Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 19 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

شادی سیزن درہم برہم

رائو عمران اشفاق اتوار 06 جنوری 2019
شادی سیزن درہم برہم

کراچی کے پوش علاقے پی ای سی ایچ ایس میں واقع مشہورزمانہ یونین کلب میں شادی کی تقریب کی تیاریوں کو آخری ٹچ دیا جارہا تھا ۔ ہرانتظام پور ا تھا ۔۔
مہمانوں کی آمد بھی شروع ہوچکی تھی ۔۔ اچانک کے ایم سی کے بلڈوزروں کی گھن گرج سنائی دی ۔۔۔

یونین کلب میں میں موجود بینکوئٹ اور لان میں موجود مہمان ہکا بکا تھے کہ یہ کیا ہورہا ہے ۔بلڈوزر کے آہنی بلیڈ نے کلب کی دیوار کو گرادیا ۔۔ مہمان چیختے چلاتے رہ گئے ۔۔۔ کلب کی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی ۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی ۔ مینجر کو گرفتار کرلیا گیا ۔۔

کے ایم سی کی ٹیم کا موقف تھا کہ یہ کلب رفاعی پلاٹ پر قائم ہے اور اس کو کافی عرصے پہلے نوٹس دیا جاچکا تھا لیکن انتظامیہ نے اس پر کان نہ دھرا اور غیرقانونی بکنگ کی ۔۔۔ کراچی میں ایسا ایک جگہ نہیں ۔۔ متعدد جگہوں پر ہورہا ہے ۔ ہال بک کرانے والے کو اس کا علم نہیں ہوتا کہ یہ غیرقانونی ہے اور اسے مسمار کیا جانا ہے ۔ ہال کے مالکان بھی انھیں اس بابت کچھ نہیں بتاتے ۔۔ بھاری رقوم لے کر بکنک کی جاتی ہیں اور عین موقع پر تقریب کے میزبان کو پتہ چلتا ہے کہ جہاں تقریب منعقد ہونی ہے اسے گرادیا گیا ہے ۔۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن سے کراچی میں شادی کا سیزن بری طرح درہم برہم ہوچکا ہے ۔۔۔ شہر کے کئی نامی گرامی ہالز اور بیکوئیٹس کو نوٹس مل چکے ہیں ۔ سو سے زائد شادی ہال تو ایسے ہیں جنھیں بند کردیا گیا ہے ۔۔ ان ہالوں میں ہونیوالی شادی کی تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں ۔۔ ایک محتاط تخمینے کے مطابق اس صورتحال کے باعث ہزاروں افراد کو بے روزگاری کا سامنا ہے ۔

ان کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑچکے ہیں ۔۔‘ شادی ہالوں کی بندش کے باعث ہوٹلوں ‘ گلیوں ‘ محلوں ‘ سڑکوں اور میدانوں میں تقریبات منعقد کی جارہی ہیں‘ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران کمیونٹی ہالوں کلبوں میں واقع شادی ہال بھی مسمار کرنا شروع کردیئے ‘ آپریشن کے دوران وائی ایم سی اے گرائونڈ میں واقع شادی ہال ‘ مسلم جیم خانہ میں واقع شادی ہال ‘ بہادر میں واقع 2 بڑے شادی لان‘ گلشن اقبال کے علاقوں میں واقع متعدد شادی لان کو محکمہ تجاوزات کانوٹس موصو ل ہونے کے بعد شادی لان انتظامیہ نے ہال بند کردیئے‘ شادی سیزن میں کئی ماہ قبل بکنگ ہونے والی شادی کی تقریبات کی اچانک بکنگ کینسل ہونے سے شادی والی فیملیز کو شدید پریشانی کا سامناکرنا پڑ ‘ 100 سے زائد شادی کی تقریبات ملتوی ہوئیں ‘ بڑے شادی ہال بند ہونے سے ماضی کی طرح ایک بار پھر سڑکوں ‘ میدانوں میں تقریبات منعقد کی جارہی ہیں‘ شادی کے آرڈر بڑھ جانے کے باعث ڈیکوریشن کے سامان کی قلت کے باعث ڈیکوریشن والوں نے برائے ٹینٹ قناعتیں اور ڈیکوریشن کا سامان بھی شادی کی تقریبات میں لگادیا‘ جبکہ بڑے کچن والوں کے مطابق درجنوں شادی کے آرڈر کینسل ہونے سے لاکھوں روپے کانقصان ہوا ہے ‘ شادی ہالوں میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے سیکڑوں ویٹرز اور ملازمین بھی پریشان ہیں‘ جبکہ شادی کی تقریبات ملتوی ہونے سے بیوٹی پارلر کی دلہنوں کی تیاری میں بھی متا ثرہوئی ہے ‘ شہر کے بڑے بینکویٹ او رہالوں میں ایک سال کی ایڈوانس بکنگ ہوچکی ہے۔بلدیہ نے رفاہی پلاٹوں اور پارکوں پر قائم شادی ہالوں کے خلاف کارروائی شروع کردی‘ پی ای سی ایچ سوسائٹی یونین کلب میں قائم 2 ہال مسمار کردیئے‘ شادی کی بکنگ کروانے والے شہریوں کے احتجاج پر پولیس نے ہال کے منیجر کو گرفتار کرلیا‘ لانڈھی بابر مارکیٹ میں 17 دکانیں مسمار کردیں‘ اطلاعات کے مطابق محکمہ انسداد تجاوزات کے عملے نے فیروز آباد کے علاقے پی ای سی ایچ سوسائٹی میں واقع یونین کلب میں غیرقانونی طورپر قائم لان اور بینکویٹ ہال کو مسمار کردیا‘ شادی ہال مسمار ہونے پر شادی کی بکنگ کروانے والے شہری بھی وہاں پہنچ گئے‘ شہریوں کا کہناتھاکہ کے ایم سی نوٹس کے باوجود ہال کی انتظامیہ نے شادی کی بکنگ کی ہے‘ ہمیں متبادل جگہ فراہم کی جائے۔

شہریوں کے احتجاج پر پولیس نے شادی کی بکنگ کرنے والے ہال کے منیجر کو گرفتار کرکے کے ایم سی انسداد تجاوزات کے ڈائریکٹر کے مطابق رفاہی پلاٹوں اور پارکوں میں قائم شادی ہالوں کے کے ایم سی کی جانب سے نوٹس دے دیئے گئے ہیں‘ شہری ایسے مقامات پر شادی کی تقریبات کی بکنگ کروانے میں احتیاط کریں‘ قبل ازیں کے ایم سی کے عملے نے لانڈھی بابر مارکیٹ میں فٹ پاتھ پر قائم 17 چھوٹی اور بڑی دکانیں اور لانڈھی ساڑھے 3 نمبر میں بھی دکانیں مسمار کردی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شاہ فیصل کالونی میں تین نمبر سے لے کر پانچ نمبر تک پوری پٹی پر شادی لانوں کی ایک قطار بنادی گئی تھی یہ تمام کے تمام رفاعی پلاٹوں پربنائے گئے تھے ان تمام لانز کو مسمار کردیا گیا ہے ۔ فیڈرل بی ایریا میں سادات امروہہ گراونڈ میں بیک وقت چھ چھ تقریبات ہوتی تھیں ۔

مزید پڑھئیے‎ : شادیوں اورسردیوں کے دلکش پہناوے

مسلم جیم خانہ میں چھ سے سات ہال تھے انھیں بند کردیا گیا ہے ۔۔ وائی ایم سی گراونڈ جو کبھی گراونڈ کے نام سے جانا تھا اب لوگ اسے وائی ایم سی لان کے نام سے جانتے ہیں ۔ کرسچن کمیونٹی نے اس پر احتجاج کیا اور عدالت سے رجوع بھی کیا لیکن حکم امتناعی کے باعث یہاں پر لان چلتے رہے ۔۔ یہاں ایک ایک سال پہلے بکنگ کی جاتی تھی اب ان لانوں کو بھی بند کردیا گیا ہے ۔۔ کراچی میں لانوں کی بندش سے ان سے مختلف حیثتوں میں جڑے پندرہ ہزار سے زائد افراد کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ یہاں پارٹ ٹائم کام کرتے تھے ۔۔ پھر یہ کہ تقریبات کا بچا ہوا کھانا بھی ان کے کام آتا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے اور یہ تمام لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ بات صرف کیٹرنگ اور شادی ہالز کے ملازمین کی ہی نہیں ہے بلکہ شادی کی تقاریب کینسل ہونے یا مختصر ہونے کی وجہ سے رینٹ اے کار ۔۔۔ بیوٹی پارلرز کا بزنس بھی ماند پڑگیا ہے ۔۔۔ کچھ عرصہ پیشتر باراتوں کی شان سمجھے جانیوالے بینڈ باجے اب معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور پڑے پڑے زنگ کھارہے ہیں‘ بینڈ بجانے والے ماہر فنکاروں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑے ہیں بیشتر بینڈ باجے والوں نے روزگارکے لیے دیگر ذرائع اختیار کرلیے ہیں فن کی ترویج اور سرپرستی نہ ہونے کی صورت میں یہ ہنر بھی معدوم ہونے کا خدشہ ہے۔کلف لگی وردیوں اور طرح دار کلغی والی پگڑھیاں باندھے بارات کے آگے آگے دھنیں بکھیرتے بینڈ باراتوں کی سج دھج اور خوشیوں کے لمحات کو یادگار بنایا کرتے تھے تاہم ایک طرف شہری طرز زندگی میں تیزی سے تبدیلی کی وجہ سے شادی بیاہ کے رسومات پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کیا جارہا ہے لیکن بینڈ باجے کی روایت تیزی سے ختم ہورہی ہے‘ اوپر سے شادی ہالوں کی بندش نے ان کی کرم توڑ کر رکھ دی ہے ۔۔کراچی چڑیا گھر سے متصل قدیم عمارت میں 10 سے زائد بینڈ کمپنیوں کے دفاتر قائم ہیں‘ جہاں ان دنوں شادی بیاہ کا سیزن ہونے کے باوجود سناٹے کا راج ہے۔بینڈ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ عید کے فوری بعد شادی بیاہ کا سیزن شروع ہوگیا تاہم ہفتہ بھر میں اکا دکا باراتوں میں بینڈ بجانے کے آرڈر مل رہے ہیں‘ پائپ بینڈ بجانے والے عبدالغفور نے بتایا کہ بینڈ سے وابستہ فنکاروں کو بدترین بے روزگاری کا سامنا ہے ہفتہ 10 روز میں1 سے2 آرڈر ملتے ہیں۔ جس میں بینڈ کے ہر رکن کو 500 سے 700 روپے تک کی آمدن ہوتی ہے۔ مہینے میں بمشکل 10سے 15ہزار روپے کی آمدن ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے بیشتر افراد یہ پیشہ ترک کرچکے ہیں یا پھر کراچی سے پنجاب کے شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں جہاں اب بھی بینڈ باجے والوں کا روزگار لگا ہوا ہے عبدالغفور کے مطابق کراچی میں پارٹیاں زیادہ سے زیادہ 5 سے 7 ہزار روپے معاوضہ دیتی ہیں‘جس میں 8 سے 10 افراد کو پرفارم کرنا ہوگا ہے کسی بھی پارٹی کیلیے تیاریاں دن سے شروع کردی جاتی ہیں وردیاں اور باجے تیار کیے جاتے ہیں دھنوں کی ریہرسل کی جاتی ہے جس کے بعد بینڈ ماسٹر کی سربراہی میں 10 افراد کا بینڈ تیار ہوتا ہے بینڈ کی آمدورفت کے لیے سوزوکی گاڑی کو مزید 1500 روپے ادا کرنا پڑتے ہیں انہوں نے بتایا کہ کراچی میں شادیوں میں شادیانے بجانے والے بینڈز کی تعداد میں تیزی سے کمی آرہی ہے اور اب 15سے 20 بینڈ گروپ ہی کام کررہے ہیں ۔کراچی میں اب بڑے باجوں اور ٹرمپٹ وغیرہ کا رجحان کافی حد تک کم ہوچکا ہے جن علاقوں اور برادریوں میں بینڈ باجوں کی روایت باقی ہے وہ اب پائپ بینڈ کو ترجیح دیتے ہیں جس میں 6 سے 8 پائپ بجانے والے ،بیس ڈرم اور 2 چھوٹے ڈرم شامل ہوتے ہیں اس بینڈ کی سربراہی بینڈ ماسٹر کرتا ہے، کراچی میں بینڈ اور شادی بیاہ میں شادیانے بجانے کی روایت کو قیام پاکستان کے وقت بھارت کے علاقوں ڈھول پور‘ اندور اور آگرے سے آنے والے ماہر فنکاروں نے شروع کیا تاہم وقت کے ساتھ بہت سے لوگ اپنا آبائی پیشہ ترک کرچکے ہیں اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں یہ پیشہ شوقیہ اختیار کرنے والے افراد کی بڑی تعداد کراچی میں اس کام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں پولیس کے وارے نیارے ہوگئے ہیں کیونکہ اب کراچی میں اسی کی دہائی کا زمانہ واپس آرہا ہے ۔۔ لوگ تقریبات کیلئے سڑکوں پر تنبو اور گلیوں میں ٹینٹ لگارہے ہیں ۔۔

پولیس معاملات طے کرکے انھیں اس کی اجازت دے دیتی ہے ۔۔ ڈیکوریشن کے سامان والے جو سالہا سال سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے ان کے بھی موج میلے ہوگئے ہیں ۔۔ انھوں نے بھی پرانا سامان نکال لیا ہے ۔۔ کٹکے والی کرسیاں ۔۔ قناتیں ۔۔ شامیانے اور جھالر والے اسٹیج کی ڈیمانڈ پھر بڑھ گئی ہے ۔۔ اس تمام صورتحال میں جو قانونی ہالز ہیں ان میں بھی رش بڑھ گیا ہے ۔۔ کورنگی کراسنگ کے ساتھ واقع شادی ہالوں میں دوسری تیسری منزل حتی کہ چھت پر بھی ایک ساتھ کئی کئی تقاریب ہورہی ہیں ۔۔۔ناظم آباد ۔۔ نارتھ ناظم آباد اور دیگر ہالوں میں پہلی مرتبہ دوپہر کی بکنگ بھی ہورہی ہے اس طرح ان ہالوں میں ڈبل شفٹ لگ رہی ہے ۔۔۔ہال نہ ہونے کے باعث لوگ فارم ہاوسز پر بھی شادی کی تقاریب منعقد کررہے ہیں ۔۔ کچھ تقاریب تو حب کے فارم ہاوسز میں بھی کی گئی ہیں اور کئی کی بکنگ ہوچکی ہے ۔۔۔۔غیر قانونی قرار دیے جانے والے شادی ہالز کے خلاف انہدامی کاروائی کے باعث کراچی کے ہزاروں خاندان مشکل میں پڑ گئے ہیں، بے شمار شادیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔ عام طور پر شادی کی تاریخ سے تین تین ماہ پہلے ہال بک کرائے جاتے ہیں، نزدیکی تاریخ کی بکنگ ملنے کا تو سوال ہی پیدا نہیںہوتا، لہٰذا جن خاندانوں نے مسمار کیے جانے والے شادی ہالز کی بکنگ کروائی تھی، اب وہ پریشان ہیں، مگر اب پریشانی کا حل کسی کے پا س نہیں۔ سب سے زیادہ پریشانی ان خاندانوں کو پیش آئی، جن کا بک کردہ ہال یا شادی لان ٹھیک تقریب والے دن مسمار کر دیا گیا۔ اس کا مداوا کیسے ہوگا؟ کیا یہ مناسب نہیں تھا کہ غیر قانونی یا بے ضابطہ قرار دیے جانے والے شادی ہالز/ لانز کو کم از کم تین ماہ قبل نوٹس جاری کیے جاتے اور انہیں پابند کیا جاتا کہ مقررہ تاریخ کے بعد وہ بکنگ نہیں کرینگے۔ پھر ایسے ہالز کی فہرست اخبارات میں شائع کی جاتی اور عوام کو مطلع کیا جاتا کہ مقررہ میعاد گزرجانے کے بعد کی تاریخوں میں ان غیر قانونی شادی ہالز میں بکنگ نہ کروائی جائے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا، تو پھر یہ سمجھ لیا جائے کہ صرف کراچی ہی نہیں، دوسرے شہروں کے عوام کے لیے دانستہ طور پر مشکلات پیدا کی گئی ہیں کہ دوسرے شہروں میں بھی باراتیں کراچی آتی ہیں۔ان شادی ہالز سے ہزاروں افراد کا روزگار بھی وابستہ تھا۔ شادی ہالز کے ملازمین کے علاوہ ڈیکوریشن ، کھانا پکانے والے اور سامان لانے لے جانے والے مزدوروں سمیت درجنوں افراد کا روزگار صرف ایک شادہ ہال سے جڑا ہوتا ہے، لہٰذا درجنوں شادی ہالز بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سینکڑوں خاندانوں کو بے روزگاری اور فاقہ کشی کا عذاب جھیلنا پڑے گا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ سرکاری زمینوں اوررفاعی پلاٹس پر قبضے کے خلاف مہم صرف کراچی کے شادی ہالز اور ریستورانوں تک محدود کیوں رکھی گئی ہے، اس کا دائرہ کا ربلا امتیاز پورے سندھ تک بڑھانے سے کیوں پس و پیش کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ سرکاری زمینوں، پارکس اور کھیل کے میدانوں پر قبضوں کی روایت صرف کراچی میں ہی پائی جاتی ہے اور سندھ کے دوسرے علاقے اس لعنت سے محفوظ ہیں۔ اخبارات میں غیر قانونی شادی ہالز کے خلاف مہم کی خبریں دیکھ کر محسوس ہو رہا ہے، گویا کراچی کا اصل اور بنیادی مسئلہ یہی ہے، یہ اگر حل ہو گیا، تو کراچی میںکوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ سندھ کی سرکاری زمینیں بڑی بے دردی سے اپنے منظور نظر افراد کو غیر قانونی طور پر الاٹ کی جا رہی ہیں۔

(242 بار دیکھا گیا)

تبصرے