Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بحریہ ٹائون کی 358 ارب روپے کی پیشکش مسترد

قومی نیوز بدھ 23 جنوری 2019
بحریہ ٹائون کی 358 ارب روپے کی پیشکش مسترد

کراچی…سپریم کورٹ آف پاکستان میں بحریہ ٹائون عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران بحریہ ٹائون کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو کراچی کے ہائوسنگ منصوبے کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے 16 ہزار ایکڑ زمین کے عوض 358 ارب روپے دینے کی پیشکش کی،

جسے عدالت نے غیر معقول قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹائون کو پیشکش پر دوبارہ غور کا حکم دے دیا۔

جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بحریہ ٹائون عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید کہا کہ آپ سے کہا تھا کہ جرمانے کی پیشکش کریں،آپ نے نہیں کیا تو کیس سن لیتے ہیں۔

بحریہ ٹائون کے وکیل نے جواب دیا کہ ہم نے پیشکش بنا لی ہے،بحریہ ٹائون کے تینوں منصوبوں کے حوالے سے پیشکش بنائی ہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کراچی والے بحریہ ٹائون سے شروع کریں

علی ظفر نے کہا کہ بحریہ ٹائون کراچی کے پاس 16 ہزار 800 ایکڑ زمین ہے، جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا بحریہ ٹائون کراچی کی حد بندی ہوگئی؟ڈپٹی سرویئر جنرل نے عدالت میں کہا کہ16 ہزار 886 ایکٹر زمین بحریہ کے پاس ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریماکس دیے کہ اس مقدمے میں اگر اداروں کے عدم تعاون کی شکایت ملی تو اچھا نہیں ہوگا۔ڈپٹی سرویئر جنرل نے کہا کہ ہم نے حد بندی کے نشانات لگا دیئے ہیں،7ہزار 40ایکٹر نشان دہ علاقے سے زیادہ ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریماکس دیے کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے ہی تو لوٹ مار کرائی ہے، سروے جنرل آپ سے رپورٹ کیوں شیئر کرتے ہیں۔انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ ہم آج کے فیصلے میں لکھیں گے کہ عدالت کو کچھ بتایا گیا اور کیا کچھ اور، عدالت سے حقائق چھپائے گئے۔

مزید پڑھئیے‎ ۔ والدین کا قتل دیکھنے والے بچوں کیلئے عام زندگی مشکل

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ان لوگوں کی نالائقی کی سزا بحریہ کو مل رہی ہے،سروے جنرل نے پتہ نہیں کس کے کہنے پر یہ کیا ہے، اب بحریہ ٹائون کی پیش کش پر غور نہیں کرسکتے، بحریہ ٹائون نے خود عدالتی کارروائی کو خراب کیا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ کمشنر سے کہا کہ سرکاری زمین کا قبضہ لیں وہ کہتے ہیں ہم نہیں لے سکتے پوچھنا پڑے گا، کلیکٹر اور کمشنر کو کچھ نہیں پتہ، بس کافی ہوگیا ہے، بحریہ ٹائون نے خود اس معاملے کو بند کردیا ہے،

نیب سے کہیں گے تفتیشن کریں۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ سروے جنرل آف پاکستان کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کریں گے

ڈپٹی سرویے جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیتے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل خود اس مقدمے میں پیش ہوں۔

جسٹس فیصل عرب نے کلیکٹر ملیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو کہتے تھے کہ نقشے میں ظاہر زمین آپ کے زیر قبضہ نہیں، آپ اس سرکاری زمین کو واپس لیں، جس پر کلیکٹر نے جواب دیا کہ میں سرکاری زمین واپس لے لوں گا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ سرکاری زمین کی حفاظت نہیں کرسکتے، اگر آپ حفاظت نہیں کریں گے تو نیب کا سامنا کریں گے۔

سرکاری زمین کا قبضہ لے کر سندھ ہائیکورٹ کے حوالے کریں، کلیکٹر، ڈپٹی کمشنر زمین کی حفاظت کے ذمے دار ہوں گے، اس سلسلے میں عمل درآمد رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے۔

ڈائریکٹر سروے جنرل نے کہاکہ ہم نے سرکاری زمین قبضے میں لینے کی حکمت عملی بنائی تھی، جس پر جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ موقع پر کون گیا تھا، ہمیں حکمت عملی نہ بتائی جائے، حکمت عملی بنانی ہے تو ڈیفنس اسکول آف اسٹریٹجک اسٹڈی جائیں۔

بحریہ ٹائون کا سرکاری زمین پر قبضہ نہ کرنے کا دعویٰ غلط ہے، بحریہ ٹائون والے سرکاری زمین بیچ رہے ہیں۔

انہوں نے سرکاری زمین کی فروخت کے حوالے سے مارکیٹنگ کمپنی پرزم کا اشتہاری کتابچہ عدالت میں پیش کردیا، جس پر عدالت نے پرزم کے مالک کو اگلی سماعت پر طلب کرلیا۔

بحریہ ٹائون کے وکیل نے کہا کہ 16 ہزار ایکڑ زمین کے لیے 315 ارب روپے دینے کو تیار ہیں، اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ نے بغیر شرمندگی زمین پر قبضہ کیا ہے۔

وکیل نے کہا کہ میرا موکل تو گلوٹین میں پھنسا ہوا ہوں، اس سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں، بحریہ ٹاون زیادہ سے زیادہ 350 ارب روپے دے سکتا ہے۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہاں کوئی ٹماٹر نہیں بک رہے، جس پر وکیل بحریہ ٹائون علی ظفر نے کہا کہ 7 ہزار 68 ایکڑ زمین کے لیے 150 ارب روپے دینے کو تیار ہیں جبکہ 9 ہزار ایکڑ کے لیے 208 ارب روپے دے سکتے ہیں۔

    وکیل کے جواب پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی زمین نہیں بیچ سکتے۔

    (382 بار دیکھا گیا)

تبصرے