Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مارکیٹیں ملبے کا ڈھیر

راﺅ عمران اشفاق هفته 12 جنوری 2019
مارکیٹیں ملبے کا ڈھیر

چار ہزار دکانیں گرگئیں ۔۔ ایک لاکھ سے زائد باروزگار تاجر بے روزگار ہوگئے ۔۔آپریشن اسی شدومد سے جاری رہا تو کہا جارہا ہے کہ دس ہزار دکانیں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی ۔۔

کراچی میں غیرقانونی تجاوزات کیخلاف ہونے والے آپریشن کو کاروباری حلقوں نے سیاسی قرار دے دیا ۔۔۔ تاجر رہنماوں کا کہنا ہے کہ چائنا کٹنگ اور زمینوں پر قبضوں میں ملوث سیاستدان اوراعلیٰ بیوروکریٹ اپنے سر سے بلا ٹالنے کیلئے اس کارووائی کو غلط نہج پر لے کر جارہے ہیں ۔۔۔اپنا کاروبار بچانے کیلئے اب تاجروں نے بھی احتجاجی حکمت عملی اپنالی ہے ۔۔

 

نوٹس ملنے والی مارکیٹوں کے ذمہ داران نے ایوان تجارت کراچی سمیت اور ایف پی سی سی آئی کے ذمہ داران سے رابطے شروع کردئیے ہیں ۔۔تاجر رہنماوں نے انہدامی کارروائی کے دوران سخت مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔

 

۔ تاجر رہنماوں نے ہزاروں قانونی دکانیں گرانے پرتحریک کا اعلان کرتے ہوئے سڑکوں پرآنے کی تیاری کر لی۔ ان کا کہنا ہے کہ چائنا کٹنگ اورپارکوں پر قبضے نظرانداز کرتے ہوئے تجاوزات آپریشن کا رخ ضلع جنوبی کی طرف موڑ دیا ہے۔

 

بہادرشاہ مارکیٹ،اورنگزیب مارکیٹ ،تاج محل مارکیٹ اوراکبر روڈ پر مزید ایک ہزار دکانیں مسمار کرنے کے لیے نوٹس جاری کردئیے گئے ۔موٹرسائیکل ڈیلرز نے ہڑتال کر دی۔معاشی ٹارگٹ کلنگ پر دکاندار سراپا احتجاج ہیں۔ مظاہرے پراردو بازار میں دکانیں گرانے کے لیے آنے والا کے ایم سی عملہ پسپا ہوگیا۔ تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر نے کہا ہے کہ ہزاروں دکانوں پر بلڈوزر چلانے سے مزیدایک لاکھ افرادبیروزگارہوجا ئیں گے۔اسمال ٹریڈرز کے صدر محمود حامد نے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ایمپریس مارکیٹ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اب مشترکہ جدوجہد کی جائیگی۔ذرائع نے بتایا کہ 2ماہ پہلے تجاوزات کے خلاف آپریشن ایمپریس مارکیٹ سے شروع کیا گیا۔ 15سو سے زائد دکانیں مسمار کرنے کے بعد انسداد تجاوزات عملے نے آپریشن کا رخ صدر بوہری بازار کی جانب موڑ دیا۔

 

ذرائع نے بتایا کہ کے ایم سی عملے نے کچھ ماہ قبل ضلع جنوبی کے علاقے رنچھوڑ لائن اور اس کے اطراف میں آپریشن کے لیے رخ کیا تو ڈی ایم سی ساوتھ کے بیٹرز نے پتھاریداروں کے ساتھ مل کر کے عملے پر پتھراؤ شروع کردیا جس میں خود ڈائریکٹر انکروچمنٹ بشیر صدیقی بھی معمولی زخمی ہوئے تھے تاہم اس کے بعد وہاں کا رخ نہیں کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ اکبر روڈ کی گلی نمبر اے ایم 19‘اے ایم 20اور اے ایم 21میں اینٹی انکروچمنٹ عملے نے 300سے زائد دکانوں کے خلاف کارروائی کی تاہم محکمہ اسٹیٹ کے زیرنگرانی چلنے والی صرف 3دکانوں کو مسمار کیا گیا جبکہ نالے کے اوپر تعمیر کی گئی غیر قانونی 60دکانیں اور درجنوں دفاتر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

 

ڈائریکٹر انکروچمنٹ بشیر صدیقی نے بھی اعتراف کیا تھا کہ مذکورہ نالے کے اوپر تاحال تجاوزات قائم ہیں‘ تاہم ان کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے گی ‘لیکن ڈیڑھ ماہ گزرجانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ذرائع نے بتایا کہ انسداد تجاوزات عملے نے ضلع وسطی کے علاقوں میں بھی تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا جو صرف فیڈرل بی ایریا‘گودھرا اور ناظم آباد تک محدود رہا۔ انسداد تجاوزات عملے نے ضلع وسطی میں تجاوزات کو مسمار کرنے کے بجائے تحفظ فراہم کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ اسٹیٹ کے اعلیٰ افسران نے لیاقت آباد سپر مارکیٹ میں غیر قانونی دکانیں اور گودام تعمیر کر کے کرائے پر دے رکھے ہیں جن سے وہ ماہانہ ہزاروں روپے بٹور رہے ہیں۔

 

ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ نے ضلع وسطی کے بیشتر مقامات پر قبضہ مافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے تاہم ریحان ہاشمی کی سرپرستی ہونے کے باعث کوئی ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔ ذرائع نے بتایا کہ نالے کے اوپر قائم جہانگر آباد کے اطراف مکینک کی دکانیں اور کباڑی مارکیٹ کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ضلع وسطی میں تاحال کھیل کے میدانوں پر قبضہ برقرار ہے جن کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ انسداد تجاوزات عملے نے کچھ روز قبل کورنگی ساڑھے 5نمبر سے لے کر 6نمبر تک تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران نالے کے اوپر بنائی گئی 450سے زائد دکانیں مسمار کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ آپریشن میں غریب دکانداروں کو نشانہ بنایا گیا‘ جبکہ کورنگی 5جے ایریا کی پلیاں ‘سنگر پلیا‘ کورنگی ساڑھے 5‘کورنگی ساڑھے ‘زمان آباد کے علاقے میں ہیں جہاں کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ علاقے میں متحدہ کی قائم کردہ تجاوزات بھی نالے کے اوپر قائم ہیں جن سے ڈی ایم سی کورنگی ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ وصولی کرتی ہے۔

 

 

مزید پڑھئیے‎ :  تجاوزات کے ملبے پر ٹھیلے والوں نے بازار لگالئے

 

ذرائع نے بتایا کہ ملیر ٹنکی گراؤنڈ میں متحدہ نے قبضہٰ کرکے مارکیٹ قائم کروارکھی ہے۔ تاہم انسداد تجاوزات عملہ مذکورہ مارکیٹ کے اطراف نمائشی کارروائی کرکے واپس چلا گیا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ انسداد تجاوزات عملے نے ضلع جنوبی میں ایک بار پھر سے بڑے آپریشن کا آغاز کردیا ہے جس میں کم از کم 5ہزار سے زائد دکاندار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ انسداد تجاوزات عملے نے اردو بازار‘بہادر شاہ مارکیٹ‘جوبلی مارکیٹ سمیت اولڈ سٹی ایریا کی درجنوں مارکیٹوں میں بڑے آپریشن کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انسداد تجاوزات عملے نے منگل کے روز اردو بازار میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے لیے رخ کیا تو تاجروں نے احتجاج شروع کر دیا احتجاج شروع ہوتے ہی بلدیہ عظمیٰ کراچی کا عملہ وہاں سے واپس چلا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اردو بازار آپریشن پر شہر بھر کی تاجر برادری نے میئرکراچی کے خلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ جس پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے فی الحال اردو بازار آپریشن منسوخ کردیا ہے۔

 

میئرکراچی وسیم اختر نے اردو بازار آپریشن کے لیے 6رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے ، جس میں تاجر برادری،میونسپل سروسز اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے افراد شامل ہیں۔ کمیٹی معائنہ کرکے میئر کو رپورٹ پیش کرے گی کہ مذکورہ مارکیٹ میں کتنی دکانیں غیر قانونی طور پرقائم کی گئی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ اردو بازار میں کے ایم سی کی زیر نگرانی چلنے والی 70 دکانیں ہیں جن کو بلدیہ عظمیٰ کراچی نے دکان مسماری کا نوٹس دیا ہے۔ مذکورہ دکانیں 50سال پرانی ہیں جو کے ایم سی کے محکمہ اسٹیٹ نے تعمیر کروائی تھیں۔ مارکیٹ کے جنرل سیکریٹری سلیمان جوانی نے بتایا کہ اردو بازار میں 1992ء میں دھماکہ ہوا تھا جس میں مذکورہ مارکیٹ تباہ ہوگئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی اور دیگر اداروں نے نقشے کی مدد سے مارکیٹ دوبارہ سے قائم کی اور یہ 70دکانیں نقشے کے مطابق ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ دکاندار ہرماہ کے ایم سی کو 3سے 10ہزا روپے تک کرایہ ادا کرتے ہیں اور دسمبر کا کرایہ بھی ادا کرچکے ہیں ، تاہم ان کو اب نوٹس دیا جارہا ہے کہ دکان خالی کردی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی سے کم از کم 500سے زائد افراد بے روزگار ہوجائے گے۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میئر نے بتایا کہ 10ہزار سے زائد لو گ اس آپریشن میں بے روزگار ہوگئے ہیں جن کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو بازار اور دیگر مارکیٹوں میں آپریشن کے باعث ایک لاکھ سے زائد لوگ بے روزگار ہوجائیں گے‘ جس کے ذمہ دار یہ افسران ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ میئر کراچی وسیم اختر دعوے کررہے ہیں کہ تاجروں کو متبادل جگہ دی جائے گی تاہم اب تک ایک تاجر کو بھی متبادل جگہ نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک تاجروں کو متبادل جگہ فراہم نہیں کی جائے گی اردو بازار آپریشن نہیں ہونے دینگے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما نجیب ایوبی کا کہنا تھاکہ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کی پٹیشن میں موجود تجاوزات کی فہرست سپریم کورٹ نے شہری انتظامیہ کو فراہم کرتے ہوئے ان کے خاتمے کا حکم دیا تھا تاہم میئر کراچی وسیم اختر نے تجاوزات کے نام پر ان علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا جہاں خود کے ایم سی نے لوگوں کو دکانیں بنا کر دی تھیں۔

 

دریں اثناکے ایم سی حکام نے اکبر روڈ پر نمائشی آپریشن کے بعدبہادر شاہ‘اورنگزیب مارکیٹ اور تاج محل مارکیٹ پر بھی آپریشن کی تیاری کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ مارکیٹوں میں کے ایم سی کے زیر نگرانی چلنے والی ایک ہزار سے زائد دکانیں ہیں جو ہرماہ کے ایم سی کو ماہانہ ہزاروں روپے ادائیگی کرتی ہیں تاہم کے ایم سی عملے نے نوٹس کے لیے بہادر شاہ اور دیگر مارکیٹیوں کی جانب رخ کیا تو تاجروں نے احتجاج شروع کردیا۔ احتجاج شروع ہوتے ہی مارکیٹ کے عہداران نے کے ایم سی عملے سے ملاقات کی جس کے بعد بہادر شاہ اور دیگر مارکیٹوں میں آپریشن روک دیا گیا ہے۔مارکیٹ کے ذمہ دار ناصر مقبول نے بتایا کہ بہادر شاہ مارکیٹ میں بکرم اور ٹائر فروخت کا کام کیا جاتا ہے ،اسی طرح اورنگزیب مارکیٹ اور تاج محل مارکیٹ میں موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس کا کام کیا جاتا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ مارکیٹوں میں آپریشن کے باعث 5ہزار سے زائد لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ اکبر روڈ پر بھی مزید دکانیں مسمار کی جائیں گی۔ اورنگزیب مارکیٹ میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر نگرانی چلنے والی 167دکانیں ہیں‘تاج محل مارکیٹ میں 108‘اکبر روڈ 120‘بہادر شاہ مارکیٹ 120اور جوبلی مارکیٹ میں 407سے زائد دکانیں ہیں‘ جو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر نگرانی چلتی ہیں۔ علاوہ ازیں آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر محمود حامد نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی کے تاجروں کو بے روزگاری اور فاقہ کشی سے بچائیں ‘وہ منگل کے روز اکبر روڈ صدر میں موٹر سائیکل مارکیٹ کے تاجروں کی ہڑتال کے بعد احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے تھے، انہوں نے کہا میئر کراچی سپریم کورٹ کے احکامات کا سہارا لے کر 6500 دکانوں کو مسمار کرکے ہزاروں خاندانوں کو فاقہ کشی کے جہنم میں دھکیل چکے ہیں اور مزید ہزاروں دکانوں پر بلڈوزر چلانے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں‘ کراچی کی مارکیٹوں میں دکانوں پر کام کرنے والے بے روزگار ملازمین سیلانی ویلفیئر سے زکوٰۃ خیرات لینے پر مجبور ہوگئے ہیں‘ جبکہ چائنا کٹنگ اور پارکو ں کی زمینوں پر فلیٹ اور بنگلے بناکر قبضہ کرنے والے اب بھی سرکاری زمینوں پر قابض ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی 70 فیصد ریونیو قومی خزانے میں جمع کراتا ہے۔

 

 

ملک کی معاشی شہ رگ کو تباہی سے بچائیں۔ میئر کے اقدامات اور مارکیٹوں کے سروئے کیلئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ناظر مقرر کریں۔ انہوں نے کہا کہ تاجر اب میئر کراچی کا مزید ظلم برداشت نہیں کرینگے۔ اب تاجروں کو بیروزگار کرنے کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔مظاہرے سے کراچی موٹر سائیکل ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد احسان گجر‘ جنرل سیکریٹری محمد عقیل‘کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری ‘ایمپریس مارکیٹ ٹریڈرز اتحاد کے ابراہیم میمن ‘ رشید کاکڑ ‘ سلیم ملک ‘ عثمان شریف ‘ نعمان قریشی اور اقبال یوسف نے بھی خطاب کیا۔ اسمال ٹریڈرز کے صدر محمود حامد نے کہا کہ تاجروں کو بے روزگار کرنے کے خلاف اب مشترکہ جدوجہد کی جائے گی ‘بلڈوزر مافیا تاجروں کے معاشی قتل سے باز نہ آیا تو پورے کراچی میں ہڑتال کی کال دینگے۔

 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مزید بلڈنگز کی توڑ پھوڑ بند کی جائے اور توڑی گئی مارکیٹوں کی آبادکاری میں کراچی چیمبر کو بھی شامل کیا جائے۔ متاثرین کی بحالی کیلئے وقت کا تعین کیا جائے‘کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری نے کہا کہ ہم پوری طرح تاجر برادری کے ساتھ ہیں لوگوں کو بے روزگار کرنا ظلم ہے ہماری تمام حمایت آپ کے ساتھ ہے۔ موٹر سائیکل ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر محمد احسان گجر نے کہا کہ ایشیا کی سب سے بڑی موٹر سائیکل مارکیٹ کو تباہ کرنا ظلم ہے ہم ہر موٹر سائیکل پر 15000 روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں ، انکم ٹیکس بھی دیتے ہیں ہمیں غیر قانونی قرار د ے کر بے ر وزگار کرنے کے منصوبے ہم ہر گزکامیاب نہیں ہونے دیںگے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انسداد تجاوزات نے سینئر ڈائریکٹر بشیر صدیقی کی سربراہی میں منگل کو بھی شہر کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کو ہٹانے کی کارروائی جاری رکھی اور مختلف علاقوں میں 50دکانوں کو جو نالوں اور فٹ پاتھوں پر تعمیر تھی مسمار کردیا گیا‘ نارتھ ناظم آباد‘ناگن چورنگی‘ شادمان ٹائون اور کورنگی 7000 روڈ کے علاقے میں نالوں پر تعمیر دکانوں اور تعمیرات کو ختم کردیا گیا‘ جبکہ کارروائی جاری ہے اور اس دوران مزید 150 سے زائد تجاوزات اور غیرقانونی دکانوں کو مسمار کرنا ہے‘ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے تاجروں کو خبردار کیا ہے کہ اپنے سامان کو دکان کی حدود کے اندر رکھیں۔ بصورت دیگر نقصان کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے‘بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ایسے تمام تاجروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو گرین بیلٹ، فٹ پاتھوں پر سامان اور کرسیاں رکھ کر کاروبار کر رہے ہیں، تجاوزات کے خلاف مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک شہر کو ماسٹر پلان کے مطابق اصل حالت میں بحال نہیں کیا جاتا۔

 

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نام پر کے ایم سی نے کراچی کی مزید 8 قدیم مارکیٹوں پر نظریں گاڑ دی ہیں۔ اردو بازار‘ بہادر شاہ مارکیٹ‘ اورنگزیب مارکیٹ‘جوبلی مارکیٹ‘ مدینہ مارکیٹ‘ اکبر روڈ مارکیٹ‘ لی مارکیٹ اور تاج محل مارکیٹ کے دکان داروں کو 3 دن میں سامان نکالنے کے نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں۔ ان نوٹسوں کی میعاد پیر کے روز ختم ہوگئی، لہذا کے ایم سی ذرائع کے مطابق اب کسی بھی وقت میئر کراچی وسیم اختر کی سربراہی میں بلڈوزروں کا کارواں ان قدیم مارکیٹوں کو مسمار کرنے پہنچ سکتا ہے۔

 

ادھر اکبر روڈ موٹر سائیکل مارکیٹ کے دکانداروں نے احتجاجاً دکانیں بند کر دی ہیں۔ شہر بھر کے تاجروں نے قانونی دکانوں کو مسمار کرنے کے خلاف سڑکوں پر آنا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور عدلیہ نوٹس لے۔ کیونکہ کے ایم سی اس شہر کی تجارت ملیامیٹ کرنے پر تل چکی ہے۔ دوسری جانب نوٹس دیئے جانے کے بعد سے کے ایم سی کے انسداد تجاوزات کے محکمے کے بعض افسران‘ دکانداروں سے ڈیل کرنے میں مصروف ہیں کہ مک مکا کرلو تو دکان کو بچانے کی کوششیں کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں مزید 10 ہزار سے زائد دکانیں مسمار کی جائیں گی۔ جبکہ تاحال ایک لاکھ دکاندار اور ملازم بے روزگار ہو چکے ہیں۔کے ایم سی نے کورنگی‘ لانڈھی‘نیوکراچی‘ نارتھ کراچی اور سائٹ کے علاقوں میں بھی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ ادھر اولڈ سٹی ایریا میں بھی آپریشن تیز کر دیا گیا ہے۔ چڑیا گھر کے اطراف 400 سے زائد دکانیں اور دفاتر ملبے کا ڈھیر بنا کر اب مزید 8 قدیم مارکیٹوں پر نظریں گاڑ دی ہیں۔

 

لی مارکیٹ میں بار بار نوٹس دیئے جارہے ہیں اور تاجروں کو اس قدر پریشان کر دیا گیا ہے کہ وہ دن رات اپنی دکانوں پر نظر رکھ رہے ہیں اور مزاحمت کا اعلان کر چکے ہیں۔ اردو بازار‘ اکبر مارکیٹ‘ بہادر شاہ مارکیٹ‘ اورنگزیب مارکیٹ‘مدینہ مارکیٹ‘ کے ایم سی تاج محل مارکیٹ اور جوبلی مارکیٹ کو جمعے کے روز 3 دن کی مہلت کا نوٹس دیا گیا تھا‘ نوٹس ملتے ہی ان مارکیٹوں کے دکانداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ کے ایم سی کی ممکنہ کارروائی سے پریشان ہو کر دکانداروں نے پہلے میئرکراچی سے ایک بار سروے کرانے کی اپیل کی کہ یہاں نالے بند نہیں ہو رہے ہیں اور یہ مارکیٹیں 60 سال پرانی ہیں۔ ان قانونی دکانوں کا دسمبر2019 ء تک چالان بھرا جا چکا ہے۔

 

مذکورہ مارکیٹوں میں تاجر طبقہ پریشان ہے۔ خاص طور پر اکبر مارکیٹ کے دکانداروں نے گزشتہ پیر سے دکانیں بند کر کے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور جب تک نوٹس واپس نہیں لیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ 3 ماہ قبل کراچی میں تجاوزات کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن نے ہزاروں تاجروں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ تاجر رہنما میئر کراچی کو کہہ رہے ہیں کہ تاجروں کا معاشی قتل عام نہ کرو۔ کراچی کی اہم معروف مرکزی مارکیٹیں مسمار کی جارہی ہیں اور مرکزی مارکیٹیں ختم ہونے سے کاروبار متاثر ہورہا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ میئر کراچی لوگوں سے روزگار چھین رہے ہیں اور اب معاملہ مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔کے ایم سی کی جانب سے نیو اردو بازار کی 70 دکانوں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے جنرل بک سیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار مصطفی انصاری کا کہنا تھا کہ’’ایسوسی ایشن کے وفد نے میئر کراچی سے ملاقات کر کے درخواست کی تھی کہ ایک بار اردو بازار کا دوبارہ سروے کرالیں۔ نالے کے اوپر بنی دکانیں سیوریج کی روانی میں حائل نہیں ہیں اور نالہ مارکیٹ کے عین نیچے درمیان سے گزر رہا ہے‘‘۔ ایسوسی ایشن کے تاجر رہنما یونس گابا کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کے سب دکاندار پریشان ہیں کہ آگے کیا ہو گا۔ سپریم کورٹ کے احکامات ہیں کہ 45 روز قبل نوٹس دیا جائے تاکہ دکاندار سامان نکال کر متبادل جگہ منتقل ہو سکیں۔ یہاں پر صرف 3 روز کی مہلت کا نوٹس دیا گیا‘‘۔ ریاض نامی تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے باعث بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو رہا ہے۔ اس پر کے ایم سی کے نوٹس نے دکانداروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ تاجر عثمان غنی کا کہنا تھا کہ میئر کراچی چاہیں تو اردو بازار کا دوبارہ سروے کرالیں۔

 

اکبر روڈ موٹر سائیکل مارکیٹ کے تاجر رہنما محمد احسان نے بتایا کہ کے ایم سی کی 3 روزہ مہلت ختم ہو چکی ہے۔ تاجر بار بار درخواست کر رہے ہیں کہ 1953ء سے قائم 120 دکانیں اور دفاتر گرانے سے قبل ان کو اعتماد میں لیا جائے۔ اگر زور زبردستی کی گئی تو بات خراب ہو گی۔ دکاندار مزاحمت کریں گے۔ دکاندار فاروق قادری کا کہنا تھا کہ میئر کراچی اپنی آخرت بھول چکے ہیں۔ خدا کی لاٹھی بے اآواز ہے، اس کی پکڑ آئے گی تو کیا ہو گا۔ نہ جانے کس بات کی انتقامی کارروائی کی جارہی ہے کہ تاجروں، دکانداروں کو بے روزگار کرنے کا مشن زور شور سے جاری ہے۔ دکاندار رفیق کا کہنا تھا کہ متحدہ کو پتہ ہے کہ اس کا زوال شروع ہو چکا ہے۔

 

نہ مارکیٹوں سے بھتہ ملے گا اور نہ دوبارہ میئر کراچی آئے گا۔ اس لئے شہر میں افراتفری پھیلائی جا رہی ہے کہ تاجر سڑکوں پر آجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی آڑ میں فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ دکاندار بلال کا کہنا تھا کہ میئر کراچی تاجروں کو برباد کررہے ہیں۔ وہ اتنا ظلم کریں کہ بعد میں اس کا عذاب جھیل سکیں۔

 

ہزاروں دکاندار اور ان کے بچے میئر کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔ دکاندار خالد احمد کا کہنا تھا کہ اکبر روڈ موٹر سائیکل مارکیٹ کے دکاندار روزانہ احتجاج کررہے ہیں اور جب تک دکانیں خالی کرنے کا نوٹس واپس نہیں ہوتا، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں کے ایم سی کی مزید مارکیٹوں کی 10 ہزار سے زائد دکانیں مسمار کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے لگ بھگ ایک لاکھ تاجر اور ملازمین بے روزگار ہوں گے۔

(227 بار دیکھا گیا)

تبصرے