Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 19 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارت میں دلہن برائے فروخت

ویب ڈیسک اتوار 06 جنوری 2019
بھارت میں دلہن برائے فروخت

مکلیشا کی عمر محض 12 برس تھی جب وہ پہلی بار فروخت ہوئی ۔ اس کا خریدار 70 برس سے زائد عمر کا شخص تھا۔ فوراً شادی ہوئی اور پھر ایک بچہ بھی ہوگیا۔ اس نے ایک بار فرار ہونے کی کوشش کی تاہم شوہر نے اسے پکڑ لیا کہنے لگا کہ مت بھاگو میں تمہیں اچھی زندگی دوں گا ۔ چنانچہ وہ اس کے ساتھ رہنے لگی ۔

تاہم تین برس بعد ’’شوہر ‘‘ مرگیا ،یوں مکلیشا ایک بار پھر برائے فروخت ہوگئی پچھلے خریدار کے ساتھ گزار ہ ہوگیا تھا لیکن اس بار خریدار خوفناک اور ظالم شخص تھا ۔ مکلیشا اس کا یوں تذکرہ کرتی ہیں ۔ ’’ وہ مجھے بھوکا رکھتا ا پنے ساتھ کھیتوں میں لے جاتا ،میرے منہ میں مٹی بھر دیتا اور پھر میری پٹائی کرتا ‘‘۔ مکلیشا بھارت کی ہزاروںفروخت ہونے والی دلہنوں ،لڑکیوں اور خواتین میں سے ایک ہے جن میں سے بہت سوں کو مکلیشا جیسی ہی زندگی گزارنی پڑتی ہے ۔

’’چمکتے دمکتے‘‘ بھارت میں بیٹا حاصل کرنے کیلئے اسقاط حمل کے ذریعے لڑکیوں کا قتل عام اس قدر بڑے پیمانے پر ہورہا ہے کہ بھارتی معاشرہ دنیا کے سب سے زیادہ غیر متوازن معاشروں میں شامل ہوگیا ہے جہاں لڑکیاں کم اور لڑکے زیادہ ہوچکے ہیں اب بھارت میں شادی کیلئے لڑکوں کو ،لڑکیاں ہی نہیں ملتیں ،یہ ایک سنگین معاشرتی مسئلہ بن گیا ہے ۔

بالخصوص ہریانہ کی ریاست جہاں مردوں کی نسبت عورتوں کی تعداد غیر معمولی طورپر کم ہوچکی ہے ۔ اس صورتحال نے انسانی اسمگلنگ کے کاروبار کو خوب چمکایا۔ اسمگلرز دوسری ریاستوںسے لڑکیوں کو اغواء کرتے اور ہریانہ جیسی ریاستوں میں بیچ دیتے ہیں ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق بھارت کی اس شمالی ریاست کے 10 ہزار گھرانوں میں موجود 9 ہزار شادی شدہ خواتین کا تعلق دوسری ریاستوں سے ہے بہت سے گائوںایسے ہیں جہاں نو دس خواتین ایسی ہیں جو انسانی اسمگلروں کے ذریعے یہا ں آئی ہیں ۔ معروف عرب ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہریانہ کے بعض دیہاتوں میں بعض خواتین ایسی ہیں جو تین بار سے زائد مرتبہ فروخت ہوئیں ۔ دیہاتی انہیں ’’پارو ‘‘ کہہ کے پکارتے ہیں جس کا مطلب ہے ’’فروخت شدہ‘‘ ریاست ہریانہ میں ایک ہزار مردوں کی نسبت عورتوں کی تعداد871 ہے ۔ باقی ملک میں خواتین کی مجموعی شرح 940 کی ہے۔ نتیجتاً یہاں کے مرد مغربی بنگال ،بہار حتیٰ کہ کیرالہ جیسی دور دراز کی ریاستوں سے لڑکیاں ’’بیاہ ‘‘ کرلاتے ہیں ۔ بھارت میں ایسے مردوں کی تعدادتیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ جن کی عمریں 40 برس سے تجاوز کرچکی ہے لیکن ان کی شادی نہیں ہورہی ہے ۔ بھارت میں گزشتہ عام انتخابات کے دوران ریاست ہریانہ کے ایک گائوں ’’بی بی پور‘‘ میں کنوارے مردوں نے باقاعدہ ’’کنوارہ یونین ‘‘بنائی اورانتخابی امیدواروں سے مطالبہ کیا کہ ان کی شادی کرادیں ،وہ انہیں ووٹ دیں گے ۔
آئیے،اب ’’سنجیدہ ‘‘ نامی لڑکی کے بارے میں جانتے ہیں جس کی عمر 10 برس تھی ۔ جب وہ اسمگل ہوکے ہریانہ آئی ۔ اس نے بتایا کہ وہ شمال مشرقی ریاست ‘آسام کے ایک گائوں کی باسی تھی ،گائوں ہی کی ایک لڑکی نے اسے نشہ آور چیز کھلاکے اغواء کیا اور آگے بیچ دیا ۔ پھر وہ ایسی جگہ پہنچی جہاں اس سے کھیتوں میں کام مویشیوں کی خدمت ،غرض کہ ہر قسم کا کام کرایا جاتا تھا ۔ وہ کہتی ہے ’’میں چار بر س تک وہاں قید رہی اس کے بعد مجھے ’’شادی ‘‘ کے نام پر فروخت کردیا گیا ۔ میں بھاگ سکتی تھی نہ ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کرسکتی تھی ۔ وہا ں کوئی ایسا فرد نہیں تھا ۔ جسے مددکیلئے پکار سکتی‘‘۔
جب سنجیدہ کے والد بیٹی کو تلاش کرنے میں کامیا ب ہوئے تو وہ تین ماہ کی حاملہ تھی۔ اس کے مطابق ’’میں سورہی تھی کہ مجھے اپنے باپ کی آواز سنائی دی ،اس نے کہا کہ وہ اسے گھر لے جانے کیلئے آیا ہے تاہم میں نے جانے سے انکار کردیا وہ دو ماہ تک یہاں رہا اور دیکھتا رہا کہ یہ لوگ میرے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں ‘‘۔ سنجیدہ کی شادی جس فرد سے ہوئی ،وہ اپنی شادی سے مایوس ہوچکا تھا ۔ تاہم یہ لڑکی دیگر خواتین کی نسبت ’’خوش قسمت‘‘ نکلی کہ اس کی شادی کی گئی اوراسے ایسا شوہر ملا جو اس کے ساتھ برا سلوک نہیں کرتا تھا ۔ 14 سالہ ازدواجی زندگی کے بعد اب ان کے گھر میں چار بچے ہیں ،دو بیٹے اور دوبیٹیاںسنجیدہ اب ایک ایسی غیر سرکاری تنظیم کیلئے کام کرتی ہے جو ایسے ہی ظلم کی شکار خواتین کی مدد کرتی ہے ۔ وہ کہتی ہے ’’ہریانہ میں سارے لو گ خواتین کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ،ہر کوئی سمجھتا ہے کہ عورتوںکی عزت نفس نہیں ہوتی ،ہمیں گائے اور بکریوں کی طرح فروخت کیا جاتا ہے ۔ بحیثیت انسان ہمیں یہ سلوک بہت برا لگتا ہے ۔ ہم بھی بھارت کی شہری ہیں اور ان ہی کے جیسے انسان ہیں‘‘۔
مزید پڑھئیے‎ : بھارت میں گائے نے ایک اور مسلمان کی جان لے لی

سنجیدہ ا ب مکلیشا کی مدد کررہی ہے جسے ’’شوہر‘‘ کے ہاں سے بازیاب کرایا گیا ۔جو اس پر مسلسل تشدد کرتا رہتا تھا۔ اب وہ 18 ماہ کی بیٹی کے ساتھ ایک سیف ہائوس میں رہتی ہے تاہم مکلیشا اس قدرخوفزدہ ہے کہ وہ کسی کو اپنی کہانی نہیں سناتی اور نہ ہی یہ بتانے کی ہمت رکھتی ہے کہ اس کا تعلق کس علاقے سے ہے ۔ تشدد کے نتیجے میں اس کا چہرہ بری طرح خراب ہوچکا ہے اور اس کی ذہنی صحت بھی ٹھیک نہیں ہے ،بعض اوقات اچانک رونے لگ جاتی ہے ۔
ایسی دلہنیں جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں ، اب اپنے ’’شوہروں‘‘ کے خلاف ایسی قانونی جنگ لڑ رہی ہیں جس میں جیت ناممکن ہے مثلاً مکلیشا کو عدالت میں اس فرد کے سامنے لایا گیا۔ جس نے اسے اسمگل کیا تھا وہ شحض طاقتور ہے اس کے کمیونٹی میں مضبوط تعلقات ہیں دیگر بااثر لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں بھلا یہ خاتون کیسے اس کیخلاف اپنے بیان پر قائم رہ سکتی ہے ۔
دنیا کی چوتھی بڑی معاشی قوت بھارت میں خواتین کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں بالخصوص جب وراثت کا معاملہ ہو۔ اگر کوئی خاتون وراثت کا حق لینے کی کوشش کرتی ہے تو خاندان والے اسے اپنا فرد ماننے سے انکار کردیتے ہیں بھارت ایسا ملک ہے جہاں لڑکیوں کو پیدا ہونے سے پہلے برداشت کیا جاتاہے ۔ نہ پیدائش کے بعد اگر ہریانہ جیسی ریاستوں میں لڑکے دوسری ریاستوں سے لڑکیاں بیاہ کر لائیں تو اس میں کوئی حر ج نہیں لیکن انہیں ’’چیزیں ‘‘ سمجھا جاتا ہے ۔ جوری سائیکل کی جاتی ہیں اور جنہیں بارباربیچ دیا جاتا ہے ۔
’’برٹش میڈیکل جرنل‘‘کے مطابق گزشتہ تین عشروں کے دوران بھارت میں ایک کروڑ 20 لاکھ بچیوں کو شکم مادر ہی میں ہلاک کردیا گیا ۔ سن 2014 میں اقوام متحدہ کے مطابق بھارتی لڑکیوں کی شرح کی کمی شرح خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے جس کا ایک نتیجہ خواتین کے خلاف جرائم کی شرح بڑھنے کی صورت میں برآمد ہوا ہے ۔ ’’درآمد شدہ دلہنوں ‘‘ ( پارو) کے ساتھ گھریلو غلاموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔

عورتوں اور بچوں کی بیہودگی وفاقی وزیر مانیکا گاندھی کے بقول ’’ بھارت میں ہر روز 2000 لڑکیاں مستحکم مادر میں قتل کردی جاتی ہیں‘‘ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ تعداد 7000 ہے ۔ مانیکا گاندھی کہتی ہیں’’یہاں کے لوگ بچوں کی تعدا دکے بجائے ان کی جنس کے بارے میں سوچتے ہیں‘‘۔ بھارت میں یہ رسم بہت پرانی ہے ۔ ہریانہ کے علاوہ جھار کھنڈاور پنجاب میں بھی یہ رسم جاری ہے ۔ اب بعض خواتین شکم مادر میں بچیوں کے قتل کے خلاف عدالتوں کا رخ کررہی ہیں ، وہ ایسی مثال قائم کرنا چاہتی ہیں کہ اب کوئی ایسا جرم کرنے کا سوچ بھی نہ سکے ۔
لڑکیاں فروخت کرنے والے انسانی اسمگلر ز کھلے عام اپنے اس ’’دھندے ‘‘ کا اعتراف کرتے ہیں ۔ یہ گندا دھندہ کرنے والے ایک فرد نے اخبار نویس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے بہت سے مردوں کو بیویاں ڈھونڈکے دی ہیں یہ تو ایک اچھا کام ہے‘‘۔ اخبار نویس ایک ایسے اسمگلر سے ملا جو تقریباً 600 لڑکیاں فروخت کرچکا ہے وہ بعض لڑکیوں کو دو سے تین بار فروخت کرچکا ہے زیادہ تر انسانی اسمگلرز شادی دفتروں کی آڑ میں یہ گھنائونا کاروبار کرتے ہیں ۔ وہ نہایت غریب دیہاتوں میں جاتے ہیں ۔ انہیں جھار کھنڈ چھتیں گڑھ ، بہار،اڑیسہ ،آسام اور مغربی بنگال کے دیہاتوں میں لڑکیاں بآسانی مل جاتی ہیں ۔ یاد رہے کہ دلہن ’’بیوپاریوں ‘‘(انسانی اسمگلروں) سے خریدی جائے تو چار ہزار سے 30 ہزار روپے (بھارتی) تک میں مل جاتی ہے لیکن لڑکی کے والدین سے معاملہ کیا جائے تو پانچ سے ایک ہزار روپے دے کر بھی بیٹی خریدی جاسکتی ہے ۔

ان بیٹیوں میں ایک غوثیہ خان بھی ہے جو 14 برس کی تھی جب حیدرآباد سے اسمگل ہو کر ہریانہ کے ایک مرد کے ہاں پہنچا دی گئی ۔ ایک لڑکی روشنی کے والدین نے اسے 13 برس کی عمر میں ایک ’’میرج بیورو والے ‘‘ کے حوالے کردیا تھا۔ وہ جس مرد کو فروخت کی گئی ۔ وہ مر گیا ،چنانچہ اسے گھر سے نکال باہر کیا گیا ،اب وہ نوبچوں کے ساتھ زندگی کے دن گزار رہی ہے ۔ایک 16 سالہ لڑکی مجید ہ دکان سے نوٹ بک لینے گئی تھی ۔ لیکن پھر واپس نہ آئی ۔ اس کے والدین نے بہت تلاش بسیار کی ، لوگوں سے پوچھ تاچھ کی لیکن کسی نے بھی کوئی خبر نہ دی ۔ پھر چند ماہ بعد اسے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی ہریانہ میں ہے ۔ اس کی ماں تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے گئی ،تھانے والوں نے اس سے پونے پانچ لاکھ روپے رشوت مانگی ۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اسے آٹھ ہزار روپے کے عوض فروخت کیا گیا ۔ دوسری نے بتایا کہ جب وہ ایک معصوم لڑکی تھی تو اس کا ’’شوہر‘‘ اسے چھ ہزار روپوںمیں خرید لایا۔ تیسری نے بتایا کہ جب ا س کا شوہر ‘‘مرگیا تو اس کی پہلی بیوی کے بچے پر تشدد کرنے لگے اور اسے گھر سے نکل جانے کو کہہ دیا ۔ ایک خاتون نے بتایا کہ وہ چودہ برس کی عمر میں فروخت کی گئی ۔ اس کا شوہر بوڑھا اور گونگا ہے کوئی کام کاج نہیں کرتا۔ گھر میں پڑا رہتا ہے ۔ یا د رہے کہ بھارت میں ایک میلہ بھی لگتا ہے جہاں عورتوں کی خریدوفروخت ہوتی ہے ۔

پوری دنیا میں 35 ملین افراد ایسی جگہوں پر زندگی گزاررہے ہیں جوان کا انتخاب نہیں تھیں دور جدید کے غلاموں میں 14 ملین افراد صرف بھارت میں ظلم وجبر کا شکار ہیں ۔ نوے فیصد انسانی اسمگلنگ بھارت کے اندر ہی ہوتی ہے ۔ اچھی ملازمت کے بہانے پر لایا جاتا ہے اور پھر فروخت کردیا جاتا ہے ۔ بعض لڑکیوں کو گھروں میں کام کرنے کیلئے رکھ لیا جاتا ہے ۔ بعض کی کسی سے زبردستی شادی کردی جاتی ہے ۔ بعض کوکان کنی یاپھرکھیتوں میں مزدوری پر لگا دیا جاتاہے ۔ ایک بڑی تعداد کو چکلوں میں قید کردیا جاتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں 30 لاکھ سے زائد جسم فروش عورتیں ہیں جن میں سے اکثریت کم عمر لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ کلکتہ دنیا کا سب سے بدنام شہر ہے جہاں لڑکیوں اور عورتوں کو زبردستی چکلوں پر بٹھایا جاتاہے ۔ یہ بیچاری اپنے جسموں کی مالک ہوتی ہیں نہ اپنے مستقبل کی اگر ان میں سے کوئی حاملہ ہوجائے تو ان کے بچے بھی اسی غلیظ دنیا کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بھارت سے نیپال ،بنگلہ دیش ،تھائی لینڈ ،ملائیشیا ،قزاقستان ،از بکستان ،یوکرائن اور مشرق وسطی کے ممالک میں لڑکیاں سپلائی کی جاتی ہیں۔
یہ ہے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت جس کی ہر ریاست انسانیت سوزی کی ایک الگ ہی کہانی بیان کرتی ہے ۔

(329 بار دیکھا گیا)

تبصرے