Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پاک بھارت کشیدگی کیا رنگ لائے گی

عمران اطہر جمعه 22 فروری 2019
پاک بھارت کشیدگی کیا رنگ لائے گی

پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر ہے اور کم و بیش وہی صورتحال ہے جب پٹھان کوٹ واقعے کے بعد مودی سرکار نے براہ راست پاکستان پر الزام عائد کرکے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند کردیئے تھے۔ اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں تلخیاں بڑھتی جارہی ہیں اور چند روز قبل انتہا پسند نریندر مودی نے کسی بھی ڈائیلاگز سے صاف انکار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بات چیت کا وقت نکل چکا ہے اور اب کارروائی کا وقت ہے۔ ان کے اس اعلان کے پیچھے کیا حقیقت ہے ؟ کیا وہ واقعی کسی سرجیکل اسٹرائیک کا منصوبہ بنارہے ہیں یا اندورن خانہ پاکستان میں دہشت گردی کی پلاننگ کی جارہی ہے یا پھر پلوامہ حملے کو جواز بنا کر وہ اپنی آئندہ انتخابی مہم کو پاور فل بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ یہ وہ تین اہم پہلو ہیں جو مودی سرکار کے ذہن میں پروان چڑھ رہے ہیں ۔ حملے کی حقیقت کیا ہے اس سے کم وبیش تمام ہندوستانی اور پاکستانی واقف ہیں کہ یہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کا اپنے بیگناہ مسلمان بھائیوں کو بے دردی سے انتقام کا نشانہ بنانے کا بدلہ ہے ۔ لیکن اس امر سے بھی انکار نہیں کہ اس حملے کے نتیجے میں بھارتی حکومت کی سیکیورٹی کی خامیاں بھی کھل کرسامنے آگئیں اور جب ان خامیوں کو خود بھارتی رہنماؤں نے واضح کیا تو مودی سرکار سخت چراغ پا ہوگئی اور ان غیر جانبدار رہنماؤں کے خلاف بھی محاذ کھڑا کردیا گیا۔ الغرض یہ کہ نریندر مودی ہمیشہ کی طرح انتخابات سے قبل مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف انتہا پسند ہندوؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھاکرکے اپنی کامیابی کی پہلی سیڑھی عبور کرچکے ہیں۔ انہیں اس امر سے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ جس آگ سے کھیل رہے ہیں اگر وہ پورے خطے میں پھیل گئی تو اس کے کتنے تباہ کن معاشی اور سماجی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان اور بھارت میں موجود کروڑوں ایسے افراد جو دونوں ملکوں کے درمیان امن اور خوشگوار تعلقات کے خواہشمند ہیں ان کے ذہنوں میں اس سوال شدت سے یہ سوال ابھر رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی آخر کیا رنگ لائے گی اور کیا دونوں ملکوں کے تعلقات کبھی معمول پر بھی آسکیں گے ۔ اس کا سیدھا سا جواب شاید دونوں ملکوں کے غیر جانبدار سیاسی مبصرین کے پاس صرف اتنا ہے کہ مودی سرکار کے ہوتے ہوئے امن کی خواہش لاحاصل ہے کیونکہ سانحہ گجرات برپا کرنے والے انتہا پسند نریندر مودی نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفرقات کی آگ بھڑکاکر اور پاکستان کو بھارت کا سب سے بڑا دشمن قرار دینے میں اپنی تمامتر توانائیاںصرف کرکے جس طرح وزارت عظمیٰ کی مسند سنبھالی ہے اس سے بھارتی اپوزیشن جماعتوں سمیت ہندو مسلم بھائی چارے کے خواہشمند بھارت کے ترقی پسنداور روشن خیال عوام بھی بخوبی واقف ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں بھی کھلے عام یہ چہ می گوئیاں جاری ہیں کہ عام انتخابات قریب آتے ہی مودی سرکار نے اپنا پرانا ایک نکاتی ایجنڈا یعنی مسلم اور پاکستان دشمنی دوبارہ اپنا کر اپنی گھٹیا چالوں کا آغاز کردیا ہے اور پلوامہ حملہ بھی شاید اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔پاکستان پر حملے کا الزام ثابت نہ ہونے پر مودی سرکار سخت جھنجھلاہٹ کا شکار ہے جس کا ثبوت کبھی سرجیکل اسٹرائیک جیسے اعلان ہیں تو کبھی پاکستان کو اندرونی سطح پر کمزور کرنے جیسے مذموم منصوبے کی پلاننگ۔
پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان کی جانب سے پلوامہ حملے میں تعاون کی پیشکش کو رد کرنا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے حملے میں جیش محمد کے ممکنہ ہاتھ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی پر مثبت ردعمل ظاہر نہ کرنا بھی یہ واضح کرتا ہے کہ مودی سرکار صرف پاکستان پر الزامات اور مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی حمایت کو بنیاد بنا کر انتہا پسند ہندؤوں میں اپنی جڑیں مزید مضبوط کرکے آئندہ بھی وزارت عظمیٰ کا خواب دیکھ رہی ہے ۔ اس وقت پورے بھارت میں انتہا پسندی کی جو آگ مودی سرکار نے بھڑکائی ہے اس کا شکار مسلم اقلیت سمیت وہ ہندو اور سکھ بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بلاثبوت پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنا غلط ہے یا اگرکشمیری مجاہدین نے یہ کارروائی کی ہے تو لازمی نہیں کہ ان کی مدد پاکستان نے کی ہو۔ یہی بات بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سکھ رہنما اور پاکستانی وزیر اعظم کے دوست تصورکیے جانے والے نوجوت سنگھ سدھو کے منہ سے کیا نکلی ، چاروں طرف سے ان کی مخالفت میں آوازیں بلند ہونے لگیں، یہی نہیں تعصب کی انتہا کرتے ہوئے ان کو بھارتی ٹی وی کے پروگرام سے بھی نکال باہر کیا گیا ۔ دوسری طرف پاکستانی فنکاروں کو ساتھ لے کر کام کرنے والے پروڈکشن ہاؤسز پر بھی پابندی لگا دی گئی، جاوید اختر ، شبانہ اعظمی کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا، بھارت میں پاکستانی کرکٹرز کی تصاویر ہٹادی گئیں۔ غرض کہ مودی سرکار نے ایسا کوئی ہتھکنڈا نہیں چھوڑا جس سے وہ انتہا پسندوں میں اپنی مقبولیت بڑھا کر اپنی الیکشن مہم کو کامیاب بنانے کی کوشش کرسکے۔
مودی سرکار جس ایجنڈے کے تحت اپنا اقتدار برقرار رکھنا چاہتی ہے وہ انتہا پسند طاقتوں کے لیے تو شاید موثر ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس امر سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارت کی موجودہ حکومت کی پالیسیاں صرف خطے کے امن کی نہیں خود بھارت کی سالمیت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں کیونکہ مودی سرکار کے ذہن میں پلنے والے جارحیت پسند منصوبوں کو بھانپتے ہوئے سابق بھارتی فوجیوں کے ایک تھنک ٹینک نے نریندر مودی کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی بھارت کے لیے بھی خطرناک ہے اور اس سے انڈیا میں علیحدگی پسند طاقتوں کو سراٹھانے کا موقع مل سکتا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ بھارت کے ٹکڑے ہوجائیں ۔ اس حوالے سے اس تھنک ٹینک نے بھارت سرکار کو اپنے خدشات ظاہر کرتے ہوئے خط بھی لکھ دیا ہے لیکن بظاہر لگتا ایسا ہی ہے کہ مودی حکومت اپنی کامیابی کا فارمولا شاید پاکستان دشمنی کو ہی تصور کرتی ہے حالانکہ اس سے قبل اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بی جے پی کی سرکار پاکستان دشمنی میں اس قدر آگے نہیں نکلی تھی جہاں مذاکرات کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ نریندر مودی کے ان منفی ہتھکنڈوں کا نتیجہ ظاہر ہے منفی ہی نکلنا ہے اسی لیے پاکستان سمیت بھارت میں امن پسند قوتوں کی یہی خواہش ہے کہ اس بار اقتدار ایسی طاقت کے ہاتھ آئے جو دونوں ملکوں کی دشمنی کو ہمیشہ کے لیے ختم کراکے خطے میں امن اورمعاشی خوشحالی کا راستہ کھول دے۔

(243 بار دیکھا گیا)

تبصرے