Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

ڈریسنگ روم یا اکھاڑہ…؟

ویب ڈیسک جمعرات 03 جنوری 2019
ڈریسنگ روم یا اکھاڑہ…؟

مصباح کے سات سالہ دورِ کپتانی کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ ان سات سال میں ٹیسٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم سے کوئی ایک متنازع خبر نہیں آئی۔ ٹیموں میں ہار جیت تو چلتی رہتی ہے، زیادہ اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ڈریسنگ روم کا ماحول کیسا ہے۔مکی آرتھر بھی اس بات سے بخوبی آشنا ہیں۔ چیمپئینز ٹرافی میں پاکستان انڈیا گروپ میچ سے پہلے انھوں نے ہی یہ نشاندہی بھی کی تھی کہ کسی بھی ٹیم کی پرفارمنس کے لیے بنیادی چیز کوچ اور کپتان کا رشتہ ہوتا ہے۔ مکی آرتھر نے مزید برآں یہ بھی کہا تھا کہ انیل کمبلے اور کوہلی کے بیچ دراڑیں پڑ چکی ہیں جبکہ میرا اور سرفراز کا رشتہ بہت مضبوط ہے۔سینچورین ٹیسٹ جہاں دو دن میں 30 وکٹیں گریںاور جب کوئی ٹیم زوال کی راہ پر نکلنے لگتی ہے تو سب سے پہلی چیز یہ ہوتی ہے کہ اس کے ڈریسنگ روم کی باتیں بھرے بازار میں زیرِ بحث آنے لگتی ہیں۔ مصباح کے ڈریسنگ روم کی سنجیدگی یہ تھی کہ سات سال میں ایک خبر تک نہ نکلی۔ اور اب سرفراز کے ڈریسنگ روم سے خبریں ہی نکلتی رہتی ہیں۔ پاکستانی بولرز نے شاندار پرفارمنس دکھائی اور پاکستانی بیٹنگ کی حسبِ توفیق جگ ہنسائی ہوئی تو بجائے اس کے کہ مکی آرتھر بیٹنگ کوچ کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھتے، انھوں نے سینیئر پلیئرز کے ساتھ سر ٹکرانا شروع کر دیا۔اس میں دو رائے نہیں کہ امام الحق، شان مسعود اور بابر اعظم کے سوا سارے پاکستانی بلے باز ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ کوئی بھی کریز پر اعتماد سے کھڑا نظر نہیں آیا۔ فرنٹ فٹ، جارحیت، دفاع، تکنیک، سبھی مسائل دکھائی دیے۔ایسے موقع پر پلیئرز کی باز پرس بالکل بجا ہے اور پوچھا جانا چاہیے کہ اتنے بڑے لیول پہ ایسی بنیادی خامیاں کیوں ہیں؟ مگر ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کوچز بھی اس ناکامی کے حصہ دار ہیں یا نہیں؟کچھ عرصہ قبل ایک میچ میں بابر اعظم کو مین آف دا میچ کا ایوارڈ ملا تو انٹرویو میں انھوں نے رمیز راجہ کو اپنی کامیابی کا راز یہ بتایا کہ مکی بھائی اور فلاور بھائی انھیں بہت سپورٹ کرتے ہیں۔ جس پر راشد لطیف نے بالکل درست کہا تھا کہ بھئی کل کلاں اگر بابر اعظم ناکام ہوا تو مکی بھائی اور فلاور بھائی کس حد تک ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہوں گے؟
متحدہ عرب امارات میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ٹی ٹونٹی میں جس طرح مکی آرتھر حسن علی سے ناراضی کا اظہار کرتے پائے گئے، وہ ایک قومی ٹیم کے کوچ کے شایانِ شان نہیں تھا۔ اسی طرح پی ایس ایل 2 میں جس طرح کیمرے کے سامنے انھوں نے سہیل خان کو رسوا کیا، وہ کسی پیشہ ور عہدے دار کا رویہ نہیں ہو سکتا۔دنیا بھر میں کوچز کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ پورا دھیان ٹریننگ پہ دیں، کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیاں ٹھیک کریں، ان کی نفسیاتی الجھنوں کے جواب دیں۔ ڈریسنگ روم کو جوڑ کے رکھیں۔ مگر مکی آرتھر جواب دینے کے بجائے الٹا پلیئرز سے ہی سوال کرنے لگتے ہیں۔کوئی بھی ایشیائی ٹیم جب جنوبی افریقہ جاتی ہے تو اس کی بیٹنگ لائن مسائل سے گزرتی ہے۔ پاکستانی بلے بازوں نے بھی کچھ مختلف نہیں کیا۔ ان پہ تنقید بجا مگر اس تنقید کا جواب آپ کی ٹریننگ اور اگلے میچ میں تیاری سے ملنا چاہیے، نہ کہ ڈریسنگ روم میں نوک جھونک کی خبروں سے۔اور اگر سیکھنا ہو تو اسی ہار سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں اننگز میں پاکستانی بولرز نے جیسی بولنگ کی، اس سے سیکھا جا سکتا ہے۔ ایلگر اور آملہ کی پارٹنرشپ سے سیکھا جا سکتا ہے۔ بابر اعظم اور شان مسعود کی اننگز سے سیکھا جا سکتا ہے۔سرفراز بطور بیٹسمین تو بری طرح ناکام رہے مگر کپتانی میں انھوں نے کوئی برے فیصلے نہیں کیے۔ بیٹنگ کی خرابی اپنی جگہ مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ بولرز نے دل جیت لیے۔مگر شومئی قسمت کہ جہاں ان مثبت پہلووں کی بات ہونا تھی اور ان غلطیوں کی درستی پہ بحث ہونا تھی، وہاں میڈیا میں زیر بحث ہے کہ پاکستانی ڈریسنگ روم میں کیسے کوچ اور اسد شفیق، اظہر علی کے درمیان جھڑپ ہوئی، کیسے کوچ صاحب برس پڑے، اور کیسے سینئیر پلیئرز نے بدتمیزی کی۔مکی آرتھر صاحب! یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا ڈریسنگ روم ہے۔ یہ دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان ہے۔ اس میں جو بات ہو، اسے میڈیا تک نہیں پہنچنا چاہیے۔

(59 بار دیکھا گیا)

تبصرے