Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 فروری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News | Best Urdu Website in World

کپتانی ہمیشہ نہیں رہتی،سرفراز

ویب ڈیسک جمعه 08 فروری 2019
کپتانی ہمیشہ نہیں رہتی،سرفراز

لاہور۔۔۔۔۔سرفرازاحمد کا کہنا ہے کہ کبھی کپتانی چھن جانے کا خوف محسوس نہیں کیا اورکوئی عمربھر کیلئے اس منصب پرنہیں رہتا۔

قومی کپتان سرفرازاحمد نے خصوصی انٹرویومیں کہا کہ احسان مانی نے چیئرمین پی سی بی کا چارج سنبھالنے کے بعد مجھے بطورکپتان اورکھلاڑی بڑا اعتماد دیا۔

قیادت کے حوالے سے میڈیا میں باتیں آئیں لیکن میرے ذہن میں کوئی شکوک نہیں تھے، بہرحال عوام کے سامنے بھرپور سپورٹ کرنے پر چیئرمین بورڈ اور دیگر عہدیداروں کا شکر گزار ہوں،اس سے میرا حوصلہ کئی گناہ بڑھ گیا جس کی جھلک ورلڈکپ کے دوران پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں بھی نظر آئے گی۔
یہ خبر بھی پڑھیں : وکٹوں کے پیچھے بولتے رہناعادت ہے،سرفرازاحمد
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ شعیب ملک کو قائم مقام کپتان بنائے جانے پر پھیلنے والی افواہوں سے میں قطعی طور پر پریشان نہیں ہوا، آل رائونڈر کو قیادت سپردکرنے میں میری مشاورت بھی شامل تھی۔

سرفراز نے بتایا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر،منیجر طلعت علی اور چیف سلیکٹر انضمام الحق سے بات ہوئی تو انھوں نے پوچھا کسے کپتان ہونا چاہیے، میں نے کہا کہ شعیب بھائی ہی ٹھیک ہیں،میں نے کبھی کوئی خوف محسوس کیا نہ اس کی ضرورت ہے

کپتانی اللہ کی دین ہے، کوئی بھی زندگی بھر کیلیے اس پوسٹ پر نہیں ہوتا، کئی کپتان بعد میں بطور کھلاڑی بھی کھیلتے ہیں،مجھے کسی جونیئر یا سینئر کے جگہ لینے کا خوف نہیں تھا، اس وقت شعیب ملک ہی بہترین انتخاب تھے۔
یہ خبر بھی پڑھیں : غلطی ہوئی، اب ذاتی حملے کئے جارہے ہیں،سرفراز
ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ شعیب ملک کے رویے سے میں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ وہ قومی ٹیم کی قیادت چاہتے ہیں،میں ان کی کپتانی میں کھیل چکا،وہ ایک ٹیم مین اور مجھے بھی مکمل سپورٹ کرتے ہیں

مجھے محمد حفیظ کی بھی بھرپور معاونت حاصل ہوتی ہے، میں دونوں سینئرز سے خاص طور پر مشاورت کرتا ہوں۔سرفراز احمد نے کہا کہ کھیل کے دوران کسی موقع پر بھی میرے متبادل کی ضرورت پڑ سکتی ہے

منگل کو پریس کانفرنس میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے بھی کہاکہ نائب کپتان کی تقرری کے معاملے میں وہ کرکٹ کمیٹی سے بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ کوئی بہترین پلیئر نائب کپتان ہوگا، مجھ سے پوچھا گیا تو ضرور کسی کا نام دوں گا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں مستقبل کے حوالے سے سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ 8 ماہ تک طویل فارمیٹ کی کوئی سیریز ہی نہیں تو اس بارے میں سوچنے کی کیا ضرورت ہے

میری تمام تر توجہ پی ایس ایل اور ورلڈ کپ پر مرکوز ہے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ سے سیریز اور میگا ایونٹ جیسے مشکل چیلنجز کیلیے جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔

(111 بار دیکھا گیا)

تبصرے