Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 25 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

وکٹوریہ، مہاتما گاندھی سے کراچی چڑیا گھر تک

مختار احمد پیر 07 جنوری 2019
وکٹوریہ، مہاتما گاندھی سے  کراچی چڑیا گھر تک

خدا جھوٹ نہ بلوائے آج کے زولو جیکل گارڈن جو کہ پہلے وکٹوریہ گارڈن اور پھر گاندھی گارڈن میں تبدیل ہو گیا اس کے دو اطراف میں میں نے بچپن سے پچپن تک اسپیئر پارٹس کی دکانیں دیکھیں جبکہ اس کی اوپری منزل پر ہمیشہ سے بینڈ با جے والوں کی ایک بڑی تعداد جو کہ شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات میں مخصوص وردیوں میں ملبوس ہو کرشادیا نے بجا تے اور خوشیوں کو دو با لا کر دیتے تھے-

جس سے نہ تو سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو کو ئی فرق پڑتا تھا اور نہ ہی چڑیا گھر کے اندر ا ن دکانوں یا دفا تر میں ہو نے والی بات چیت یاہو نے والے کام کی آواز آتی تھی یہی وجہ تھی کہ جو بھی ایک بار چڑیا گھر جا تا تو ا س کی تاریخ جانے کے لئے بے چین ہو جا تا تھا اور چڑیا گھر ایک بار جا نے کے بعد مجھ میں بھی یہ تجسس کا مادہ بیدار ہوا کہ اس قدیم اور وسیع العریض چڑیا گھر کا قیام کب کیسے اور کیوں عمل میں آیا ہو گا جس کے پیش نظر جب میں نے قدیم تاریخ کے اوراق پلٹنا شروع کئے تو یہ معلوم ہوا کہ آج کا موجودہ چڑیا گھر ماضی میں چڑیا گھر نہیں تھا بلکہ 1799میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں فیکٹری قائم کی تھی اور یہ فیکٹری کسی قسم کے مصنوعات تیار نہیں کر تی تھی بلکہ یہاں دارالحکو مت سندھ کیخلاف سازشیں تیار کی جا تی تھیں-

جس کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ کمانڈر کارلس نے جب اس علاقے کا جو نقشہ تیار کیا تھا اس میں ٹھیک اسی مقام پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی فیکٹری ظا ہر کی تھی جس کے بارے میں ماضی کے تالپور حکمراں بھی باخبر ہو گئے اور پھر اس فیکٹری کو بند کر دیا گیا اور کیونکہ 1839میں انگریز سندھ پر قابض ہو چکے تھے اور تالپوروں کا دور حکو مت ختم ہو چکا تھا لہذا انگریز سر کار نے شہر کی تعمیروترقی کا کام تیزی کے ساتھ شروع کر دیا جس کے تحت انہوں نے جہاں شہر کی بندر گاہ کو ترقی دی وہیں انہوں نے نظام ڈاک ،ریلوے کا نظام دینے کے ساتھ ساتھ مٹی اور گاروں سے بنا ئی گئی نہ پختہ سڑکوں کو بنا نے کا کام شروع کیا اس وقت شہر کراچی میںتمام تر مذاہب اور قوموں کے لوگ آباد تھے جن میں پارسیوں ،عیسائیوں ،ہندئوں ،یہودیوں ،سکھوں کی بڑی تعدادآباد تھی جنہیں سہو لت فرا ہم کر نے کے لئے انگریز سر کار نے مختلف منصوبے بنا ئے جن میں سے ایک منصوبہ شہر میں باغ لگا نے کا منصوبہ تھا اور اس کے لئے جو جگہ چنی گئی وہ موجودہ چڑیا گھر کی جگہ ہے چونکہ 43ایکڑ جسے باغ لگا نے کے لئے چنا گیا تھا اس کی زمین زیادہ ذرخیز نہیں تھی لہذا اس باغ کی زمین کو ذرخیز بنا نے کے لئے لیاری ندی کی مٹی یہاں ڈالی گئی اور اس کے بعد باغ لگا نے کا آغاز کر دیا گیا

اور انگریز سر کار نے ہی اس باغ کے لئے یورپ سمیت مختلف مما لک سے پھلوں ،پھولوں کے پودے منگا کر لگا ئے اور باغ کی دیکھ بھال کا کام بر طانوی فوج کے ایک افسر میجر بلنگس کو مقرر کردیا جنہوں نے چند ہی سالوں میں اس باغ کو اتنی ترقی دی کہ یہاں پیدا ہو نے والی سبزیاں اور پھل بر طانوی فوجیوں کو کھلا نے کے علاوہ فروخت بھی کی جا نے لگی جس سے باغ کو ایک معقول آمدنی ہو نے لگی مورخین کہتے ہیں کہ 1845سے1847تک اس باغ میں اگا ئی جا نے والی سبزیاں ،پھل بلخصوص کیلیفورنیا سے منگا ئی گئی انگور لی بیلوں میں اتنا پھل ہوا کہ اسے فروخت کر نے سے 17ہزار353رو پے کی آمدنی ہو ئی جس کے پیش نظر میجر بلنگس کی نگرا نی میں اس باغ کو مزید ترقی دینے کا کام ہو تا رہا اور کیو نکہ گارڈن کے اسی علاقے جہاں بر طانوی فوجیوں کے لئے بیرکس تعمیر کئے گئے تھے جبکہ اس کے ارد گرد کے علاقوں جن میں سولجر بازار سمیت دیگر علاقے شامل تھے فوجیوںاوران کے خاندانوں کو تفریحی سہو لیات فرا ہم کر نے کے لئے 1860میں میونسپلٹی کے حوالے کر تے ہو ئے فوجیوں اور ان کے خاندانوں کوگھومنے پھر نے کی اجازت دے دی گئی جس کے پیش نظر سر شام فو جی افسران اور ان کی بیگمات جنہیں مقامی لوگ میم صاحبہ کہا کرتے تھے

مزید پڑھئیے‎ : 22 سالہ رکھوالی کو شیر کھاگیا

سیروتفریح کے لئے باغ میں آیا کر تے تھے اور انہیں فو جیوں میں بعض فو جی زبردست شکاری بھی تھے جو کہ جب بھی شکارکر نے جا تے تو شکار سے واپسی پر چھوٹے موٹے جانور اور پرندے یہاں لا کر چھوڑتے تھے جس سے باغ کی رونقیں دو با لا ہو گئیں مورخین کا کہنا ہے کہ 1890 تک اس باغ میں انہیں شکاریوں نے سینکڑوں کی تعداد میں جانور اور پرندے چھوڑے جو کہ پہلے تو کھلے عام گھومتے تھے پھر انہیں پنجروں میں قید کر دیا گیا اسی زما نے میں مقامی لوگوں کی جا نب سے باغ میں سیر و تفریح کی سہو لت صرف انگریز فوجیوں اور ان کے خاندان کو ملنے پر زبر دست احتجاج بھی کیا گیا جس پر مقامی لوگوں کو بھی ایک خاص اوقات کار کے تحت باغ میں تفریح کی اجازت مل گئی یہ باغ جو کہ ماضی میں 43ایکڑ کے رقبے پر تھا سے نا صرف بر طانوی فوجیوں کو سبزی اور پھلوں کی سپلائی دی جاتی تھی بلکہ انہیں پانی کی فرا ہمی کے لئے 15سے زائد کنویں کھدائے گئے جن سے انہیں پا نی فرا ہم کیا جا تا تھاور نہ اس سے قبل انہیں کوٹری سے اونٹ گاڑی کے ذریعے لا یا جا نے والا پا نی فرا ہم کیا جا تا تھا جو کہ نا صرف مہنگا پڑ تا تھا بلکہ لا ئے جا نے والے پا نی کامزہ بھی کنویں کے میٹھے پانی سے کم تھا کیو نکہ شہر میں میونسپلٹی کا قیام عمل میں آچکا تھا اور اس نے شہر میں صفائی ستھرا ئی سمیت دیگر انتظا مات سنبھال لئے تھے لہذا اسی دور میں اس باغ کو مزید وسعت دینے کے لئے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی جس کا سر براہ محکمہ ٹیلی گراف کے افسر بی ٹی فرنچ کو بنا یا گیا

جبکہ اس کمیٹی کے ارکان میں حسن علی آفندی ،دیا رام جیٹھا مل ،بہرام جی ،جے اسٹرپ ،کرنل وال کاٹ،برڈوڈو دیگر شامل تھے جنہوں نے اس باغ جو کہ ترقی کی سمت گامزن تھا مزید ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا اس طرح لگا یا جا نے والا یہ باغ ترقی کی منازل طے کر تا ہوا 19 ویں صدی میں داخل ہو گیا اور اس وقت تک باغ کے انتظا مات سنبھا لنے کے لئے ملازمین کی فوج ظفر موج نہیں تھی بلکہ اس باغ کے انتظا مات صرف ایک کلرک ،ایک چپراسی اور 4 مالی سنبھالتے تھے جو کہ کم تعداد ہو نے کے با وجود انتظا مات کچھ اس انداز سے سنبھالتے تھے کہ کسی کو باغ میں لگا ئے جا نے والے درختوں ،پھلوں ،پھولوں اور جانوروں ،پرندوں کو چھیڑنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی پھر 1934میں میونسپلٹی نے شہر کراچی میں لگا ئے جا نے والے سب سے پہلے باغ کو وکٹوریا گارڈن کا نام دے دیا اور کیو نکہ اس وقت تک لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی سہو لت مہیا کر نے ک لئے ٹرا میں ،بسیں و دیگر گاڑیاں چلا ئی جا چکی تھیں لہذا شہر بھر سے لوگ جوق در جوق اس باغ میں آکر اپنی تھکن دور کر تے تھے وکٹوریہ گارڈن کا یہ نام زیادہ عرصے نہیں چلااس باغ کا نام میونسپلٹی نے جو لا ئی 1934 میں جب کراچی میونسپل کارپوریشن نے بھا رت سے آئے ہو ئے مہاتماگاندھی کو جب استقبالیہ دیا تو اس باغ کو گاندھی گارڈن کے نام سے منصوب کر دیا گیا اور یہی نام قیام پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد ایک طویل عرصے تک رائج رہا اور جب قائد اعظم محمد علی جناح کی کوششوں اور کاوشوں سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو اس کے چند سالوں بعد مہاتما گاندھی کا نام بدل کر کراچی زولوجیکل گارڈن رکھ دیا گیا اور کیو نکہ اس گارڈن کا حسن انتظام بلدیہ عظمی کے ہی سپرد رہا لہذا اس نے اس کی ترقی کے لئے مزید اقدامات کئے اور دوسرے مما لک سے پرندے اور جانور منگواکر انہیں چڑیا گھر کی زینت بنا یا جس کے پیش نظر اس وقت اس کا شمار ملک کے اہم چڑیا گھروں میں کیا جا تا ہے چڑیا گھر کے انتظا مات کو چلا نے کے لئے بلدیہ عظمی کی جا نب سے جہاں عوام سے ٹکٹوں کی صورت میں رقم وصول کی جا تی ہے وہیں عوام کو مزید تفریحی سہو لیات فرا ہم کر نے کے لئے لگا ئے جا نے والے الیکٹرا نک جھو لے ،اسٹالز،پلے لینڈ اس کی آمدن کا ذریعہ ہیں اس کے علاوہ اس کی آمد ن کا ایک اور ذریعہ چڑیا گھر کے دو اطراف میں قائم دو منزلہ دکانیں اور دفا تربھی شامل ہیں جسے 1960میں جنرل اعظم خان نے لوگوں کو الاٹ کئے تھے اور عرصہ 60سال سے نچلے حصے میں بنا ئی گئی یہ دکانیں اسپیئر پارٹس ،پمپس جبکہ اس کی اوپری منزلوں پر امپورٹ ایکسپورٹ کے دفاتر کے ساتھ ساتھ بینڈ با جے بجا نے والے پر سکون انداز میں حلال رزق حاصل کررہے تھے مگر اچا نک بلدیہ عظمی نے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار جنہوں نے شہر کراچی کی سڑکوں اور فٹ پا تھوں پر قائم تجاوزات کے خاتمے کا حکم جا ری کیا تھا کو آڑ بنا کر ایمپریس مارکیٹ ،کھوڑی گارڈن،جوڑیا بازار ،لائٹ ہائوس کی مارکیٹوں کو تہس نہس کر نے کے بعد اچا نک بلدیہ کے اطراف میں قائم ان دکانوں اور دفاتر پر ہلہ بول دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے 425دکانیں اور دفاتر مسمار کر دئے

جس سے 25ہزار سے زائد لوگ بے روزگار ہو گئے بلکہ عرصہ 60سال سے کاروبار کر نے والے دکاندار اپنی دکانوں اور دفاتر سے نکل کر کھلے آسمان کے نیچے آگئے اس عمل پر انہوں نے شدید احتجاج بھی کیا مگر انکی آواز نقار خا نے میںطوطی کی آواز بن گئی اس حوالے سے وہاں کے دفاتر اور دکانوں کے ما لکان نے ایک ایکشن کمیٹی بھی تشکیل دی جس کا سر براہ محمود جو نیجو کو بنا یا گیا مگر ایکشن کمیٹی بھی دفاتر اور دکانیں بچا نے میں نا کام ہو گئی اس حوالے سے زولوجیکل گارڈن مارکیٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد آصف شہزاد نے کہا کہ بلدیہ عظمی کا یہ اقدام سراسر ظلم ہے کیونکہ یہ دکانیں اور دفاتر خودبلدیہ عظمی نے تعمیر کر کے انہیں کرا یے پر دئے تھے جس کے تحت وہ ہر 6ماہ بعد 72ہزار روپے کا چالان جمع کرا تے تھے مگر اچا نک نا جا نے انہوں نے چیف جسٹس کے حکم کو آڑ بنا تے ہو ئے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس مارکیٹ سے چڑیا گھر کے جانوروں اور پرندوں پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور پھر اچا نک رینجرز ،پو لیس کی بھا ری نفری کی موجودگی میں پوری مارکیٹ مسمار کر دی گئی جس سے جہاں ہزاروں دکاندار کھلے آسمان کے نیچے آگئے ہیں وہیں ان دفاتر اور دکانوں میں کام کر نے والے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روزگاری کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہیں انہوں نے حکو مت سے اس بات کا مطا لبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر گارڈن میں ہی متبادل جگہ فرا ہم کی جا ئے تا کہ وہ پھر سے کاروبار شروع کر کے اپنے خاندانوں کو فاقہ کشی سے بچا سکیں ۔

(211 بار دیکھا گیا)

تبصرے