Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 فروری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News | Best Urdu Website in World

پراپرٹی سیکٹر ٹیکس چور ہے ،اسٹیٹ بینک کا انکشاف

قومی نیوز جمعرات 31 جنوری 2019
پراپرٹی سیکٹر ٹیکس چور ہے ،اسٹیٹ بینک کا انکشاف

کراچی ۔۔۔۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر ٹیکس سے بچنے اور دولت چھپانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی نگرانی اور خریداروں کی شناخت کا کوئی نظام نہیں

اسی وجہ سے لین دین کی دستاویز میں قیمت کم رکھنے کا قانونی راستہ کھلا ہے جس سے ٹیکس واجبات کم رکھنے والوں کے ساتھ ذرائع آمدن اور دولت چھپانے والے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

معاشی جائزہ رپورٹ میں اسٹیٹ بینک نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں غیر دستاویزی معیشت کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے 70 سے 91 فیصد کے درمیان ہے

پوشیدہ طور پر کمایا گیا منافع کا بیشتر حصہ ملک کی پراپرٹی مارکیٹ میں شامل ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں صوبائی ٹیکس واجبات بشمول کیپیٹل ویلیو ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی کے تخمینے کے لیے ضلعی کلکٹر کی شرحیں استعمال کی جاتی ہیں

یہ خبر بھی پڑھیں عمران خان ایشیا کی مقبول ترین شخصیت قرار

یہ شرحیں املاک کی حقیقی قیمت سے نمایاں طور پر کم ہیں اور ان میں پایا جانے والا فرق مختلف شہروں کے لحاظ سے دو تا پانچ گنا تک ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس چرانے اور آمدنی چھپانے کے لیے رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی وجہ سے بڑے شہروں میں پراپرٹی کی مارکیٹ دبائو کا شکار ہے

جب کہ سرمائے پر بھاری منافع کمانے کی امید پر بھی بہت سے لوگ اس شعبہ میں سٹہ باز انہ اور قلیل مدتی سرمایہ کاری کرتے ہیں

ان سب عوامل کے نتیجے میں پراپرٹی مارکیٹ میں نرخوں کا دبائو برقرار رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون 2011 سے جائیدادوں اور پلاٹوں کی قیمتیں تقریباً تین گنا ہوچکی ہیں جب کہ مکانات کے نرخ 139 فیصد تک بڑھ چکے ہیں

اسٹیٹ بینک کے مطابق رہائشی مکانات کے مقابلے میں پلاٹوں کی قیمتوں میں نسبتاً تیزی سے اضافہ بڑے شہروں کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سٹہ بازانہ دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے اس رجحان کی روک تھام کے لیے حکومت پر زور دیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ کے لیے اعلان کردہ اصلاحات کا فوری نفاذ کیا جائے۔

رئیل اسٹیٹ کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی بل تیار کرلیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی حکومت کی رضامندی سے سینیٹر محسن عزیز نے اس بل کو حتمی شکل دے دی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں نئی گاڑی پر اون لینے والوں کیخلاف کارروائی کا حکم

رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری کے مجوزہ بل کے تحت سوسائٹی مالکان اور پراپرٹی ڈیلرز کی رجسٹریشن لامی ہوگی۔

ہائوسنگ سوسائٹیوں کے ترقیاتی کاموں کی نگرانی ہوگی اور لین دین کے لیے گزشتہ پانچ برسوں کا ریکارڈ فراہم کرنا لازمی ہوگا۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر داروخان نے چیئرمین آباد محمد حسن بخشی اور سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی سمیت سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں کراچی میں قانونی عمارتوں کو گرانا قابل مذمت ہے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اس حکم کی آڑ میں قانونی عمارتوں کو بھی نوٹس جاری کررہی ہے

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدام سے ملک کے میگا سٹی میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری رک جائے گی

ضروری ہے کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، آباد کے ساتھ مل کر غیر قانونی عمارتوں کی فہرست تیار کرے تاکہ اس معاملے کو حل کیا جاسکے

حاجی دارو خان نے کہا ایس؎ بی سی اے نے عدالتی حکم کی غلط تشریح کرتے ہوئے قانونی رہائشی پلاٹوں سے کمرشل میں تبدیل شدہ سیکٹروں عمارتوں کو نوٹس جاری کرکے شہر میں افراتفری پیدا کی ہے جس سے تاجروں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے۔

حسن بخشی نے کہا کہ پہلے ہی کراچی میں اٹھارہ ماہ تک کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی کے باعث تعمیراتی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی تھیں اور لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے، اب عدالتی حکم کی آڑ میں ایس بی سی اے بلڈرز کو ہراساں کررہی ہے۔

(176 بار دیکھا گیا)

تبصرے