Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کوچ اور کپتان کی لڑائی

کلیم عثمانی پیر 07 جنوری 2019
کوچ اور کپتان کی لڑائی

پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم سلیکشن پر قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اور کوچ مکی آرتھر میں ٹھن گئی۔

کپتان سرفراز احمد نے اسد شفیق کو ڈراپ کرنے سے انکار کردیاتھا اور کپتان کو سینئیر کھلاڑیوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔مکی آرتھر کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں محمد رضوان کو کھیلانے کے خواہش مند تھے۔پاکستان کرکٹ ٹیم میں کھلاڑیوں، کوچز اور انتظامیہ کے درمیان نوک جھوک کی باتیں منظر عام پر آنے کے بعد اب بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے لب کشائی کردی۔زمبابوے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے ڈریسنگ روم کے ماحول میں گڑبڑ کی جانب اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی کھلاڑیوں کی ٹیم میں جگہ خطرے میں ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں گرانٹ فلاور نے کہا کہ ڈریسنگ روم کا ماحول اس وقت اچھا نہیں ہے، اور ویسے بھی شکست کے بعد ڈریسنگ روم میں خوش نہیں رہا جاسکتا۔بیٹنگ کوچ نے اعتراف کیا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے سنچورین ٹیسٹ میں شکست کے بعد کھلاڑیوں کی سرزنش کی تھی کیونکہ کبھی کبھی اس کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ خبر کسی نے لیک کی اس کے بارے میں علم نہیں ہے، تاہم جس کھلاڑی نے بھی خبر کو باہر نکالا ہے اسے خود بھی سوچنا چاہیے کہ ٹیم ایک فیملی ہے اور وہ ایک فیملی کا رکن ہے، تاہم آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔گرانٹ فلاور نے انکشاف کیا کہ جنوبی افریقہ سے شکست کے بعد کئی کھلاڑیوں کی ٹیم میں جگہ خطرے میں ہے تجربہ کار کھلاڑی اسد شفیق کے بارے میں بات کرتے ہوئے گرانٹ فلاور کا کہنا تھا کہ مڈل آرڈر بیٹسمین اس وقت دباؤ میں ہیں اور جب بھی ان پر تنقید ہوتی ہے وہ سنچری کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اسد شفیق کو ایک مرتبہ پھر موقع دیا گیا تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔کپتان سرفراز احمد کے بارے میں بیٹنگ کوچ کا کہنا تھا کہ وکٹ کیپنگ کے ساتھ کپتانی کرنا کرکٹ کا سب سے مشکل کام ہے مگر سرفراز کو اب دماغی طور پر مضبوط ہونا ہوگا۔
جنوبی افریقا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران بیٹنگ کی خراب کارکردگی کے بعد مکی آرتھر نے کپتان سرفراز احمد، اسد شفیق اور اظہر علی کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب پی سی بی چیئرمین احسان مانی بھی جنوبی افریقا میں تھے، لڑائی میں معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔سنچورین ٹیسٹ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سینئر بیٹسمینوں کی بدترین کارکردگی کے بعد پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھرجذبات پر قابو نہ پاسکے اور ان کی کپتان سرفراز احمد سمیت سینئر بیٹسمینوں سے شدید جھڑپ ہوئی جس کے بعد معاملہ گالی گلوچ تک پہنچ گیا۔مکی آرتھر اس قدر غصے میں تھے کہ انہوں نے تمام اخلاقی حدود پار کر دیں اور ڈریسنگ روم میں چیزیں اٹھا کر پھینک دیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد کے کپتان بننے کے بعد ان کی سرفراز احمد کے ساتھ پہلی براہ راست جھڑپ ہے۔ذمے دار ذرائع کے مطابق دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر جب ٹیم ڈریسنگ روم میں آئی تو مکی آرتھر نے سرفراز احمد، اسد شفیق اور اظہر علی کو ناکامی کا ذمے دار قرار دے کر کھری کھری سنا دیں، اس دوران کھلاڑیوں کی جانب سے بھی جوابی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ذرائع کا کہنا کہ مکی آرتھر نے کھلاڑیوں سے کہا کہ وہ جان بوجھ کر غلط شاٹس کھیل کر آئوٹ ہوئے ہیں، کھلاڑیوں نے اپنی غلطی مان لی لیکن مکی آرتھر اخلاقی حدود عبور کر کے گالی گلوچ پر اتر آئے اور انہوں نے کھلاڑیوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستانی ٹیم کا ہیڈ کوچ بننے کے بعد مکی آرتھر کی انضمام الحق کے بعد کپتان سرفراز احمد اور سینئر بیٹسمینوں کے ساتھ پہلی براہ راست جھڑپ تھی۔میچ کے دوسرے دن سرفراز احمد اور اظہر علی صفر اور اسد شفیق چھ رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

مکی آرتھر کی کھلاڑیوں کے ساتھ لڑائی کی کہانیاں پرانی ہیں، اس سے قبل وہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے کھلاڑیوں کے ساتھ بھی جھگڑا کر کے کوچنگ سے محروم ہو چکے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی جانب سے کپتان سرفراز احمد، اسد شفیق اور اظہر علی کے ساتھ مبینہ طور پر غیر اخلاقی رویہ اختیار کیے جانے کی میڈیا رپورٹس کی تردید بھی کی۔پی سی بی کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق مینیجر طلعت علی کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم مینجمنٹ، سنچورین میں جنوبی افریقا کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی جانب سے کھلاڑیوں کے ساتھ خراب رویے کے الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔پی سی بی کے مطابق مکی آرتھر کے کھلاڑیوں کے ساتھ رویے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔پی سی بی کے مطابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر، ٹیم انتظامیہ، کپتان اور تمام کھلاڑی بہترین نتائج دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر مکمل طور پر متحد ہیں۔مزید کہا گیا کہ ٹیم مینیجر اور پوری انتظامیہ کو امید ہے کہ میڈیا اس معاملے پر افواہوں سے گریز کرے گا۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے ڈریسنگ روم کی خبریں منظرعام پر آنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق احسان مانی سے ٹیم منیجر طلعت علی کی سنچورین میں ملاقات ہوئی جس میں طلعت علی نے انہیں ٹیم کی کارکردگی پر بریف کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ طلعت علی نے ڈریسنگ روم کی میٹنگ کی خبروں کے حوالے سے بھی بریف کیا۔ٹیم منیجر طلعت علی نے بریفنگ میں بتایا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر معمول کے مطابق میٹنگ کرنے کے عادی ہیں لیکن گزشتہ روز کوچ ٹیم کی کارکردگی پر بہت پریشان تھے اور انہوں نے پریشانی کے عالم میں کھلاڑیوں پرتنقید کی۔

مزید پڑھئیے‎ : سرفراز احمد کی کپتانی کیلئے چیلنج

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی نے منیجر طلعت علی کو کھلاڑیوں کا مورال بلند رکھنے کی تلقین کی اور ڈریسنگ روم کی خبریں منظرعام پر آنے پر برہمی کا اظہار کیا۔مصباح کے سات سالہ دورِ کپتانی کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ ان سات سال میں ٹیسٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم سے کوئی ایک متنازع خبر نہیں آئی۔ ٹیموں میں ہار جیت تو چلتی رہتی ہے، زیادہ اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ڈریسنگ روم کا ماحول کیسا ہے۔مکی آرتھر بھی اس بات سے بخوبی آشنا ہیں۔ چیمپئینز ٹرافی میں پاکستان انڈیا گروپ میچ سے پہلے انھوں نے ہی یہ نشاندہی بھی کی تھی کہ کسی بھی ٹیم کی پرفارمنس کے لئے بنیادی چیز کوچ اور کپتان کا رشتہ ہوتا ہے۔ مکی آرتھر نے مزید برآں یہ بھی کہا تھا کہ انیل کمبلے اور کوہلی کے بیچ دراڑیں پڑ چکی ہیں جبکہ میرا اور سرفراز کا رشتہ بہت مضبوط ہے۔اور جب کوئی ٹیم زوال کی راہ پر نکلنے لگتی ہے تو سب سے پہلی چیز یہ ہوتی ہے کہ اس کے ڈریسنگ روم کی باتیں بھرے بازار میں زیرِ بحث آنے لگتی ہیں۔ مصباح کے ڈریسنگ روم کی سنجیدگی یہ تھی کہ سات سال میں ایک خبر تک نہ نکلی۔ اور اب سرفراز کے ڈریسنگ روم سے خبریں ہی نکلتی رہتی ہیں۔ جب کہ پاکستانی بولرز نے شاندار پرفارمنس دکھائی اور پاکستانی بیٹنگ کی حسبِ توفیق جگ ہنسائی ہوئی تو بجائے اس کے کہ مکی آرتھر بیٹنگ کوچ کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھتے، انھوں نے سینیئر پلیئرز کے ساتھ سر ٹکرانا شروع کر دیا۔اس میں دو رائے نہیں کہ امام الحق، شان مسعود اور بابر اعظم کے سوا سارے پاکستانی بلے باز ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ کوئی بھی کریز پر اعتماد سے کھڑا نظر نہیں آیا۔ فرنٹ فٹ، جارحیت، دفاع، تکنیک، سبھی مسائل دکھائی دیے۔ایسے موقع پر پلیئرز کی باز پرس بالکل بجا ہے اور پوچھا جانا چاہیے کہ اتنے بڑے لیول پہ ایسی بنیادی خامیاں کیوں ہیں؟ مگر ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کوچز بھی اس ناکامی کے حصہ دار ہیں یا نہیں؟کچھ عرصہ قبل ایک میچ میں بابر اعظم کو مین آف دا میچ کا ایوارڈ ملا تو انٹرویو میں انھوں نے رمیز راجہ کو اپنی کامیابی کا راز یہ بتایا کہ مکی بھائی اور فلاور بھائی انھیں بہت سپورٹ کرتے ہیں۔ جس پر راشد لطیف نے بالکل درست کہا تھا کہ بھئی کل کلاں اگر بابر اعظم ناکام ہوا تو مکی بھائی اور فلاور بھائی کس حد تک ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہوں گے؟

متحدہ عرب امارات میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ٹی ٹونٹی میں جس طرح مکی آرتھر حسن علی سے ناراضی کا اظہار کرتے پائے گئے، وہ ایک قومی ٹیم کے کوچ کے شایانِ شان نہیں تھا۔ اسی طرح پی ایس ایل 2 میں جس طرح کیمرے کے سامنے انھوں نے سہیل خان کو رسوا کیا، وہ کسی پیشہ ور عہدے دار کا رویہ نہیں ہو سکتا۔دنیا بھر میں کوچز کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ پورا دھیان ٹریننگ پہ دیں، کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیاں ٹھیک کریں، ان کی نفسیاتی الجھنوں کے جواب دیں۔ ڈریسنگ روم کو جوڑ کے رکھیں۔ مگر مکی آرتھر جواب دینے کے بجائے الٹا پلیئرز سے ہی سوال کرنے لگتے ہیں۔کوئی بھی ایشیائی ٹیم جب جنوبی افریقہ جاتی ہے تو اس کی بیٹنگ لائن مسائل سے گزرتی ہے۔ پاکستانی بلے بازوں نے بھی کچھ مختلف نہیں کیا۔ ان پہ تنقید بجا مگر اس تنقید کا جواب آپ کی ٹریننگ اور اگلے میچ میں تیاری سے ملنا چاہیے، نہ کہ ڈریسنگ روم میں نوک جھونک کی خبروں سے۔اور اگر سیکھنا ہو تو اسی ہار سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں اننگز میں پاکستانی بولرز نے جیسی بولنگ کی، اس سے سیکھا جا سکتا ہے۔ ایلگر اور آملہ کی پارٹنرشپ سے سیکھا جا سکتا ہے۔ بابر اعظم اور شان مسعود کی اننگز سے سیکھا جا سکتا ہے۔سرفراز بطور بیٹسمین تو بری طرح ناکام رہے مگر کپتانی میں انھوں نے کوئی برے فیصلے نہیں کیے۔ بیٹنگ کی خرابی اپنی جگہ مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ بالرز نے دل جیت لئے۔مگر شومئی قسمت کہ جہاں ان مثبت پہلووں کی بات ہونا تھی اور ان غلطیوں کی درستی پہ بحث ہونا تھی، میڈیا میں زیر بحث ہے کہ پاکستانی ڈریسنگ روم میں کیسے کوچ اور اسد شفیق، اظہر علی کے درمیان جھڑپ ہوئی، کیسے کوچ صاحب برس پڑے، اور کیسے سینئیر پلیئرز نے بدتمیزی کی۔مکی آرتھر صاحب! یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا ڈریسنگ روم ہے۔ یہ دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان ہے۔ اس میں جو بات ہو، اسے میڈیا تک نہیں پہنچنا چاہیے۔سنچورین ٹیسٹ کے دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے پرڈریسنگ روم میں پاکستانی ٹیم کی پرفارمنس کا پوسٹ مارٹم شروع ہوا، کوچ مکی آرتھر سخت غصے میں تھے، انھوں نے کھلاڑیوں کی کلاس لینا شروع کردی، کپتان سرفراز احمد سمیت سینئر بیٹسمینوں اظہر علی اور اسد شفیق کو بھی نہ بخشا، وہ اتنے غصے میں تھے کہ چیزیں ادھر ادھر پھینکنے لگے، پھر منہ سے گالیوں کا طوفان نکلنے لگا، ایسے میں کھلاڑی بھی ناراض ہوئے، پھر ٹیم ہوٹل روانہ ہوگئی، مکی کو یہ دکھ تھا کہ جنوبی افریقہ کو ہرانے کا نادر موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ادھر کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ کوئی جان بوجھ کر آؤٹ نہیں ہوتا، ان سے بھی نادانستہ طور پرغلطی ہوئی، اس وقت تک میچ ختم نہیں ہوا تھا لیکن کوچ کے اس سخت انداز نے ٹیم کا مورال ڈاؤن کر دیا اور وہ حسب توقع اگلے دن شکست کا شکار ہوگئی، سنچورین میں ہی موجود چیئرمین پی سی بی کیلیے بھی یہ تنازع باعث شرم تھا، ان کے پاس دو آپشنز تھے یا تو جو کچھ ہوا اسے تسلیم کر کے کوئی ایکشن لیتے،

یا پھر ملبہ میڈیا پر ڈال کر خاموشی اختیار کر لی جاتی۔بورڈ میں چور دروازے سے آئے ہوئے بعض شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے یہی مشورہ دیا کہ ایک تردیدی بیان جاری کر دیا جائے چند روز میں معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا، بعد میں ایسا ہی ہوا لیکن جنوبی افریقہ میں موجود اسکواڈ کا ہر رکن اور پی سی بی آفیشلز اچھی طرح جانتے ہیں کہ کیا واقعہ پیش آیا تھا، میں مانتا ہوں کہ بطور کوچ مکی آرتھر کو کھلاڑیوں سے ڈانٹ ڈپٹ کا حق حاصل ہے، وہ ماضی میں ایسا کرتے بھی رہے ہیں۔البتہ اس بار نئی بات ان کی انتہائی غیراخلاقی زبان تھی، کوئی باپ بھی اپنے بیٹوں کوامتحان میں ناکامی پر ضرور ڈانٹتا ہے لیکن ایسا گھر کے اندر ہوتا ہے، اگر وہ سڑک پر آ کر ایسا کرے تو تماشہ تو بنے گا، مکی نے بھی اتنا شور مچایا کہ ڈریسنگ روم کے باہر تک لوگ چونک گئے،اس سے کئی باتیں واضح ہو گئیں، سب سے اہم یہ کہ ٹیم کا ماحول اچھا نہیں ہے، اندر ہی اندر کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔دوسرا کوچ آرتھر ایک بار پھر آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی طرح پاکستانی کرکٹرز سے بھی محاذ آرائی شروع کر چکے ہیں، انھیں اس وجہ سے تیسری بار کوچنگ سے ہاتھ نہ دھونا پڑ جائیں، سرفراز جب تک اچھا بچہ بن کر ان کی ہر بات سنتا رہا تو وہ اچھا تھا مگر اب اچانک ’’ برا ‘‘ بن گیا ہے،تالیاں کب گالیوں میں بدل گئیں پتا نہیں چلا، اس میں کپتان کی بھی کوتاہی شامل ہے، انھوں نے کیوں آرتھر کو خود پر حاوی ہونے دیا، جب ٹیم جیتے تو کوچ کی واہ واہ اور ہارے تو کپتان ذمہ دار قرار پاتا ہے۔البتہ سرفراز نے ناقص کارکردگی سے خود اپنا کیس خراب کیا، چند سال پرانی ہی بات ہے جب سابق کوچ وقار یونس نے انھیں نہ کھلانے کا تہیہ کر رکھا تھا، پھر جب بادل نخواستہ میدان میں اتارنا پڑا تو سرفرازنے پرفارم کر دیا، اگر اب بھی انفرادی کارکردگی اچھی ہوتی تو کوئی ان کیخلاف انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا، مگر اب تو یہ نوبت آ گئی ہے کہ اظہر محمود بھی کہہ دیتے ہیں کہ میں بولنگ کوچ ہوں لہذا آپ بولرز کو مشورے نہ دیا کریں۔جنوبی افریقہ میں مصباح اور یونس کے دور میں بھی ٹیم نہ جیت سکی، گزشتہ ٹورکے ایک ٹیسٹ میں تو45رنز پر ڈھیر ہوئی لہذا اس بار بھی فتح کا امکان کم ہی ہے،

البتہ پہلے ٹیسٹ میں جو کچھ ہوا وہ مایوس کن تھا، سرفراز نے پیئر کیا جبکہ اسد شفیق اور اظہر علی جیسے سینئرز بھی توقعات پر پورا نہ اتر سکے، فخر زمان کا بیٹ خاموش رہا، دوسری اننگز میں امام الحق اور شان مسعود کی ففٹیز ہی کچھ مثبت بات تھی، البتہ بولرز نے عمدہ کارکردگی دکھائی ،اگرمحمد عباس فٹ ہوتے تو شاید جنوبی افریقہ کیلیے149رنز بنانا بھی آسان نہ ہوتا۔ شاہد آفریدی نے بتایا تھا کہ سرفراز کو فون کر کے کہا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ کر صرف محدود اوورز کے میچز کھیلو، سیریز سے قبل وہ ایسا کرتے تو مناسب نہ تھا، البتہ مستقبل میں انھیں اس تجویز پر غور کرنا ہوگا، ساتھ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کیا ہم نے کوئی دوسرا ٹیسٹ کپتان تیار کیا ہے، اسد شفیق کو غیر اعلانیہ نائب قائد بنایا گیا مگر خود ان کی اپنی کارکردگی اچھی نہیں ہے، اظہر علی کی پرفارمنس میں بھی تسلسل کا فقدان نظر آنے لگا۔بورڈ پہلے کوئی مناسب حکمت عملی تیار کرے پھر ضرور کپتان کو تبدیل کرے، نہیں لگتا کہ صرف سرفراز ہی ٹیم کے تمام مسائل کے ذمہ دار ہیں، ان کے جانے پر بھی کھلاڑی تو یہی ہوں گے ناں تو کیسے غیرمعمولی بہتری آ جائے گی، ہمیں سلیکشن میں میرٹ لانا ہوگی، چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کیوں کئی باصلاحیت کرکٹرز کو منتخب نہیں کیا،

کیوں ان فٹ کرکٹرز کو جنوبی افریقہ بھیجا، کیا بورڈ نے ان سے بازپرس کی؟ مجھے نہیں لگتا ایساکچھ ہوا ہوگا، کوچ اور کھلاڑیوں کے کشیدہ تعلقات سیریز کے بقیہ دونوں ٹیسٹ میں بھی ٹیم کی کارکردگی پر اثر انداز ہوں گے۔احسان مانی کو چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں اور آرتھر سے ملاقات کرکے جو مسائل ہیں انھیں حل کرائیں، ان کو اب سنجیدگی سے مستقبل کے حوالے سے بھی سوچنا ہوگا، ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی بہت ناقص ہے، گذشتہ سال صرف چار ہی میچز جیتے، اب ورلڈکپ قریب ہے،اگرٹیم کا ماحول خراب رہا تو پاکستانی مہم پر بہت خراب اثر پڑ سکتا ہے،اس وقت سب سے زیادہ دباؤ میں سرفراز احمد ہیں، وہ یقیناً خود بھی مستقبل کے حوالے سے ذہن بنا چکے ہوں گے مگراس وقت ان کو زیرعتاب لانے سے معاملات سلجھنے کے بجائے مزید بگڑیں گے،آپ ضرور کوئی سخت فیصلہ کریں مگر سیریز تو مکمل ہونے دیں۔اسی طرح اسد شفیق اور اظہر علی بھی سینئر بیٹسمین ہیں، ان دونوں کو بھی حوصلہ دینا چاہیے،ابھی ایک ہی ٹیسٹ ہوا اور دو باقی ہیں، اگر ماحول ایسا ہی ہرا توبقیہ میچز میں بھی اچھے نتائج کی امید کم ہی رکھنی چاہیے، دیکھتے ہیں بورڈ ’’تردیدی بیان‘‘ کے علاوہ اور کیا کرتا ہے۔

(131 بار دیکھا گیا)

تبصرے