Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 13 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارت ٹوٹ سکتا ہے مودی حکومت کو انتباہ

قومی نیوز بدھ 20 فروری 2019
بھارت ٹوٹ سکتا ہے مودی حکومت کو انتباہ

لاہور…مودی حکومت کو پاکستان کیخلاف جنگی محاذ کھولنے کے اعلان پر بھارت کے اندرہی ہزیمت کا سامنا ہے۔
ہندو انتہا پسندوں کے علاوہ بھارتی عوام اور طلبہ نے اسے الیکشن سٹنٹ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ذرائع کے مطابق بھارتی تھنک ٹینک نے مودی حکومت کو خبردارکیا ہے کہ علیحدگی پسند وں کی تحریکیں اس قدر متحرک ہو چکی ہیں کہ کسی بھی ایسی صورتحال میں بھارت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اگر یہ محاذ آرائی تیز ہوتی ہے تو پنجاب و دیگر 13صوبوں میں اندر سے اتنی سخت مزاحمت شروع ہوجائے گی جسے سنبھالنا ممکن نہیں ہے۔ اگر علیحدگی پسندوں کی تحریکیں مزید متحرک ہوگئیں اور انہیں موقع مل گیا تو بھارت ٹوٹ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی تھنک ٹینک کی آراکے حوالے سے تین بڑے بھارتی میڈیا گروپس نے بھی نہ صرف اس کو رپورٹ کیا ہے بلکہ اس ضمن میں سابق بھارتی فوجی افسران کی ایک تنظیم کے اجلاس میں بھی اکثریت کی یہ رائے تھی کہ بھارت موجودہ حالات میں پاکستان کیساتھ جنگ کی صورت میں اپنا زیادہ نقصان کرے گا۔
سابق بھارتی فوجی افسران کی تنظیم نے اس حوالے سے ایک لیٹر بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت تک پاکستان کو شکست نہیں دی جاسکتی جب تک پاکستان کے اندر حالات خراب نہیں کیے جاتے اور پراکسی وار کو تیز نہیں کیا جاتا۔
یہ خبر بھی پڑھیں : بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 44 ہوگئی
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سخت جواب ملنے کے بعد بھارت کے اندر یہ بحث بھی زور پکڑ گئی ہے کہ اس وقت پاکستان کیخلاف کوئی مہم جوئی نہ صرف نقصان دہ ہوگئی بلکہ بھارت کے ٹوٹنے کا خدشہ زیادہ ہے۔
بھارتی تھنک ٹینک نے اس حوالے سے بھی رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کے اندر تمام سیاسی جماعتیں انڈیا کیخلاف نہ صرف ایک پیج پر ہیں بلکہ پاکستانی قوم بھی مکمل طور پر اپنی فوج کیساتھ کھڑی ہے اور اربوں روپے کی فنڈنگ کر کے پاکستان کیخلاف وہاں جو فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی وہ بالکل ناکام نظر آرہی ہے۔
ادھر بھارت کے معروف اخبار نو بھارت ٹائمز نے اپنے اداریے میں پلوامہ حملہ کو بھارت کی جانب سے کشمیریوں کو نظرانداز کرنے کی وجہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ پلوامہ میں ہونے والے خودکش حملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک مقامی نوجوان اسکا ذمہ دار ہے عادل احمد ڈار پلوامہ کے کاکا پورا گاوں کا رہنے والا تھا گزشتہ کچھ عرصہ سے نوجوان دہشت گرد گروپوں میں شامل ہو کر بھارتی فوجیوں کے لیئے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں حیران کن بات یہ بھی ہے کہ اچھے خاندانوں اور انجئینرنگ اور مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان بھی علم بغاوت بلند کر رہے ہیں فوج پر پتھر پھینکنے والوں میں کالج اور اسکولوں کی لڑکیاں بھی شامل ہو رہی ہیں۔
اخبار لکھتا ہے کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک خودکش حملہ آور کی شکل میں کشمیریوں کو اپنا ہیرو کیوں نظر آتا ہے دراصل ریاست میں یکے بعد دیگرے غیر مستحکم حکومتوں کے دور میں سماجی اور اقتصادی ترقی کا عمل مستحکم نہیں ہو سکا آج نوجوان کشمیری نہ تو کشمیر کے اندر اچھے کیرئیر کے مواقع حاصل کر پاتا ہے اور نہ ہی ریاست کے باہر ملک کے دیگر حصوں میں اسے پذیرائی ملتی ہے اس سے بھی وہ احساس محرومی کا شکار ہو جاتا ہے بھارت کی حکومت کو چاہیئے کہ سخت اقدامات کرنے کی بجائے ان سے بات کرئے انکے مسائل کو سنے اور انہیں اپنائیت کا احساس دلوائے۔کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد بھارت سے متنفر ہو چکی ہے وہ یوں محسوس کر رہے ہیں کہ بھارت انکو زبردستی اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتا ہے یہی وہ سوچ ہے جو انہیں خودکش حملوں پر مجبور کرتی ہے۔

(351 بار دیکھا گیا)

تبصرے