Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

نئے قرضے…نئی مشکلات

ویب ڈیسک هفته 12 جنوری 2019
نئے قرضے…نئی مشکلات

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے 2کھرب سے زیادہ کا قرضہ لینے پر ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

 

اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آنے والے وقتوں میں معاشی مسائل مزید بڑھیں گے اور عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گا۔

 

ماہرین کاخیال ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر 15 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے جب کہ ملک کی اندرونی معیشت کو چلانے کے لیے بھی اربوں ڈالرز چاہئیں۔

 

حالیہ ہفتوں میں پاکستان پر مختلف عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے مختلف نوعیت کے جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں، جس کی وجہ اسلام آباد کو 4 بلین ڈالرز سے زائد کی رقم ادا کرنی ہے۔

 

سابق وفاقی وزیر برائے خزانہ سلمان شاہ نے ان قرضوں کی وجوہات پر تبصرہ کرتے ہوئے کو بتایا کہ ہمارا کرنٹ اکائونٹ خسارہ تقریباً 15 بلین ڈالرز ہے۔ مالی خسارہ 6 سے 7 فیصد ہے۔ تو قرضہ لینا آپ کی مجبوری ہے اور آپ کو مزید قرضہ لینا پڑے گا‘ باوجود اس کے کہ ہم تقریباً 15 سے 20 بلین ڈالرز چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے حاصل کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن اس کے بعد بھی قرضے کی ضرورت پڑے گی کیونکہ ٹیکسز بڑھ نہیں رہے، سرمایہ کاری نہیں ہورہی اور برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہورہا ہے تو عوام کے لیے مشکلات یقینا ہیں۔

 

کئی ماہرین کہتے ہیں کہ روپے کی قدر کم کرنے سے بھی قرضوں کا حجم بڑھا ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ اسلام آباد اگر آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے تو ان قرضوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

 

سابق سیکریٹری خزانہ وقار مسعود کے خیال میں آئی ایم ایف اصلاحات کا مطالبہ کرے گا، جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں مزید کمی کرنی پڑے گی، ’’پندرہ فیصد سے زیادہ قرضوں میں اضافہ صرف روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہوا‘ اب اگر ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں تو اس میں مزید کمی کرنی پڑے گی، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

 

اس کے علاوہ سود کی شرح میں اضافہ کی وجہ سے بھی معیشت متاثر ہوگی کیونکہ سرمایہ کاری کے رجحان میں کمی ہوگی‘ آنے والے وقتوں میں قرضہ مزید بڑھے گا۔‘‘

 

نون لیگ اور دوسری سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کو ان قرضوں کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے لیکن کئی معیشت دانوں کے خیال میں ان قرضوں کا گہرا تعلق پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی معاشی پالیسیوں سے ہے۔ معروف معیشت دان ڈاکٹر عذرا طلعت کے خیال میں معاشی پالیساں تمام حکومتوں کی ایک جیسی ہیں اور یہ پالیسیاں عوام دوست نہیں ہیں، تمام سیاسی جماعتیں نجکاری اور ڈی ریگولیشن کی پالیسیوں پر یقین رکھتی ہیں۔

مزید پڑھئیے‎ : ہر ماہ اوسطاً 448 ارب روپے قرض لیا گیا

 

عذرا طلعت کے بقول نواز شریف نے بھی ان پالیسیوں کو فروغ دیا اور پی ٹی آئی بھی یہ ہی کر رہی ہے۔ لہذا صرف پی ٹی آئی کو اس کا موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا،’’ہم نے ایسے عالمی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن کے تحت ہمیں ہر حالت میں چیزیں درآمد کرنی ہیں‘ زراعت کو نقصان پہنچانا ہے اور توانائی کی قیمت بڑھانی ہے تو جب تک ہم یہ پالیسیاں نہیں بدلیں گے، حکومت کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ بہرحال آنے والے وقت میں عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔‘‘

 

پی ٹی آئی حکومت کے سو دن کے ایجنڈے کو مخالفین شکستوں سے تعبیر کر رہے ہیں جب کہ پارٹی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پارٹی نے بہت کم وقت میں بہت ساری نا ممکن چیزوں کو ممکن بنایا۔

واضح رہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے سو دن کا ایک ایجنڈا دیا تھا۔ مخالفین کے خیال میں پی ٹی آئی اس ایجنڈے کو پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور اسے ہر محاذ پر شکست ہوئی ہے۔ سابق وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے خیال میں کپتان کی حکومت نے ملک کا معاشی جنازہ نکال دیا ہے۔

پی ٹی آئی کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ پی ٹی آئی کی حکومت کے ایک سو دنوں میں ہم نے ان وعدوں پر ایک سو یو ٹرن دیکھے، جو انہوں نے انتخابات سے پہلے کیے تھے‘ نا اہلی کی وجہ سے معیشت زوال پذیر ہے‘ مہنگائی ڈبل ڈجٹ کو چھو رہی ہے‘ ترقیاتی کاموں میں 31 فیصد کی کمی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے 4 لاکھ افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے اور حکومتی پالیسوں کے متعلق ابہام کی وجہ سے مارکیٹ غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہے‘ ترقی کی جو رفتار تھی وہ بہت سست ہوگئی ہے، گزشتہ 5 برسوں میں معیشت تین سے پانچ فیصد بڑھی لیکن اس برس اس کے نیچے جانے کا امکان ہے۔ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ مختصراً عمران خان کی حکومت کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ صرف باتیں ہی باتیں ہیں، عمل کچھ نہیں ہے۔

 

لیکن احسن اقبال کی رائے کے بر عکس کئی تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی غلطیوں کے باوجود اس نے کچھ کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں پی ٹی آئی کی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی وہ اقدامات ہیں، جو وہ بھارت سے تعلقات کی بہتری کے لیے کر رہی ہے،’’کرتار پور کی راہداری کھولنا ایک بہت بڑا قدم ہے۔

 

اس سے دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان روابط بڑھیں گے، جس سے خطے میں امن کے امکانات پیدا ہوں گے۔ خطے میں کشیدہ صورتِ حال کے پیشِ نظر کوئی ترقی ممکن نہیں‘ لہٰذا یہ ایک سو دن میں بہت بڑا قدم ہے اگر دونوں ممالک میں تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو اس سے دونوں ممالک میں خوشحالی آئے گی۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی حکومتی اداروں میں نئے سربراہ لے کر آئی ہے، جس سے حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر ہو گی۔ تاہم عمران خان کے یوٹرن والے بیان سمیت حکومت کے کئی ایسے اقدامات ہیں، جس سے اس کی جگ ہنسائی بھی ہوئی ہے۔ تو مثبت اور منفی دونوں کام ہوئے ہیں۔

 

اکثر لوگوں کو دشمنی مہنگی پڑتی ہے لیکن پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو شاید بھارتی وزیراعظم کی دوستی بھاری پڑی۔ نواز شریف کی نریندر مودی سے پہلی ملاقات ان کی حلف برداری کی تقریب میں 2014ء میں ہوئی‘ اس کے بعد 2015ء میں پیرس میں منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں مودی نے نواز شریف کو روک کر مصافحہ کیا‘ چند روز بعد بھارتی وزیراعظم نے افغانستان کے لیے اڑان بھری لیکن پھر اچانک لاہور پہنچ گئے۔

 

پی ٹی آئی کے کچھ رہنما بھی حکومت کی کارکردگی سے زیادہ مطمئن نہیں ہیں۔ جنوبی پنجاب سے پارٹی کے ایک اہم رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایاکہ میرے خیال میں تو ایک سو دن کا ایجنڈا دینا ہی بہت غیر داشمندانہ قدم تھا پھر انہوں نے اس ایجنڈے پر کام کرنے کے بجائے، اپنے وعدوں سے انحراف کیا۔ مثال کے طور پر انہوں نے عوام کو سستے گھر دینا کا وعدہ کیا اور زراعت کو بہتر بنانے کی نوید سنائی تھی لیکن پانچ ارب روپے سستے گھروں کی اسکیم اور 40 ملین امریکی ڈالرز زراعت کے شعبے سے نکال کر غربت مٹاؤ اسکیم میں ڈال رہے ہیں‘ یہ کوئی دانشمندی نہیں ہے۔

 

زراعت کو پہلے لیے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے‘ وہ جی ڈی پی کے 25 فیصد سے 20 فیصد پر آگیا ہے‘ اس کی پیداوار کی شرح منفی میں ہے تو ایسے موقع پر اس شعبے کو بہتر کرنے کے بجائے، اس میں سے پیسے نکال کر دوسرے شعبے میں ڈال رہے ہیں، جس سے دیہی عوام میں پارٹی اپنی مقبولیت کھو دے گی۔

 

تاہم پارٹی کے رہنما تمام تنقید کے باوجود کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت نے بہت مشکل وقت میں اقتدار سنبھالا اور اتنے کم وقت میں جو حکومت نے کیا وہ کوئی نہیں کر سکتا۔ پارٹی کے مرکزی رہنما ظفر علی شاہ نے پارٹی کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے بتایاکہ نواز شریف نے ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا تھا‘ سب سے پہلا کام تو ہم نے یہ کیا کہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین نے ہمیں مالی تعاون کا یقین دلایا، جس سے معیشت کو کافی حد تک سہار ا مل گیا ہے۔

 

سماجی شعبے میں ہم نے بے گھر افراد کے لیے کیمپ لگائے اور ان کو کھانا بھی فراہم کیا۔ امورِ خارجہ کے محاذ پر ہم بھارت سے تعلقات بہتر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 50 لاکھ گھروں کے پروجیکٹ پر بھی کام ہورہا ہے اور ایک کروڑ افراد کو روزگار فراہم کرنے کے لیے بھی پالیسیاں بن رہی ہیں۔ 70 سال کے مسائل سو دنوں میں حل تو نہیں کیے جا سکتے لیکن ہم اس سمت میں کوششیں ضرور کر رہے ہیں۔

(65 بار دیکھا گیا)

تبصرے