہی الگ ہے۔

رات کا کھانا کھانے باہر جانا
پروفیسر پِنسکر (Pinsker)کے مطابق امریکی صدر رات کا کھانے کھانے کے لیے باہر جا تو سکتا ہے مگر اپنے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خفیہ ایجنسی والوں کو اس سے آگاہ کرے تاکہ وہ صدر کے ریسٹورنٹ جانے سے قبل وہاں پہنچ کر تمام تر حفاظتی اقدامات لے سکیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ امریکی صدر، وائٹ ہائوس سے باہر اس وقت تک کچھ بھی کھانے پینے کا مجاز نہیں جب تک کے ایک سرکاری فوڈ ٹیسٹر food taster (خوراک چکھنے والا)وہاں موجود نہ ہو، جو غذا کو چکھ کر یہ تصدیق کرے کہ وہ کھانا نقصان دہ نہیں ہے۔

ڈرائیونگ
پروفیسر پِنسکر (Pinsker)کہتے ہیں کہ امریکی صدر کو خود سے ڈرائیونگ کرنے کی یقینا اجازت نہیں ہے۔ حفاظتی نقطہ نظر سے صدر کی گاڑی خصوصی طور پر محفوظ بنائی جاتی ہے اور کو ایک ایسا شخص چلاتا ہے جس کو ہر طرح کے ناگہانی حالات سے نمٹنے کی انتہائی سخت تربیت دی گئی ہوتی ہے۔ تاہم وِلانوا یونیورستی (Villanova University) میں سیاسیات کے پروفیسر اور ادیب ڈاکٹر جِم رونان (Dr. Jim Ronan) کے بقول امریکی صدور کے تعطیلاتی مقام کیمپ ڈیوڈ (Camp David) یا اپنی ذاتی املاک کی حدود میں موجود ہونے کی صورت میں صدر چہل قدمی اور موٹرسائیکل سواری سمیت چھوٹی موٹی عیاشی کر سکتا ہے۔ (ایسے موقعے پر سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی ترجیح موٹرسائیکل پر سواری کرنا ہوتا تھا۔) امریکا کے سابق صدور کو عرصہ صدارت چھوڑنے کے بعد بھی جس سب سے بڑی پابندی کا سامنا رہا، وہ ڈرائیونگ کرنے کی مراعات کا حاصل نہ ہونا ہے۔ اسی وجہ سے صدر ریگن اور جارج ڈبلیو بش دونوں اپنی صدارت کے دوران اپنے فارم ہاسز پر محض موٹرسائیکل کی سواری سے ہی لطف اندوز ہوتے رہے اور یہ بھی اس لیے ممکن ہو سکا کیونکہ انہیں خفیہ ایجنسی والوں نے اجازت دی تھی کہ وہ محفوظ حدود میں اپنا شوق پورا کر لیں۔

اپنے بچوں کے تعلیمی اداروں میں منعقدہ تقریبات میں شرکت
ڈاکٹر رونان (Dr. Ronan) کا کہنا ہے کہ چند سابق امریکی صدور کو جس ایک اور محرومی کا سامنا رہا وہ ان کے خاندانوں پر براہ راست اثر انداز ہوئی اور وہ یہ کہ اپنے بچوں کے تعلیمی اداروں میں منعقدہ کھیلوں یا دیگر تقریبات میں شرکت ان کے لیے ممکن نہ تھی کیونکہ ایسی صورت میں ان کے لیے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات تقریب کے دوسرے شرکا کے لیے مصیبت بن جاتے۔ اب آپ اس بات کا تصور کریں کہ آپ کے بچے بھی ہوں اور آپ ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھتا ہوا بھی نہ دیکھ سکیں تو آپ کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی ؟ ڈاکٹر رونان (Dr. Ronan) کا مزید کہنا تھا کہ اسی وجہ سے کچھ امریکی صدور کے بچوں نے وائٹ ہاس میں موجود اسکول میں تعلیم حاصل کی کیونکہ ان کا عام اسکولوں میں پڑھنا، حفاظتی لحاظ سے خطرناک ہو سکتا تھا۔

ٹیکنالوجی کا نگرانی سے مبرا استعمال
ٹیکنالوجی کیونکہ روزبروز ترقی کر رہی ہے، اس لیے ا س سے جڑے خطرات کے پیشِ نظر خفیہ ایجنسی والوں کو مسلسل ان سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے حالیہ برسوں میں امریکی صدر پر ایک نئی پابندی عائد کی گئی ہے اور وہ یہ کہ اب وہ بغیر نگرانی کے ٹکنالوجی کا ذاتی استعمال نہیں کر سکتا۔ جیسا کے صدر اوباما خاص طور پر بلیک بیری کے استعمال کی شہرت رکھتے تھے اور موجودہ صدر ٹرمپ ٹوئٹر اکانٹ پر فعالیت کے باعث اپنے ٹوئٹس کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ڈاکٹر رونان (Dr. Ronan) کہتے ہیں کہ خفیہ ایجنسی والوں کی جانب سے دونوں صدور کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد ذاتی ٹیکنالوجی کا یہ استعمال یا تو بالکل ترک کر دیں یا پھر اسے انتہائی حد تک محدود کر دیں۔حال ہی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صدر کسی شخص کو سوشل میڈیا پر بلاک نہیں کر سکتا کیونکہ یہ عمل امریکی آئین میں کی گئی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہے، جس میں ہر شہری کو آزادی اظہار کی ضمانت دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر شخص آزادانہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے اور یہی اس کی مقبولیت کا ایک اہم سبب ہے۔ تاہم امریکی صدر اس معاملے میں مجبور ہے اور اس کی اس آزادی پر قدغن لگی ہوئی ہے۔

کمرشل ایئرلائن کا استعمال
سائبر سکیورٹی کی انسٹرکٹر ڈاکٹر کرلا (Dr. Karla Mastracchio) کے مطابق کسی امریکی صدر نے کبھی اگر عام امریکی کمرشل ایئرلائن سے سفر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا بھی تو خفیہ ایجنسی والوں کا جواب نفی میں ہوگا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔صدرکا کمرشل ایئرلائن کے ذریعے سفر کرنے کا معاملہ ان چند چیزوں میں سے ایک ہے جو امریکی صدور کے لیے قطعاً ممنوع ہیں۔ گو امریکی صدر کو بہت سے ایسے کام کرنے کی اجازت ہے جو عام لوگ کرتے ہیں مگر یہ اجازت کئی پابندیوں کے ساتھ مشروط ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب صدر کے پاس سفر کرنے کے لیے اس کا مخصوص طیارہ ایئرفورس ون (Air Force 1) موجود ہے تو پھر اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ کمرشل فلائٹ کے جھنجھٹ میں پڑے۔

کھڑکیاں کھولنا
جی نہیں!امریکا کا صدر موسمِ بہار کے خوبصورت اور سہانے دن سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپنے کمرے کی کھڑکیاں کھولنے کا مجاز بھی نہیں ہے۔ سابقہ خاتونِ اول مشعل اوباما نے ایک انٹرویو میں ٹی وی کے مشہور اینکر اسٹیفن کولبرٹ (Stephen Colbert) کو بتایا کہ اپنے شوہر (صدر اوباما) کے دورِ صدارت کے آخری دنوں میں انہوں نے اپنے کمرے کی کھڑکی کھولنی چاہی تو انہیں بتایا گیا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس چیز کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ صدر اپنی کار کی کھڑکی کا شیشہ بھی نہیں کھول سکتا۔ صرف ایک دن ایسا ہوا کہ کیمپ ڈیوڈ (Camp David)جاتے ہوئے، راستے میں سیکورٹی ایجنٹ نے مہربانی کرتے ہوئے پانچ منٹ کے لیے کار کا شیشہ کھول دیا اور مشعل اوباما نے اس کی اِس کرم فرمائی کا بھرپور لطف اٹھایا۔ امریکا کی سابقہ خاتونِ اول کی اس بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جن چیزوں اور آزادیوں کو ہم عام لوگ معمولی سی بھی اہمیت نہیں دیتے، ان کے لیے خاص لوگوں بعض اوقات کس قدر ترستے ہیں۔

ردی اشیا ضائع کرنا
ڈاکٹر کرلا (Dr. Karla Mastracchio) کا کہنا ہے کہ ردی یا فالتو چیزوں کو ضایع کرنے کے سلسلے میں بھی امریکی صدر کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کہ وہ اس سے باز رہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنی ڈاک یا ای میل بھی ٹریش کین (trash can) میں نہیں پھینک سکتا۔ پریزیڈینشل ریکارڈز ایکٹ (Presidential Records Act) کے تحت وہ اِن احکامات کا پابند ہے جبکہ ظاہر ہے کہ اِن معاملات میں عام آدمی آزاد ہے۔ قانونی طور پر یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ پھینکنے یا ضائع کرنے سے پہلے وائٹ ہاس کا متعلقہ عملہ ہر چیز کا بہت احتیاط اور باریک بینی سے جائزہ لے۔

کسی معاملے میں اپنی مرضی چلانا
ڈاکٹر جِم رونان (Dr. Jim Ronan) کہتے ہیں کہ ایک بات جو عام طور پر نظروں سے اوجھل رہتی ہے، وہ یہ ہے کہ خفیہ ایجنسی والوں کے مشورے، بلکہ کچھ معاملات میں سخت مخالفت کے باوجود اگر صدر کوئی ایسا کام کرنا چاہے جس میں سکیورٹی انتظامات کا مسئلہ آڑے آرہا ہو، جیسا کہ وائٹ ہاس کے باہر جمع لوگوں سے جا کر ملنا یا کسی خطرے والی جگہ کا دورہ کرنا، تو خفیہ ایجنسی والوں کو اس کا حکم ماننا ہی پڑتا ہے کیونکہ بہرحال وہ صدر کے احکامات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ اس لیے صدر اگر کچھ ایسا کرنے کی ٹھان ہی لے جو خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہو تو ایسی صورت میں وہ ہر قسم کے ناگہانی حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس کا سامنا کرنے کی مکمل منصوبہ بندی اور اپنی سی پوری سعی کرتے ہیں۔

تاہم ویسٹرن مشی گن یونیورسٹی (Western Michigan University) میں معاون ڈین (Auxiliary Dean) اور دستوری قانون (Constitutional Law) کے پروفیسر ڈیوِن سکِنڈلر (Devin Schindler) کے مطابق ایک وفاقی قانون 18 U.S.C. 3056 خفیہ ایجنسی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ صدر اور اس کے خاندان کی حفاظت کو ہر طرح یقینی بنائے۔ بنیادی طور پر یہ قانون صدر کو خفیہ ایجنسی کے تحفظات سے انکار کرنے سے روکتا ہے۔ بعدازاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صدر کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے اصول وقوانین کا ایک پورا سلسلہ ترتیب دیا گیا۔

(229 بار دیکھا گیا)

تبصرے