Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 19 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

تجاوزات کے خلاف آپریشن ، تاجر پریشان، کاروبار محدود

رائو عمران اشفاق بدھ 09 جنوری 2019
تجاوزات کے خلاف آپریشن ،  تاجر پریشان، کاروبار محدود

کراچی…. تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران شہر کی 8 بڑی مارکیٹوں اردو بازار‘ بہادر شاہ‘ ظفر مارکیٹ‘ موبائل مارکیٹ‘ مدینہ مارکیٹ‘ اکبر روڈ‘ لی مارکیٹ اور تاج محل مارکیٹ کو 3 دن میں مسمار کرنے کے نوٹس ملنے کے بعد تاجر برادری سراپا احتجاج بن گئی۔

موٹر سائیکل مارکیٹ اکبر روڈ کے دکانداروں نے 2 روز سے احتجاجاً مارکیٹ بند کر رکھی ہے۔ جبکہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے باعث شہر کی معاشی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہوگئیں‘ دکانیں اور مارکیٹیں مسمار ہونے کے باعث تاجر لین دین میں احتیاط کرنے لگے۔تحارتی مراکز میں بے یقینی کی فضاء قائم ہے۔

ہول سیل مارکیٹیں مسمار ہونے سے درآمد کنندگان کی ریکوری پھنس گئی ہے۔ آپریشن کے دوران ایمپریس مارکیٹ‘ لنڈا بازار‘ معراج مارکیٹ‘ آرام باغ‘ فرنیچر مارکیٹ‘ دوپٹہ گلی‘ موٹر سائیکل مارکیٹ‘ گارڈن مارکیٹ کی کے ایم سی کے زیر کرائے داری 3 ہزار دکانوں پر بلڈوزر چلادیا گیا۔

تاجروں کے شدید احتجاج پر کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر جنید اسماعیل ماکڑا اور بزنس مین گروپ کے سربراہ سراج قاسم تیلی نے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے اپیل کی ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ سے قبل تجاوزات آپریشن کی تسریح کردیں‘ آپریشن سے ہزاروں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔خدشہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد سر نہ اُٹھائیں‘ امن و امان کی صورت حال کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھئیے‎ : منی بجٹ، حکومت کے لئے غلطی کی گنجائش نہیں، ماہرین

سیاسی جماعتیں ‘ بیورو کریٹس بھی تجاوزات کے قیام کے برابر کے ذمے دار ہیں‘ سپریم کورٹ حکم نامے کی آڑ میں اسے مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی گردن بچاسکیں۔

کے ایم سی ن اورنگزیب مارکیٹ اور تاج محل مارکیٹ جو موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس کی ہول سیل مارکیٹ کی 275 دکانیں‘ اکبر روڈ کی 120 دکانیں‘ بہادر شاہ ظفر مارکیٹ کی 120 دکانیں‘ جوبلی مارکیٹ کی 407 دکانیں جو بلدیہ عظمیٰ کی زیر نگرانی چلتی ہیں‘ انہیں مسمار کرنے کا نوٹس دے رکھا ہے۔

اکبر روڈ پر منگل کے روز کے ایم سی کا عملہ مارکیٹ مسمار کرنے کے لئے پہنچا تو تاجروں نے شدید احتجاج کیا۔ تاجروں کے احتجاج کے باعث کے ایم سی کا عملہ پسپا ہوگیا۔

اردو بازار کے تاجروں نے میئر کراچی وسیم اختر سے ملاقات کی اور بتایا کہ اردو بازار کی جن دکانوں کو نوٹس ملا ہے وہ قانونی ہیں۔ وسیم اختر نے تاجروں سے ملاقات کے بعد آپریشن عارضی طور پر روک دیا ہے اور 6 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

کمیٹی میں 2 تاجر رہنما‘ کے ایم سی کے محکمہ اسٹیٹ سروسز کے 2 اور میونسپل سروسز کے 2 نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد مارکیٹ مسمار کرنے کا فیصلہ ہوگا۔

(230 بار دیکھا گیا)

تبصرے