Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 26 اپریل 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قیمتی موتی کی تلاش

ویب ڈیسک بدھ 30 جنوری 2019
قیمتی موتی کی تلاش

بہت پرانے زمانے کی بات ہے کسی ملک کا ایک تاجر تجارت کی غرض سے بغداد پہنچااْن دنوں تجارت کا یہ قانون تھا کہ تاجر جس ملک میں تجارت کرنے جاتاسب سے پہلے وہاں کے بادشاہ سے ملاقات کرتا

اپنا سارا سامان تجارت دکھاتا اور اْسکی خوبیوں اور انفرادیت سے آگاہ کرتاچنانچہ اْس تاجر کو بھی بغداد پہنچنے کے بعد بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیاتاجر نے بادشاہ کے حضور تحائف پیش کئے اور پھر مال تجارت نکالا اور ایک ایک چیز کی خوبی بیان کرتے ہوئے دکھانے لگاحضور یہ پانی سے چلنے والی گھڑی ہے جو میں نے یونان سے خریدی ہے

یہ قالین ہے جو ایران سے خریدا ہے اور یہ خالص ریشم کے تار سے بنا ہے یہ قلم ملا حظہ فرمائیے جو میں نے جاپان سے بہت مہنگے داموں خریدا ہے تاجر نے ایک ایک مال کی اہمیت بیان کی بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا؛بہت خوب ،تمام چیزیں بہت عمدہ نایاب ہیں جو تم نے ایران ،یونان اور جاپان سے خریدی ہیں لیکن یہ تو بتاؤ کہ تمہیں ہندوستان میں ہمارے شایان شان کوئی چیز نظر آئی تاجر نے بادشاہ کو متاثر کرنے کیلئے کہا بادشاہ سلامت یوں تو وہاں پر آپ کے شایان شان بہت سی چیزیں تھیں لیکن جو چیز مجھے پسند آئی ،اْس کو حاصل کرنے کیلئے مجھے کچھ عرصہ وہاں قیام کرنا پڑتا جبکہ میرے پاس صرف دو دن کا وقت تھا اِس لیے میں وہ نہیں لا سکا

یہ خبر بھی پڑھیں‎ : رحم دل بادشاہ اور حاسدی ٹولہ

بادشاہ نے کہابھلا وہ کیا چیز تھی؟
تاجر بولاجناب وہ ایک موتی ہے اور اْس کی خوبی یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بانٹنے سے بڑھتا ہے اْسکو کوئی چْرا بھی نہیں سکتا اور اْس موتی سے بہت سے زیور بھی بنا کر پہنے جا سکتے ہیںبادشاہ تاجر کی اِس بات سے بہت متاثر ہوا اور کہنے لگامیں اْسے ضرور حاصل کرنا چاہتا ہوں
اْس نے فوراً اپنے ایک خاص وزیر کو مع سامان و سواری اِس ہدایت کے ساتھ رخصت کیا کہ اب وہ موتی لے کر ہی لوٹے وزیر اپنے مقصد کیلئے نکل پڑاجنگلوں سمندروں پہاڑوں اور صحرا ؤں غرض کہ ہر جگہ کی خاک چھان ماری وادی وادی گھوماہر شخص سے اْس نادرونایاب موتی کے بارے میں پوچھا مگر سب نے یہی کہا کہ ایساکوئی موتی نہیں جو چور ی نہ ہو سکے اور اْس سے بہت سے زیور بھی بن جائیں۔
لوگ اْس کی بات سْن کر ہنستے اور کہتے مسافر پاگل ہوگیا ہے۔

یوں ہی مہینوں بیت گئے ،ناامیدی کے سائے گہرے ہونے لگے مگر بادشاہ کے سامنے ناکام لوٹنے کا خوف اْس کو چین نہیں لینے دے رہا تھاوزیر نے ہر ممکن کوشش کرلی کہ اْسے کوئی ایساموتی مل جائے لیکن نہ ملاآخر کار اْس نے واپسی کا ارادہ کرلیاوزیر اپنی ناکامی پر زاروقطارروتا جنگل سے گزررہا تھارات خاصی بیت چکی تھی اور وہ تھک بھی گیا تھاایک درخت کے پاس آرام کے ارادے سے لیٹا ہی تھا کہ اْسی لمحے ایک روشنی اپنی جانب بڑھتی نظر آئی۔پہلے تو وہ ڈر گیا مگر پھر ایک آواز نے اْس کو حوصلہ دیاارے نوجوان ڈرومت میں اچھی پری ہوںبتاؤ تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے مدتوں کا تھکا مسافر معلوم ہوتا ہے بتا میں تیری کیا مدد کروں؟

وزیر نے اپنی داستان کہہ سنائی کہ اْسے جس موتی کی تلاش تھی ،وہ اْسکو کہیں سے بھی نہیں ملااب اچھی پری وزیر کے سامنے آچکی تھی اور وہ وزیر کی بات سن کر بے ساختہ ہنسنے لگی اور بولی افسوس کہ تو نے عقل سے کام نہ لیا اور محض ایک موتی کی تلاش میں مہینوں مارا مارا پھرتا رہاوزیر بولااچھی پری میں تمہارا مطلب نہیں سمجھاپر ی بولی بھلے آدمی وہ موتی دراصل علم کا موتی ہے لیکن تو اْسکی ظاہری شکل کو تلاش کرتا رہاعلم تو ایک ایسی شے ہے جسے ہزاروں نام دئیے جا سکتے ہیںکہیں اْسے پھل دار درخت کہتے ہیں تو کبھی سورج سے تشبیہ دیتے ہیں اور اْسے سمندر بھی کہا جاتا ہے لیکن اْسے کوئی چْرا نہیں سکتالیکن اِس سے زیور بنانے والی صفت ؟وزیر نے حیرت سے پوچھاپری نے مسکراتے ہوئے کہا؛علم کی بہت سی صفات ہیںتم اْس موتی کی صورت کو کیوں تلاش کرتے ہویادرکھوہر شے کی تاثیر کا تعلق اْسکے نام سے نہیں بلکہ اْسکی اندرونی خوبیوں سے ہوتا ہے اسی طرح علم بھی ایک نایاب موتی ہے کہ جس سے یہ حاصل ہوجائے وہ اْس سے ایسے ہی سج جاتا ہے جیسے انسان زیور پہن کر سجتا ہے اور اْسے کوئی چرا نہیں سکتا بلکہ یہ تو بانٹنے سے بڑھتا ہے گھٹتا نہیں ہے

وزیر بڑے غور سے پری کی بات سْن رہا تھا اور بالآخر قائل ہوگیا کہ واقعی علم ایک ایسا موتی ہے کہ جس کے پاس ہووہ دراصل دنیا کے سب سے قیمتی زیور کا مالک بن جاتا ہے وزیر نے پری کا شکر یہ ادا کیاجس کے بعد اچھی پری وہاں سے غائب ہوگئی۔اب وزیر بہت خوش تھا اور اپنی کامیابی کے گیت گاتااپنے ملک کو روانہ ہوگیا۔وہاں پہنچ کر اْس نے بادشاہ کو علم کے موتی کے بارے میں بتایا اور سمجھایا تو بادشاہ بھی پری کی بات کا قائل ہوگیا کہ صرف علم ہی وہ موتی ہے جسے کوئی چْرا نہیں سکتاپیارے ساتھیو! علم ایک ایسا موتی ہے جس کی چمک دمک زمین سے آسمان فرش سے عرش تک ہے اور علم کے اْس موتی کی روشنی میں ہی انسان اْس کائنات کے خالق ومالک تک رسائی حاصل کرتا ہے

(240 بار دیکھا گیا)

تبصرے