Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 11 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

وفا دار ہاتھی

صدف سراج بدھ 16 جنوری 2019
وفا دار ہاتھی

یہ کہانی پر انی ہونے کے ساتھ ساتھ سچی بھی ہے یہ بات مغلوں کے دور کی ہے ،آخر ی مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ایک ہاتھی تھا نام تھا اْسکا مولا بخش یہ ہاتھی اپنے مالک کا بے حد وفادار تھاہاتھی خاصا بوڑ ھا تھا

مگر تھا بہت صحت مندبہادر شاہ ظفر سے پہلے بھی کئی بادشاہوں کو سواری کر واچکا تھا فطر تاََشریر اور شوخ تھاہر وقت مست رہتا تھااپنے مہاوت کے سوا کسی کو پاس نہ آنے دیتا تھایہ ہاتھی کھیلنے کابڑا شیدائی تھا قلعے کے قریب بچے اْسکے گرد اکٹھے ہو جاتے تھے اور مولا بخش اْن کے ساتھ ساتھ کھیلتا رہتا پہلے بچے اْسے کہتے کہ ایک ٹانگ آتھا ؤ وہ اْٹھا لیتابچے کہتے ایک گھڑی پوری ہونے سے پہلے نہ رکھناوہ ایک گھڑی یعنی ایک منٹ تک ایسے ہی رہتاپھر بچے کہتے گھڑی پوری ہوئی تو وہ ٹانگ نیچے رکھ دیتاپھر وہ مخصوص آواز نکالتا جس کا مطلب ہوتاکہ بچو اب تمہاری باری آئی.

مزید پڑھئیے‎ : احساس ہوگیا

چنانچہ بچے اپنی ٹانگ اْٹھا لیتے۔گھڑی پوری ہونے سے پہلے کوئی بچہ ٹانگ نیچے کرنے لگتا تو ہاتھی زور زور سے سر ہلا تا۔یعنی ابھی گھڑی پوری نہیں ہوئی غرض وہ بچوں کے ساتھ بہت خوش رہتا تھا اْنہیں اپنی سونڈ سے گنے اْٹھا اْٹھا کر دیتاجس دن بچے نہ آتے اْس دن شور مچا تامجبور اََ مہاوت بچوں کوبلا کر لاتاویسے تو یہ بہت شوخ ہاتھی تھا لیکن جب بادشاہ کی سواری کا موقع آتا تو بہت مو دب اور سنجید ہ ہوجاتاجب تک بادشاہ صحیح طرح سے بیٹھ نہ جائے کھڑا نہ ہوتا تھا

1857 میں جب انگر یز قلعہ پر قابض ہوئے اور بہادر شاہ ظفر نے ہما یوں کے مقبر ے میں پناہ لی تو مولا بخش بہت اْداس ہوگیابا دشاہ سے بچھڑنے کا اْسے اِتنا غم ہواتھا کہ اْس نے کھانا پینا بھی چھوڑدیا تھا

قلعے کے نئے انگر یز انچارج سانڈرس کو یہ خبر ملی تو اْس نے لڈو اور کچور یوں سے بھرے ٹو کرے منگوائے اور ہاتھی کے سامنے رکھےہاتھ نے اپنی سو نڈ سے وہ تمام ٹو کرے اْٹھا کر پھینک دئیے سا نڈرس کو غصہ آگیا کہ یہاں تو ہاتھی بھی باغی ہے اْس نے ہاتھی کی نیلامی کا حکم دے دیا۔ہاتھی کو بازار  .میں کھڑا کر دیا گیا مگر کوئی بھی بولی نہیں لگا رہاتھا

پھر ایک پنساری نے اڑھائی سو روپے کی بولی لگائی اور ہاتھی اْسکے ہاتھ نیلام کرنے کا فیصلہ ہوامہاوت نے یہ دیکھ کر کہا مولابخش ! ہم دونوں نے بادشاہ کی بہت غلامی کر لی اب تو تجھے ہلدی بیچنے والے کے دروازے پر جانا پڑے گایہ سننا تھا کہ ہاتھی دھم سے زمین پر گر ااور مر گیاہاتھی کی وفاداری کا یہ قصہ بہت انوکھا ہے مولابخش نے مالک کے سوا کسی کے پاس رہنا پسند نہ کیا اورا س غم نے اْس کی جان لے لی۔

(432 بار دیکھا گیا)

تبصرے