Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

امریکہ نے طالبان کے سامنے ہتھیا رڈال دیئے

ویب ڈیسک جمعه 01 فروری 2019
امریکہ نے طالبان کے سامنے ہتھیا رڈال دیئے

واشنگٹن …. افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر ریان سی کروکر نے امریکہ کے طالبان کے ساتھ معاہدے کو سرنڈر قرار دے دیا۔

جولائی 2011 سے جولائی 2012 تک افغانستان میں سفیر رہنے والے ریان سی کروکر نے کہا افغانستان میں امریکہ کا طالبان کے ساتھ معاہدہ سرنڈر کرنا ہے ، امریکہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر رہا ہے اور اس حوالے سے فریم ورک ایگریمنٹ کا اعلان کیاگیا ہے

جس میں افغانستان میں ایسے مکمل سیز فائر کی بات کی گئی جس کے تحت امریکی فوج مکمل طور پر افغانستان سے نکل جائے ، اس کے بدلے میں طالبان نے یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ افغانستان میں ایسی دہشت گرد تنظیموں کو پنپنے نہیں دینگے جو امریکی سکیورٹی کیلئے خطرہ ہوں

گویا طالبان نے امریکہ میں نائن الیون جیسے حملے نہ ہونے کا وعدہ کیا، اس معاہدے میں افغان حکومت شامل نہیں ہوئی، طالبان نے افغان حکومت کو امریکی کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہوئے اس سے مذاکرات کرنے سے انکار کیا تھا،

یہ خبر بھی پڑھیں‎ : مذاکرات میں طالبان امریکہ کو لا جواب کرتے رہے

افغان حکومت کو مذاکرات میں شریک نہ کرنے کا طالبان کا مطالبہ مان کر امریکہ نے اپنی ہی حمایت یافتہ افغان حکومت کا جواز ختم کردیا، امریکہ طالبان مذاکرات کا یہ عمل ویت نام جنگ کے دوران پیرس میں ہونے والے امن مذاکرات کے مشابہ ہے

اس وقت کی طرح اب بھی ہم مذاکرات کی طرف جانے کی صورت میں سرنڈر کر رہے ہیں، ہم صرف اپنے سرنڈر کی شرائط طے کرنے کیلئے بات چیت کر ر ہے ہیں، اس موقع پر طالبان کئی وعدے کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ امریکہ کے جانے کے بعد ہم واپس آئینگے تو امریکہ ان وعدوں پر عمل کرانے پر انہیں مجبور نہیں کر سکتا۔

ریان کروکر نے کہا ایسا ضروری نہیں کہ حالیہ طرز پر ہی بات چیت چلتی رہے بلکہ امریکہ اعلان کر سکتا ہے کہ بنیادی شرط کے طور پر افغان حکومت کو شامل کئے بغیر مذاکرات آگے نہیں چل سکتے ۔

دریں اثنا امریکہ،طالبان امن معاہدہ کس طرح سبوتاڑ کیا جائے اور پاکستان کو اس معاہدے میں کردار ادا کرنے سے کس طرح روکا جائے

را،این ڈی ایس ، موساد اور امریکی خفیہ ایجنسیاں نہ صرف اس حوالے سے متحرک ہو گئی ہیں بلکہ ان انکے پے رول پر کام کرنے والے مختلف گروہوں نے اپنی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں

پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں مزید کرنے اور افغانستان میں پاکستانی سفارتی عملے او ر تاجروں کو ٹارگٹ کرنا ہے

اس حوالے سے را اور دیگر غیر ملکی قوتوں نے گروپوں کی ڈیوٹیاں لگا دی ہیں، ان کے کئی اہم رابطوں کے حوالے سے بھی پاکستان کے اہم اداروں نے ثبوت حاصل کر لئے۔ با وثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت، اسرائیل اور خود افغانستان کے اندر انکی خفیہ ایجنسیاں کسی صورت بھی ان مذکرات کے حق میں نہیں ہیں اور نہ کسی صورت وہاں سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا چاہتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خود امریکی خفیہ ایجنسیاں بھی ٹرمپ کے اس اقدام سے نا خوش ہیں۔کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ ، لورا لائی میں ڈی آ ئی جی آ فس میں دہشت گردی کی واردات بھی اسی کا شا خسانہ ہے ، فیصل آ باد اور گوجرانوالہ میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے جانیوالے دہشت گرد بھی انہی غیر ملکی قوتوں کے نہ صرف پے رول پر تھے بلکہ بڑی تباہی مچانا انکا ٹارگٹ بھی تھا۔

چند روز قبل افغانستان میں جس خاتون نے پاکستانی قونصلیٹ پر حملہ کی کوشش کی تھی اس کا تعلق بھی انہی اداروں سے نکلا۔ با وثو ق ذرائع کے مطابق افغانستان ، دہلی اور آ گرہ میں باقاعدہ اس پر کام کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کیلئے بی ایل اے ، داعش ، تحریک طالبان پاکستان اور ایم کیو ایم لندن سمیت تین کا لعدم تنظیموں کو اس حوالے سے باقاعدہ مکمل سپورٹ دی جا رہی ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان میں بھی پاکستانیوں کو نشانہ بنائیں اور پاکستان میں اس طرح کا ما حول پیدا کر دیں کہ پاکستان کی توجہ اس معاہدہ کو کامیاب کرانے کی بجائے اپنے حالات ٹھیک کرنے میں لگ جائے۔

(346 بار دیکھا گیا)

تبصرے