Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پی ایس ایل بگل بجنے کو تیار

ویب ڈیسک پیر 11 فروری 2019
پی ایس ایل بگل بجنے کو تیار

جمعرات سے پی ایس ایل کی رنگینیاں اپنے عروج پر پہنچنے والی ہیں ،پاکستانیوں نے کرکٹ کے بغیر ہر سال ایک صدی کی طرح گزارا ہے، پی ایس ایل اس عظیم ملک میں اس عظیم کھیل کی بحالی کے لیے بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ 2008ء سے جس طرح پاکستان کرکٹ کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے بعد تو حال بہت ہی برا ہو گیا۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ پے در پے تنازعات نے پوری کردی۔ تب پاکستان میں نئی حکومت آنے کے بعد کرکٹ بورڈ کی قیادت نجم سیٹھی کو سونپی گئی۔یہ وہ فیصلہ تھا جس نے پاکستان کرکٹ کے تنِ مردہ میں جان ڈال دی۔ نجم سیٹھی نے پی ایس ایل کا وہ منصوبہ جو دو سال سے محض کاغذوں میں موجود تھا، آگے بڑھایا اور بلاشبہ اس کی ابتداء بہت مشکل تھی، خوف تھا، خدشات تھے، وہ بھی ایسے کہ امیدوں اور توقعات پر غالب آ رہے تھے۔ پہلا سیزن گو کہ سرے سے پاکستان میں ہوا ہی نہیں لیکن اس نے ملک میں کامیابی کے نئے ریکارڈز قائم کردئیے۔پھر حوصلہ پاتے ہوئے پاکستان کرکٹ کی انتظامیہ نے دوسرے سیزن میں ایک خطرہ مول لیا، ایک قدم آگے بڑھایا اور فائنل لاہور میں کروانے کا منصوبہ بنایا۔ چہار جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی، سیاسی حلقوں کی طرف سے تھا ہی خود کھیل سے وابستہ افراد کی طرف سے بھی لیکن کسی نے کیا خوب کہا کہ اگر پی ایس ایل کو جلد از جلد پاکستان نہ لایا گیا تو یہ مر جائے گی، اس لیے یہ خطرہ مول لینا ضروری تھا اور وہ بھی فوراً۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ لاہور میں ایک تاریخی فائنل کے ساتھ ہی ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بھی کھلتے چلے گئے۔ان تمام فیصلوں کے فیوض و برکات اب تک لاہور ہی سمیٹ رہا تھا، تیسرے سیزن میں اسے آگے پھیلانے کا فیصلہ کیا گیا اور پی ایس ایل3 کے فائنل کی میزبانی کراچی کو دی گئی۔ یہ بھی بورڈ کے لیے مشکل ترین فیصلوں میں ایک تھا لیکن گذشتہ سال پاکستان میں ہونے والے حتمی مرحلے کے لئے فضاء کافی سازگار دکھائی تھی۔ پشاور زلمی کے کھلاڑی تو اس سال بھی پاکستان آئے، کراچی کنگز کے بھی بیشتر کھلاڑیوں نے لاہور کی راہ لی، کوئٹہ کو ایک مرتبہ پھر کیون پیٹرسن اور شین واٹسن کی خدمات سے محروم ہونا پڑا، البتہ ان کے دیگر کھلاڑی ضرور پلے آف میں آئے جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ فائنل کھیلنے کے لیے تقریباً اپنی پوری طاقت کے ساتھ کراچی میں موجود تھی۔یہ سب ایک نئے عہد کا آغاز ہے اور اس کی منزل بہرحال وہی ہوگی، جو مقصود ہے۔ تصور کیجیے کہ اگلے چند سالوں میں 8 ٹیمیں پاکستان کے مختلف میدانوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں، وہ بھی “ہوم” اور “اوے” کی بنیاد پر یعنی کراچی اور لاہور کا پہلا مقابلہ قذافی اسٹیڈیم میں ہو اور دوسرا نیشنل اسٹیڈیم پر۔ دوسرے الفاظ میں ابھی تو محض آغاز ہے، اگر پی ایس ایل اسی طرح آگے بڑھتی رہی تو کوئی شک نہیں کہ یہ ملک کا سب سے بڑا برانڈ بن جائے گا۔ اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو اسی سے لگا لیں کہ ملک کے نیوز چینلز جو معمولی سے معمولی منفی خبر بھی بریکنگ نیوز کے ساتھ چلا رہے ہیں، گزشتہ کئی دنوں سے پی ایس ایل کی کوریج میں مصروف ہیں جب پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) شروع ہوئی تو سب یہ سوچ رہے تھے کہ اس سے پاکستان کو نیا ٹیلنٹ تلاش کرنے میں بہت مدد ملے گی اور بہت سارے نوجوان جو ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اچھا پرفارم کر رہے ہیں انہیں ایک بڑا اسٹیج مل جائے گا جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اگر ہم حسن علی، شاداب خان، حسین طلعت اور فخر زمان کی ہی مثال لے لیں تو بہت حد تک اس میں سچائی بھی نظر آئے گی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ مندرجہ بالا کھلاڑیوں کے حوالے سے سارا کریڈٹ ان کی فرنچائزز سمیٹ رہی ہیں لیکن ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ یہ سارے ڈومیسٹک پراڈکٹ ہیں اور ایک سسٹم سے نکل کر آئے ہیں۔ ان کے اندر ٹیلنٹ موجود تھا جسے نکھارنے میں پی ایس ایل نے مدد کردی اور آج یہ پاکستان کی ٹیم میں اہم مقام رکھتے ہیں۔شاداب خان کی مثال جہاں یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہیں ہے وہیں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صلاحیت کو پرکھنے کا پیمانہ پی ایس ایل ہی بن گیا ہے کیونکہ ڈومیسٹک سطح پر اچھی کارکردگی دکھانے والے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیت کو مشکوک ہی سمجھا جاتا ہے لیکن جیسے ہی وہ پاکستان سپر لیگ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں تو ان کے ٹیلنٹ کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔ یہ اپروچ ثابت کررہی ہے کہ سلیکشن کمیٹی اور دیگر متعلقہ افراد ڈومیسٹک کرکٹ پر گہری نگاہ نہیں رکھے ہوئے اور اس سطح پر نظر آنے والی صلاحیت پر وہ بھروسہ کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن جب پی ایس ایل کی فرنچائز ٹیمیں کسی نوجوان کو اسکواڈ کا حصہ بناتی ہیں اور وہ کھلاڑی ٹی20لیگ میں اچھی کارکردگی دکھا دے تو پھر سلیکشن کمیٹی اس کی صلاحیت پر پسندیدگی کی مہر ثبت کردیتی ہے۔چیف سلیکٹر انضمام الحق خود بھی اسی خام صلاحیت کی بنیاد پر قومی ٹیم کا حصہ بنے تھے جو اْن کے کپتان نظر آگئی تھی اور کپتان کی آنکھ نے نوجوان بیٹسمین کو ورلڈ کپ کے اسکواڈ میں شامل کرنے کا خطرہ مول لے لیا مگر سلیکشن کمیٹی کا سربراہ بننے کے بعد انضمام الحق ایسی خام صلاحیت کو تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔شاداب خان کی تلاش پی ایس ایل سے ممکن ہوئی ہے لیکن ڈومیسٹک کرکٹ میں اب بھی ایسے نوجوان موجود ہیں جو کم عمر مگر نہایت باصلاحیت ہیں لیکن سلیکشن کمیٹی کی ’’آنکھ‘‘ میں وہ محض اس لیے نہیں جچ رہے کہ انہوں نے پی ایس ایل میں حصہ نہیں لیا اور چار رکنی مجلس انتخاب میں نہ اتنی اہلیت ہے اور نہ جرات کہ وہ کسی خام صلاحیت کو نکھارتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ میں اْتار سکیں!اب آتے ہیں پی ایس ایل میں ٹیموں کے اخراجات کی طرف،پی ایس ایل کی سب سے کم قیمت پر فروخت ہونے والی فرنچائز نے اپنے اخراجات کنٹرول میں رکھے جس کی وجہ سے دیگر ٹیموں کے مقابلے میں کم نقصان برداشت کرنا پڑا، موجود مالی معاملات کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکو 2016 کے پہلے ایڈیشن میں سینٹرل پول سے 13 کروڑ 59 لاکھ 80 ہزار روپے اور اسپانسر شپ سے 1 کروڑ 70 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی، مجموعی رقم 15 کروڑ 29 لاکھ 80 ہزار بنی۔ٹیم نے فرنچائز فیس کی مد میں پی سی بی کو 14 کروڑ 70 لاکھ 60 ہزار 840 روپے ادا کیے، بطور میچ فیس 1 کروڑ 54 لاکھ 62 ہزار 500 روپے کی ادائیگی ہوئی، ملبوسات پر 10 لاکھ 97 ہزار 825 روپے خرچ ہوئے، ہوٹل میں رہائش پر ایک کروڑ 4 لاکھ 1351 روپے صرف ہوئے، دیگر اخراجات 73 لاکھ 22 ہزار 331 روپے کے ہوئے، فرنچائز نے تنخواہوں کی مد میں 26 لاکھ 30 ہزار روپے ادا کیے، ایڈورٹائزنگ پر ایک کروڑ 36 لاکھ 72 ہزار 283 روپے اور میڈیا پر 15 لاکھ 42 ہزار 200 روپے خرچ ہوئے، ویب سائٹ پر ایک لاکھ 60 ہزار روپے صرف کیے گئے، ڈیپریسیشن 29 ہزار روپے رہا، ایک لاکھ 32 ہزار 250 روپے کے دیگر اخراجات ہوئے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکو پہلے سال 4 کروڑ 65 لاکھ 30 ہزار 560 روپے کا نیٹ خسارہ ہوا، یہ تمام فرنچائزز کے مقابلے میں سب سے کم ثابت ہوا۔ فرنچائز کو 2017 کے دوسرے ایڈیشن میں سینٹرل پول سے 10 کروڑ 56 لاکھ 17 ہزار 444 روپے اور اسپانسر شپ سے 9 کروڑ 56 لاکھ 47 ہزار ایک روپے کی آمدنی ہوئی، دیگر انکم 5 لاکھ روپے رہی، مجموعی رقم 20 کروڑ 17 لاکھ 64 ہزار 445 روپے بنی۔ ٹیم نے فرنچائز فیس کی مد میں پی سی بی کو 15 کروڑ 31 لاکھ 26 ہزار 350 روپے ادا کئے۔بطور میچ فیس 6 کروڑ 85 لاکھ 66 ہزار 514 روپے کی ادائیگی ہوئی، زمینی ٹرانسپورٹ پر ایک کروڑ 6 لاکھ 718 روپے لگے، دیگر اخراجات 2 لاکھ 8 ہزار 887 روپے کے ہوئے، فرنچائز نے تنخواہوں کی مد میں 27 لاکھ 30 ہزار روپے ادا کیے، مینجمنٹ اور ایڈمن اخراجات 9 لاکھ 78 ہزار 363 روپے کے رہے، فیس اور سبسکرائبشن کی مد میں 5 لاکھ روپے ادا کیے گئے، ایڈورٹائزنگ پر 72 لاکھ 46 ہزار 686 روپے خرچ ہوئے، پروموشنل اخراجات ایک کروڑ 2 لاکھ 83 ہزار 815 روپے کے تھے، ویب سائٹ پر 39 ہزار 585 روپے صرف کیے گئے، ڈیپریسیشن ایک لاکھ 93 ہزار 420 روپے رہا، کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکو دوسرے سال 6 کروڑ 35 لاکھ 18 ہزار 476 روپے کا نیٹ خسارہ ہوا۔پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کا تیسرا ایڈیشن گزشتہ بقیہ ایڈیشنز کی نسبت کامیاب اور ہر لحاظ سے بڑا ثابت ہوا اور پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی جانب ایک اور قدم بڑھتے ہوئے لیگ کے تین میچز کا پاکستان میں انعقاد کیا۔لیگ کا تیسرا ایڈیشن اس لحاظ سے بھی یادگار تھا کہ پہلی مرتبہ پاکستان سپر لیگ میں پانچ کی جگہ چھ ٹیموں نے شرکت کی اور ملتان سلطانز کی ٹیم کا اضافہ ہوا اور اس نے ایونٹ کا بہترین انداز میں آغاز کرتے ہوئے ابتدا میں متعدد فتوحات سمیٹیں۔البتہ ان کی فتوحات کا تسلسل زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور پھر ایک ایسا موقع اایا کہ وہ ایونٹ میں فتوحات کے لئے ترس گئے اور اپنے پہلے ہی ایڈیشن میں کوالیفائرز کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکے۔لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کی ٹیمیں لگاتار تیسرے ایڈیشن میں ناکامی سے دوچار ہوئیں اور بڑے ناموں کی موجودگی کے باوجود بھی دونوں ٹیموں کی قسمت گزشتہ سیزن سے بدل نہ سکیں۔پی ایس ایل کے ابتدائی دونوں ایڈیشنز کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والی فرنچائز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس مرتبہ اس معیار کی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکیں جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی اور وہ فائنل میں جگہ بنانے میں ناکام رہی۔ البتہ پشاور زلمی اور خصوصا اسلام آباد یونائیٹڈ نے ایونٹ میں بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے دیگر ٹیموں پر اپنی سبقت ثابت کی اور ایونٹ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔لیکن اس سب سے بڑھ کر تیسرے سیزن کی سب سے بڑی بات لیگ کے تین میچز کا پاکستان میں انعقاد تھا جہاں زندہ دلان لاہور نے دو کوالیفائرز کی میزبانی کی اور پھر
کراچی کو پہلی مرتبہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا۔ کراچی میں منعقدہ فائنل میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے اپنی فتوحات کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے کپتان مصباح الحق کی عدم موجودگی میں بھی بہترین کھیل پیش کیا اور فتح حاصل کر کے دوسری مرتبہ لیگ کی چیمپیئن بننے کا کارنامہ انجام دیا۔۔نئی انتظامیہ نے اب تک کئی اہم قدم اٹھائے ہیں جیسا کہ ملتان فرنچائز کو بھاری قیمت پر نئے مالک کو فروخت کردیا ہے، تمام ٹیموں کا انتخاب عمل میں آچکا ہے بلکہ شیڈول کا اعلان بھی کردیا گیا ہے جس کے مطابق پی ایس ایل 4 کا آغاز 14 فروری کو دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے مقابلے سے ہوگا

اور یہ سلسلہ 17 مارچ کو کراچی میں فائنل تک جاری رہے گا۔ اس دوران 7 مارچ کو ٹورنامنٹ متحدہ عرب امارات سے پاکستان منتقل ہوگا اور پہلے مرحلے کے آخری 4 مقابلے، 3 کوالیفائرز اور فائنل کراچی اور لاہور کے میدانوں پر کھیلے جائیں گے۔لیکن ملین ڈالرز کا سوال یہ ہے کہ کیا پی ایس ایل 4 توقعات پر پورا اتر پائے گی؟ نجم سیٹھی کی زیرِ قیادت سپر لیگ کے 3 کامیاب سیزنز نے جو کڑے معیارات مرتب کیے ہیں، کیا ‘نئے پاکستان’ میں احسان مانی ان تک پہنچ پائیں گے؟اس سوال کا جواب تو وقت ہی دے گا لیکن یہ کہنا ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ اس مقام تک پہنچنا کافی مشکل ہے کیونکہ پی ایس ایل کو پاکستان کا سب سے بڑا برانڈ بنانے میں اہم ترین کردار ان یادگار لمحات کا ہے، جو پچھلے سیزن میں دیکھنے کو ملے تھے۔ آئیں نئے سال اور پی ایس ایل کے نئے سیزن سے قبل ان یادوں کو تازہ کرلیں کہ جو 2018ء میں ہم نے سمیٹیں۔اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ پی ایس ایل کے ہر سیزن کا سب سے بڑا مقابلہ ‘کراچی-لاہور ٹاکرا’ ہوتا ہے۔ پچھلے سال دونوں کا ایک مقابلہ تو ایسا ہوا کہ شاید ہی کبھی بھلایا جاسکے۔ یہ سیزن کا 24واں میچ تھا جس کی آخری گیند پر لاہور قلندرز کو جیتنے کے لیے 3 رنز کی ضرورت تھی، لیکن عثمان شنواری کی گیند پر گلریز صدف کا لگایا گیا شاٹ لانگ-آن پر کیچ ہوگیا۔توقعات کے عین مطابق کراچی کنگز کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، کوچ مکی آرتھر سمیت سب کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے کہ ری پلے میں پتہ چلا کہ عثمان کا قدم کریز سے آگے پڑا تھا اور یوں یہ ایک نو-بال قرار پائی۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تو ناقابلِ یقین تھا، آخری گیند پر مقابلہ ٹائی ہوگیا اور یوں فیصلہ سْپر اوور میں ہوا۔ سنیل نرائن نے قلندرز کے لیے یہ اہم اوور پھینکا۔ کراچی کے شاہد آفریدی کے آخری گیند پر چھکے کے باوجود لاہور نے 11 رنز کا کامیابی سے دفاع کیا۔یہ پی ایس ایل 3 کا پہلا سپر اوور نہیں تھا، اس سے پہلے لاہور قلندرز اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ایک میچ ٹائی کرچکے تھے لیکن تب سْپر اوور میں اْن کا سامنا آندرے رسل سے تھا جنہوں نے شاہد آفریدی والی غلطی نہیں کی حالانکہ درکار رنز بھی زیادہ تھے، یعنی 16۔ جب 2 گیندوں پر 7 رنز کی ضرورت تھی تو رسل نے مستفیض الرحمٰن کو پہلے چوکا اور پھر آخری گیند پر چھکا لگا کر مقابلے کا فیصلہ کیا۔تیسرے سیزن کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اِس بار آخری دونوں کوالیفائرز لاہور میں ہوئے تھے۔ ایلی منیٹر میں دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی کا سامنا روایتی حریف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے تھا۔ یہ ایک نہ بھلا پانے والا مقابلہ تھا۔ کوئٹہ کو آخری اوور میں 25 رنز کی ضرورت تھی جب انور علی نے ایک چوکا اور 3 چھکے لگا کر مقابلے کو ایسے مقام تک پہنچا دیا جہاں سے جیت صاف نظر آ رہی تھی۔ اب آخری گیند پر صرف 3 رنز کی ضرورت تھی لیکن انور علی کا لگایا گیا شاٹ لانگ-آن کو پار نہیں کر پایا۔ اگرچہ وہاں کھڑے عمید آصف ا?سان کیچ تو نہیں پکڑ پائے لیکن اپنے حواس کو قابو میں رکھا اور گیند کو باؤنڈری لائن پار ہونے سے بھی روکا اور بروقت تھرو کرکے رن آؤٹ بھی حاصل کرلیا۔یوں کوئٹہ صرف ایک رن سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ کا پہلا سیزن مکمل طور پر متحدہ عرب امارات میں ہوا تھا لیکن دوسرے کا سب سے بڑا مقابلہ یعنی فائنل لاہور میں کھیلا گیا تھا۔ تیسرے سیزن کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا فائنل کراچی کے تاریخی نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد ہوا۔ یہاں اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان ایک کانٹے دار مقابلہ ہوا جس کا اختتام فہیم اشرف کے ایک شاندار چھکے کے ذریعے ہوا اور یوں اسلام آباد ایک مرتبہ پھر پی ایس ایل چیمپیئن بن گیا۔پی ایس ایل 3 میں ہمیں چھوٹے چھوٹے کئی ایسے لمحات بھی دیکھنے کو ملے کہ جن کو یاد کرکے ڈھیروں خون بڑھ جاتا ہے۔شاہین آفریدی کا شاہد آفریدی کو آؤٹ کرنے کے بعد جشن منانے کے بجائے انہیں محبت سے الوداع کہنا۔،ایک وکٹ لینے پر وہاب ریاض کے بجائے حسن علی کا ان کی مونچھوں کو تاؤ دینا،وکٹیں لینے پر عمران طاہر کی لمبی دوڑیں۔ایلن ولکنز اور ڈینی موریسن کے علاوہ مائیکل سلیٹر اور ڈیمین فلیمنگ کے شاندار تبصرے،کئی یادگار کیچز جیسا کہ کراچی کنگز کے جو ڈینلی نے جونٹی رہوڈز کی یادیں تازہ کیں،عمر اکمل و شاہین آفریدی کے ‘ریلے کیچ’ڈین جونز کی خفیہ ڈائری جس نے اسلام آباد کو ایک بار پھر چیمپیئن کے مرتبے پر فائز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہی یادگار لمحات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ چوتھے سیزن پر توقعات کا بہت بھاری بوجھ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی انتظامیہ ان توقعات پر کیسے اور کتنا پورا اترتی ہے؟ یہاں اچھی خبر یہ ہے کہ اب انتظار زیادہ نہیں بس 3 دن کا ہے۔

(285 بار دیکھا گیا)

تبصرے