Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 16 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کی بے بس عوام

ویب ڈیسک پیر 25 فروری 2019
کراچی کی بے بس عوام

کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ کب حل ہوگا، یہ کون کرے گا اور کیسے ہوگا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو 1460 مربع میل رقبے پر پھیلے ہوئے اس شہر کے ہر باسی کی زبان پر ہوتے ہیں۔ اگرچہ پبلک ٹرانسپورٹ غریب اور متوسط طبقے کی ضرورت ہے، لیکن اس کی عدم دستیابی کے نتیجے میں وہ بھی پریشان ہوتے ہیں جو صاحبِ ثروت ہیں اور جن کی اپنی گاڑیاں ہیں۔ شہر کے بس اسٹاپس پر صبح اور شام کے اوقات میں بسوں اور منی بسوں کے منتظر مجبور مسافروں کے رش سے ٹرانسپورٹ کے ناقص نظام کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جبکہ گاڑیوں میں مسافروں کے چھتوں پر بھی مجبوراً بیٹھ کر سفر کرنے سے بسوں کی قلت واضح ہوجاتی ہے، مگر اس کے سدباب کے لیے حکومت کچھ بھی کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔فی الحال شہر کے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ان دنوں پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز کا راج ہے۔ یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان ہی کی وجہ سے شہریوں کو سفر کی سہولیات مل رہی ہیں۔کراچی میں آبادی کے لحاظ سے کم ازکم 25 ہزار بڑی اور 5 ہزار چھوٹی بسوں کی ضرورت ہے۔ ویسے یہاں کے ٹرانسپورٹ کے مسائل کا حل بڑی بسیں ہی ہیں، اس لیے کم ازکم 15 ہزار بڑی 75 سیٹر بسوں کا فوری اضافہ کیا جانا ضروری ہے۔شہر کی یہ بھی بدقسمتی ہے کہ اس کی کْل آبادی کسی طور پر بھی ڈھائی کروڑ سے کم نہیں مگر گزشتہ متنازع مردم شماری میں یہاں کی آبادی ایک کروڑ 49 لاکھ 10 ہزار ظاہر کی گئی ہے، جسے کوئی بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ویسے تو کراچی آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دس بڑے شہروں میں چھٹے نمبر پر ہے، لیکن یہ دنیا کا شاید واحد بڑا شہر ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان ہے۔ یہ شہر انٹرنیشنل سٹی ہونے کے ساتھ غریب پرور بھی ہے جہاں اب تک تانگہ (گھوڑا گاڑی) بھی صدر کے علاقے میں چلا کرتا ہے۔ جبکہ چنگ چی رکشے بھی چل رہے ہیں۔ دنیا کے ہر بڑے شہر کی طرح یہاں بھی بڑی بسیں ناگزیر ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ صوبائی حکومت بڑی بسوں کے لیے دلچسپی لیتی ہوئی نظر نہیں آتی، جس کی وجہ سے اس ٹرانسپورٹ کا 95 فیصد دار و مدار نجی ٹرانسپورٹرز پر ہے۔ نجی ٹرانسپورٹرز بھی کوچز اور منی بسوں کو چلانے میں زیادہ متحرک نظر آتے ہیں تاکہ کم خرچے میں زیادہ منافع کمایا جاسکے۔سرکاری شعبے میں کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (کے ٹی سی) آخری بس سروس ہوا کرتی تھی جسے 1998ء میں بند کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک کوئی بھی روڈ ٹرانسپورٹ کا ادارہ صوبائی حکومت کی نگرانی میں دوبارہ قائم نہ ہوسکا۔رنگ برنگی، سجی سجائی ان بسوں، کوچز اور مزدا میں سفر کرنے والے بخوبی ان کی حالتِ زار سے آگاہ ہوتے ہیں۔ گنجائش سے زائد سواریاں، کھچا کھچ رش اور جگہ جگہ جھٹکے سے رکتی یہ بسیں عوامی بد حالی اور متعلقہ اداروں کی نا اہلی کا چلتا پھرتا بلکہ دوڑتا ہوا ثبوت ہیں۔صبح صبح اگر آپ بذریعہ اپنی منزل تک پہنچنا چاہیں گے تو سفر کے دوران آپ کا معقول اور نک سک سے درست حلیہ بڑی حد تک تبدیل ہو جاتا ہے۔ اگر دورانِ سفر آپ کا واسطہ کسی با ذوق ڈرائیور سے پڑ جائے تو یہ اضافی خوبی ہے اور آپ راستے بھر شاندار موسیقی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ اگر آپ بس میں نشست نہ ملنے کے باعث کھڑے ہو کر سفر کر رہے ہیں تو سہارے اور توازن قائم رکھنے کے لیے کوئی ہینڈل نہ بھی ہو، تب بھی آپ گریں گے نہیں، کیونکہ بس اس قدر بھری ہوئی ہوگی کہ آپ ڈبے میں پیک کیے گئے سامان کی طرح اپنی جگہ جمے ہی رہیں گے۔اس کے علاوہ اگر بس میں گنجائش نہیں تو پریشان نہ ہوں، ایک راستہ بس کی چھت کی جانب بھی جاتا ہے جہاں کھلی فضا میں گرمی سے بلبلاتے ہوئے مسافر حضرات بھی کثرت سے نظر آتے ہیں، جو بلا شبہ جان جوکھوں میں ڈاال کر سفر کرتے ہیں۔مرد و خواتین سب ہی بسوں کے ذریعے سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواتین کے لیے مختص کی گئی نشستیں انتہائی کم ہوتی ہیں، بیش تر اوقات انتہائی پر ہجوم اور مصروف شاہراہوں پر بھی ڈرائیور حضرات ریس لگانے اور اوور ٹیکنگ میں مصروف نظر آتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے خود کو ہر قانون سے بری سمجھتے ہیں۔ایسی صورت میں جب مسافر کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں بلکہ چھتوں پر بھی سوار ہوتے ہیں، ڈرائیور حضرات موبائل فون کا آزادانہ استعمال کر کے نہ صرف حادثات کو دعوت دیتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ تمام مسافروں کی زندگی کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے محض 9 ہزار کے قریب بسیں ہیں جبکہ شہری انتظامیہ کے مطابق ٹرانسپورٹ کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنے کے لیے 8 ہزار 600 اضافی اور بڑی بسیں درکار ہیں۔قیامِ پاکستان کے وقت شہر میں ٹرام کا نظام بھی موجود تھا جسے بڑھتی آبادی کے باعث محدود کرتے کرتے ختم کر دیا گیا اور منی بسوں کے ذریعے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم جوں جوں کراچی کی آبادی بڑھتی گئی، ملک کے کونے کونے سے روزگار کی خاطر آنے والے افراد نے جہاں کراچی کی آبادی بڑھائی، تو آبادی کے تناسب سے میسر وسائل کا تناسب بگڑ گیا جس میں ٹرانسپورٹ کی کمی بھی شامل ہے۔بد قسمتی سے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کبھی کوئی حقیقی اور سنجیدہ نوعیت کا منصوبہ نہیں شروع کیا گیا۔ ماضی میں یو ٹی ایس اور گرین بس کے نام سے بھی ٹرانسپورٹ اسکیم شروع کی گئیں لیکن باقاعدہ نظام اور سر پرستی نہ ہونے کے باعث ان منصوبوں پر بھی دھول پڑ گئی۔کچھ عرصہ سے چنگچی رکشوں کو بھی سڑک پر لایا گیا جو ابتدا میں تو اپنے کم کرایوں کی وجہ سے چھوٹے روٹس پر سفر کرنے والے عوام کے لیے بڑی سہولت تھے۔ اسی سفر کے جس کے رکشے والے 150 سے 200 روپے لیتے ہیں، چنگچی رکشوں میں وہی سفر 15 سے 20 روپے میں ہوجاتا تھا۔ لیکن ٹریفک کے اڑدھام اور ہزاروں کی تعداد میں ڈولتے چنگچی رکشوں نے شہرِ قائد کی سڑکوں کا نقشہ بدل کر حادثات کا گراف اونچا کردیا۔منتخب شدہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کا حق ان تک پہنچائے۔ ایک ایسا شہر جو 70 فیصد ریونیو دے کر ملک کی معیشت کو مضبوط سہارا دیتا ہے کیا اس کے شہری میٹرو بس سروس یا اورنج ٹرین جیسی سفری سہولیات کے حقدار نہیں؟ اگر لاہور میں یہ منصوبے کامیاب ہوسکتے ہیں تو کراچی کے لیے کیوں نہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اتنی کثیر آبادی کو سفری سہولیات بہم پہنچانے کے لیے سنجیدہ نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی ذاتی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں خریدنے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے سڑکوں کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر دوسرا شخص اپنی ذاتی سواری لے کر سڑک پر چل رہا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام معمول ہے۔ سڑکیں کشادہ کرنے کی بھی ایک حد ہے، جس کے بعد مزید کشادگی کی گنجائش نہیں رہتی۔ اور کراچی کے لیے اب یہ گنجائش اگر ختم نہیں تو بہت کم رہ گئی ہے۔ اب سڑکوں پر بڑھتی ٹریفک کا حل صرف پبلک ٹرانسپورٹ کو اس حد تک بہتر بنانا ہے کہ لوگ اپنی گاڑی کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کو ترجیح دیں۔لوکل ٹرانسپورٹ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بلا شبہ ایک بڑی سہولت ہے لیکن ہمارے ملک میں کسی بھی نظام کی باقاعدہ اور درست شکل موجود نہیں اور قوانین کی پاسداری کا بھی فقدان ہے جس کے باعث ٹرانسپورٹ کا نظام بھی درہم برہم ہے۔اگر گاڑیوں کی مینٹیننس کا مکمل اور باقاعدہ نظام ہو، قوانین پر پوری طرح عمل کیا جائے، تو یہ عوام کے لیے فرحت کا باعث ہوگا اور وہ سکون و اطمینان سے سفر کر سکیں گے۔ وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ شہریوں کی اذیت اور پریشانی کے تدارک کے لیے فوری طور پر جدید سفری منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے کیونکہ یہ کراچی کے شہریوں کا بنیادی حق ہے۔

(184 بار دیکھا گیا)

تبصرے