Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 18 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کیمپ تھے ہی نہیں حملہ کہاں کیا؟عالمی میڈیا

قومی نیوز بدھ 27 فروری 2019
کیمپ تھے ہی نہیں حملہ کہاں کیا؟عالمی میڈیا

واشنگٹن۔۔۔۔ دفاعی امور پر دنیا کے معتبر ترین میڈیا آئوٹ لیٹ برطانیہ جینز انفارمیشن گروپ سمیت دنیا کے بیشتر بین الاقوامی بھارتی نژاد اور سفید فام ماہرین نے پاکستانی حدود میں بھارتی فضائیہ کے ایکشن پر سوال اُٹھادیئے۔

نیویارک ٹائمز نے رپورٹ میں کہا ہے کہ جینز فائونڈیشن کے بھارتی نژاد راہول بیدی کے مطابق حملے میں کس ہدف کو نشانہ بنایاا س کے بارے میں صرف قیاس آرائی کی جاسکتی ہے کیونکہ جس کیمپ کو ٹارگٹ کئے جانے کا دعویٰ کیاگیاوہ تو اس سے بیشتر پاکستان کی جانب سے پہلے ہی کلین کیا جاچکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی اپوزیشن نے بھی حملہ کے ثبوت مانگ لئے

بظاہر یہ سیاسی معاملات کو تقویت دینے کی کوشش ہے۔مودی عام انتخابات سے قبل اپنی کچھ قابل ذکر کارکردگی دکھاناچاہتے ہیں۔

راہول بیدی نے مزید کہا کہ پاکستان اب کسی پراکسی (بالواسطہ) عسکری مہم جوئی کے بجائے ایک روایتی جنگ کی طرز کے جواب پر مجبور ہے‘ یہ جواب کب اور کہاں دیا جائے گا اس کا تو صرف پاکستان کو علم ہے لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جو تیزی سے بڑھ بھی سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اب ہم سرپرائز دیں گےبھارت انتظار کرے

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دیگر عالمی ماہرین اور بھارتی سفارتکاروں نے بھی کہا کہ حملے کے اہداف غیر واضح ہیں کیونکہ مودی کی دھمکیوں کی وجہ سے ان علاقوں میں اگر کوئی کیمپ تھے بھی تو وہ پہلے ہی خالی ہوچکے تھے۔

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں نمائندے کے حوالے سے جبہ گائوں‘ بالا کوٹ کے مقامی افراد کے انٹرویوز نشر کئے جس میں گائوں کے افراد نے بتایا کہ پانچ بڑے دھماکوں کی آواز سے بیدار ہوئے جس سے کچھ جھگیوں اور بعض درختوں کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

برطانوی اخبار گارجین نے رپورٹ کیا کہ واضح نہیں کس ہدف کو ٹارگٹ کیا گیا‘ بظاہر یہ 14 فروری کے پلوامہ حملے کے بعد بھارتی عوام میں پیدا ہونے والا غصہ ٹھنڈا کرنے کی ایک ایسی کوشش تھی جس میں پاکستان کا نقصان نہ ہو اور پاکستان کو زیادہ طیش نہ آئے۔

(249 بار دیکھا گیا)

تبصرے