Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 04 جون 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جسٹس کھوسہ کم انکے فیصلے زیادہ بولتے ہیں

قومی نیوز جمعرات 17 جنوری 2019
جسٹس کھوسہ کم انکے فیصلے زیادہ بولتے ہیں

اسلام آباد…. پاکستان کے نامزد نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کل 18 جنوری کو اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے حلف اٹھائیں گے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے جج کی حیثیت سے 5 سال میں ریکارڈ مقدمات نمٹائے۔

اس کے باوجود زیر التوا مقدمات کی تعداد تقریباً ریکارڈ 19 لاکھ ہے جو ملک بھر کی 250 عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ گزشتہ چار سال کے عرصہ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 11 ہزار مقدمات نمٹائے جوعرصہ سے زیر التوا رہے

انہوں نے جج کی حیثیت سے اپنے 20 سالہ طویل کیریئر میں آئینی، کرمنل، سول، سروس، ریونیواور انتخابی نوعیت کے 55 ہزار مقدمات کی سماعت کی۔

1998 ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج بننے سے قبل انہوں نے وکیل کی حیثیت سے 20 ہزار مقدمات کی پیروی کی۔

600 مقدمات مختلف رپورٹس میں درج ہوئے۔ ماتحت، خصوصی و اعلیٰ عدالتوں کے علاوہ ٹریبونلز میں زیر سماعت 19 لاکھ مقدمات میں سے 40871 مقدمات سپریم کورٹ، 422 مقدمات وفاقی شریعت عدالت، 165515 لاہور ہائی کورٹ، 29624 پشاور ہائی کورٹ، 6842 بلوچستان ہائی کورٹ، 92169 سندھ ہائیکورٹ اور 17085مقدمات اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

خصوصی عدالتوں اور ٹریبونلز میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 130744 ہے۔ پنجاب کے اضلاع میں ایسے مقدمات کی تعداد 1095542 ، سندھ میں 101095، خیبرپختون خوا میں 209984، بلوچستان میں 13969 اور اسلام آباد میں 38291 ہے۔

پاکستان میں 21 کروڑ کی آبادی کے لئے اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں میں ججوں کی مجموعی تعداد 4100 ہے جو 48838 افراد پر ایک جج بنتی ہے۔

سینئر وکلا کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ قانون فوجداری میں اصلاحات کا عزم رکھتے ہیں۔

مزید پڑھئیے‎ : وزیر اعظم نے تاریخ بدلی مہمند ڈیم کا افتتاح خود کریں, چیف جسٹس

وہ خود کم اور ان کے فیصلے زیادہ بولیں گے۔ وہ ایک مکمل جج ہیں۔ سابق اٹارنی جنرل اشتراوصاف کے مطابق انہیں قانون اور اس کے طریقہ کار پر پورا عبور ہے۔

وہ ایک مکمل جج ہیں جو خود کم اور اپنے فیصلوں کے ذریعے بولتے ہیں۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ جسٹس کھوسہ ذہین، ایماندار اور اپنے کام سے مخلص اور پرعزم ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل احمر بلال صوفی نے کہا انہیں علم قانون پر مکمل عبور حاصل ہے۔ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ عدالتی ایکٹو ازم کے ساتھ نئے چیف جسٹس کو اصلاحات پر بھی پوری توجہ دینا ہوگی۔ جن معاملات میں وہ آرٹیکل 184(3) کے تحت اختیارات بروئے کار لائیں گے، وہ موجودہ چیف جسٹس سے مختلف ہوں گی۔

گزشتہ 5 سال کے دوران عدالتی کمیشنز کی 157 میں سے 90 رپورٹس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ یہ بھی ایک چیلنج ہوگا۔ سینئر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نئے چیف جسٹس کے لئے بڑا چیلنج دوہرا ہے

انہیں ماتحت عدلیہ کے لئے ماحول پرکشش بنانے کے ساتھ ججوں کے انتخاب کے لئے مستقل ادارہ بنانا ہوگا۔ وکیل اور جج کی حیثیت سے اپنے 40 سالہ طویل کیریئر میں انہوں نے اپنے فیصلوں کے ذریعے قانون کا ایک مضبوط بیانیہ مرتب کیا۔

(345 بار دیکھا گیا)

تبصرے