Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سندھ میں ’’تبدیلی‘‘ کے غبارے سے ہوا نکل گئی

ویب ڈیسک جمعرات 03 جنوری 2019
سندھ میں ’’تبدیلی‘‘ کے غبارے سے ہوا نکل گئی

2018 ء کے آخری2 مہینوں میں وزراء کے گرما گرم بیانات اور حکومتی اقدامات کے باعث پاکستانی سیاست کا ماحول کافی گرم رہا‘ جس کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹٰ حکومت گرانے کیلئے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو سہارا بنا کر جلد بازی میں کافی اقدامات کئے گئے‘ سندھ میں سیاست کا مرکز کراچی او ر نوڈیرو کے بجائے گھوٹکی بن گیا‘ گورنر سندھ عمران اسماعیل اورپاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے مہروں کے ہاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں‘ لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانے پر نوٹس لئے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سندھ میں تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے‘ 2 روز قبل دھیمے لہجے میں بات کرنے والے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اب گرج رہے ہیں ‘ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی وزیر اعلیٰ تبدیل نہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ایک ہفتے میں گرانے کی دھمکی دے دی ہے‘ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے خلاف ماضی میں بھی جھوٹے مقدمات بنائے گئے‘ جھوٹے ریفرنس دائر کئے گئے‘ تحریک انصاف کا وزیر آج بھی رات2 ’2 بجے تک ایف آئی اے کے دفاتر میں بیٹھے رہتے ہیں‘ آج بھی ماضی کی طرح ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے‘ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ہی رہیں گے‘ آصف علی زرداری نے اجازت دی تو ناصرف وفاق میں تبدیلی آئے گی‘ حکومت اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے مسائل کھڑے کررہی ہے ‘ جو فیڈریشن کے لیے نقصان دہ ہوں گے‘ بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو دہشت گردی‘ غربت اور بے روز گاری ‘ توانائی کے بحران سمیت معاشی مسائل سے نمٹنے کا مشورہ دیا ہے‘ پیپلزپارٹی نے اپنی مشکلات کے حل کے لیے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملانے کے بجائے ن لیگ سے روابطے بڑھا لئے ہیں۔ پی پی پی پنجاب کے صدرقمر زمان کائرہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس رپورٹ میں کچھ نیا نہیں ہے اور ان کی پارٹی پہلے سے ہی اس رپورٹ کے مواد کے بارے میں سن رہی تھی‘ عدالت نے حکم دیاتھا کہ فیصلہ آنے تک رپورٹنگ نہیں ہوگی‘ لیکن رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہمارے بارے میں ایسا تاثر بنایا جارہا ہے کہ جیسے ہم گناہ گار ہیں‘ انہوںنے کہا کہ ماضی میں بھی ان کی جماعت اس قسم کے سلسلے سے گزر چکی ہے‘ پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری سمیت پاکستان تحریک انصاف کے دیگر وزراء کی بیان بازی غیر ذمہ دار انہ ہے‘ انہوںنے کہا کہ جے آئی ٹی نے ایک بار بھی سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو طلب نہیں کیا‘ انہیں سنے بغیر ان پر الزام لگادیاگیا اور پھر وفاقی حکومت نے ان کانا م ای سی ایل میں ڈال دیا‘ ناز بلوچ نے کہا کہ وفاق کا کام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے‘ لیکن یہاں صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی جارہی ہے‘ ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی دیگر حکومتوں کو قبول نہیں کرپارہی ‘ یہ غیر جمہوری سوچ کے ساتھ حکومت چلانا چاہتے ہیں‘ فواد چوہدری کے اس بیان پر کہ پیپلزپارٹی کے کئی رہنما ان سے رابطے میں ہیں‘ ناز بلوچ نے کہا کہ یہ تمام قیاس آرائیاں جھوٹ ہیں‘ جبکہ پیپلزپارٹی کے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز پارٹی قیادت کے ساتھ مضبوط رابطے میں ہیں ‘ البتہ خود پی ٹی آئی کے اراکین ہم سے رابطے میں ضرورہیں‘ خیال رہے کہ سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی 99 نشستوں کے ساتھ اکثریتی جماعت ہے ‘ جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے پاس کل 64 نشستیں ہیں‘ تجزیہ کار نمبر گیم میں پاکستان تحریک انصاف کو خاصہ کمزور قرار دیتے ہیں‘ لیکن گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سندھ میں سیاسی منظر نامے پر تشویش میں اضافہ ضرور دیکھا جارہا ہے‘ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما وفاق میں پی ٹی آئی حکومت سمجھتے ہیں‘ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی اتحادیوں سمیت 183 نشستیں ہیں‘ جبکہ حزب اختلاف کے پاس 159 نشستوں کی طاقت ہے‘ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ترجمان عامر فدا پراچہ نے سابق صدر کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے پر اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ کسی بھی عدالتی فیصلے سے قبل آصف علی زرداری کا نام ای سی ایل میں نام ڈالنا کھلی بدمعاشی ہے‘ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں 25 جولائی 2018 ء کوہونے والے عام انتخابات سے لے کر اب تک آصف علی زرداری ملک میں ہیںاور ای سی ایل یں ان کانام ڈالنا ڈرامہ ہے‘ عامر فدا پراچہ کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری ملک سے باہر نہیں جارہے ہیںاور وہ مقدمات کا سامنا کریںگے‘ انہوںنے سوال کیاکہ بیرون ملک سے مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے وطن آنے والے کا نام ای سی ایل میں ڈالنا کہاں کا انصاف ہے ؟ آصف علی زرداری کے ترجمان نے مزید کہا کہ عمران خان اپنی حکومت کے خلاف اٹھنے والی عوام کی ہر آواز کو کچل رہے ہیں‘ فدا پراچہ نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں نہیں ‘ تاہم آصف علی زرداری کا نام ای سی ایل میں ڈال دیاگیاہے‘ انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی انتقام کو کرپشن کے خاتمے کی کارروائی قرار دے رہی ہے‘ ترجمان کے مطابق ڈیکلیئرڈ کمپنیوں اور رقوم پر ہمارے خلاف جے آئی ٹی بنا دی گئی‘ انہوںنے حکومت سے سوال کیا کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان پر جے آئی ٹی کب بنے گی؟ عامر فدا پراچہ نے کہا کہ آصف علی زرداری نے اس وقت بھی عدالتوں کا سامنا کیا ‘ جب وہ ملک کے صدر تھے‘ عمران خان آصف علی زرداری کو 11 برس جیل میں رکھنے والے نواز شریف کے انجام سے سبق سیکھیں۔
2018 ء کے ماہ دسمبر میں منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی نے رپورٹ پیش کی ‘ جس میں سابق صدر آصف علی زرداری ‘ بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت 172 افراد پر الزام لگایا گیا اور حکومت نے جے آئی ٹی رپورٹ کے تناظر میں منی لانڈرنگ کیس کے 172 افراد کے نام ای سی ایل میںڈال دیئے ‘ جس میں ملکی سیاسی صورتحال نے ایک نیارخ اختیار کرلیا‘ پیپلزپارٹی کے قائدین کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانے پرپیپلزپارٹی کے رہنمائوں نے حکومت کے خلاف سیاسی بیان بازی کا محاذ شروع کردیا اور ایک دن میں کئی کئی رہنمائوں نے حکومت پر بیان بازی کی صورت میں گولہ باری شروع کردی‘ لیکن حکومت نے ان کے نام ای سی ایل سے نکالنے سے انکار کردیا اور حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سندھ میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی تبدیلی کے لیے ہوم ورک شروع کردیااور ابتدائی طورپر وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری کو سندھ کا دورہ کرنے اور اپوزیشن سے ملاقاتوں کا ٹاسک سونپا گیااور بار ہا مرتبہ حکومتی صفوں سے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو فوری عہدہ چھوڑنے کے بیانات دیئے گئے ہیں‘ایسی صورتحال میں مسلم لیگ(ن) نے محتاط رویہ اپنا رکھاہے اور وہ کھل پر پیپلز پارٹی کا اس معاملے پر ساتھ نہیں دے رہی اس کے باوجود پیپلزپارٹی نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے لابنگ شروع کردی ہے اور امکان ہے کہ 10 جنوری کو قومی اسمبلی کے متوقع اجلاس کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اس ضمن میں ملاقاتیں کرکے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف لائحہ عمل طے کرنے کے ساتھ ساتھ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے پر بھی کوششیں کریں گے‘ مسلم لیگ(ن) ایسی صورتحال میں حکومت کے خلاف کوئی منفی اقدام اٹھانے سے گریزاں ہے ‘ جس سے تحریک انصاف کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا امکان ہو‘ اس لیے وہ فی الوقت اپنی پالیسی سامنے نہیں لارہے‘ پیر کو سپریم کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے جے آئی ٹی کے خط پر 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کو نظر ثانی کاحکم دیا اور کہا کہ ای سی ایل میں کسی کانام ڈالنا بھی اس کے لیے ایک دھبہ ہے اور ایک وزیر اعلیٰ پر بغیر دیکھے یہ داغ لگایا گیا جے آئی ٹی رپورٹ پر سندھ حکومت گرانے کی اجازت نہیں دے سکتے ‘ عدالت میں موجود وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ مسٹر وزیر داخلہ اپنے بڑوں کو بتادیں کہ ملک ان کی مرضی سے نہیں صرف آئین کے تحت چلے گا‘ گورنر راج یا کوئی بھی غیر آئینی اقدام ایک سیکنڈ میں ختم کردیں گے‘ جے آئی ٹی رپورٹ آسمانی صحیفہ نہیں ‘ بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسن چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی تحریری ہدایات موصول ہونے کے بعد اس ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر نظر ثانی کردی جائے گی اور جے آئی ٹی نے اپنی سفارشات میں قراردیاتھاکہ کم از کم سولہ الگ الگ ریفرنس دائر کیے جائیں ‘ تاہم ای سی ایل لسٹ پر نظر ثانی کے بعد سپریم کورٹ سولہ ریفرنس کا کہے گی توسولہ ریفرنس دائر کئے جائیں گے اور اگر سپریم کورٹ کی ڈائریکشن ہوئی کہ ایک ریفرنس دائر کیا جائے تو ایک ہی دائر کردیا جائے گا‘ اس میں حکومت کی کوئی اپنی منشاء نہیں ‘ ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام اور خصوصاً سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ سندھ پر دبائوبڑھ گیاہے‘ کہ وہ رضاکارانہ طورپر مستعفی ہوجائیں‘ یہ ان کی طرف سے جمہوریت کے لیے گرانقدر اقدام ہوگا۔ 1985 ء سے لے کر 1999 ء تک پانچ حکومتوں کا خاتمہ ہوا‘ سب پر الزام کرپشن کا مگر جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ محمد خان جونیجو کی حکومت جنیوا اپکاڈ کا شکارہوئی‘ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت پر جو الزام لگے وہ عدالتوں میں ثابت نہ ہوسکے ‘ پھرنواز شریف کی پہلی حکومت کرپشن پر ہٹائی گئی مگر پھر واپس لے آئی گئی‘ اس سارے عرصے میں ہمیں پیسہ بے دردی سے خرچ ہوتا نظر آیا‘ حکومت بنانے میں اور گرانے میں اصغرخان کیس اس کی عملی شکل ہے ‘ ویسے تو اور بھی بہت کچھ ہوا‘ 12 اکتوبر 1999 ء کو پرویز مشرف نے نواز شریف کا دوسری دہشتگردی کے خلاف جتنا نقصات پہلی جنگ سے ہوا‘ اتنا ہی دوسری جنگ سے شاید پہلی جنگ کا حصہ نہ بنتے تو دوسری کی نوبت نہ آتی‘ اس دور میں احتساب کا نعرہ بڑے زووشور سے لگا مگر پھر ’’نیب ‘‘ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیاگیا‘ جماعتوں کو توڑا گیا اپنا ا قتدار بچانے اور بڑھانے کے لیے اور ظاہر ہے یہ سب ملکی مفاد میں ہی کیاگیاہوگا‘ بد قسمتی سے سیاسی جماعتوں نے ان سالوں میں جو کچھ کیا‘ اس کا کوئی دفاع نہیں کیاجاسکتا‘ وہ شریک کار رہیں‘ شاید ہی کسی رکن اسمبلی نے وفاداری تبدیل کرتے وقت اپنے پچھلے کردار پر معافی مانگی ہو‘ شرمندہ ہوا ہو‘ نہ ان جماعتوں نے اپنی جماعتوں میں جمہوری کلچر کو فروغ دیا اور نہ ہی احتساب کاک کوئی نظام وضع کیاصرف کرپشن کو فرو غ دیا‘ جس سے ادارے تقسیم ہوئے ‘ فرق صرف اتنا ہے کہ آج بھی اس حکومت میں ایسے لوگ موجود ہیں‘ جو ماضی میں شریک جرم رہے ہیں‘ آج بھی احتساب پر سوالیہ نشان اس لئے ہے ‘ کہ سب کا احتساب ہوتا نظر نہیں آتا‘ آج بھی وفاداریاں تبدیل کرواکر حکومت بنائی جاتی ہے‘ صرف انداز بدل گیاہے‘ وہ زمانے گئے جب سیاست رومانس کے مانند تھی‘ جس کی خاطر لوگ جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے‘ نظریات پر پھانسی چڑھ جاتے تھے‘ انہیں کوئی منی ٹریل نہیں دینا پڑتی تھی‘ ان کا اثاثہ ان کے نظریات ہوتے تھے‘ کتاب اور قلم ہوتے تھے‘ مگر نظر ثانی سیاست سے کرپشن تک کی کہانی سناتے وقت پورا سچ بولنا چاہئے‘ فیض یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ یہ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ وہ دن کہ جس کاوعدہ ہے اور جالب یہ کہتا ہوا رخصت ہوا ہے کہ کوئی تو پر چم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالب چاروں جانب سناٹا ہے‘ دیوانے یاد آتے ہیں‘ دیکھتے ہیں پانامہ اور اومنی کے بعد سنگین غداری کیس بھی کسی انجام تک پہنچے گایا جواب تک ہوا‘ اسے غنیمت جانیں۔
2018 ء کے ماہ دسمبر میں منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی نے رپورٹ پیش کی ‘ جس میں سابق صدر آصف علی زرداری ‘ بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت 172 افراد پر الزام لگایا گیا اور حکومت نے جے آئی ٹی رپورٹ کے تناظر میں منی لانڈرنگ کیس کے 172 افراد کے نام ای سی ایل میںڈال دیئے ‘ جس میں ملکی سیاسی صورتحال نے ایک نیارخ اختیار کرلیا‘ پیپلزپارٹی کے قائدین کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانے پرپیپلزپارٹی کے رہنمائوں نے حکومت کے خلاف سیاسی بیان بازی کا محاذ شروع کردیا اور ایک دن میں کئی کئی رہنمائوں نے حکومت پر بیان بازی کی صورت میں گولہ باری شروع کردی‘ لیکن حکومت نے ان کے نام ای سی ایل سے نکالنے سے انکار کردیا اور حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سندھ میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی تبدیلی کے لیے ہوم ورک شروع کردیااور ابتدائی طورپر وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری کو سندھ کا دورہ کرنے اور اپوزیشن سے ملاقاتوں کا ٹاسک سونپا گیااور بار ہا مرتبہ حکومتی صفوں سے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو فوری عہدہ چھوڑنے کے بیانات دیئے گئے ہیں‘ایسی صورتحال میں مسلم لیگ(ن) نے محتاط رویہ اپنا رکھاہے اور وہ کھل پر پیپلز پارٹی کا اس معاملے پر ساتھ نہیں دے رہی اس کے باوجود پیپلزپارٹی نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے لابنگ شروع کردی ہے اور امکان ہے کہ 10 جنوری کو قومی اسمبلی کے متوقع اجلاس کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اس ضمن میں ملاقاتیں کرکے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف لائحہ عمل طے کرنے کے ساتھ ساتھ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے پر بھی کوششیں کریں گے‘ مسلم لیگ(ن) ایسی صورتحال میں حکومت کے خلاف کوئی منفی اقدام اٹھانے سے گریزاں ہے ‘ جس سے تحریک انصاف کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا امکان ہو‘ اس لیے وہ فی الوقت اپنی پالیسی سامنے نہیں لارہے‘ پیر کو سپریم کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے جے آئی ٹی کے خط پر 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کو نظر ثانی کاحکم دیا اور کہا کہ ای سی ایل میں کسی کانام ڈالنا بھی اس کے لیے ایک دھبہ ہے اور ایک وزیر اعلیٰ پر بغیر دیکھے یہ داغ لگایا گیا جے آئی ٹی رپورٹ پر سندھ حکومت گرانے کی اجازت نہیں دے سکتے ‘ عدالت میں موجود وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ مسٹر وزیر داخلہ اپنے بڑوں کو بتادیں کہ ملک ان کی مرضی سے نہیں صرف آئین کے تحت چلے گا‘ گورنر راج یا کوئی بھی غیر آئینی اقدام ایک سیکنڈ میں ختم کردیں گے‘ جے آئی ٹی رپورٹ آسمانی صحیفہ نہیں ‘ بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسن چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی تحریری ہدایات موصول ہونے کے بعد اس ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر نظر ثانی کردی جائے گی اور جے آئی ٹی نے اپنی سفارشات میں قراردیاتھاکہ کم از کم سولہ الگ الگ ریفرنس دائر کیے جائیں ‘ تاہم ای سی ایل لسٹ پر نظر ثانی کے بعد سپریم کورٹ سولہ ریفرنس کا کہے گی توسولہ ریفرنس دائر کئے جائیں گے اور اگر سپریم کورٹ کی ڈائریکشن ہوئی کہ ایک ریفرنس دائر کیا جائے تو ایک ہی دائر کردیا جائے گا‘ اس میں حکومت کی کوئی اپنی منشاء نہیں ‘ ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام اور خصوصاً سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ سندھ پر دبائوبڑھ گیاہے‘ کہ وہ رضاکارانہ طورپر مستعفی ہوجائیں‘ یہ ان کی طرف سے جمہوریت کے لیے گرانقدر اقدام ہوگا۔ 1985 ء سے لے کر 1999 ء تک پانچ حکومتوں کا خاتمہ ہوا‘ سب پر الزام کرپشن کا مگر جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ محمد خان جونیجو کی حکومت جنیوا اپکاڈ کا شکارہوئی‘ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت پر جو الزام لگے وہ عدالتوں میں ثابت نہ ہوسکے ‘ پھرنواز شریف کی پہلی حکومت کرپشن پر ہٹائی گئی مگر پھر واپس لے آئی گئی‘ اس سارے عرصے میں ہمیں پیسہ بے دردی سے خرچ ہوتا نظر آیا‘ حکومت بنانے میں اور گرانے میں اصغرخان کیس اس کی عملی شکل ہے ‘ ویسے تو اور بھی بہت کچھ ہوا‘ 12 اکتوبر 1999 ء کو پرویز مشرف نے نواز شریف کا دوسری دہشتگردی کے خلاف جتنا نقصات پہلی جنگ سے ہوا‘ اتنا ہی دوسری جنگ سے شاید پہلی جنگ کا حصہ نہ بنتے تو دوسری کی نوبت نہ آتی‘ اس دور میں احتساب کا نعرہ بڑے زووشور سے لگا مگر پھر ’’نیب ‘‘ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیاگیا‘ جماعتوں کو توڑا گیا اپنا ا قتدار بچانے اور بڑھانے کے لیے اور ظاہر ہے یہ سب ملکی مفاد میں ہی کیاگیاہوگا‘ بد قسمتی سے سیاسی جماعتوں نے ان سالوں میں جو کچھ کیا‘ اس کا کوئی دفاع نہیں کیاجاسکتا‘ وہ شریک کار رہیں‘ شاید ہی کسی رکن اسمبلی نے وفاداری تبدیل کرتے وقت اپنے پچھلے کردار پر معافی مانگی ہو‘ شرمندہ ہوا ہو‘ نہ ان جماعتوں نے اپنی جماعتوں میں جمہوری کلچر کو فروغ دیا اور نہ ہی احتساب کاک کوئی نظام وضع کیاصرف کرپشن کو فرو غ دیا‘ جس سے ادارے تقسیم ہوئے ‘ فرق صرف اتنا ہے کہ آج بھی اس حکومت میں ایسے لوگ موجود ہیں‘ جو ماضی میں شریک جرم رہے ہیں‘ آج بھی احتساب پر سوالیہ نشان اس لئے ہے ‘ کہ سب کا احتساب ہوتا نظر نہیں آتا‘ آج بھی وفاداریاں تبدیل کرواکر حکومت بنائی جاتی ہے‘ صرف انداز بدل گیاہے‘ وہ زمانے گئے جب سیاست رومانس کے مانند تھی‘ جس کی خاطر لوگ جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے‘ نظریات پر پھانسی چڑھ جاتے تھے‘ انہیں کوئی منی ٹریل نہیں دینا پڑتی تھی‘ ان کا اثاثہ ان کے نظریات ہوتے تھے‘ کتاب اور قلم ہوتے تھے‘ مگر نظر ثانی سیاست سے کرپشن تک کی کہانی سناتے وقت پورا سچ بولنا چاہئے‘ فیض یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ یہ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ وہ دن کہ جس کاوعدہ ہے اور جالب یہ کہتا ہوا رخصت ہوا ہے کہ کوئی تو پر چم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالب چاروں جانب سناٹا ہے‘ دیوانے یاد آتے ہیں‘ دیکھتے ہیں پانامہ اور اومنی کے بعد سنگین غداری کیس بھی کسی انجام تک پہنچے گایا جواب تک ہوا‘ اسے غنیمت جانیں۔

(142 بار دیکھا گیا)

تبصرے