Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 16 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

اضافی پیسے

ویب ڈیسک بدھ 13 فروری 2019
اضافی پیسے

مبین اورکاشف دو بہن بھائی تھے دونوں آپس میں لڑتے بھی تھے مگر جلد صلح ہو جاتی تھی دونوںا سکول کے بعد ٹیویشن جاتے اور واپسی پر اپنے پیارے میاں مٹھو سے کھیلتے اسے ٹافیاں بسکٹ اور سلانٹیاں پیش کرتے میاں مٹھو کبھی تو ان کو کھا لیتا اور کبھی چونچ مار کر دور پھینک دیتادن اسی طرح ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ ایک دن ان کی ہمسائی نے ان کی امی کو بتایا کہ آپ کی دیوار کے ساتھ جو سرکاری پائپ ہے وہ لیک ہو رہا ہے اور دیوار کو نقصان پہنچ رہا ہے چھٹی والے دن امی نے پانی کا پائپ ٹھیک کروانے کا فیصلہ کیا اور محلے کے ایک کاریگر زین کو بلوا کر ٹھیک کروا دیا۔پائپ تو ٹھیک ہو گیا لیکن دیوار اندر اور باہر دونوں جگہ سے ٹوٹ پھوٹ گئی جو بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی کتنے دن ایسے ہی گزر گئے مبین اور کاشف جب بھی دیوار کو دیکھتے تو ہنستے اور کہتے اس کو چوٹ لگی ہے پائپ کی وجہ سے اس کا سر پھٹ گیا ہے زین بھائی نے ہتھوڑا مار کر اسے زخمی کر دیا ہے بے چاری دیوار ایک دن ساتھ والوں نے اپنے مکان کی مرمت کروائی تو ان کی امی نے مزدوروںکو کہہ کر دیوار کے دونوں اطراف سیمنٹ لگوایا سیمنٹ لگانے والا مزدور بہت غریب تھا اس کے کپڑے بھی پھٹے ہوئے تھے کام کے بعد ان کی امی نے پانچ سو روپے دئیے تو مزدور کہنے لگا باجی یہ تو زیادہ ہیں کام تھوڑا تھاامی نے کہا ہمارا دین تو کہتا ہے کہ مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ سو کھنے سے پہلے ادا کرو مزدور بہت خوش ہوا اور کہنے لگا باجی آج میں ان پیسوں سے بچوں کے لئے پھل لے کر جائوں گا کیلے مالٹے اور امرود کیونکہ بچے دوسروں کو پھل کھاتے بڑی حسرت سے دیکھتے ہیں تو میرے دل میں خیال آتا ہے ان کو خرید کردوں مگر اتنے پیسے ہی نہیں ہوتے آج آپ کے گھر کام کے اضافی پیسے ملے ہیں تو ضرور پھل خرید کر لے جائوں گا۔
مبین اور کاشف بھی مزدور کو دیکھ رہے تھے اور خوش ہو رہے تھے کہ اس کے بچے بھی آج پھل کھائیں گے اور امی کو دعائیں دیں گے دوسروں کو آسانیاں دینے سے اللہ خوش ہوتا ہے انہوں نے میاں مٹھو کو ایک امرود دیا جو وہ بڑے شوق سے ٹک ٹک کر کے کھا رہا تھا کاشف اور مبین بھی امرود کھاتے ہوئے ٹیوشن چل دئیے۔
رات کو سوتے وقت کاشف نے امی سے پوچھا اضافی پیسے کیا ہوتے ہیں تو امی چونک پڑی پھر انہیں یاد آیا کہ آج مزدور نے مزدوری لیتے وقت یہ الفاظ بولے تھے اضافی پیسے سے مراد یعنی اپنی ضرورت کے علاوہ زائد پیسے اچھا تو مزدور کو ہمارے گھر کام کر کے جو پیسے ملے وہ اس کے لئے اضافی تھے کاشف بولاہاں وہ اس لئے ساتھ والوں کے گھر کام کر کے اسے پوری مزدوری ملی تھی ہم نے تو دس پندرہ منٹ کام کر وایا تھا امی نے بتایا تو کاشف بولا اچھا پوری مزدوری سے اس نے گھر کے دوسرے اخراجات پورے کرنے ہوں گے جی اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو دنیا کی ساری نعمتیں عطا کی ہیں ورنہ لوگ کیسے کیسے حالات میں بچوں کی ضروریات پوری کر رہے ہیں امی نے کہا تو مبین اور کاشف اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے خوابوں کی دنیا میں کھو گئے۔

(192 بار دیکھا گیا)

تبصرے