Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بلاول سندھ کے وزرا ءسے نا خوش

ویب ڈیسک اتوار 13 جنوری 2019
بلاول سندھ کے وزرا ءسے نا خوش

کراچی۔۔۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے محکموں کی کارکردگی پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے 7وزیروں سے سخت باز پرس کی۔

ان کا کہنا ہے کہ وزراء سے مجھے نتائج چاہئیں،جووزیرکام نہیں کرے گاوہ گھرجائے گا۔

گزشتہ روز چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کی زیر صدارت سندھ کابینہ کاخصوصی اجلاس تقریباً8 گھنٹے تک جاری رہا جس میں وزراء کے محکموںکی کارکردگی کاجائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بلاول نے وزراء کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہارکیا اور کہا کہ سندھ حکومت کی کارکردگی کوبہتربناناہوگا،جووزیرکام نہیں کرے گاوہ گھرجائے گا۔

انہوں نے تعلیم، ثقافت، زراعت، ریونیو اور صحت ،ٹرانسپورٹ، کچی آبادی اور محنت و افرادی قوت کے محکموں کی کارکردگی پرعدم اعتماد کا اظہار کیا۔

بلاول نے اجلاس کے دوران کاغذات پر مشتمل بریفنگ دینے پر وزراء کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کاغذات پر مبنی بریفنگ فرضی ہے۔تعلیم کے شعبے میں کوئی اچھی معلومات نہیں مل رہی ہے۔

اس موقع پر وزراچیئرمین پی پی کے سامنے بیورو کریسی کے تعاون نہ کرنے کا رونا روتے رہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ بیوروکریسی کو چلانا وزرا کا کام ہے ،

وزارت کام کرنے کے لیے دی گئی ہے ، رونے کے لیے نہیں،کاغذوں سے سڑکوں پربسیں کب آئیں گی؟اویس صاحب،سڑکوں پر بسیں چلانی ہیں جہاز نہیں،جس وزیر سے پریشر میں کام نہیں ہورہا وہ گھر بیٹھے۔نیب اور ایف آئی اے کے خوف سے کام نہیں چھوڑ سکتے۔

مزید پڑھئیے‎ : سپریم کورٹ کی بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کو کلین چٹ

انہوں نے وزیرتعلیم سے سوال کیا کہ اب تک کتنے بند اسکولوں کو کھولا گیا اور کتنے بچے ان اسکولوں میں داخل ہوئے ؟ تھر پارکر میں میڈیکل کالج کاقیام عمل میں لایاجائے ، مجھے نتائج دیں۔بلاول نے وزیرصحت سے سوال کیا کہ صحت کے شعبے میں بہتری دکھائی نہیں دے رہی۔

گورکھ ہل منصوبہ پر کام کیوں نہیں ہورہا؟ اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت شروع کیا جائے۔ بلاول کا مزید کہنا تھا کہ غریب لوگ تو کچی آبادیوں میں بستے ہیں ان کے لیے کیا کام کیا گیا؟ ہمیں ووٹ تو غریب لوگ دیتے ہیں،

ان غریبوں کے لیے کیا کام کیا گیا۔ مزدور پی پی کی پہچان ہیں،محکمہ محنت و افرادی قوت نے مزدوروں کیلئے کیا کام کیا؟ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ محکمہ ریونیو کی حالت ابتر ہے ، زمینوں کے کھاتے تبدیل کیے جارہے ہیں، ہم ہاریوں کو ہاری کارڈ دینا چاہتے ہیں۔

محکمہ ریونیو کا کہیں کام نظر ہی نہیں آرہا ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ نے سفری سہولتوں کے لیے کیامنصوبہ بندی کی ہے اور سفری سہولتوں کی ہدایات پر کیا عملدرآمد کیا گیا ہے۔

وزراء مجھے اپنا کام دکھائیں، اس طرح عہدوں پر رہنا عوام پر بوجھ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ شکایات عام ہیں کہ وزراء اپنے دفاتر میں نہیں بیٹھتے اور نہ ہی عوام سے ملتے ہیں،

وزراء عوام سے تو دور کی بات ارکان اسمبلی سے بھی نہیں ملتے اور تو اور ارکان اسمبلی کا فون تک اٹینڈ نہیں کرتے ، مجھے ارکان اسمبلی نے وزراء کے خلاف کئی شکایاتیں کی ہیں۔

وزرا ء محکموں میں شکایت کے ازالے کا نظام اور خود احتسابی کو یقینی بنائیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کو ماڈل صوبہ بنانے کا عزم کیا ہے۔

(214 بار دیکھا گیا)

تبصرے