Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جن کا بھائی

قومی نیوز بدھ 13 فروری 2019
جن کا بھائی

رات کے ڈھائی بج رہے تھے کمرے میں مدھم روشنی تھی عزیز آلتی آلتی مار کر آنکھیں بند کرکے اونچی اونچی آواز میں کچھ پڑھ رہا تھا اچانک اس کمرے کادروازہ کھلا اس کے والد غصے میں بھرے کمرے میں داخل ہوئے اورلائٹ جلاتے ہوئے غصے سے بولے نہ تم خود سوتے ہو نہ دوسروں کو سونے دیتے ہومحلے والے الگ شکایت کرتے ہیں کہ یہ کون ہے جورات کو اجنبی زبان میں بولتا رہتا ہے آخر عامل بننے کا بھوت تمھارے سرسے کب اْترے گا۔
اباجی ! لوگوں کی یہ مجال کہ میرے متعلق باتیں کریں میں ان کے منہ بند کردوں گا عزیز آنکھیں نکالتے ہوئے بولااس کے ابا بولے بیٹا دیکھ یہ عامل بننے کے خواب دیکھنا چھوڑو اور سیدھی سادی آسان زندگی گزارو
اباجی ! منزل میرے سامنے کھڑی ہے۔بس آخری چلّہ باقی ہے اس میں کامیاب ہونے کے بعد جن میرے قبضے میں آجائے گا اور میں بہت بڑا عامل بن جاؤں گاآج چلّے کی آخری رات تھی آدھی رات کو قبرستان میں ایک حصار کے اندر عزیزآنکھیں بندکیے، عملیات میں مشغول تھا کہ اچانک کچھ خوف ناک آوازیں اْبھریں ان آوازوں میں رفتہ رفتہ تیزی آئی گئی جس سے ماحول مزیدخوفناک ہوگیاان آوازوں سے اس کے بدن میں کچھ جھرجھری سی ہوئی مگر اس نے آنکھیں نہیں کھولیں آوازیں کچھ مدہم سی ہونے لگیں تو اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں اچانک درجنوں کی تعداد میں خوفناک شکلیں نمودار ہوئیں اس نے فورََ اپنے خوف پر قابو پایاان شیطانی طاقتوں کی بھرپور کوششیں تھیں کہ وہ یہ عمل مکمل نہ کرپائے اور ڈر کے بھاگ جائے مگرعزیز اپنے ادارے کاپکا ثابت ہوا اسے اپنے خوف پر مکمل کنٹرول ہوچکا تھا اس کے عملیات میں تیزی آنے لگی تھوڑی دیر تک یہ جنگ جاری رہی اور پھر جیت آخر عزیر کی ہوئی۔
خوفناک آوازیں اور شکلیں غائب ہوچکی تھیںاچانک اس نے دیکھا کہ ایک مخلوق ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑی تھی اب دو مخلوق اس کی غلام تھی یہ دیکھ کر اس کی باچھیں کھل اٹھیں اس نے اپنے عمل کی وجہ سے دراصل ایک جن کو اپنے بس میں کر لیاتھاوہ خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف چل پڑا جن اس کے پیچھے پیچھے ہاتھ باندھے ہوا میں معلق تیرتارہا اچانک اسی جن کاایک ہم شکل وہاں نمودار ہوا وہ اس کا ہم شکل بھائی تھاوہ اپنی تھوڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا او انسان کے بچے تونے اپنے عمل سے میرے بھائی کی توقابو میں کرلیا اب دیکھنا میں اپنے بھائی کوتیرے چنگل سے کیسے آزاد کراتا ہوں یہ کہہ کر وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیا
عزیرنے اپنے گھر کے ایک حصے میں اپنا آستانہ بنالیا تھامختلف اخباروں میں اپنا اشتہاردے دیا تھا اب اُسے اْمید تھی کہ اس کے آستانے پر لوگوں کا ہجوم امڈآئے گاایک دن دو بھائی اس کے آستانے میں داخل ہوئے اور اپنامسئلہ بیان کیا ان میں سے ایک بولا بابا امیر قد دیکھیں اتنا لمبا ہے کہ اس پر بانس کاگمان ہوتا ہے اور یہ میرا بھائی اتنادبلا ہے کہ جیسے کئی دنوں سے فاقوں سے ہواب تم کیاچاہتے ہو ؟ عزیز بولا۔
وہ بولا: آپ تو عامل ہیں کچھ اس طرح کریں کہ میرا قدمناسب ہوجائے اور میرا بھائی موٹا ہوجائے۔
عزیر نے کہا : ٹھیک ہے تمہارے مسئلے کا حل ابھی بتاتا ہوں یہ کہہ کر وہ آنکھیں بند کرکے بیٹھ گیا اور جن کو حاضر کیاجن کی صرف وہی دیکھ اور سن سکتا تھا حاضر ہونے والا جن اس جن کاہم شکل بھائی تھا جسے عزیز نے قابو میں کیاتھا ہم شکل ہونے کی وجہ سے عزیز اسے پہچان نہ سکا اور اسے ان دونوں کا مسئلہ بتا کر اس کوحل کرنے کا عمل پوچھا پھر جو عمل جن نے بتایا، وہ ہی عزیز نے ان دونوں کو بتاکر ایک ہفتے کے بعد آنے کاوقت دے دیا۔وہ دونوں خوشی خوشی چلے گئے۔
جن نے اپنے بھائی سے پوچھا: بھائی تم نے میری جگہ کیوں لی ؟
وہ بولا دیکھو تم اس شخص کے غلام ہو وہ جوکہے گاتمہیں ماننا پڑے گا مگر میں اس کاغلام نہیں ہوں میں نے اسے اْلٹا عمل بتادیا ہے اب دیکھو اس کاکیا حشر ہوتا ہے یہ کہہ کر وہ مسکرانے لگاعزیر کے پڑوس میں ایک غریب مزدور رہتا تھا وہ اس کے پاس آیا اور کہا بیٹا عزیزبولا جی بولیے آخر پڑوسیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیںمزدور نے کہا مہنگائی نے کمرتوڑدی ہے میں امیر بننا چاہتا ہوں (جاری ہے)

(291 بار دیکھا گیا)

تبصرے