Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بے چارہ لکڑ ھارا

ویب ڈیسک بدھ 30 جنوری 2019
بے چارہ لکڑ ھارا

کسی گاؤں میں ایک لکڑ ہارا رہتا تھاجنگل بھی گاؤں کے قریب ہی تھاوہ دن بھر جنگل سے لکڑیاں کا ٹتا اور انھیں بیچ کر اپنی روزی کماتا

اس کے دن سکون سے گزر رہے تھے ایک دن وہ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گیااس کی نظر ایک درخت پر پڑی درخت خشک ہو چکا تھاچناں چہ وہ اپنے کلہاڑے سے اس درخت کو کاٹنے لگا

ابھی اس نے درخت پر پہلی ہی ضرب لگائی تھی کہ اچانک درخت سے ایک بھیانک چیخ کی آواز آئی لکڑہارا ڈرکر پیچھے ہٹ گیا۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے سامنے درخت میں سے ایک جن نمودار ہوااس کی شکل اتنی خوف ناک تھی کہ اس کو دیکھ کر لکڑ ہارے کی چیخ نکل گئی اس کی لال لال آنکھیں انگاروں کی طرح بھڑک رہی تھیںاس کے کندھے پر ایک چوٹ کا نشان تھا جس میں سے ایک عجیب سا مادہ نکل رہا تھا،

جو شاید اس جن کا خون تھاجن لکڑ ہارے کو دیکھ کر خوف ناک آواز میں بولااے نادان انسان یہ تْو نے کیا کردیا؟میں برسوں سے اس درخت میں سورہا تھاآج تیری وجہ سے میری نیند ٹوٹ گئی تیرے کلہاڑے سے میں زخمی بھی ہو گیا ہوں اب میں تجھے نہیں چھوڑوں گاجن کی آواز ایسی تھی جیسے بادل آپس میں ٹکرارہے ہوںا۔

مم۔۔ مجھے معاف کردو میں نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیامجھے معلوم نہیں تھا کہ تم یہاں سورہے ہو
ورنہ میں یہاں کبھی نہ آتامجھے معاف کردولکڑ ہارا کپکپاتی آواز میں بولا

جن گرجانہیں ،نیند سے اْٹھانے پر توشاید میں تجھے معاف بھی کردوں لیکن تیرے کلہاڑے سے میرے کندھے پر جو چوٹ آئی ہے اس کے لیے میں تجھے معاف نہیں کروں گامیں تجھے جلا کر بھسم کر ڈالوں گا
نن ۔۔نہیں مجھے معاف کردو مجھ سے ایسا لاعلمی میں ہوا ہے

خدا کے واسطے مجھے معاف کردو لکڑہارا اس کی منت سماجت کرنے لگا
جن نے کہاٹھیک ہے میں تجھے ایک شرط پر معاف کر سکتا ہوں

لکڑ ہارا فوراً بولاکون سی شرط ؟‘‘

شرط یہ ہے کہ اگلے تین دن تک تجھے جھوٹ بولنا پڑے گاہر بات میں جھوٹ
اگر غلطی سے بھی کوئی سچی بات تیرے منھ سے نکل گئی تو میں فوراً تجھے جلا کر بھسم کر دوں گا

لکڑہارا یہ سن کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ اتنی آسان شرط یہ تو میں آسانی سے پوری کرلوں گا
یہ جن بھی بالکل نکما ہے شرط دی بھی تو کون سی کہ تین دنوں تک جھوٹ بولنا ہے
ہاہاہا۔لکڑ ہارے نے مسکراکر کہا مجھے یہ شرط منظور ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں‎ : قیمتی موتی کی تلاش

جن نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور پھر غائب ہو گیالکڑ ہارا اپنی کاٹی ہوئی لکڑیاں اْٹھا کر واپس گاؤں آگیااس کی دکان کی دیوار اس کے گھر سے ملی ہوئی تھی وہ اپنی دکان میں بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ ان تین دنوں میں نہ جانے اسے کتنے جھوٹ بولنے پڑیں گے

اچانک اس نے دور سے دیکھا کہ حافظ صاحب اس کی دکان کی طرف چلے آرہے تھے حافظ صاحب بہت ہی شریف اور نفیس انسان تھیوہ قریب آئے تو لکڑ ہارا اْٹھ کر ان سے گر م جوشی سے ملامجھے بہادر سے کچھ کام تھا کیا وہ گھر پر ہے ؟

حافظ صاحب نے پوچھابہادر لکڑ ہارے کا چھوٹا بھائی تھاابھی لکڑ ہارا ہاں کہنے ہی والا تھا کیوں کہ بہادر گھر پر ہی تھا لیکن پھر اسے یاد آیا کہ اس نے تو جن سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جھوٹ بولے گا

چناں چہ وہ بولانہیں،حافظ صاحب ! وہ گھر پر نہیں ہے حافظ صاحب نے کہااچھا وہ تھوڑی دیر پہلے مجھے ملا تھا اور کہہ رہا تھا کہ گھر پر جارہاہوںپتا نہیں کہاں چلا گیااچھا خیر جب وہ آئے تو اسے بتا دینا کہ میں آیا تھاٹھیک ہے میں اسے بتادوں گا

وہ کسی کام سے دریا کے کنارے گیا تھالکڑہارے نے بہانہ بنا دیااچھا میں چلتا ہوںحافظ صاحب نے کہا اور ابھی جانے ہی والے تھے کہ اچانک بہادر کھڑکی میں نظر آیا

حافظ صاحب کی نظر اس پر پڑی تو وہ چونک گئے پھر حیرت سے لکڑ ہارے کو دیکھنے گے لکڑ ہارا گڑ بڑا گیاوہ لکڑ ہارے کی زبان پر الفاظ نہیں آرہے تھے آپ تو کہہ رہے تھے کہ بہادر دریا پر گیا ہے

اور گھر میں نہیں ہے جب کہ وہ تو گھر میں ہی ہے آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں کہا؟حافظ صاحب کے لہجے میں خفگی تھی وہ مجھے بہادر نے ہی کہا تھا کہ حافظ صاحب سے کہنا کہ وہ گھر پر نہیں ہے لکڑ ہارے کو اور کچھ نہ سوجھا تو اس نے کہہ دیاکیا کہا؟

بہادر نے ایسا کہا تھامجھے آپ دونوں سے یہ اْمید نہیں تھی میں اتنی دور سے پیدل آیا ہوںکم از کم میرے بڑھاپے کا تو خیال کر لیا ہوتاحافظ صاحب ناراض ہو گئے۔

حافظ صاحب نے مزید کوئی بات نہ سنی اور ناراض ہو کر چلے گئے بہادر گھر سے نکل کر آیا اور پوچھایہ حافظ صاحب کیوں چلے گئے ؟انھیں میں نے بلایا تھالکڑ ہارا گھبرا گیاوہ کہہ رہے تھے کہ وہ شام کر آکر ملیں گیاچھا بہادر نے کہا اور پھر واپس گھر میں چلا گیا

لکڑ ہارے کو اپنے آپ پر بہت غصہ آرہا تھا کہ اس نے یہ سب باتیں کیوں کی جب شام گزرنے پر بھی حافظ صاحب نہ آئے تو بہادر خود ان کے گھر چلا گیاپھر جب وہ واپس آیا تو آتے ہی لکڑ ہارے پر برس پڑا آپ نے انھیں میرے بارے میں جھوٹ کیوں بتایاآپ کو پتا ہے کہ آپ کی اس شرارت کی وجہ سے وہ مجھ سے کتنا خفا ہیںمجھے آپ سے ایسی توقع نہ تھی۔

لکڑ ہارا شر مندہ سارہ گیاحافظ صاحب اور بھائی دونوں ناراض ہو گئے تھے لکڑ ہارا اس بات پر بہت پریشا ن تھاساری رات اسی پریشانی میں گزر گئی اگلے دن جب لکڑ ہارا لکڑیاں بازار میں بیچ کر واپس آرہا تھا تو اس نے کمائے ہوئے روپوں والی تھیلی جیب میں ڈال لی لیکن ابھی وہ تھوڑی ہی آگے چلا تھا کہ اسے محسوس ہوا تھیلی جیب میں نہیں ہے اس نے فوراً جیب میں ہاتھ ڈالا تو یہ دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے کہ جیب اندر سے پھٹی ہوئی تھی اس کے منھ سے نکلااوہ وہ تھیلی گر تو نہیں گئی

وہ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے واپس ہو ا تو اس نے دیکھا کہ ایک شخص ہاتھ میں تھیلی اْٹھائے آواز لگا رہا تھایہ تھیلی کس کی ہے مجھے یہ راستے میں پڑی ہوئی ملی ہے ،یہ جس کی ہے ،وہ اسے واپس لے سکتا ہے۔لکڑ ہارا یہ دیکھ کر خوش ہوا اور آگے بڑھا ،لیکن پھر اسے فوراً ہی خیال آیا کہ وہ تو سچ نہیں بول سکتالکڑ ہارے کو آگے بڑھتا دیکھ کر وہ شخص اس کے پاس آیا اور پوچھاکیا یہ تھیلی آپ کی ہے ؟(باقی آئندہ)

(273 بار دیکھا گیا)

تبصرے