Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 29 فروری 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کولاوارث، جنگل اورگٹربنادیاگیا، سپریم کورٹ

قومی نیوز بدھ 23 جنوری 2019
کراچی کولاوارث، جنگل اورگٹربنادیاگیا، سپریم کورٹ

کراچی… سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے رہائشی پلاٹوں کی حیثیت تبدیل کرنے پر پابندی عائد کردی اورحکم دیاہے کہ شہر کو اصل ماسٹرپلان کے مطابق بحال کیا جائے۔

عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ رہائشی علاقوں میں شادی ہال یاشاپنگ سینٹرز اور پلازوں کی تعمیر نہیں ہوسکی، ماسٹر پلان کیخلاف جو عمارتیں ہیں گرادی دی جائیں، حکام بندوق اٹھائیں یا کچھ بھی کریں، ہرقسم کی غیرقانونی عمارتیں گرا کر کراچی کو40سال پرانی شکل بحال کریں۔

جسٹس گلزاراحمد نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی افتخارقائم خانی پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کام نہیں کر سکتے توعہدے پرکیوں چمٹے بیٹھے ہو، آپ کا چپڑاسی ارب پتی ہوگیاہے، آپ بھی چنددنوں بعدکینیڈا چلے جائینگے، تم نے شہر کو لاوارث، جنگل اورگٹربنادیا، تم اور تمہارے افسران آگ سے کھیل رہے ہو۔

عدالت اس شہر کو وفاق کے حوالے بھی کرسکتی ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمداورجسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ کے روبرو درخواست گزار عبدالکریم کی دائر آئینی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

اس دوران جسٹس گلزار احمد نے شہر میں رہائشی پلاٹس غیر قانونی شادی ہال، شاپنگ مال اور پلازوں کی تعمیرات سمیت رہائشی پلاٹوں کو کمرشل حیثیت میں تبدیل کرنے پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے آبزرویشن میں کہا ہے کہ عدالت نے جام صادق پارک پر شادی ہال، شاپنگ سینٹر، پیٹرول پمپ اور اپارٹمنٹ کی تعمیرات کومسمار کرنے کا حکم دیاتھالیکن ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی افتخار قائم خانی صاحب یہاں ہمارے سامنے اسکا دفاع کررہے ہیں۔

جسٹس گلزار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ا آپ کا فرض یاد نہیں تو پھرآپ کو فارغ کردیتے ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے عملدرآمد کیلئے 4ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کہاکہ ریمارکس میں کہاکہ یہ صرف جام صادق پارک کا مسئلہ ہی نہیں ہے پورے شہر کی یہی صورتحال ہے

کراچی کوکیا سے کیا بنارکھا ہے رفاہی پلاٹوں پر شادی ہالز شاپنگ سینٹرز و دیگر تعمیرات قائم ہیں اور رہائشی پلاٹوں کی کمرشل حیثیت میں تبدیل۔

جسٹس گلزار نے حکم نامہ میں تحریرکیاہے کہ آج سے ہم رہائشی پلاٹوں کی حیثیت کمرشل میں تبدیل کرنے پر مکمل پابندی عائدکررہے ہیں

آج کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا ماسٹرپلان ڈیپارٹمنٹ اوردیگر متعلقہ اداروں کو حکم دیتے ہیں کہ آئندہ کوئی رہائشی پلاٹوں کی حیثیت کمرشل حیثیت میں تبدیل ہرگز نہ کریں اورجومعاملات التواء میں ہیں انکی بھی منظوری نہیں ہوگی اورجنکی منظوری دی جاچکی ہے انکاازسرنوجائزہ لیاجائے۔

جسٹس گلزار احمدنے حکم دیاکہ شہرکو اصل ماسٹرپلان کے عین مطابق بحال کیاجائے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو حکم دیاہے کہ شہر میں جتنی بھی غیر قانونی تعمیرات ہیں ان کاازسرنوجائزہ لیکرایک ماہ میں رپورٹ عدالت میں جمع کرائیںاورعدالت کو بتائیں کہ مذکورہ غیر قانونی عمارتوں کو
کیسے مسمار کیاجائے۔

مزید پڑھئیے‎ ۔ عدالتی حکم بلڈرز اینڈ ڈویلپرز میں شدید خوف وہراس

جسٹس گلزار احمدنے حکم نامہ میں کہاہے کہ مسمار کی صورت میں متاثرین کو متبادل جگہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اپنے اسٹاف سے حاصل کرکے فراہم کرے گی

سپریم کورٹ نے اکائونٹنٹ جنرل کو حکم دیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے مشاورت کرلیں کہ اسٹاف کی تنخواہوں سے کس طرح سے کٹوتی ہوگی۔

جسٹس گلزاراحمد نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین کو حکم دیاہے کہ وہ حکومت سندھ سے ہدایات لیںکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کام بشمول سندھ کے تمام شہروں کی پلاننگ کو اپنے کنٹرول میں لینے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں،

سپریم کورٹ نے اس حوالے سے چیف سیکرٹری سندھ کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیاہے کہ حکومت کا موقف پیش کریں۔دوران سماعت ایک موقع پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ختم کریں لوکل حکومت، یہ خود کو سٹی فادر کہلاتے ہیں اور الف ب تک نہیں جانتے۔

گلی گلی میں شادی ہال، شاپنگ سینٹرز اور پلازوں کی اجازت کون دے رہا ہے۔ علاوہ ازیں کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کو حکم دیاہے کہ آفیسر کلب جہاں شادیوں کی بکنگ مسلسل جاری ہے حالانکہ مذکورہ زمین صرف رفاحی مقاصد کیلئے ہے لہٰذا ڈی جی کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کو حکم دیاہے کہ فی الفور اس کو مسمار کرکے اسے پارک میں تبدیل کیا جائے۔

عدالت نے مزید کارروائی 24جنوری کے لئے ملتوی کردی ہے۔ دوران سماعت جسٹس گلزاراحمد نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے معافی کیسی؟ کیا نہیں معلوم اب بھی شادی ہالزکی اجازت دے رہے ہیں

قیوم آباد،فیڈرل بی ایریا، ناظم آبادہر طرف شادی ہال بنا ڈالے، پہلے لوگ گھروں کے باہر شادی کرتے تھے، اب نیا کلچر بنا ڈالا، شادی ہال کرائے کے لئے لوگوں کو کروڑوں روپے دینے پڑتے ہیں۔

(377 بار دیکھا گیا)

تبصرے