Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 21 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News | Best Urdu Website in World

پولیس والا… تر نوالہ

ویب ڈیسک جمعه 04 جنوری 2019
پولیس والا… تر نوالہ

سال 2018 ء میں پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں کمی تو آئی ‘ پولیس اہلکا بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ پہن کر ڈیوٹی کر رہے ہیں‘ دہشت گردپولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کرتے رہے ‘ پورے سال میں 16 پولیس اہلکاروں ‘4 رینجرز کے جوانوں ‘ 2 ٹریفک پولیس کے اہلکاروںاور ایف آئی اے کے اہلکارکو دہشت گردوںنے ٹارگٹ کیا‘ پولیس اہلکار دہشت گردوں کے علاوہ منشیات فروشوں اور ڈاکوئوں کی گولی کانشانہ بھی بنتے رہے‘ ان واقعات میں 7 پولیس اہلکار شہید ،رواں سال پولیس اہلکاروں کی کلنگ کا آخری واقعہ سولجر بازار کے علاقے تھارو لائن میں ہوا‘ جہاں کانسٹیبل سہیل خا ن فائرنگ سے جاں بحق اور کانسٹیبل فرہاد زخمی ہوا‘ ابتداء میں پولیس نے اس واقعہ کو ڈکیتی کا واقعہ بتایا‘ کانسٹیبل سہیل خان بریگیڈ پولیس لائن کا رہائشی اور اسسٹنٹ کمشنر کا گن مین تھا‘ جبکہ فرہاد پاک کالونی تھانے میں متعین تھا‘ جبکہ ان کے ساتھ تیسرا پولیس اہلکار ارشادملنگی بھی موجود تھا‘ جس کو خراش تک نہیں آئی تھی‘ زخمی کانسٹیبل فرہاد نے ابتداء میں پولیس کو بتایا کہ سہیل خان اس کا دوست ہے ‘ وہ تھانے اس سے ملنے آ یا تھا‘ ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد اس کے ہمراہ جارہا تھا کہ نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کردی‘ فائرنگ کے واقعہ کے بعد جب پولیس موقع پرپہنچی تو کانسٹیبل سہیل شاہ شدید زخمی تھا‘ جبکہ زخمی اہلکار فرہاد اور ارشاد ملنگی مشکوک حالت میں کھڑے پائے گئے‘ زخمی سہیل شاہ نے حملہ کرنے والے ملزمان کے نام بتائے‘ زخمی اہلکارسہیل شاہ بعد میں دوران علاج چل بسا‘ پولیس کو جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم کی گولیوں کے 4 خول ملے ہیں‘ جنہیں فارنزک لیب بھجوادیاگیاہے‘ سولجر بازار پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے میں تینوں پولیس اہلکاروں کے پاس اسلحہ موجود تھااور فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار سہیل شاہ کے جسم پر 6 گولیاں اور زخمی فرہاد کو بازو پر ایک گولی لگنا اور تیسرے پولیس اہلکار کو ایک خراش تک نہ آنا شبہات پید ا کررہا ہے‘جس پر پولیس نے زخمی اہلکار فرہاد اور ارشاد ملنگی کو باضابطہ گرفتار کرکے شامل تفتیش کرلیا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ سہیل شاہ 2 پیٹی بھائیوں کے ہمراہ منشیات فروش نادر عرف چھپرا کے اڈے پر بھتہ لینے گیا تھا‘ جہاں رقم کے معاملے پر تنازع ہوگیااور تلخ کلامی کے بعد اسد لاسی اور فیصل نے فائرنگ کردی‘ جس میں سہیل شاہ اور فرہاد زخمی ہوگئے‘ جبکہ ارشاد بھاگ نکلا تھا‘ پولیس کے مطابق سہیل نے نزاعی بیان میں فائرنگ کرنے والوں کے نام بتائے تھے۔ فرہاد نے بیان میں بتایا کہ تینوں اہلکار منشیات فروشوں کے ساتھ گئے تھے‘ جبکہ ارشاد کا کہنا تھا کہ سہیل شاہ نے انہیں فون کرکے موقع پر بلایاتھا‘ پولیس کے مطابق تینوں اہلکار منشیات کے اڈے سے بھتہ لینے آئے تھے‘ مذکورہ ڈاکو سولجر بازار کی حدود میں پولیس والوں کا جانا منع تھا‘اگر موبائل آئی تو اڈے والے زاہد کو فون کرنے سے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ پولیس افسر نے سولجر بازار تھانے پر چھاپے مار کر تھانیدار کے پرائیویٹ بیٹرز کو حراست میں لے لیا‘ بیٹر مذکورہ اڈے سے 30 ہزارروپے ہفتہ رشوت وصول کرتاتھا‘ منشیات کا اڈہ فیصل نامی شخص گینگ وار کے کارندے جمیل چھانگا کی سرپرستی میں چلا رہاتھا‘ بیٹر زاہد کی رہائش بھی فائرنگ کے وقوعہ کی جگہ کے بہت قریب ہی واقع ہے ۔ سولجر بازار پولیس نے فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ 365/2018 سولجر بازارتھانے میں درج کرلیا‘ مقدمہ قتل ‘ اقدام قتل اور لوٹ مار کی دفعات کے تحت سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا‘ مقدمے میں 6 ملزمان جن میں نادر چھپرا عرف ارباب‘ فیصل عرف بھائی ‘ شاہ نواز بلوچ ‘ اسد عرف ناچا‘ ابو الحق عرف ابوادر فرحان میمن کو نامزد کیاگیاہے‘ ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان مقتول اور زخمی اہلکار کا نائن ایم ایم اور30 بور پستول بھی چھین کر لے گئے۔جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے 2 پولیس اہلکاروں فرہاد اور ارشاد کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیاہے‘ تفتیشی افسر نے موقف اختیار کیاہے کہ گارڈن ایسٹ لیاری ایکسپریس وے کے قریب پولیس کانسٹیبل سہیل شاہ زخمی حالت میں پایاگیا‘ جس نے بتایا کہ اس پر ملزمان نادر چھپرا عرف ارباب‘ فیصل عرف بھائی‘ شاہ نواز بلوچ‘ اسد عرف ناچا‘ ابوالحق عرف ابو اور فرحان میمن نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔ علاقے میں بڑے پیمانے پر منشیات کے اڈے کا انکشاف ہوا تو کراچی پولیس چیف نے ایس ایچ او سولجر بازار رافع تنولی کو معطل کردیا۔سال کے آخر میں پولیس اہلکار کی ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ بھتے کے تنازع پر ہوا‘ اس سے قبل 3 دسمبر 2018 ء کلفٹن میں چائنیز قونصلیٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیاتو بہادر پولیس اہلکاروں ASIمحمد اشرف اور کانسٹیبل عامر نے اپنی جان قربان کرکے حملے کو ناکام بنایا‘ دونوں اہلکاروں کی بہادری پر جتنی حکومت نے بھی تعریف کی‘ شہید اہلکار محکمے کے لیے قابل فخر رہے‘ 8 اکتوبر کو دہشت گردوں نے نیو کراچی تھانے کے کانسٹیبل سید احمد عباس رضوی کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا‘ شہید اہلکار روںنے والد کے ہمراہ بینک سے رقم لے کر آرہا تھا کہ دہشت گردوں نے گھر کے باہر ٹارگٹ بنایا‘ جبکہ 8 اکتوبر کوبھی دہشت گردوں نے گلزار ہجری ٹریفک سیکشن کے سب انسپکٹر رفیق پنہور کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا‘ مقتول نوشہروفیروز کا رہائشی تھا‘ ملزمان نے 18 اگست کو کریم آباد پل کے قریب شریف آباد تھانے کے کانسٹیبل حسن اختر ‘ ہیڈ کانسٹیبل عمران کو فائرنگ کرکے شہید کیا‘ مقتول نے موت سے قبل نو منتخب وزیر اعظم عمران خان کے لیے ویڈیو پیغام بھی جاری کیا۔ پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں میں کمی کیلئے پولیس میں پورے سال بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کی کوششیں کی جاتی رہیں،تفصیلات کے مطابق سال 2018ء میں بھی پولیس کو پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔رواں سال کے ابتدائی 10ماہ کے دوران مختلف علاقوں میں فائرنگ سے 9پولیس اہلکارجاں بحق ہوئے‘ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے زیادہ تر پولیس اہلکاروں کو دوران ڈیوٹی یا ڈیوٹی کے بعد گھر آتے یا جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔رواں سال پولیس اہلکار دہشت گردوں سے مقابلوں کے دوران بھی لقمہ اجل بنے۔اسی لئے اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے بار بار پولیس اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس اور ڈیوٹی کے دوران اختیار کئے جانے والے دیگر ضابطہ اخلاق پرپابندی پر زور دیا گیا،رواں سال پولیس کے جارحانہ رویہ کے باعث جہاں امن و امان کے قیام میں مدد ملی وہیں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں بھی واضح کمی ہوئی۔سال 2017ء میں 21پولیس اہلکار پرتشدد واقعات کے دوران جاں بحق ہوئے تھے۔

(78 بار دیکھا گیا)

تبصرے