Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 04 جون 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

اے پی این ایس کی ڈمی اخبارات کو اشتہارات دینے پر مذمت

قومی نیوز منگل 15 جنوری 2019
اے پی این ایس کی ڈمی اخبارات کو اشتہارات دینے پر مذمت

کراچی۔۔۔اے پی این ایس نے وفاقی حکومت کی اشتہا رات کی تقسیم کی پالیسی کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت شفاف اور منصفانہ اشتہارات کی تقسیم کے دعوے کے برخلاف ڈمی اور بے قاعدہ اخبارات کی بڑی تعداد کو اشتہارات جاری کئے جارہے ہیں۔

اے پی این ایس کے سیکرٹری جنرل سرمد علی نے کہا ہے کہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اپنے صدر حمید ہارون کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی حکومت کی اشتہاری پالیسی کے تباہ کن اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ملک بھر سے شرکت کرنے والے اراکین نے اس امر پر غم و غصہ کا اظہار کیا کہ علاقائی کوٹہ کو بری طرح سے پامال کیا جارہاہے اور پی آئی ڈی علاقائی اخبارات کے لیے مختص کوٹہ میں سے میٹرو پولیٹن اخبارات کو اشتہارات جاری کررہی ہے جس کے باعث

وفاقی اشتہارات میں علاقائی اخبارات کو جائز حصہ سے محروم کیا جارہا ہے۔

اراکین نے کہا کہ درمیانے اور چھوٹے حقیقی اخبارات کو اشتہارات سے محروم رکھنے کی اس پالیسی پر پنجاب حکومت بھی عمل پیرا ہے اس صورتحال نے اخباری صنعت کو درپیش سنگین مالی بحران میں اضافہ کیا ہے۔

جو عالمی منڈی میں نیوز پرنٹ کی قیمتوں میں اضافے پاکستانی روپیہ کی قیمت میں کمی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سے واجبات کی عدم وصولی کے باعث پیدا ہوا ہے۔

اے پی این ایس کی ایگزیٹو کمیٹی نے وفاقی حکومت کی میڈیا پالیسی پر تفصیلی غور کیا اور اس خدشہ کا اظہار کیا کہ اگر اس پالیسی کا نفاذ جاری رکھا گیا تو میڈیا انڈسٹری پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے۔

اراکین کی یہ متفقہ رائے تھی کہ وزارت اطلاعات کی طرف سے اطلاعات تک رسائی کو کنٹرول کرنے اور اشتہارات کی مرکزیت نافذ کرنے کی خواہش پر عمل درآمد سے آئین کی شق 19اور 19-Aمیں درج عوام کی حق آگاہی کی خلاف ورزی ہوگی یہ پالیسی

ریاست کے چوتھے ستون کو کمزور کرنے کا باعث ہوگی جس کے نتیجے میں ملک میں جمہوری ادارے عدم استحکام کا شکار ہونگے۔

ایگزیکٹو کمیٹی نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ایک ترقی یافتہ متحرک معروضی اور خود مختار میڈیا کی موجودگی معاشرے میں ترقی پذیر اور پائیدار جمہوریت کا ناگزیر تقاضہ ہے۔

اے پی این ایس نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ میڈیا پالیسی پر تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات اور مشاورت کرے۔

اجلاس میں حمید ہارون صدر ،قاضی اسد عابد سینئر نائب صدر، سرمد علی سیکرٹری جنرل ، بلال محمود جوائنٹ سیکر ٹری ،وسیم احمد فنانس سیکرٹری، ممتاز اے طاہر (روزنامہ آفتاب)، بلال فاروقی (روزنامہ آغاز) ،

محسن بلال (روزنامہ اوصاف)، شہاب زبیری (روزنامہ بزنس ریکارڈر)، ریاض احمد منصوری (ماہنامہ دی کرکٹر)، فوزیہ شاہین (ماہنامہ دستک)، نجم الدین شیخ (روزنامہ دیانت )، سید اکبر طاہر (روزنامہ جسارت ) ، جاوید مہر شمسی (روزنامہ کلیم ) ، اسلم لغاری

(روزنامہ کاوش)،عامر محمود (ماہنامہ کرن) ، ذیشان شامی (روزنامہ مشرق کوئٹہ)، سلمان قریشی (ماہنامہ نیا رخ )، مبشر میر (روزنامہ پاکستان لاہور ) ،سید محمد منیر جیلانی (روزنامہ پیغام )، فیصل زاہد ملک (روزنامہ پاکستان آبزرور) ، ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی

(ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ )، جمیل اطہر (روزنامہ تجارت)، سید ہارون شاہ (روزنامہ وحدت)، جاوید احمد (روزنامہ اعتماد ) اور عثمان عرب ساطی(روزنامہ وطن
گجراتی) نے شرکت کی جبکہ سید علی حسن نقوی (روزنامہ ڈان)، مشتاق احمد قریشی (ماہنامہ نئے افق) نے خصوصی مبصر کے طور پر شرکت کی۔

(453 بار دیکھا گیا)

تبصرے