Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 12 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

صورتحال خطرناک‘ نئی دہلی سخت کارروائی پر غور کررہا ہے

قومی نیوز هفته 23 فروری 2019
صورتحال خطرناک‘ نئی دہلی سخت کارروائی پر غور کررہا ہے

واشنگٹن … امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال انتہائی خطرناک ہے، انہوں نے متنبہ کیا کہ نئی دہلی پلوامہ حملے کے بعد سخت ایکشن پر غور کررہا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ رکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ بات چیت پر غور کررہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا اس کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان فی الوقت بہت مسائل ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے اوول آفس میں سینئرچینی عہدیدار کے ساتھ ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
دریں اثناء پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی صورت میں پوری دنیا دو ہفتوں میں جوہری دھویں کی لپیٹ میں آ جائے گی اور 90 فیصد آبادی بھوک سے ختم ہو جائے گی اور تہذیب ختم ہو جائے گی۔
یہ خبر بھی پڑھیں : پاکستان 150 اور بھارت کے پاس 140 ایٹم بم ہیں
پاکستان اور بھارت دو پڑوسی ملک اور نیوکلیئر طاقت ہیں لیکن دونوں ممالک کے آپس میں تعلقات کشیدہ رہنے کی وجہ سے اکثر ہم جوہری جنگ کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ امریکی ماہر کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو چھوٹی سی نیوکلیئر طاقتیں جن کے پاس ہیرو شیما پر گرائے گئے بم کے برابر چند سو جوہری ہتھیار ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی صورت میں دوسرے ممالک کو بھی اس کے غیر ارادی نتائج بھگنا پڑیں گے۔
امریکی ماہر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں دو ہفتوں میں جوہری بادل چھا جائیں گے اور 30 سے 50 میل کی بلندی تک فضا میں جوہری تابکاری سے امریکا تک میں کھڑی فصلیں سردی سے تباہ ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی صورت میں امریکا میں بیٹھا کسان کئی سالوں تک 10 سے 40 فیصد تک کپاس، گندم اور چاول سے محروم ہو جائے گا۔ پوری دنیا کے پاس صرف 60 روز کی خوراک باقی بچے گی۔
امریکی ماہر کا کہنا ہے کہ 2 جوہری ممالک کے درمیان جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نیو کلیئر ونٹر کی صورت میں زمین پر فصل نہیں اگے گی اور 90 فیصد آبادی قحط سالی سے مر جائے گی اور انسانی تہذیب ختم ہو جائے گی۔ ان کے بقول اس جنگ کے نتیجے میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہو گا نا تو وہ ممالک جن کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہیں اور نہ ہی وہ ممالک جنہوں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ علاوہ ازیں پلوامہ خودکش دھما کے کے بعد بھارت کو ’’جعلی خبروں‘‘ کے دوسرے حملے کا سامنا ہے۔

پلوامہ حملے میں کوئی ملک ملوث نہ تھا۔ جعلی خبریں دیسی ساختہ اور سوشل میڈیا پر بڑی شدت سے پھیلی ہوئی ہیں۔ مختلف ٹوئٹر ہینڈلز واٹس ایپ میسجر کی مدد سے مصروف کار ہیں۔جہاں کچھ میڈیا ہائوسز ان افواہوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ ایک ’’فیکٹ چیک‘‘ تنظیم اس کا توڑ کرنے میں مصروف ہے۔ جینسی جیکب نے ٹوئٹ کیا کہ وہ نومبر 2016ء سے حقائق کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔
پہلے کبھی کسی ایک واقعہ نے خبر کی ہیئت کے بارے ہمیں ایسا سبق نہیں سکھایا۔ جینسی جیکب جو ’’بوم‘‘ کے منیجنگ ایڈیٹر ہیں وہ بھارت میں جعلی خبروں اور غلط معلومات کے خلاف کام کر رہا ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد اٹھنے والا طوفان کا جعلی خبروں کی نسبت کم اور جعلی تصاویر سے متعلق زیادہ ہے اور یہ غلط معلومات سے زیادہ وائر ل ہیں۔
صر ف پلوامہ حملے کے بعد بوم نے جعلی پن سے متعلق 25 خبریں دیں جو خودکش بمبار کے کانگریس سربراہ راہول گاندھی کے ساتھ فوٹو شاپ عکس سے لے کر ان کی بہن کانگریس رہنما پریانکا کے سانحے پر مسکرانے اور پاکستانی طیارہ گرائے جانے پر محیط ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں : عبدالرشید غازی کی تصویر جعلی نکلی
ان میں پلوامہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ عبدالرشید غازی عرف کامران کی جعلی تصویر بھی شامل ہے۔ حملے کے چار دن بعد ’’بوم‘‘ نے خبر دی کہ عبدالرشید غازی ایک مقابلے میں مارا گیا تھا۔
بھارت کے مختلف ذرائع ابلاغ نے غازی کی ایک تصویر شائع کی جس میں وہ سیاہ لباس زیب تن کئے ہاتھ میں واکی ٹاکی لئے کھڑا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کے اینکر نے ٹیلی ویژن پر خبر دی کہ ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ پر پہلی بار حملے کے ماسٹر مائنڈ کی تصاویر دی جارہی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کے ایک افغان ماہر نے احمد ڈار کو تربیت دی۔

(345 بار دیکھا گیا)

تبصرے