Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

کراچی کا امن خطرے میں

ویب ڈیسک منگل 01 جنوری 2019
کراچی کا امن خطرے میں

شہرِ قائد کراچی میں کچھ عرصے سے خراب طرزِ حکمرانی کے باعث عوام شدید احساسِ بیگانگی، عدم تحفظ اور خوف وہراس کا شکار ہیں جس کی ذمہ داری بالخصوص وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے ۔ اپنی آواز ایوانوں تک پہنچانے کے لئے احتجاج کرنا عوام کا جمہوری حق ہے جو مارٹن کوراٹرز کے مکین کر رہے تھے لیکن سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں اپنے مفادات کی غرض سے جس طرح نہتے بزرگوں،عورتوں،بچوں تک کو بھی بخشا نہ گیا اور سب پر آنسو گیس کی شیلنگ ، لاٹھی چارج ،واٹر کینن سے حملہ اور فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک شہادت بھی ہوئی انتہائی قا بلِ مذمت اور غیر انسانی عمل ہے۔ اس انسانی معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دیکھتے ہوئے آسانی سے حل کیا جاسکتا تھا کہ وفاقی حکومت سپریم کورٹ میں اپنی جانب سے جواب داخل کردیتی کہ ہم نے مکینوں کوایک معاہدے کے تحت مالکانہ حقوق فراہم کردئیے ہیں اور دوسری جگہ ہم حکومتی رہائشی کوارٹرز بنا کر اس کمی کو پورا کرلیں گے۔اس عمل سے عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آنے کا دعوی کرنے والی تحریکِ انصاف حکومت کی نیک نامی ہوتی اور عوام کے ذہنوں میں اُن کے لئے مثبت احساس جنم لیتا لیکن اس کے برعکس وفاقی حکومت کی اب تک سرد مُہری اور پولیس جو سندھ حکومت کے ماتحت ہے کے مذکورہ چنگیزی عمل سے ہزاروں بانیانِ پاکستان کی اولادوں میں شدید احساسِ بیگانگی،خوف وہراس اور عدم تحفظ نے جنم لیا ہے جوجاری نازک حالات میں داخلی استحکام کے لئے مفید نہیں ہے۔اس اہم انسانی مسئلے پر ابھی تک کوئی مثبت عملی پیش رفت نہیں ہوئی ہے جس پر وفاقی حکومت کو پاکستان اور کراچی کے عوام کے مفاد میں ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرتے ہوئے معاملے کو جلد حل کرنا چاہئیے۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پرملک بھر میں ناجائز تجاوزات کے خاتمے کا سلسلہ کراچی میں بھی جاری ہے لیکن افسوس بغیر کوئی متبادل سوچے ناجائز تجاوزات کی آڑ میں عوام کے گھر اور دیگر جائز املاک جس بے دردی اور بے حسی سے تباہ کی گئی وہ کراچی کے جلتے داخلی استحکام پر مزید تیل چھڑکنے کے مترادف ہے ۔مئیر کراچی وسیم اختر کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سڑکوں ،فٹ پاتھوں وغیرہ سے تجاوزات کے ایم سی نے ہٹائی ہیں جبکہ ایک بھی گھر مئیر وسیم اختر کی ہدایت پر نہیں توڑا گیا اور مئیر وسیم اختر کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ ہم ایک بھی گھر نہیں توڑیں گے کیوں کہ گھروں اور نقشہ جات کا دائرہ کار سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پاس ہے اور یہ ادارے سندھ حکومت کے ماتحت ہیں جو کاروائیاں کر رہے ہیں جوکہ درست بات ہے۔اس تمام صورتحال پر غیر جانبدارانہ غور سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کراچی پر اپنا راج جمانے کے لئے ناجائز تجاوزات کی آڑ میں لوگوں کی جائز املاک تباہ کر کے یہاں دہائیوں سے راج کرنے والی جماعت ایم کیو ایم کے ساتھ مارٹن کوارٹرز کے معاملے کی طرح اس مسئلے میں بھی سپریم کورٹ سے عوام کو متنفر کرنا ہے جو نہایت افسوسناک اور شرمناک عمل ہے۔ طاقت کے نشے میں بدمست حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہئیے کہ عوام کے دلوں پر راج اُن کی بے لوث عملی خدمت کر کے تو کیا جاسکتا ہے ظلم کے ذریعے یہ ناممکن ہے۔
پینے کا صاف پانی جو کراچی کے عوام کاایک اہم دیرینہ مسئلہ ہے پر بھی صوبائی اور وفاقی حکومتیں سوائے لفاظی کے اب تک کچھ نہیں کر پائی ہیں اور دونوں حکومتوں کی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ کے سبب کراچی کے عوام کے لئے پینے کے پانی کی کمی پورا کرنے کی غرض سے کے فور یا دیگر منصوبوں پر کام شروع ہونا تو دور کی بات ٹہری جو پانی دستیاب ہے اُس کی چوری بھی نہیں روکی جاسکی ہے۔ عوام کے مطابق پانی کا ایک ٹینکر 24000 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جو پانی کو ترستے غریب و متوسط طبقے کے عوام کے ساتھ شدید ناانصافی اور ظلم ہے۔سالوں سے حکمرانوں کی ہوس کے سبب پانی کی طرح اس شہر کے عوام کی بڑی تعداد کے لئے روٹی، کپڑا،مکان،صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف خواب ہوتے چلے جا رہے ہیں جس کے سبب عوام شدید بے چینی اور بے یار ومددگاری کی کیفیت میں مبتلا ہیں اور افسوس صد افسوس یہ سب پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی اور اس کے عوام کے ساتھ کیا جارہا ہے جو گزشتہ اکہتر سالوں سے ستر فیصد ریونیو پاکستان کے خزانے اور 90فیصد سندھ کے خزانے کو دے رہے ہیں لیکن کراچی کے عوام کو نئے پاکستان کے نام پر آج بھی عملی انصاف میسر نہیں ہے یہ صورتحال حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونی چاہئیے مگرصوبائی اور وفاقی حکومتوںکے کانوں پر جوں تک رینگتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔کراچی میںگزشتہ چند ہفتوں سے سی این جی کے بُحران کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے جس پر کافی ابہام پایا گیاہے۔ مفادات کی اس لڑائی نے کراچی کے کچلے ہوئے طبقے کو ٹرانسپورٹ اور کرایہ میں اضافے جیسے بھاری مسائل سے مزید کچل کر رکھ دیا ہے لیکن افسوس حکمران اپنے اپنے ذاتی ایجنڈوں کی تکمیل میں مصروف ہیں ۔
اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میںکئی ماہ سے تیزی بڑھنے کے ساتھ کچھ عرصے سے دہشت گردی کی کاروائیاں بھی جاری ہیں ۔ قائد آباد بم دھماکہ،چائنیز قونصلیٹ پر حملہ ، ایم کیو ایم کی محفل ذکرِ مصطفی ﷺ میں بم دھماکہ،پاک سر زمین پارٹی کے دفتر پر فائرنگ اور ایم کیو ایم کے سابق ایم این اے و رہنما علی رضا عابدی کو اُن کے گھر کی دہلیز پر شہید کر دئیے جانے جیسے کھلے دہشت گردانہ واقعات نے کراچی کے عوام کے ذہنوں میں شدید بے چینی،عدم تحفظ، خوف و ہراس اور احساسِ بیگانگی کی سطح جو مارٹن کوارٹرز،تجاوزات،پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، انصاف نہ ملنے، روزگار کے مسائل اور تیزی سے بڑھتے اسٹریٹ کرائمز کی بدولت پہلے ہی سے بلند تھی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
کراچی ڈیفنس میں رہتے ہوئے غرور و تکبر سے کوسوں دور علی رضا عابدی جیسے ترقی پسند، روشن خیال ،اعتدال پسند،نفیس طبعیت، حساس،شائستہ،مہذب اور دھیمے لہجے میں مثبت گفتگو کرنے والے، بلا امتیاز سب کی مدد کو تیار رہنے والے ، مذہبی اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی پر یقین رکھنے اور عمل کرنے والے ،سیاست ،میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا کے درخشاں ستارے کا اُن کے گھر کی دہلیز پر بہیمانہ قتل تین سال سے جاری کراچی آپریشن پر ایک سوالیہ نشان ہے۔علی رضا عابدی کی شہادت کے بعد میڈیا کے ذریعے یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کو یکجا کرنے کے لئے سرگرم تھے جس کا فائدہ صرف ایم کیو ایم، اس سے وابستہ کارکنا ن اور عوام ہی کو نہیں بلکہ پورے کراچی اور پاکستان کو پہنچنا تھالیکن اسلام،انسان، پاکستان،امن اور سیاست دشمن قوتوں کو اُن کا یہ عمل ایک آنکھ نہ بھایا اور اُنہیں شہید کردیا گیا۔ علی رضا عابدی کی اچانک شہادت کی اطلاع ملنے پر کیا اپنے اور کیا غیر سب ہی افسردہ ،غمزدہ اور اشک بار ہوگئے۔ جہاںمیڈیا پر تعزیتی اور مذمتی بیانات کی بھر مار رہی وہیں اس آڑ میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا سلسلہ بھی دکھائی دیا جو ایسے وقت میں افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے ۔ایسا نہیں ہونا چاہئیے۔مثلاً پیپلز پارٹی کے ایک راہنما کی جانب سے یہ کہا جانا کہ علی رضا عابدی پیپلز پارٹی جوائن کرنا چاہتے تھے اور آصف علی زرداری کے ساتھ اُن کی تصویر سوشل میڈیا پر شئیر کرناوغیرہ۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے اس افسوسناک حرکت کے بعد راقم کو 22 ،اگست،2016 ءکے بعد علی رضا عابدی کا وہ ٹوئیٹ یاد آگیا جب بلاول بھٹو زرداری نے اُنہیں پیپلز پارٹی جوائن کرنے کی پیشکش کی تو اُن کا جواب تھا کہ ”دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے“۔ درحقیقت علی کا دل اب بھی کہیں اور بیعت کرنے کے موڈ میں تھا ہی نہیں جب ہی تو وہ ناراض دلوںکو ملا کر ایم کیو ایم کو متحد وہ مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروفِ عمل تھے لہذا پیپلز پارٹی کا یہ موقف کہ وہ پی پی پی میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ علی رضا عابدی کو شہید کئے جانے کے پسِ پردہ جو مذموم مقاصد سمجھ میں آتے ہیں وہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں میں مزید دوریاں پیدا کر کے اُنہیں آپس میں لڑانے، اہلِ تشیع برادری میں احساسِ عدم تحفظ کو بڑھا کر کراچی میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ترقی پسند،روشن خیال،اعتدال پسند،ذہین اور اعلی تعلیم یافتہ صاحبِ کردار سیاستدانوں کو سیاست سے دور کرنے خواہ وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں سمیت والدین کو اپنی اولادوں کو سیاست میں نہ آنے دینا ہے۔
عوام علی رضا عابدی شہید اور اُن کے نیک مقصد کوبھولنا نہیں چاہتے ہیں۔ کراچی پریس کلب کے سامنے جعفریہ ڈیزاسٹر سیل علی رضا عابدی شہید کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ”شمع فروزاں“ کا ایک پروگرام بھی منعقد کر چکا ہے ۔علی رضا عابدی شہید کے اصل قاتلوں کو جلد سامنے لانے اور کیفرِ کردار تک پہنچانے کے مطالبات بھی زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے لیکن دہشت گرد رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں جو کہ علی رضا عابدی کی شہادت کے بعد لائنز ایریا میں ایم کیو ایم حقیقی کے دفتر پر فائرنگ اور پی آئی بی کے علاقے کرنال بستی میںپولیس موبائل پر دستی بم حملوں او ر فائرنگ کے واقعات کی صورت میں ظاہر ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے یہ سب وفاقی و صوبائی حکومتوں،پاک فوج ،رینجرز، پولیس اور تمام سیکیورٹی ایجنسیز کو کھلا چیلنج ہے کہ ”کراچی کے امن کو خطرہ ہے“۔

(140 بار دیکھا گیا)

تبصرے