Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

خونی کرایہ

ویب ڈیسک جمعه 08 فروری 2019
خونی کرایہ

ایک وقت تھا جب کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور پرتشدد واقعات میں روزانہ کی بنیاد پر درجن سے زائد افراد کا قتل ہوجانا عام سی بات تھی جس کی وجہ سے کئی مائوں کی گود اُجڑتی اور پلک جھپکتے ہی سہاگنوں کی دنیا ویران ہوجاتی تھی، پھر ان حالات کو کنٹرول کرنے اور بلاوجہ انسانی خون بہنے سے روکنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس میدان میں آئی اور ان دہشت گردوں اور انسانی قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کرکے انہیں گرفتار کیا جبکہ اس دوران کئی دہشت گرد جوانوں سے مقابلہ کیا اور دوران مقابلہ کئی دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جس کی وجہ سے بہت کم وقت میں کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات میں کسی حد تک کمی واقع ہوگئی لیکن اس کے باوجود کراچی کے مختلف علاقوں سے آج بھی ذاتی دشمنی یا رنجش کی بناء پر تشدد زدہ نعشوں کا ملنا بھی تقریباً روز کا ہی معمول ہے جبکہ اسٹریٹ کرائمز کا جن بھی تاحال قابو میں نہیں آسکا۔اسی طرح کراچی کے علاقے کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے کی حدود میں ایک مبینہ قتل کے 2 ایسے واقعات ہوئے جس کو دیکھ کر ایک بار پھر یہاں کے رہائشیوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ واقعہ کے مطابق 24 دسمبر 2018ء کو ون فائیو کے ذریعے کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس کو اطلاع ملی کہ تھانے کی حدود اللہ والا ٹائون مسجد کے قریب زیر تعمیر بلڈنگ کی دوسرے فلور میں ایک بوری بند نعش موجود ہے، اس اطلاع پر کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس فوری کارروائی کرتی ہوئی جائے وقوعہ پر پہنچی جہاں زیر تعمیر بلڈنگ کی دوسری منزل کے فرش پر بوری میں بند ایک نعش موجود تھی۔ پولیس نے بوری کو تحویل میں لے کر اسے کھولا تو بوری کے اندر سے 18 سے 20 سالہ نوجوان کی نعش برآمد ہوئی جس کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد بوری سے برآمد نعش کو جناح اسپتال منتقل کیا اور جائے وقوعہ سے مزید شہادتیں اکٹھی کیں۔ مقتول نوجوان کی نعش جناح اسپتال پہنچنے پر پولیس افسر اے ایس آئی محمد خان نے ضابطے کی کارروائی مکمل کی جبکہ جناح اسپتال کے ایم ایل او ڈاکٹر افضل راجہ نے پوسٹ مارٹم کیا، اس ضمن میں اے ایس آئی محمد خان نے بتایا کہ مقتول کی جامہ تلاشی اور پوسٹ مارٹم کے باوجود مقتول کی شناخت نہیں ہوسکی اور نہ ہی ورثاء کے بارے میں کچھ پتہ چلا جس کی وجہ سے نعش برائے تلاش ورثاء اور شناخت سرد خانے منتقل کردی۔ جبکہ کورنگی پولیس نے اس قتل کا مقدمہ بحق سرکار اے ایس آئی محمد خان کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 1333-2018 درج کیا جس میں اے ایس آئی محمد خان کے مطابق کورنگی انڈسٹریل ایریا مصروف جانچ ہوکر جناح اسپتال پہنچا اور مردہ خانہ جناح اسپتال میں ایک نوجوان جس کے گلے میں لال رنگ کا رومال کا پھندا تھا اور دونوں بازو کمر کی طرف مڑے ہوئے تھے جس کے بارے میں ہیڈ کانسٹیبل ریاض نے اطلاع دی تھی کہ نعش زیر تعمیر بلڈنگ میں پڑی تھی جو کہ فلاحی ادارے کی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال بھیج دی گئی جہاں جناح اسپتال کے ایم ایل او ڈاکٹر افضل راجہ سے پوسٹ مارٹم کروایا گیا لیکن متوفی کی شناخت نہیں ہوسکی اور نہ ہی ورثاء کے بارے میں کچھ پتہ چلا جس کی وجہ سے نعش برائے تلاش ورثاء شناخت امانتاً فلاحی ادارے کے سرد خانے منتقل کردی گئی اور اب تک کی جانچ میں نعش بمعہ پھندا اور دونوں ہاتھوں کا اکڑ کرکے کمر کی طرف مڑجانے سے معلوم ہوا ہے کہ متوفی کو نامعلوم ملزم یا ملزمان نے کسی نامعلوم جگہ پر گلے میں پھندا لگاکر نامعلوم رنجش یا دشمنی کی بناء پر قتل کیا اور نعش جائے وقوعہ پر جرم کو چھپانے کی نیت سے کسی نامعلوم وقت پر پھینک کر فرار ہوگئے جس کی وجہ سے نامعلوم ملزمان کے اس فعل کو جرم کی حد کو پہنچتا پاکر مقدمہ ہذا برخلاف نامعلوم ملزمان یا ملزمان کے خلاف قائم کیا جس کے بعد کورنگی انویسٹی گیشن ٹیم نامعلوم مقتول ملزم یا ملزمان کی گرفتاری کے لئے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کردیا لیکن 2 روز گزرنے کے باوجود اب تک نہ ہی تو مقتول کی شناخت ہوئی اور نہ ہی مقتول کے کسی ورثاء نے پولیس سے رابطہ کیا تھا۔
اس دوران پولیس نے مقتول کے ورثاء کو ڈھونڈنے کے لئے مختلف اعلانات بھی کروائے اور مختلف ذرائع بھی استعمال کئے لیکن اب تک پولیس کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہوئی تھیں۔ واقعہ کے تیسرے دن بھی پولیس اس معمہ کو سلجھانے کی کوشش کررہی تھی کہ اس وقت کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے میں 3 افراد جس میں 2 مرد اور ایک خاتون شامل تھیں، داخل ہوئیں اور سیدھے رپورٹنگ روم میں بیٹھے پولیس افسران سے رابطہ کیا جس میں ان لوگوں میں شامل خاتون نے پولیس کو بتایا کہ 2 روز قبل میرا بیٹا یاسین گھر سے اپنے دوستوں سے ملنے کا کہہ کر نکلا اور اب تک گھر نہیں لوٹا، ہم نے اُسے اپنے تمام عزیز و اقارب کے گھر سمیت اس کے دوستوں سے معلوم کیا لیکن میرے 18 سالہ بیٹے یاسین کا کہیں کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے۔ خاتون کی زبانی یہ بات سن کر رپورٹنگ روم میں بیٹھا افسر فوری ان لوگوں کو اس مقدمے کے تفتیشی افسر علی محمد سومرو کے پاس لے گیا جہاں خاتون نے ایک بار پھر علی محمد سومرو کو واقعہ سے متعلق تمام باتیں بتائیں جس پر تفتیشی افسر نے انہیں بتایا کہ 2 روز قبل پولیس کو کورنگی کے علاقے اللہ والا ٹائون کے زیر تعمیر بلڈنگ سے ایک نوجوان کی نعش ملی ہے جس کی عمر بھی اندازاً 18 سے 20 سال ہے اور اس کے گلے میں ایک لال رومال بھی ہے جس پر تھانے آئے ہوئے لوگوں میں بے چینی پھیل گئی تاہم پولیس نے انہیں سرد خانے جاکر نعش کو شناخت کرنے کا کہا جس پر کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے آنے والے لوگ فوری طور پر شاہراہ فیصل کے قریب واقع سرد خانے پہنچے جہاں 3 روز قبل ملنے والی نامعلوم نوجوان کی نعش رکھی تھی اور سرد خانے میں موجود نوجوان کی نعش دیکھتے ہی ان میں موجود خاتون نے دھاڑیں مار کر رونا شروع کردیا، کیونکہ گزشتہ روز کورنگی اللہ والا ٹائون سے ملنے والی نوجوان کی نعش کوئی اور نہیں اس خاتون کے 18 سالہ بیٹا یاسین کی تھی ۔ نعش کی شناخت ہونے پر پولیس نے ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مقتول یاسین کی نعش برائے تدفین ورثاء کے حوالے کردی۔ اس موقع پر مقتول یاسین کی والدہ نصیباں بی بی نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں اپنے شوہر (حُب دار) حُبدار علی اور 3 بچوں کے ساتھ اندرون سندھ کے شہر جیکب آباد میں رہائش پذیر تھے اور یاسین ہمارا سب سے بڑا بیٹا تھا لیکن 2010ء میں ہونے والی تیز بارش کی وجہ سے ہمارے علاقے جیکب آباد میں سیلاب آگیا جس کے بعد میرے شوہر حبدار علی کا آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ وہ سیلاب میں بہہ گیا یا کہیں اور چلا گیا، بہرحال اس کے بعد میرے شوہر کا کہیں کوئی پتہ نہیں چلا، بارش اور سیلاب کے بعد میں نے اور میرے گھر والوں نے اُسے ڈھوندنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کا پتہ نہیں چل سکا، ہمارے گھر میں وہ ہی ایک کمانے والا تھا اور حبدار علی کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے ہماری ذرائع آمدنی بند ہوگئی اور اس وقت میرا یاسین بھی بہت چھوٹا تھا، پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے مجھے ہی گھر سے نکلنا پڑا اور میں ایک زمیندار کے کھیتوں پر کام کرنے لگی، دن گزرتے گئے اور اس دوران میں نے اپنے شوہر حبدار علی کی تلاش بھی جاری رکھی لیکن اب تک اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا، اب میرے بچے بڑے ہورہے تھے اور کھیت پر کام کرکے ہمارا گزارا بڑی مشکلوں سے ہورہا تھا، اب میرا بیٹا یاسین بھی زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لئے میرا ساتھ دینے لگا اور میرے ساتھ ہی کھیت پر کام کرنے جانے لگا لیکن کھیت میں کام اتنا نہیں ہوتا تھا وہاں جس دن ہم کام کرتے اس دن کی اجرت مل جاتی اور جس دن کام نہیں ہوتا، اُس دن ہمیں خالی ہاتھ گھر واپس لوٹنا پڑتا۔ گائوں میں کام نہ ہونے اور بھوک و افلاس کی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ کراچی آکر آباد ہوتے ہیں جہاں روزگار کے کئی مواقع موجود تھے۔ میرا بیٹا یاسین اب 16 سال کا ہوچکا تھا کہ کراچی پہنچ کر ہم لوگ کورنگی ضیاء کالونی کے علاقے بنگالی پاڑہ میں آکرآباد ہوئے اور یہاں کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کرلی۔ ابتداء میں میرا بیٹا بیکری اور ویلڈنگ کی دکانوں میں کام کیا کرتا رہا جہاں اُسے دیہاڑی کم ملا کرتی تھی، اس سال ڈیڑھ سال مزید گزر گیا کہ اس دوران میرے بیٹے یاسین کو کورنگی مل ایریا میں واقع ایک گارمنٹس فیکٹری میں لوڈر کی نوکری مل گئی جہاں اُسے دوسری جگہوں سے کچھ بہتر تنخواہ ملنے لگی تو ہمارا گزارہ بھی کچھ آسانی سے ہونے لگا۔ گارمنٹس فیکٹری میں کام کے دوران میرے بیٹے یاسین کی کچھ لڑکوں سے دوستی بھی ہوگئی تھی جو کبھی کبھار ہمارے گھر بھی آیا کرتے تھے۔
21 دسمبر 2018ء کی شام بھی یاسین ڈیوٹی سے آیا اور کھانا وغیرہ کھا کر آرام کی غرض سے کمرے میں چلا گیا کہ اس دوران اُس کی فون کی گھنٹی بجی جس کی دوسری جانب اس کا دوست عمران تھا جو اُسے باہر بلا رہا تھا۔ عمران کا فون سننے کے بعد میرا بیٹا کمرے سے باہر آیا اور مجھ سے 50 روپے مانگے جس پر میں نے اُس سے فون اور 50 روپے مانگنے کی وجہ پوچھی جس پر یاسین نے مجھ سے کہا کہ عمران کی کال تھی اور اس کے ساتھ کچھ اور دوست بھی ہیں جنہیں لے کر ہوٹل میں بیٹھنا ہے اور انہیں چائے پلانے کے لئے مجھے 50 روپے چاہئیں، یاسین کی یہ بات سن کر میں نے اُسے 50 روپے دے دیئے، مقتول یاسین شام کے 7 بجے گھر سے نکلا اور جب رات 9 بجے تک گھر واپس نہیں آیا تو میں نے اُسے گھر واپس آنے کا کہنے کے لئے اُس کے موبائل پر فون کیا لیکن اُس کا موبائل فون اُس وقت آف جارہا تھا، پہلے تو میں سمجھی کہ نیٹ ورک کا مسئلہ ہوگا، پھر تھوڑی دیر بعد میں نے یاسین کے موبائل پر دوبارہ کال کی لیکن اس وقت بھی یاسین کا موبائل آف جارہا تھا جس سے میں کچھ پریشان سی ہوئی اور اس بات کا ذکر میں نے اپنے بھتیجے پننا سے کیا تو پننا نے ابتدائی طور پر کالیں کیں لیکن جب یاسین کا موبائل مستقل آف کا میسیج آنے پر ہم لوگ اب پریشان ہوئے اور میں اورمیرا بھتیجا یاسین کو ڈھونڈنے گھر سے باہر نکل گے، پھر یاسین کو ہم لوگوں نے ہرممکن جگہ تلاش کیا، اس دوران ہم نے مقتول کے بارے میں اس کے دوستوں سے بھی معلومات کیں، اس کا کہیں کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ اس طرح 2 دن گزر گئے لیکن یاسین کا کہیں پتہ نہیں چل سکا، پھر ہم نے ہمارے محلے دار کے کہنے پر یاسین کی گمشدگی کی اطلاع اپنے کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے گئے جہاں پولیس نے ہمیں سرد خانے جانے کا کہا جہاں یاسین کی نعش پڑی تھی‘ نعش کی شناخت کے بعد پولیس نے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کیااور مقتول کی والدہ سے عمران کا نمبر لے کر ٹیکنیکل بنیادوں پر تفتیش شروع کی اورچھاپہ مار کارروائی کرکے یاسین کے قتل میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا‘ اس موقع پر ایس ایس پی کورنگی علی رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کورنگی اللہ والا ٹائون سے چند رو ز قبل پلاٹ سے 18 سالہ یاسین کی نعش ملی تھی‘ پولیس نے تفتیش کے بعد مقتول کے قتل میں مرکزی ملزم عمران سمیت 3 ملزمان عدیل اور راحیل کو گرفتار کرلیا‘ جبکہ واقعہ میں ملوث مزید 2 ملزمان کی تلاش جاری ہے‘ ایس ایس پی کورنگی کے مطابق ملزمان مقتول کے دوست ہی ہیں اور انہوںنے قتل سے فیصل یاسین کو بد فعلی کا نشانہ بھی بنایا‘ جبکہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر علی محمد سومرو کے مطابق واقعہ کے بعد مقتول یاسین کی 2 روز تک شناخت نہیں ہوسکی‘ جس کی وجہ سے پولیس نے مقتول کی نعش سردخانے منتقل کردی‘ لیکن واقعہ کے تیسرے روز مقتول کے گھر والے مقتول کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے آئے‘ جس پر ہم نے انہیں سرد خانے بھیجا ‘ تاکہ 2 روز قبل ملنے والی نعش کی شناخت ہوسکے‘ سردخانے پہنچنے پر معلوم ہوا کہ نامعلوم نوجوان کی نعش یا سین کی ہی تھی‘ جس پر پولیس ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مقتول کی نعش ورثاء کے سپرد کردی اور بعد از تدفین لواحقین سے معلومات لیں ‘ جس میں ان لوگوں نے بتایا کہ 21 دسمبر کی شام مقتول کو اس کا دوست عمران گھر سے بلاکر لے گیاتھا‘ جس پر پولیس نے مقتول کی والدہ سے مقتول کے موبائل کا نمبر لیااور اس کی رپورٹ نکلوائی تو اس میں 3 نام سامنے آئے‘ جس میں ایک لڑکی ام کلثوم بھی شامل تھی‘ دوسرا نمبر فیضان نامی شخص اور تیسرا نمبر عمران کا تھا‘ جس کی موبائل لوکیشن 21دسمبر کی شام مقتول کے گھر کے آس پاس ہی کی تھی‘ پھر پولیس نے عمران کا ڈیٹا نکلوایااوراس ایڈریس پر گئے تو پتہ چلا کہ عمران روپوش ہے‘ جبکہ فیضان اس کا بھائی ہے‘ جس پر پولیس فیضان کو تفتیش کیلئے تھانے لے کرآ ئی‘ جس نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ وہ اسی گارمنٹس فیکٹری کا سپر وائزر ہے ‘ جس میں مقتول کام کیا کرتا تھا‘ جبکہ ام کلثوم نامی لڑکی اس کی بہن ہے اور عمران اس کا بھائی ہے‘ تاہم تفتیش کے دوران فیضان کی نشاندہی پر پولیس نے ایک مقام پر چھاپہ مارکر ملزم عمران کو گرفتار کرلیا‘ جس نے دوران تفتیش اپنے مزید ساتھیوں کی نشاندہی کی ‘ جو اس وقت واردات میں شامل تھے اور یہ تمام لوگ اس گارمنٹس فیکٹری میں کام کیا کرتے تھے‘ جہاں مقتول یاسین ملازم تھا اور پھر قتل کی واردات کے بعد یہ تمام ملزمان اس فیکٹری سے کام چھوڑ کر مختلف جگہوں پر روپوش ہوگئے تھے‘ تاہم پولیس نے کورنگی کے مختلف علاقوںمیں چھاپہ مار کر 5ملزمان میں سے مرکزی ملزم عمران سمیت 2 ملزمان عدیل اور راحیل کو گرفتار کرلیا۔
تفتیشی افسرعلی محمد سومرو کے مطابق گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش مقتول کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ لوگ گارمنٹس فیکٹری میں کام کے دوران مقتول کے ساتھ تفریحاً بوس وکنار کیا کرتے تھے‘ جبکہ مقتول کے پاس ایک ٹچ موبائل فون بھی تھا‘ جو ہمیں پسند تھا اور ہم لوگ وہ لینا چاہتے تھے‘ 21 دسمبر کی شام ہم لوگ تفریح کیلئے مقتول یاسین کو گھر سے بلایا اور اسے ساتھ لے کر اللہ والا ٹائون کے زیر تعمیر بلڈنگ میں لے گئے اور اس سے زبردستی بدفعلی کی اس دورا ن میرے دوسرے ساتھی اس سے اس کا موبائل فون چھیننے لگے جس پر یاسین آپے سے باہر ہوگیااور وہاں سے یہ کہہ کر جانے لگاکہ میں تم لوگوں سے یہ حرکت اپنے گھر میں اور گارمنٹس فیکٹری میں میرے بھائیوں کو بتائوںگا ‘ جس پر ہم لوگ اسے روکنے کی کوشش کرنے لگے‘ لیکن وہ کسی صورت رکنے پرتیار نہیں تھا اور ہم لوگ ہر صورت اسے روکنے کی کوشش کررہے تھے‘ کہ اس دوران میرے ساتھیوں نے مقتول کو زمین پر پٹخا اور ایک طرف سے اس کا ہاتھ پکڑاور دوسرے نے اس کے پیر پکڑے جبکہ اس نے اس کے گلے میں پڑا لال رومال سے ہی اس کے گلے میں پھندا ڈال دیا‘ جس کے دم گھٹنے سے اس کی موت واقع ہوگئی‘ جب مقتول دم توڑ چکا تو ہم لوگ اس کی تمام چیزیں لے کر جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے اور فیکٹری سے بھی کام چھوڑدیا‘ تفتیشی افسر علی محمد سومرو کے مطابق ملزم عمران عادی جرائم پیشہ اور نشئی ہے ‘ جس کے خلاف کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے میں 6 مقدمات درج ہیں‘ تاہم پولیس نے واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے معزز عدالت میں پیش کرے گی‘ تاکہ عدالت سے کڑی سے کڑی سزا دلواکر مقتول یاسین کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جاسکے‘ اسی طرح 21 اور 22 جنوری 2019 ء کو دوسرا واقعہ کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے کی حدود کورنگی مہران ٹائون میں پیش آیا‘ 21 اور 22 تاریخ کو کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس کو اطلاع ملی کہ کورنگی مہران ٹائون نزد مسجد رحمت اللعالمین کے قریب بوری بند نعش کی اطلاع ملی ‘ جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچی ‘جہاں بوری اور رسی سے بندھی گلا کٹی نعش موجود تھی‘ پولیس نے نعش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا‘ پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 52 سالہ رومینک مسیح کے نام سے ہوئی اور مقتول کو کسی تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر بوری میں ڈال کر مذکورہ مقام پر پھینکنے کے بعد نامعلوم ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے‘ تاہم پولیس نے ضابطے کی کارروائی مکمل کرکے بعد مقتول کی نعش برائے تدفین ورثاء کے حوالے کردی ‘بعد از تدفین مقتول رومینک کا بیٹا شاہد شہزاد نے پولیس سے رابطہ کیااور پولیس کو بیان دیا کہ ہم لوگ اپنے والدین کے ساتھ محمود آباد کے علاقے اعظم ٹائون میں رہائش پذیر اور ایک اسپتال میں کام کرتاہوں‘ میرے والد ڈومینک کا مہران ٹائون میں 1 بڑا پلاٹ ہے ‘جس میں 2 مکان اور ایک گودام بنا ہوا ہے او رہمارے دونوں مکان میںتنویر مسیح اور کاشف بنگالی بطور کرایہ دار ہے ‘ کاشف بنگالی رکشہ چلاتاہے‘ جبکہ تنویر کباڑیے کا کام کرتا ہے اور اسی نے کباڑی کے کام کیلئے گودام بھی کرائے پر لیا ہواہے ‘ 21 جنوری 2019 ء کی صبح ساڑھے 10 بجے میرے والد مقتول ڈومینک نے گھر سے کرائے دار کا شف بنگالی کو فون کیا اور اسے کرائے کا کہا‘ جس کے بعد وہ اپنے گھر سے مکان کا کرایہ لینے مہران ٹائون اپنی موٹر سائیکل پر آئے ‘ جب ساڑھے 11 بجے تک والد واپس نہیں آئے تو میری والدہ کو تشویش ہوئی ‘ کیونکہ میرے مقتول والد کو دن کے 12 بجے کام پر جانا ہوتا ہے‘ میرے والد ڈومینک بینک آف ٹوکیو نیوی اسکیم کار ساز پر واقعہ بنگلے پر ڈیوٹی پر جانا ہوتا تھا‘ میرے والد بینک آف ٹوکیو کے جنرل منیجر کے بنگلے پر کھانا پکانے کاکام کرتے تھے‘ جب مقررہ وقت پر والد گھر میں آئے تو میری والدہ نے والد ڈومینک کے موبائل پر فون کیا‘ لیکن ان کا فون سوئچ آف آرہاتھا‘ والدہ نے باربار میرے والدکے موبائل پر فون کیا‘ لیکن وہ مسلسل بند آرہا تھا‘ جس پر میری والدہ نے یہ بات مجھے بتائی تو میں نے اپنے والد کے دوست تنویر مسیح کے موبائل پر فون کیااورپھر کاشف بنگالی کو فون کیامجھے دونوں نے کہا کہ تمہارے والد ہمارے پاس آئے تھے اورپھر کرایہ لے کر چلے گئے‘ جس کے بعد ہم نے اپنے طورپر تھانوں ‘اسپتالوں اور ایدھی سینٹر میں تلاش شروع کی ‘ لیکن والدکا کہیں بھی پتہ نہیں چل رہاتھا۔
مورخہ 22 جنوری 2019 ء کوبوقت ساڑھے 8 بجے صبح ہمارے پڑوسی اسلم سپاہی ملا ‘ جس کو میں نے بتایا کہ کل سے ہمارے ابو نہیں مل رہے ہیں‘ جنہوںنے کہا میں اپنے تھانے جارہا ہوں‘معلومات کرکے آپ کو بتادوںگا‘ جس نے مجھے تقریباً ساڑھے 9 بجے کال کرکے میرے بہنوئی آصف کو بتایا کہ کورنگی مہران ٹائون سے ایک نعش ملی ہے‘ اس اطلاع پر میں اپنے بہنوئی آصف کے ہمراہ تھانے پر آیاتو ایمبولینس میں میرے والد کی نعش پڑی تھی‘ جن کے سر پر کوئی کند چیز کے وار کرکے ان کو قتل کیا تھا‘ ان کا موبائل فون اور موٹر سائیکل بھی نہیں تھا‘ پولیس نے میرے والد صاحب کی نعش جناح اسپتال منتقل کی اور میرے والد کی نعش کا پوسٹ مارٹم کرایا اور بعد از پوسٹ مارٹم والد صاحب کی نعش برائے تدفین وصول کی اور اپنے والد کی نعش کی تدفین کے بعد اب میں رپورٹ کو آیا ہوں اور میرا دعویٰ ہے کہ کاشف بنگالی او رتنویر مسیح پر اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مل کر نامعلوم دشمنی یا رنجش کی بناء پر میرے والد کو نامعلوم مقام پر کند آلے سے سر پر وار کرکے قتل کیا اور اس کے قتل کو چھپانے کے لیے ان کی نعش کو بوری میں بند کرکے مہران ٹائون مسجد رحمت اللعالمین کے قریب پھینکی ہے‘ مقتول کے بیٹے کے اس بیان کے بعد کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس نے ڈومینک قتل کا مقدمہ الزام نمبر 120/2019 درج کرکے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کردیااور پولیس نے ٹیکنیکل بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے واقعہ کے 4 روز بعد مورخہ 26 جنوری کو واردات میں ملوث 2 ملزمان تنویر مسیح اور کاشف بنگالی کو قیوم آباد کے علاقے سے گرفتار کرلیا‘ جہاں ملزمان روپوش تھے‘ گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش مقتول دومینک کے قتل کا اعتراف کیا اور قتل میں ملوث مزید 2 ملزمان دانش اور رفاقت بھی بتایا‘ اس موقع پر ایس ایس پی کورنگی علی رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو کورنگی مہران ٹائون سے ہی چند روز قبل بوری میں بند ایک نعش ملی‘ جس کی فوری طورپر شناخت نہیں ہوسکی تھی‘ تاہم پولیس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ ) کے سوفٹ ویئر کے ذریعے فنگر پرنٹس لے کر اس کی شناخت کی تو مقتول کا کام دومینک مسیح معلوم ہوا‘ پولیس نے تفتیش آگے بڑھاتے ہوئے مختلف افراد کو حراست میں لیا‘ جس کے بعد اس کے 2 دوستوں کا شف بنگالی اور تنویر مسیح نے قتل کا اعتراف کرلیا‘ ملزمان نے بتایا کہ انہوںنے ڈومینک سے 90 ہزار روپے قرض لیاتھا اور ڈومینک اپنی رقم کا تقاضا کررہا تھا جس پر دونوں نے مل کر اسے قتل کردیا جبکہ تفتیشی افسر یوسف نعمت نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ گرفتار ملزمان نے مقتول ڈومینک کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس قتل میں چار سے پانچ افراد ملوث ہیں اور مقتول سے ہم لوگوں نے اُدھار پیسے لیئے ہوئے تھے اور مقتول اب ہم سے روزانہ کی بنیاد پر ہمیں فون کرکے رقم کی واپسی کا تقاضا کررہا تھا جس کی وجہ سے ہم لوگ کافی پریشان تھے، واقعے والے روز بھی مقتول نے صبح فون کرکے کرائے اور اُدھار رقم کا مطالبہ کیا جس پر ہم نے اسے مہران ٹائون بلوالیا اور گودام میں لے گئے جہاں دانش، رفاقت اور کاشف پہلے سے ہی موجود تھے، میں ڈومینک کو لے کر گودام پہنچا اور شراب میں نشہ آور دوا ملا کر ڈومینک کو پلادی جس سے وہ مدہوش ہوگیا، اس دوران ہم نے کپڑا کاٹنے والے بلیڈ سے اس کا گلا کاٹ دیا اور رات ہونے پر مقتول کی نعش کو ڈینم کے کپڑے میں لپیٹ کر رسی سے باندھا اور کاشف بنگالی کے رکشے میں ڈال کر مذکورہ مقام پر پھینک کر آگئے، تفتیشی افسر یوسف نعمت کے مطابق واقعہ میں ملوث 2 ملزمان تنویر مسیح اور کاشف بنگالی کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جبکہ مفرور ملزمان رفاقت اور دانش کو بھی پولیس بہت جلد گرفتار کرکے معزز عدالت کے روبرو پیش کرے گی تاکہ عدالت سے ملزمان کو سزا دلوا کر مقتول ڈومینک کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔

(351 بار دیکھا گیا)

تبصرے