Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 11 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مراد علی شاہ کو ہٹاؤ ،ایم کیو ایم بھی میدان میں آگئی

صابر علی بدھ 16 جنوری 2019
مراد علی شاہ کو ہٹاؤ ،ایم کیو ایم بھی میدان میں آگئی

کراچی۔۔۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ایم کیوایم (پاکستان) کے رہنمائوں سے مذاکرات کامیاب‘ ایم کیوایم (پاکستان) نے سندھ میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ہٹانے کے لیے پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرادی

 

دوسری جانب وفاق میں بھی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہونے کے نتیجے میں اپوزیشن اگر حکومت کے خلاف کوئی تحریک لائے گی تو ایم کیوایم (پاکستان) ا س کی بھی بھرپور مخالفت کرے گی

 

جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ تعاون ومدد کا فیصلہ کیاہے ‘ منگل کی شب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایم کیوایم (پاکستان) کے عارضی مرکز بہادر آباد میں ایم کیوایم (پاکستان) کے رہنمائوس سے ملاقات کی‘

 

فوادچوہدری کے ہمراہ پی ٹی آئی کے ارکان سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ ‘ جمال صدیقی ‘ بلال غفار اور دیگر بھی موجود تھے‘

 

 ایم کیوایم (پاکستان) کی جانب سے ملاقات میں کنور نوید جمیل ‘ میئر کراچی وسیم اختر‘ خواجہ اظہار الحسن ‘ فیصل سبز واری او ردیگر بھی موجود تھے‘ ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ ایم کیوایم کے رہنمائوں سے سندھ میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سمیت تمام معاملات بات چیت ہوئی ہے

 

‘ انہوںنے کہا کہ آج کی ملاقات میں ایم کیوایم سے مفاہمتی یادداشت کا بھی جائزہ لیاگیا‘ انہوںنے کہا کہ ایم کیوایم کے بہت سے نکات پر عمل درآمد ہوچکا ہے اور کچھ پر باقی ہے

کراچی ‘ حیدرآباد سمیت سندھ کے سنہری علاقوں کے حوالے سے ایم کیوایم کے دوستوں نے کچھ نکات اٹھانے ہیں ‘ جو میں وزیر اعظم کے گوش گزار کروں گا‘ فواد چوہدری نے اپوزیشن

جماعتوں کے اتحاد کو ایک دوسرے کے پیسے بچانے کا اتحاد قرار دیا‘ سندھ حکومت کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ہم سندھ حکومت کو گرانا نہیں چاہتے

 

 

بلکہ انہیں ایک موقع اور دینا چاہتے ہیں‘ مراد علی شاہ اپنے عہدے سے از خود استعفیٰ دے دیں‘ فواد چوہدری نے کہا کہ سندھ حکومت گیس کے غبارے کی طرح ہے جب چاہیں ہم اسے پھوڑ سکتے ہیں ۔۔

 

ایم کیوایم (پاکستان) کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے اس موقع پر کہا کہ حیدرآباد میں یونیورسٹی اور کراچی ‘ حیدرآباد کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کی گزارش کی

جبکہ وفاقی حکومت سے ایم کیوایم کے رہنمائوں سمیت کراچی کے شہریوں کے تحفظ اور سیکورٹی فراہم کرنے کی بات کی ہے ۔

 

دوسری جانب حکومت نے کہا ہے کہ پاکستان لوٹنے والا ٹولہ اکٹھا ہوگیا، اپوزیشن  دبائو بڑھا رہی ہے، احتساب نہیں روکا جاسکتا،وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے

 

حزب اختلاف کے واک آئوٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واک آئوٹ این آر او حصول کیلئے دبائو ڈالنے کا حربہ ہے، یہ حربے نیب کے کرپشن کیسز سے بچنے کیلئے اختیار کئے جا رہے ہیں،

ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے کہا ہے کہ شریف اور زرداری خاندان کا زوال شروع اورسابق حکمرانوں کا قانون ختم، اب ملک میں قانون کی

حکمرانی ہو گی، چور اور لیٹرے متحد ہو گئے،

ان سے ایک ساتھ ہی نمٹیں گے،دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ زرداری کی بادشاہت ختم ہوچکی ہے،انہیں گرفتار کرکے جے آئی ٹی کی تفتیش آگے بڑھانی چاہئے،

18 ویں ترمیم کا یہ مطلب نہیں کچھ نہیں پوچھیں،ان کے کتے جہازوں میں گھوم رہے ہیں ، پیسوں کا پوچھتے ہیں تو جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے،جو جو کرپشن میں ملوث ہے اس کا احتساب ہونا چاہئے۔

 

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر ٹیکس گزاروں کے سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، قومی اسمبلی سے اپوزیشن کے ایک اور واک آئوٹ سے ظاہر

ہوتا ہے کہ وہ صرف یہی ایک کام کرنا چاہتے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دبائو کے وہ حربے ہیں جو این آر او لینے اور نیب کے کرپشن کیسز سے بچنے کیلئے اختیار کئے جا رہے ہیں حالانکہ نیب کیسز پی ٹی آئی حکومت نے شروع نہیں کئے۔

انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر سوال کیا کہ کیا جمہو ریت منتخب سیا سی ر ہنمائوں کو کرپشن اور لوٹ مار کی کھلی چھوٹ کانام ہے ؟یوں محسوس ہوتا ہے کہ انکے نزدیک جو شخص عوام

کے ووٹ لے کر منتخب ہو جائے اسے قومی خزانے پرڈاکہ زنی کا لا ئسنس مل جا تا ہے۔

ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے اپوزیشن کے اجلاس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو لوٹنے والا ٹولہ اکٹھا ہو گیا ہے،

 

اگر ان کا سمجھوتہ ہو گیا تو بڑی خوش آئند بات ہے،ہم چوروں اور ڈاکوئوں کے اس گروہ سے ایک ساتھ ہی نمٹیں گے،ان کے اکٹھے ہونے سے ہمارے لیے مزید آسانیاں ہو جائیں گی، شریف

 

 

 

مزید پڑھئیے‎ : سپریم کورٹ کی بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کو کلین چٹ

اور زرداری خاندان کا زوال شروع ہو چکا، انہوں نے قوم کی دولت کو بے دردی کیساتھ لوٹا، قوم کی لوٹی دولت کا ان کو جواب دینا پڑے گا،

 

سابق حکمرانوں کا قانون ختم، اب ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی،چور اور لیٹرے متحد ہو گئے ہیں، ان کے اکٹھے ہو جانے سے ہمیں آسانی ہوگی، ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے

ہیں،

 

نیب آزاد ادارہ، حکومت کو جوابدہ نہیں ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہیکہ پنجاب میں 30 سال بعد نواز شریف کا تختہ الٹا ہے اور ایسا تختہ الٹا ہے کہ ن لیگ کا کوئی آدمی مل نہیں رہا،زرداری کی بادشاہت ختم ہوچکی ہے

 

انہیں گرفتار کرکے جے آئی ٹی کی تفتیش آگے بڑھانی چاہئے، 18 ویں ترمیم کا یہ مطلب نہیں کچھ نہیں پوچھیں،ان کے کتے جہازوں میں گھوم رہے ہیں

پیسوں کا پوچھتے ہیں تو جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے،جو جو کرپشن میں ملوث ہے اس کا احتساب ہونا چاہئے اوربیوروکریسی کو احتساب کے لیے تعاون کرنا پڑے گا۔

(606 بار دیکھا گیا)

تبصرے