Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

شفقت امانت کی بات ہے خاص

ویب ڈیسک هفته 16 فروری 2019
شفقت امانت کی بات ہے خاص

کلاسیکی موسیقی کو دْنیا بھر میں پسندیدگی سے سْنااور پسند کیا جاتا ہے۔ اس فن کو حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ تربیت لینا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ غزل گائیکی کو دْنیا بھر میں مقبول بنانے میں موسیقار گھرانوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ پرائیڈ آف پرفارمنس پٹیالہ گھرانے کو دیئے گئے۔ اسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے گائیک شفقت امانت علی خان، نئی نسل کے مقبول ترین گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ اْستاد امانت علی خان کے بیٹے اور مرحوم اسد امانت علی خان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ شفقت امانت علی 26 فروری 1965 کو پیدا ہوئے‘ اُن کا تعلق پٹیالہ گھرانے کی نویں نسل سے ہے۔ انہوں نے چار سال کی عمر سے ہندوستانی کلاسیکی گائیکی کی تربیت اپنی دادی سے لینی شروع کی۔ بعد ازاں انہوں نے موسیقی کے اسرار و رموز اپنے والد اْستاد امانت علی خان، چچا استاد فتح علی خان صاحب، روشن آرا بیگم اور دیگر سے سیکھے۔ انہوں نے موسیقی کے ساتھ اپنے تعلیمی سفر کو بھی جاری رکھا اور 1988ء میں گورنمنٹ کالج لاہور (جو اب جی سی یونیورسٹی کہلاتی ہے) سے گریجویشن کیا۔ انہوں نے میوزک سوسائٹی آف گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی لاہور کی جانب سے ایک اعزاز رول آف آنر بھی وصول کیا۔شفقت امانت علی مشہور پاپ بینڈ فیوژن کے مرکزی گلوکار تھے‘ انہیں موسیقی کی دْنیا میں خاص مقام حاصل ہے، وہ بہ یک وقت کلاسیکی اور پاپ موسیقی پر دسترس رکھتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ گلوکاروں میں انہیں منفرد حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ ان کی آواز اور انداز گائیکی کو دنیا بھر میں بے حد پسند کیا گیا۔ شفقت امانت علی پاکستان کے نامور گلوکاروں میں سے ایک ہیں۔ اچھی آواز اور بہترین گائیگی کے ہنر کی وجہ سے وہ بھارت میں بھی اتنے ہی مقبول ہیں، جتنے پاکستان میں۔اپنے ایک انٹرویو میں پوچھے گئے سوال آپ کی تربیت میں زیادہ عمل دخل کس کا رہا؟کے جواب میں شفقت امانت علی کا کہنا تھا کہ ’’میں بہت چھوٹا تھا، جب میرے والد کا انتقال ہوگیا تھا، میری والدہ نے میری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے میری تربیت میرے والد کی طرز زندگی کے مطابق کی۔ بھارت میں پاکستانی فن کاروں پر پابندی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب بھارت کو پاکستانی فن کاروں پر سے پابندی اٹھا لینی چاہیے‘ دونوں حکومتوں کے لئے فن کاروں پر پابندی لگانا سب سے آسان ہے، اسی لیے ایسا ہوتا ہے، ورنہ دو طرفہ تجارت بھی اس سے ضرور متاثر ہوتی۔ گلوکار نے کہا کہ بھارت سے مجھے بہت محبت، عزت اور حوصلہ ملتا ہے‘ ہم مثبت انداز میں بہت سے اچھے کام کر سکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ایسا ہو نہیں پا رہا۔ بھارت میں پاکستانی فن کاروں کے کام کرنے پر پابندی کو کم و بیش تین سال ہو چکے ہیں۔‘‘ بھارتی فن کاروں کے پاکستانی فلموں میں کام کرنے کے بارے میں شفقت امانت علی خان نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے مابین کلچر ایکسچینج اشد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے اور موسیقی کے شعبے میں دْنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے کا خواب دیکھتا ہوں۔

(167 بار دیکھا گیا)

تبصرے