Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 19 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بے روزگاری مسئلہ نمبر ایک

ویب ڈیسک پیر 07 جنوری 2019
بے روزگاری مسئلہ نمبر ایک

ملک میں خراب اقتصادی حالات کے منفی اثرات نمایاں ہوناشروع ہوگئے ہیں پاکستان میں جہاں غربت ، بے روزگاری اورمہنگائی بڑامسئلہ بنی ہوئی ہے وہیں اقتصادی بحران کی وجہ سے بے روزگاری میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہاہے۔نئی ملازمتوں پر پابندی اورعملہ کم کیا جارہا ہے جسکی وجہ سے بھی مالیاتی سیکٹر میں بے یقینی نمایاں ہے۔

بینک، بروکر ، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور پرائیوٹ سیکٹر کے کئی اداروں نے ڈائون سائزنگ شروع کردی ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی اس بحران سے محفوظ نہیں ہے۔ کئی نمایاں ٹی وی چینل نے یاتوملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کردیاہے یاپھر ان کی تنخواہوں میں 50فیصد تک کمی کردی ہے۔ کئی بڑے نشریاتی اداروں نے اپنے چینل بند بھی کئے ہیں۔سرمایہ کی عدم دستیابی صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری کم ہونے اور بیرونی سرمایہ کاروں کے نہ پہنچنے میں خدشہ ظاہرکیا جارہاہے کہ صورتحال آنے والے دنوں میں مزید خراب ہوسکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ مالیاتی بحران کی وجہ سے کئی بروکر یج ہائوسز بند ہوچکے ہیں بازار حصص کے کئی بڑے بروکر اپنے کارڈ فروخت کرنے پر غور کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسٹاک ایکسچینج کے کارڈ کی قیمت 10 سے12کروڑ روپے ہوتی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کارمحمد سہیل کاکہناہے’’ نئی ملازمتوں پر پابندی اورعملہ کم کیا جارہا ہے جسکی وجہ سے بھی مالیاتی سیکٹر میں بے یقینی نمایاں ہے۔ملک میں معاشی حالات سدھارنے کے لیے نئی حکومت جوکوششیں کررہی ہے ان کے نتائج کا عوام کوشدت سے انتظار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کے اثرات جہاں معاشرے کومتاثر کرتے ہیں وہیں جرائم ، سماجی اورنفسانی مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق وہ اعلی ملازمتوں پر فائز ایسے نوجوانوں کوجانتے ہیں کہ جنہیں مالیاتی بحران کے بعد ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔حکومت نے مالیاتی بحران کوحل کرنے پر فوری توجہ نہیں دی تومعاشرے میں پھیلی بے چینی اورانحطاط کوکوئی نہیں روک سکے گا۔ہمارے اکثر سیاستدان‘ تجزیہ کار اور دانشور حضرات ملک میں دہشت گردی‘ مہنگائی‘ توانائی کا بحران اور بے روزگاری کو پاکستان کے بڑے مسائل قرار دیتے ہیں لیکن اکثرت آبادی کا مسئلہ جو ان تمام مسائل کی جڑہے اس کی طرف کبھی کوئی آواز نہین اٹھاتا تاہم اچھی بات یہ ہے کہ پچھلے دنوں ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے حوالے سے کانفرنس ہوئی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم بھی شامل تھے، یہ واقعی ایک تلخ حقیقت ہے ملک میں آبادی میں اضافے سے وسائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور اب لازمی ہوگیا کہ اس جانب کوئی سنجیدہ کوشش کی جائے، وزیراعظم نے تو آبادی کنٹرول کرنے کیلئے ہرسطح پر مہم چلانے کا اعلان کردیا مگر پاکستان میں اس طرح کے اعلان پہلے بھی بہت ہوچکے ہیں اور نتیجہ مزید مسائل کی صورت میں سامنے آتا ہے اگر ملک کی سیاست پر گہری نظر ڈالی جائے تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہماری سیاست رنگ نسل میں نہیں تو زبان اور علاقوں میں ضرور بٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اکثر مسائل سیاست کی نذر ہوجاتی ہے۔آبادی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے بیروزگاری‘ نفسیاتی مسائل‘ تعلیم‘صحت کی ناکافی سہولیات‘غذائی قلت، توانائی کا بحران‘ کرپشن اور غربت جیسے مسائل نے پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کو تباہ کر دیا ہے‘ آبادی میں بے ہنگم اضافہ کی وجہ سے اسٹریٹ کرائمز‘ چوری‘ڈکیتی‘ اغواء اور قتل و غارت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گردی، شدت پسندی ، طلاق اورخود کشیوں کی بڑھتی ہوئی شرح بھی آبادی میں اضافہ کے مضمرات میں شامل کیا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ وسائل کی کمی نے لوگوں کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا ہے‘معیشت پر بے پناہ بوجھ پڑنے سے تعلیم‘زارعت‘ صحت غرض تمام ہی شعبے کسمپرسی کا شکار ہیں، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملکی وسائل ناکافی ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھئیے‎ : 2019ءغریبوں کیلئے ڈرائونا خواب ثابت ہوگا

 

آبادی کی افزائش میں شرح ملک کی اقتصادی ترقی میں شرح افزائش سے تیز ہو تو عوام کی خوشحال طرز زندگی کی منزل سراب بن جاتی ہے مگر یہ کام اس وقت مزید کٹھن رہتا ہے جب آبادی اور اقتصادیات میں یکساں شرح سے اضافہ نہ ہو، اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2050ء تک پاکستان کی آبادی 30سے35 کروڑ کے درمیان ہوگی‘ پاکستانی آبادی کا 63فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ایک خوش آئند امر ہے لیکن کثرت آبادی کی وجہ سے نوجوان ترقی کے ثمرات سے محروم ہورہے ہیں آبادی میں اضافہ رقبے کے ساتھ ساتھ قدرتی و معاشی وسائل پر بوجھ بن رہا ہے اس صرف اس تناظر میں ہی سوچ لیا جائے کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی کمی کا بھی شکار ہے تو آبادی میں اضافہ ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ کریگا، آبادی میں اضافہ یوں تو پوری دنیا میں ہورہا ہے مگر ان ممالک میں اقدامات بھی کسی حد تک بہتر ہیں، ہم آج تک اپنے انتظامی یونٹ میں اضافہ کرنے کی بات پر لڑجاتے ہیں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وسائل کی تقسیم آئندہ مزید مشکلات میں اضافہ کرے گی۔پاکستانی معیشت بھی مشکلات اور آفات کی زد میں ہے اس کا ذکر ہر طرف ہورہا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اپنے اپنے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان جو ایک حکومتی ادارہ ہے اس نے بھی پچھلے ہفتے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے معیشت کی اْن کمزوریوں کی نشاندہی کی جن کے نتیجے میں خدانخواستہ ایک معاشی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی گھبراہٹ کے عالم میں حکومت نے روپے کی قدر میں کمی کردی جس سے آنے والے دنوں میں عوام کے لیے مختلف مسائل پیدا ہوں گے۔ ایک طرف معیشت کی یہ صورت حال ہے جس میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ اور تجارتی خسارہ بڑھتا جارہا ہے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں‘کرپشن اور بدانتظامی اپنے عروج پر ہے۔ دوسری طرف یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ حکومت نے 2013ء میں اپنے سفر کے آغاز کے وقت قوم و ملک کے ساتھ کیا دعوے کیے تھے۔ معیشت کی گاڑی کو پٹڑی پر لانے کے لیے کیا کیا دعوے کیے تھے۔ سادہ لوح عوام کو کیا کیا سہانے خواب دکھائے تھے اس سلسلے میں 2013ء کے الیکشن سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جس میں معیشت کی بحالی پر بہت زور دیا گیا تھا۔ زرعی اور صنعتی ترقی، بے روزگاری اور مہنگائی میں کمی، برآمدات اور ٹیکسوں میں اضافے کے لیے اونچے اونچے دعوے کیے گئے تھے۔ منشور کے آغاز میں 2013ء میں ملکی معیشت پر اس طرح تبصرہ کیا گیا ہے کہ ملک پھیلے ہوئے کرپشن، بڑھتے ہوئے افراط زر‘ مسلسل لوڈشیڈنگ‘ بے انتہا بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی غربت کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ لیکن کیا 2013ء کے مقابلے میں 2018ء میں صورت حال مختلف ہے۔ پاکستانی عوام کو تو کوئی فرق نظر نہیں آتا بلکہ کئی لحاظ سے تو صورت حال اور زیادہ ابتر نظر آتی ہے۔

 

بحالء معیشت کے لیے جن بڑے بڑے اقدامات کے دعوے کیے گئے تھے اْن میں پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ یعنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 12 فی صد سے بڑھا کر 20 فی صد تک لے جانا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری میں اضافہ معیشت میں جان ڈال دیتا ہے۔ لوگوں کی آمدنیوں میں اضافہ ہوتا ہے، روزگار کے مواقعے پیدا ہوتے ہیں اور ہر طرف خوشحالی نظر آتی ہے، سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے اقدامات کی ایک لمبی فہرست منشور میں شامل ہے۔ مگر اْن پر 25 فی صد بھی عمل نہ ہوا اور آج سرمایہ کاری جی ڈی پی کا 15 فی صد ہے۔ اسی طرح ٹیکسوں میں اضافے کے لیے خوشنما اعلانات کیے گئے تھے کہ نئی ٹیکس اصلاحات کے نتیجے میں مجموعی قومی پیداوار میں ٹیکسوں کی شرح 15 فی صد تک پہنچا دی جائے گی لیکن ابھی تک یہ شرح 10 سے11 فی صد تک ہے اور اس میں بڑا حصہ سیلز ٹیکس کا ہے جو ایف بی آر کے لیے ٹیکس جمع کرنے کا سب سے آسان راستہ ہے اور اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ ماہ اپریل 2018ء کے لیے پٹرول پر سیلز ٹیکس 21.5 فی صد اور ڈیزل پر 27.5 فی صد کردیا ہے یعنی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کے بجائے ٹیکس کی شرح بڑھا کر یہ فائدہ حکومت کو پہنچایا جارہا ہے۔معاشی صحت کا ایک اہم پیمانہ بجٹ خسارہ ہے دوسرے الفاظ میں آمدنی اور اخراجات میں فرق۔ یہ سیدھی سی بات ہے کہ یہ فرق جتنا زیادہ ہوگا اتنی ہی معیشت کمزور ہوگی، اسی لیے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قرض لینا پڑے گا۔ یہ خسارہ بھی ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے یعنی اسے مجموعی قومی پیداوار سے 3 سے 4 فی صد تک ہونا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے اس خسارے کو 4 فی صد تک کرنے کا عزم کیا تھا۔ مگر حکومتی فضول خرچیاں، اللے تللے اور عیاشی و سیر و سیاحت کے باعث اخراجات بڑھتے گئے اور یہ اخراجات زیادہ تر اس طبقے پر ہوئے جو یا تو ٹیکس ادا نہیں کرتا یا بہت کم ٹیکس ادا کرتا ہے۔ چناں چہ ٹیکسوں میں کمی اور اخراجات میں اضافے کے باعث بجٹ خسارہ ملک کی جی ڈی پی کا 5.5 فی صد ہوگیا ہے جو خطرے کی گھنٹی ہے۔اسی طرح ملکی قرضوں کا معاملہ ہے، حکومت نے 2013ء میں قرضوں کو ایک بہت بڑی برائی قرار دیتے ہوئے انہیں محدود کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور اس سلسلے میں اقدامات اور اصلاحات کی ایک فہرست تھی۔ مگر ہوا کیا۔ حکومت کا عمل ان پچھلے پانچ سال میں بالکل برعکس ہوا اور حکومت نے سوائے قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرنے کے شاید کوئی کام نہ کیا، ان پانچ سال میں ملکی قرضوں میں 35 فی صد اضافہ ہوا اور یہ قرضے 13500 ارب رپے سے بڑھ کر 20,000 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ اب قرض تو کیا واپس ہوگا اس کا سود ہی ادا کرنا حکومت کے لیے درد سر ہے۔غرض یہ کہ ان وعدوں اور وعدہ خلافیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ کیا یہ ختم ہوگا یا بڑھتا جائے گا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

(314 بار دیکھا گیا)

تبصرے