Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بیٹی قتل

ارشد انصاری جمعه 11 جنوری 2019
بیٹی قتل

خو ش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے بچے کی پیدائش ہو تی ہے بیٹی کی پید ائش اللہ تعالیٰ کی ر حمت سمجھی جا تی ہے اور بد نصیب ہیں وہ لو گ جو اپنے بچوں کی خواہشات جو کہ نیک ہوں اور ان کی خواہشات کو پو را ہی نہیں کر نا چاہتے ہو ں

خوا تین بالخصوص بیٹیو ں کو گھر و ں میں قید کر نے اور ان پر تشدد کر نے کے عمل جبکہ قتل جیسی وا ر دات بھی اب رپورٹ ہو رہی ہیں سند ھ میں خو اتین کے ساتھ اندرون سند ھ اور حیدر آباد سائٹ کے علاقو ں میں رہائش پذ یر دو سرے صو بو ں سے تعلق ر کھنے والے افراد فخر سے خو اتین کو ان کی مر ضی سے شا د یا ں اور انہیں آزا دا نہ ز ند گی گز ا رنے کے بجا ئے ان پر اپنی حا کمیت قر ار دیتے ہوئے ان پر تشد د کرنے اور قتل جیسی وا ر دا ت کر جا تے ہیں اور کئی مر تبہ ر پو رٹ کر نے کا ا تفا ق ہو ا ہے-

لیکن یکم جنو ری کو ایک دل ہلا دینے والا واقعہ رو نما ہو ااور اسے ر پو رٹ کر تے ہوئے کئی چیزیں سامنے آئی اور یہ بھی با ت سامنے آئی اور یہ بھی با ت سا منے آئی کہ حوا کی بیٹی کو اسکے ہی اہل خانہ نے اپنی خو اہش کی بھینٹ۔ ٹنڈو یو سف تھا نے کی حد ود میں 17 سالہ لڑ کی کے قتل کی وا ر دات سامنے آئی اور پو لیس نے مخفی ا طلا ع ملتے ہی ایس ایچ او ٹنڈو یو سف تھانے ا قبا ل عبا سی نے پو لیس کی دیگر نفری میں شامل اہلکا رو ں کے ہمر اہ مقتو لہ کے گھر پہنچے اور لڑکی کے صائمہ کو قتل کرنے کے بعد اسے کی نعش کی تدفین کر نے جا رہے تھے کہ اس عمل کو پو لیس نے روک دیا اورنعش تحو یل میں لے کر سول ا سپتال منتقل کیا علا قے میں 17سالہ لڑ کی صائمہ د ختر با د شاہ خان کے قتل کی اطلا ع اور پولیس پہنچنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور قریب کے علا قوں میں خوف و ہر اس پھیل گیا

علا قہ مکینوں نے با د شاہ خان کے گھر پو لیس پہنچنے سے قبل فائرنگ کی آ وا زسنی تھی اور بعض لو گ جمع ہوگئے تھے لو گ کھڑے ایک دوسرے سے فائر نگ کی آ وا ز گو نجنے سے پر یشان حال تھے اور گھر و ں سے با ہر آ گئے تھے کے ا سی اثنا ء میں پو لیس کی مز ید نفری پہنچی تو بدین چالی کے علا قے میں با د شاہ خان کے گھر میں پولیس داخل ہو گئی تو معلوم ہو ا کہ لڑکی کے سرمیں گولی لگی ہو ئی تھی اور اس کی مو ت وا قع ہو چکی تھی‘ پو لیس نے فوری طور پر لڑکی نعش کو اپنی تحو یل میں لے کر سول ا سپتال حیدر آباد منتقل کی تھی پھر کیا تھا پو لیس نے مز ید معلو ما ت کے لیے لڑکے مو ت کے ا سبا ب اہل خا نہ سے پو چھے تو خواتین سمیت سب ہی گھرمیں مو جو د لڑکی کے والد اور بھا ئی ایک ہی ز بان ہم کلا م تھے کہ لڑ کی نے گولی خو د فا ئر کی اوراپنی ز ند گی کا خا تمہ کر لیا ہے، ٹنڈو یو سف تھانے کے ایس ایچ او ا قبال عبا سی نے لڑکی کے قتل میں ا ستعمال ہو نے والے پستول کو اسکے والد سے منگو ا یا جس پر لڑ کی صا ئمہ کے والد نے پستول پو لیس کے سامنے پیش کر دیا پھر کیا تھا پولیس نے مز ید تفتیش کے لیے لڑکی کے والد با د شاہ خان اور اس کے بھا ئی جہا نز یب خان ولد با د شاہ خان کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا،

مزید پڑھئیے‎ : بھابھی ذبح

قومی اخبارمیڈیا گر وپ کے نما ئند ے نے دیگرمیڈیا کے نمائندوںکی طرح اپنے فرائض کی انجام دہی کی اس سلسلے میں سائٹ ڈی ایس پی یعقوب جٹ اور ٹنڈو یو سف تھانے کے ایس ایچ او ا قبال عبا سی سے مز ید ابتد ائی تفتیش کے محر کا ت سامنے آنے سے معلو ما ت کی تو پو لیس افسران نے بتا یاکہ ابتد ائی تفتیش کی معلوم ہو تاہے‘لڑ کی کو غیر ت کے نام پر قتل کیا گیا کیے جانے والے جیسے وا قعہ کی طرح کا ایک و ا قعہ ہے لڑکی نعش کو سول ا سپتال منتقل کیا گیا ہے اور لڑ کی کے جسم پر تشددکے نشا نا ت ملے ہیں اور سر میں گو لی بھی لگنے کے شواہد سا منے آ ئے ہیں اور تو اور ٹنڈ و یو سف تھانے کے ایس ایچ او اور ا قبال عبا سی سے کئی رو ز معلو م ا کٹھا کی گئی ‘جس پر 5 جنو ری کی را ت ایس ایچ او اقبال عباسی کی مد عیت میںلڑکی کے قتل کا با قا عد ہ مقدمہ درج کر کے ٹنڈو یوسف تھا نے کے ایس ایچ اقبا ل عباسی اور دیگر اہلکا رو ں نے لڑ کی صائمہ کے قتل کا معمہ حل کرلیا اور مقتو لہ کے قتل کا اعترا ف اسکے بھا ئی جہا نز یب پٹھان نے آ کر کر ہی لیا ہے پو لیس کے مطابق ہمیں پہلے ہی شک تھا لیکن قا نونی تقا ضے پو را کرنے اور تفتیش عمل کے با عث مقتو لہ کے بھا ئی نے تمام تر تفصیلات کے اور قتل میں شامل اپنے والد اور 2خو اتین کی خد ما ت بھی پو لیس کو تفتیش کے دو ران بتایا ہے ایس ایس پی حیدر آباد سے جب لڑ کی کے حوالے رابطہ کیا گیا تو ایس ایس پی حیدر آباد سر فراز نواشیخ سے رابطہ نہیں ہو سکا

لیکن 6 نو مبر کو ایس ایس پی حیدرآباد کے پو لیس تر جمان کی جانب سے۔ایک بیان جا ری کر تے ہوئے کیا گیا ہے کہ ٹنڈ ویو سف تھانے کی حد ود کی بد ین چالی کے علا قے میں لڑکے قتل کر کے تد فین کی کو شش کو پو لیس نے ناکام بنا دیا تھا اور مقتولہ کی نعش کو سول ا سپتال پو سٹ ما ر ٹم کے لیے منتقل کیاتھا پولیس کو دو ران تفتیش سے انکشا ف ہو ا کہ گھر والو ں نے مقتولہ صائمہ کا ر شتہ کیاتھا‘ جس سے صا ئمہ نے انکا ر کر دیا تھا‘ صائمہ کے انکار پر غصے میں آکر اس کے بھا ئی جہا نز یب خان پٹھان سے اس فائر کرکے قتل کر دیا تھا مقتولہ کے قتل کے بعد اسکے والد با د شاہ خان اور بھائی جہا نز یب پٹھان اور مقتولہ کی والد ہ یا سین اور اسکی بہن ز ر مینہ پٹھان نے قتل کو چھپا نے کے لیے صائمہ کی تد فین کی کو شش کی تھی

پولیس کے اعلیٰ حکام کی مد ا خلت پر مقتو لہ کے قتل کی ایف آ ئی آ ر ٹنڈو یو سف تھانے کے ایس ایچ او ا قبال عبا سی کی مد عیت کے مقد مہ نمبر 01/2019 ز یر دفعہ 302,201.34 کے تحت دا خل کر کے مقتو لہ کے والد با د شاہ خان ولد نو اب خان اور بھا ئی جہانزیب ولد با د شاہ خان کو گر فتار کرلیا ہے اور دو نو ں خواتین‘ جو کہ مقتو لہ کی والد ہ یا سمین جبکہ دو سری خاتون مقتولہ کی بہن ز ر مینہ خان بتائی گئی ہیں انہیں بھی قتل کے مقد مہ میں نامزد کیا گیا ہے اور دو نو ں خواتین مفر ور ہیں پو لیس کے مطا بق دو نو ں مفر ور خواتین کی گر فتاری کے لیے چھا پے ما رے جا رہے ہیں ‘

بہرحا ل ایک حو ا کی بیٹی اپنے ہی لو گو ں کے ہاتھوں فر سو دہ ر سم کی بھینٹ چڑ ھ گئی ٹنڈ و یو سف تھانے کی حدود بد ین چالی کے علا قہ مکینو ں کا کہنا ہے کہ لڑ کی صائمہ کے قتل میں ا سکے اہل خانہ کو کیفر کر دار تک پہنچایا جائے تاکہ انہیں ضما نتو ں پر ر ہا کر دیا جائے اگر ا نہیں چھو ڑ دیا گیا توہما رے علا قے میں اس فر سو د ہ رسم کاجنم ہو اجائے گا ہم نہیں چا ہتے کہ کوئی خود کو ملک یا پھر چو ہد ری سمیت و ڈ یرہ شاہی کی رسم یہا ں ہو رہی ہو اور ہما رے علا قے مکین اس فرسودہ قتل و غا ر ت گری اوربچیو ںکو قتل کے بغیر کسی کو بتا ئے اسکی غیر قا نونی طر یقوں سے تد فین کر یں تو یہ عمل ا سلامی نہیں اور غیر قا نونی عمل کی حما یت نہیں کرائیں گے بلکہ آئی جی سندھ پو لیس کے افسران سے اپیل کر تے ہیں کے فر و دہ رسم کوپر وان چڑھانے والے قتل و غا ر ت گری میں ملو ث افراد کو کیفر کر دار تک پہنچایا جا ئے تاکہ علا قے مکینو ں سمیت حیدرآباد کے شہر ی بچیو ں کے اس طر ح کے قتل کی وا ردات کو بھی نہیں دے سکیں اور پولیس کا قاتلو ں کو گرفتار کر نا ہی ان کے قول فعل کی عکا سی کر رہاہے پو لیس کے عمل پیر ا کو خرا ج تحسین پیش کر تے ہیں ۔

(152 بار دیکھا گیا)

تبصرے