Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 26 اپریل 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

متحدہ پاکستان کے دفتر پر فائرنگ کارکن جاں بحق

رپورٹ عارف اقبال منگل 12 فروری 2019
متحدہ پاکستان کے دفتر پر فائرنگ کارکن جاں بحق

کراچی ۔۔۔نیو کراچی ایم کیو ایم کے دفتر میں گھس کر نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک کارکن جاں بحق‘ ایک شدید زخمی‘ واقعہ کے بعد کارکنان کا احتجاج‘ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا‘
پولیس و رینجرز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا‘ واقعہ کے بعد مسلح ملزمان بآسانی فرار ہوگئے‘ آئی جی سندھ کا نوٹس۔
نیو کراچی کے علاقے سیکٹر الیون ڈی اتوار بازار کے قریب ایم کیو ایم پاکستان کے یونین کونسل نمبر 6 کے آفس میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں یونین کونسل میں موجود 2ا فراد شدید زخمی ہوگئے
یہ خبر بھی پڑھیں : سی ٹی ڈی نے ٹارگٹ کلراور 2 دہشتگرد گرفتار کرلیئے، اسلحہ برآمد
جبکہ فائرنگ کے موقع پر موجود افراد میں بھگدڑ مچ گئی جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مسلح حملہ آور فائرنگ کے بعد اطمینان سے فرار ہوگئے۔
اطلاع ملنے پر متحدہ پاکستان کے کارکنان اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہوگئی اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لئے عباسی اسپتال منتقل کیا
جہاں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے متحدہ پاکستان کا ایک زخمی کارکن دم توڑ گیا جبکہ دوسرے کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
اسپتال میں جاں بحق کارکن کی شناخت 40 سالہ شکیل انصاری اور زخمی کی شناخت 60 سالہ اعظم کے نام سے ہوئی جو یونین کونسل کا مالی بھی بتایا جاتا ہے۔
کارکن کی جاں بحق ہونے کی اطلاع پر اسپتال اور علاقے میں موجود متحدہ کے کارکنان مشتعل ہوگئے اور احتجاج کیا جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا
جبکہ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس و رینجرز کی بھاری نفری فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا
جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر و وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر رہنما عباسی اسپتال پہنچے
یہ خبر بھی پڑھیں : علی رضا عابدی قتل کیس کا معمہ حل نہ ہوا
جہاں انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے ہمارا ایک کارکن شہید جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا
تاہم آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ویسٹ امین یوسف زئی اور ایس ایس پی سینٹرل سے واقعہ کی مکمل رپورٹ طلب کرلی ہے۔
دوسری طرف کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ارکان اسمبلی کے دفتر پر فائرنگ اور کارکن شکیل انصاری کی شہادت پر انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے 3 دن تک تنظیمی سرگرمیاں معطل رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان‘ گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ سے حملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

(138 بار دیکھا گیا)

تبصرے