Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 21 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News | Best Urdu Website in World

2018 !،گرین شرٹس کیلئے متوازن سال

کلیم عثمانی پیر 31 دسمبر 2018
2018 !،گرین شرٹس کیلئے متوازن سال

سال2018 پاکستان کرکٹ کیلئے کارکردگی کے حوالے سے متوازن سال کہا جاسکتا ہے،سال 2018 اعدادوشمار کے لحاظ سے پاکستان کرکٹ کے لئے کچھ اچھا ثابت نہ ہواسال کا آغاز اور اختتام پاکستان کرکٹ کے لئے کسی بدترین خواب سے کم نہ تھا جب پاکستانی ٹیم بڑے بڑے خوابوں کے ساتھ سیریز کھیلنے کے لیے نیوزی لینڈ پہنچی تو چیمپیئنز ٹرافی سے مستقل ناقابل شکست ٹیم کو سیریز کے لئے فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا لیکن پھر جو ہوا، اس نے کرکٹ شائقین کو ہلا کر رکھ دیا۔ ٹی20 کے علاوہ پاکستان کی بقیہ دونوں فارمیٹس میں پاکستان کی کارکردگی خاصی مایوس کن رہی۔گذشتہ سال پاکستان کے لئے ون ڈے انٹرنیشل میچز میں زیادہ اچھا نہیں رہا،18میچز میں سے 8 فتوحات پاکستان کو ملیں مگر اس میں پانچ کامیابیاں زمبابوے ،ایک ہانگ کانگ،ایک نیوزی لینڈ،ایک افغان ٹیم کے خلاف ملی ،مضبوط ٹیموں کے خلاف گرین شرٹس کا ریکارڈ بالکل بھی اچھا نہیں تھا کیویز کے خلاف 8 میں سے6 ناکامیاں ایک کامیابی اور ڈرا رہا، بھارت کے خلاف دو نوں میچز میں ناکامی ملیں،کین ولیمسن کی زیر قیادت نیوزی لینڈ نے اپنے عمدہ کھیل اور پاکستان کی ناقص کارکردگی کی بدولت 5 میچوں کی ون ڈے سیریز میں کلین سوئپ کرتے ہوئے 0-5 سے فتح حاصل کی۔پاکستان کے لئے سال کا آغاز کسی بڑے دھچکے سے کم نہ تھا اور نیوزی لینڈ نے ہوم گراؤنڈ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو چاروں شانے چت کر کے ون ڈے سیریز میں 0-5 سے زیر کیا۔اس کے بعد پاکستان کی ٹیم ون ڈے سیریز کے لئے زمبابوے پہنچی اور اپنے سے کمزور ٹیم کے خلاف عمدہ کھیل پیش کرکے اس مرتبہ خود 0-5 سے کلین سوئپ کا کارنامہ انجام دیا۔مذکورہ سیریز کی خاص بات فخر زمان کی عمدہ کارکردگی تھی اور اسی سیریز کے دوران انہوں نے پاکستان کی جانب سے ون ڈے کرکٹ میں پہلی ڈبل سنچری اسکور کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔زمبابوے کے خلاف سیریز سے پاکستان نے فتوحات اپنے نام کرکے ناقدین کا منہ تو وقتی طور پر بند کرا دیا اور ساتھ ساتھ قومی ٹیم کی خامیوں پر بھی پردہ ڈال دیا جو جوں کی توں تھی اور ایشیا کپ میں یہ خامیاں کھل کر سامنے آ گئیں۔بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ ایشیا کپ میں شرکت کرنے والی پاکستانی ٹیم کے لیے یہ مہم بھی بدترین ثابت ہوئی اور وہ ہانک کانگ اور افغانستان کے سوا کسی بھی ٹیم کے خلاف کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ون ڈے کرکٹ میں عمدہ کھیل پیش کرنے والی بھارتی ٹیم نے اپنی برتری واضح طور پر ثابت کی اور پاکستان کا ایونٹ کے دونوں میچوں میں بدترین شکست سے دوچار کیا جبکہ بنگلہ دیش نے بھی پاکستان کو مات دے کر فائنل کی دوڑ سے باہر کردیا تھا۔نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں بھی ایشیا کپ کا آسیب قومی ٹیم سے چمٹا رہا جہاں اسے تین ون ڈے میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا لیکن اگلے میچ میں گرین شرٹس نے عمدہ انداز میں کم بیک کرتے ہوئے سیریز برابر کردیا۔سیریز کے فیصلہ کن میچ میں بھی پاکستان نے اچھا کھیل پیش کیا لیکن بارش کی بے جا مداخلت کے سبب یہ میچ بے نتیجہ ختم ہوا اور یہ سیریز 1-1 سے برابری پر اختتام پذیر ہوئی۔تین مرتبہ گرین شرٹس نے ون ڈے میں تین سو کا ہندسہ عبور کیا اور تینوں مرتبہ زمبابوے سامنے تھی 20 جولائی کو 399 رنز ایک وکٹ پر گرین شرٹس نے بلاوایو میں اسکور کئے جو کہ اس سال اس کا بڑا اسکور رہا،اسی سیریز میں364 اور308 کا ٹوٹل بھی پاکستان نے حاصل کیا۔نیوزی لینڈ کے خلاف ڈنیڈن میں74 رنز 13 جنوری کو پاکستان کا کم کم مجموعہ تھا۔244 رنز سے زمبابوے کے خلاف20 جنوری کو پاکستان کی سب سے بڑی فتح اس سال کی رہی،تین وکٹ سے افغانستان کے خلاف ابو ظہبی میں 21 ستمبر کو پاکستان کی اس سال کمترین مارجن سے فتح تھی،بیٹنگ میں فخر زمان نے 17 میچوں میں875 رنزدو سینچریوں اورچھ نصف سینچریوںسے بنائے 210 ان کا بہترین اسکور زمبابوے کے خلاف رہا،67.30 ان کی اوسط رہی۔امام الحق نے672 رنز61.09 کی اوسط سے 13میچز میں تین سینچریوں اور اتنی ہی ففٹیز سے بنائے،بابر اعظم نے509 رنز 18 میچز میں 36.55 کی اوسط سے دو ففٹیز اور ایک سینچری سے بنائے،،شعیب ملک نے358 رنز29.83 کی اوسط سے 17 میچز میں دو ففٹیز سے ،سرفراز احمد نے18 میچز میں244 رنز 24.40 کی اوسط سے دو نصف سینچریوں سے ،آصف علی نے 11 میچز میں200 رنز 28.57 کی اوسط سے ایک ففٹی سے ،محمد حفیظ نے 8 میچز میں186 رنز 46.50 کی اوسط سے 3 نصف سینچریوں سے بنائے،شاداب خان نے 173 رنز17 میچز میں21.62 کی اوسط سے دو نصف سینچریوں سے بنائے۔ان کے علاوہ کوئی اور بلے باز100 سے زائد رنز نہ بناسکا۔فخر زمان13اورآصف علی12 چھکوں کے ساتھ نمایاں رہے۔فخر زمان210* کی باری زمبابوے کے خلاف کھیل کر سب سے بڑی باری اس سال کھیلنے میں کامیاب ہوئے،ان کے علاوہ،امام الحق128 ،فخر زمان117 امام الحق113 ،امام الحق110 اور بابر اعظم106* سینچری میکر رہے۔ بالنگ میں شاداب خان23 وکٹیں17 میچز میں لے کر کامیاب رہے4/28 بہترین بالنگ تھی،حسن علی نے15 میچز میں19 وکٹیں3/32 بہترین بالنگ تھی،فہیم اشرف نے13 میچز میں16 وکٹیں5/22 بہترین بالنگ رہی،شاہین شاہ آفریدی نے 6 میچز میں 13 وکٹیں4/38 بہترین بالنگ رہی،عثمان شینواری نے7 میچز میں12 وکٹیں4/36 بہترین بالنگ کے ساتھ حاصل کیں،اور کوئی بالردس سے زیادہ وکٹیں حاصل نہ کرسکا۔وکٹ کیپنگ میں سرفراز احمد تنہاہی بوجھ سنبھالے رہے18 میچز میں16 شکار ان کے رہے،ایک اسٹمپڈ تھا،بابر اعظم اور سرفراز احمد وہ واحد پلیئر تھے جو کہ تمام 18 میچز میں پاکستان کی جانب سے شریک رہے،فخر زمان،شاداب خان اورشعیب ملک نے یکساں17 میچز،حسن علی نے15 ،فہیم اشرف اور امام الحق نے یکساں 13 ،آصف علی نے11 محمد عامر نے10 میچز میں حصہ لیا۔سرفراز احمد نے تمام18 میچز میں قیادت سنبھالی اور8 میں فتح جبکہ9 میں ناکامیاں سمیٹیں،ایک میچ بارش کے باعث نامکمل رہا۔
بات کریں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تو یہاں بھی سرفراز احمد نے تمام19 میچز میں کپتانی سنبھالی اور17 میچز میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے جبکہ دو میچز میں ناکامی ہوئی، سال 2018 میں گرین شرٹس ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں چھائے رہے زمبابوے میں سہ ملکی ایونٹ سمیت تمام 6سیریز جیتیں، 19 میچز میں 17فتوحات کے ساتھ عالمی رینکنگ میں حکمرانی برقرار رکھی، فخرزمان 576 رنز بناکر ٹاپ اسکورر رہے، سب سے زیادہ 28 وکٹیں شاداب خان نے حاصل کیں۔ پاکستان نے رواں سال کے آغاز میں نیوزی لینڈ کو اسی کے ہوم گراؤنڈ پر 2-1 سے شکست دی، ویسٹ انڈیز کو کراچی میں 3-0 سے کلین سوئپ کیا، دورئہ اسکاٹ لینڈ میں میزبان ٹیم کو دونوں میچز میں شکست دی، زمبابوے میں منعقدہ ٹرائنگولر سیریز میں گرین شرٹس کو آسٹریلیا سے ایک لیگ میچ میں شکست دوسرے میں کامیابی حاصل ہوئی، میزبان کو دونوں مقابلوں میں ہرایا، فائنل میں پاکستان نے کینگروز کو زیر کرتے ہوئے ٹائٹل پر قبضہ جمایا، یو اے ای میں آسٹریلیا کو 3-0سے کلین سوئپ کیا،بعد ازاں نیوزی لینڈ کیخلاف تینوں میچز بھی جیتے۔مجموعی طور پر گرین شرٹس نے سال کے19میں سے17 میچز میں فتح پائی،صرف 2میں ناکامی ہوئی۔ مسلسل فتوحات کی بدولت پاکستان کی آئی سی سی رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن برقرار رہی، کھیل کے بقیہ دونوں فارمیٹس سے قطع نظر ٹی20 کرکٹ میں پاکستان نے اس سال بھی شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے کوئی بھی سیریز ہارے بغیر سرفراز احمد کی زیر قیادت ٹی20 سیریز نہ ہارنے کا ریکارڈ برقرار رکھا۔نیوزی لینڈ سے ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد پاکستان کو پہلے ٹی20 میچ میں بھی شکست ہوئی لیکن اس کے بعد سیریز میں عمدہ کم بیک کرتے ہوئے آکلینڈ اور ماؤنٹ ماؤنگاؤنی میں میچ جیت کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کر لی۔اس سے اگلی سیریز پاکستان کرکٹ کے لیے کسی بڑی کامیابی سے کم نہ تھی اور ویسٹ انڈیز نے کراچی میں تین ون ڈے میچوں کے لئے پاکستان آنے پر رضامندی ظاہر کر کے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی جانب ایک اور قدم بڑھایا۔ملک میں سیکورٹی وجوہات کے ویسٹ انڈیز کے بیشتر اسٹارز میچ کھیلنے کے لیے پاکستان نہیں آئے لیکن اس کے باوجود ویسٹ انڈیز کے چند اسٹارز نے انٹرنیشنل ٹی20 سیریز کے لیے کراچی آ کر شہر قائد عالمی کرکٹ کے انعقاد کی راہیں کھول دیں۔پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو تینوں ٹی20 میچوں میں باآسانی شکست دے کر سیریز 0-3 سے اپنے نام کر لی اور کراچی کے باسیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ سے لطف اندوز کیا۔اس کے بعد پاکستانی ٹیم دو ٹی20 میچوں کی سیریز کھیلنے اسکاٹ لینڈ پہنچی اور ایک مرتبہ پھر عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے سیریز میں 0-2 سے کلین سوئپ کر لیا۔کھیل کے سب سے چھوٹے فارمیٹ میں پاکستان کی اگلی منزل زمبابوے تھی جہاں اس کا سہ ملکی سیریز میں میزبان ٹیم کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا سے بھی مقابلہ تھا۔پاکستان نے اس سیریز میں بھی بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے سوائے ایک میچ کے تمام مقابلوں میں فتح سمیٹی اور سہ ملکی سیریز کے فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دے کر چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔اس کے بعد پاکستانی ٹیم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے متحدہ عرب امارات میں مدمقابل آئیں اور دونوں ہی سیریز میں ایک مرتبہ پھر بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتوحات سمیٹیں۔پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف 0-3 سے کلین سوئپ کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کو بھی تینوں میچوں میں زیر کیا۔،فہیم اشرف ،شاداب خان کے ساتھ کپتان سرفراز احمد تمام میچز میں شریک ہوئے،فخر زمان نے17 ،آصف علی نے16 ،حسن علی اور شعیب ملک نے15 ،بابر اعظم نے12 جبکہ حسین طلعت نے11 میچز کھیلے،نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف گرین شرٹس نے یکساں 6 میچز کھیلے پانچ پانچ فتوحات حاصل کیں ایک ایک میچ ہارا،ویسٹ انڈیز کے خلاف تینوں میچز میں کامیابی حاصل کی،اسکاٹ لینڈ اور زمبابوے کے خلاف ایک ایک میچ کھیلا اور کامیاب رہے،کراچی میں اپریل2018 میں 205/3 پاکستان کا بہترین اسکور رہا،ایڈن برگ میں12 جون کو204/4 ،ویسٹ انڈیز کے خلاف کراچی میں ہی203/5 ،نیوزی لینڈ کیخلاف201/4 آکلینڈ میں اسکور کئے،یوں چار مرتبہ پاکستان نے 200 سے زائد کا مجموعہ حاصل کیا۔جنوری میں 105 رنز ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف کمترین ٹوٹل رہا،ہرارے میں2 جولائی کو116 رنز آسٹریلیا کیخلاف دوسرا کمترین اسکور جبکہ147/6 آسٹریلیا کے خلاف دبئی میں تیسرا کمترین اسکور26 اکتوبرکو رہا،143 رنز سے ویسٹ انڈیز کے خلاف کراچی میں اپریل میں سب سے بڑی فتح حاصل کی ،84 رنز سے اسکاٹ لینڈ کے خلاف ایڈن برگ میںجنو ر ی میں دوسری بڑی فتح رہی،دو رنز سے نیوزی لینڈ کے خلاف ابو ظہبی میں 31 اکتوبر کوکمترین مارجن سے فتح تھی،11 رنز سے آسٹریلیا کے خلاف دبئی میں26 اکتوبر کو دوسری کمترین مارجن سے فتح،18 رنز سے نیوزی لینڈ کے خلا ف ماؤنٹ مینگونی میں28 جنوری کو تیسری کمترین مارجن سے فتح حاصل کی گئی، فخر زمان17 میچز میں576 رنز بناکر ٹاپ اسکورر تھے،91 بہترین رہا،33.83 کی اوسط تھی،4 نصف سینچریاں بنائیں،بابر اعظم نے12 میچز میں563 رنز62.55 کی اوسط سے 6 نصف سینچریوں سے بنائے،شعیب ملک نے15 میچز میں357 رنز 44.62 کی اوسط سے ایک ففٹی سے بنائے،سرفراز احمد نے19 میچز میں354 رنز32.18 کی اوسط سے ایک ففٹی سے اسکور کئے،حسین طلعت نے11 میچز میں273 رنز27.30 کی اوسط سے ایک ففٹی سے بنائے،محمد حفیظ نے8 میچز میں250 رنز50.00 کی اوسط سے بنائے،ایک نصف سینچری شامل رہی،آصف علی نے16 میچز میں 237 رنز26.33 کی اوسط سے بنائے41* بہترین اسکور تھا،احمد شہزاد نے 4 میچز میں101 رنز25.25 کی اوسط سے بنائے44 بہترین تھا ان کے علاوہ کوئی اور بلے باز 100 سے زائد رنز نہ بناسکا،فخر زمان 19 ،شعیب ملک17 ،آصف علی15 ،محمد حفیظ12 ،سرفراز احمد دس چھکوں کے ساتھ نمایاں تھے۔پانچ بالر زنے دس سے زائد وکٹیں حاصل کیں ون ڈے کی طرح ٹی ٹوئنٹی میں بھی شاداب خان ٹاپ پر تھے،19 میچز میں28 وکٹیں17.42 کی اوسط سے حاصل کیں،3/19 بہترین بالنگ تھی،فہیم اشرف نے19 میچز میں15 وکٹیں24.06 کی اوسط سے لیں،پانچ رنز کے عوض تین وکٹ بہترین بالنگ تھی،حسن علی نے 15 میچز میں اتنی ہی وکٹیں لیں،26.06 اوسط تھی،3/35 بہترین بالنگ رہی،محمد عامر نے 9 میچز میں14 وکٹیں15.50 کی اوسط سے لیں3/22 بہترین بالنگ تھی،شاہین شاہ آفریدی نے سات میچز میں 11 وکٹیں 18.45 کی اوسط سے لیں 3/20 بہترین بالنگ رہی،سرفراز احمد نے تمام میچز میں وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے 20 شکار کئے،تین اسٹمپڈ بھی اس میں شامل تھے۔
بات کی جائے ٹیسٹ میچز کی تو سرفراز احمد نے تمام میچز میں قیادت کی،جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ تک9 میچز میں چار جیتے،4 ہارے ایک ڈرا رہا، آئرلینڈ کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کی،انگلینڈ کے خلاف سیریز ایک ایک میچ سے برابر رہی،آسٹریلیا کے خلاف دو ٹیسٹ کی سیریز ایک صفر سے جیتی،نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز البتہ وہ 2-1 سے گنوابیٹھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی ناقص حکمت عملی کے سبب قومی ٹیم کو سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران کوئی بھی ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع نہ ملا لیکن اس کے بعد پاکستانی ٹیم ٹیسٹ اسٹیٹس حاصل کرنے والی آئرلینڈ کی ٹیم سے اس کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے ان کے دیس پہنچی۔2007 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کو اپ سیٹ شکست دینے والی آئرلینڈ کی ٹیم اس مرتبہ بھی پاکستان کے لئے ترنوالہ ثابت نہ ہوئی اور پاکستان کے لئے ایک اور اپ سیٹ شکست کا سامان پیدا کردیا لیکن نوجوان بلے بازوں امام الحق اور بابر اعظم کی ذمے دارانہ بیٹنگ نے پاکستان کو بڑی خفت سے بچا لیا۔میچ کے پہلے دن بارش کے باعث کوئی کھیل نہ ہو سکا اور آئرلینڈ نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا پہلا ہی ٹاس جیت کر پاکستان کو مشکل وکٹ پر بیٹنگ کی دعوت دی۔قومی ٹیم نے 310 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر پہلی اننگز ڈکلیئر کردی جس کے جواب میں میزبان ٹیم پہلی اننگز میں 130رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پاکستان نے فالو آن کرانے کا فیصلہ کیا۔دوسری اننگز میں کیون اوبرائن کی شاندار سنچری کی بدولت آئرش ٹیم نے بہتر بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 339رنز بنائے اور پاکستان کو فتح کے لئے 160رنز کا ہدف دیا۔160 جیسے کم ہدف کا تعاقب بھی پاکستان کے لئے کچھ آسان ثابت نہ ہوا اور 14رنز پر تین کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان پر تاریخ کی بدترین شکست کے سائے منڈلانے لگے لیکن امام اور بابر کی نصف سنچریوں کی قومی ٹیم کو بدترین ناکامی سے محفوظ کر لیا اور پاکستان نے میچ میں 5 وکٹ سے فتح اپنے نام کر لی۔آئرلینڈ میں سیریز جیتنے کے بعد پاکستانی ٹیم نے دو میچوں کی سیریز کے لئے انگلینڈ میں پڑاؤ ڈالا اور محمد عباس کی شاندار باؤلنگ کی بدولت پاکستان نے لارڈز کے تاریخی میدان پر عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو 9وکٹوں سے شکست دے دی۔محمد عباس اور حسن علی کی 4، 4 وکٹوں کی بدولت پاکستان نے انگلینڈ کو پہلی اننگز میں 184 رنز پر ٹھکانے لگا دیا اور پھر اظہر علی، شاداب خان، بابر اعظم اور اسد شفیق کی نصف سنچریوں کی بدولت پہلی اننگز میں 363 رنز بنائے۔پاکستان نے پہلی اننگز میں 179رنز کی برتری حاصل کی اور ایک موقع پر انگلینڈ کی ٹیم 110 رنز پر 6وکٹیں گنوا کر اننگز کی شکست کے خطرے سے دوچار تھی لیکن جوز بٹلر اور ڈومینک بیس نے سنچری شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کو بڑی رسوائی سے بچا لیا۔لیکن اس کے باوجود محمد عامر اور محمد عباس کی 4، 4 وکٹوں کی بدولت میزبان ٹیم دوسری اننگز میں 242رنز ہی بنا سکی اور پاکستان کو فتح کے لئے 64رنز کا ہدف دیا جو اس نے ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔سیریز میں 0-1 کی برتری کے ساتھ پاکستانی ٹیم دوسرے میچ کیلئے لیڈز پہنچی تو پہلے میچ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والی ٹیم دوسرے میچ میں بدترین ناکامی سے دوچار ہوئی۔پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو بالکل غلط ثابت ہوا اور پوری ٹیم 174 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی جس کے جواب میں جوز بٹلر سمیت دیگر بلے بازوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت 363رنز بنائے۔پاکستانی ٹیم 189 رنز کے خسارے میں جانے کے بعد دوسری اننگز کے لیے میدان میں اتری تو ایک اور تباہی اس کی منتظر تھی اور پوری ٹیم پہلی اننگز سے کم تر اسکور پر ڈھیر ہو کر 134رنز پر پویلین لوٹ گئی اور انگلینڈ نے میچ میں اننگز اور 55رنز سے فتح حاصل کر کے سیریز 1-1 سے برابر کردی۔ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا اگلا امتحان آسٹریلیا سے متحدہ عرب امارات میں ہوم سیریز تھی جس میں قومی ٹیم فیورٹ کی حیثیت سے میدان میں اتری۔پاکستان نے محمد حفیظ اور حارث سہیل کی سنچری کی بدولت 482رنز بنائے جس کے جواب میں محمد عباس اور بلال آصف کی عمدہ باؤلنگ کے سامنے پوری آسٹریلین ٹیم اوپنرز کے اچھے آغاز کے باوجود 202 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔281 رنز کی برتری کے بعد پاکستان نے دوسری اننگز 181 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کردی اور آسٹریلیا کو 462رنز کا ہدف دیا۔ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کو میچ بچانے کے لئے تقریباً 140اوورز تک بیٹنگ کرنے کا چیلنج درپیش تھا لیکن عثمان خواجہ نے ناممکن کو ممکن بناتے ہوئے 141رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کو یقینی فتح سے محروم کر کے میچ کو ڈرا کردیا۔ابوظہبی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں پاکستانی ٹیم 57رنز پر 5وکٹیں گنوا کر مشکلات سے دوچار تھی لیکن اس موقع پر کپتان سرفراز احمد اور فخر زمان کی 94، 94 رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان نے پہلی اننگز میں 282رنز بنائے۔جواب میں آسٹریلین بیٹنگ لائن بھی محمد عباس کے سامنے بے بس نظر آئی اور پوری ٹیم 145 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور پاکستان نے 137رنز کی برتری حاصل کی۔پاکستان نے دوسری اننگز میں بھی فخر زمان، بابر اعظم اور سرفراز احمد کی نصف سنچری کی بدولت 400رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کردی اور آسٹریلیا کو فتح کے لئے 538رنز کا ہدف دیا۔محمد عباس کی دوسری اننگز میں بھی 5 وکٹوں کی بدولت پاکستان نے آسٹریلیا کو 164رنز پر ڈھیر کردیا اور آسٹریلیا کو 373رنز سے شکست دیتے ہوئے سیریز 0-1 سے اپنے نام کر لی۔محمد عباس کو میچ میں 10وکٹیں لینے پر میچ کے ساتھ ساتھ سیریز کا بھی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔اس کے فوراً بعد متحدہ عرب امارات میں ہی پاکستان کا مقابلہ کرنے نیوزی لینڈ کی ٹیم پہنچی جس نے میزبان ٹیم کی غیر ذمے دارانہ بیٹنگ کی بدولت پہلا میچ 4رنز سے جیت کر سیریز میں برتری حاصل کی۔دوسرے ٹیسٹ میچ میں یاسر شاہ کی 14وکٹوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے نیوزی لینڈ کو یکطرفہ مقابلے کے بعد اننگز اور 16رنز سے مات دے کر سیریز برابر کردی۔دونوں ٹیمیں فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کے لئے ابوظہبی پہنچیں تو باؤلرز کے عمدہ کھیل کے باوجود ایک مرتبہ پھر بیٹنگ لائن نے دغا دے دیا اور نیوزی لینڈ نے میچ میں 123رنز سے فتح سمیٹ کر سیریز 1-2 سے جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔اس ٹیسٹ سیریز کے اختتام کے ساتھ ہی تجربہ کار آل راؤنڈر محمد حفیظ کا ٹیسٹ کیریئر بھی اختتام کو پہنچا جنہوں نے مستقل ناقص کارکردگی پر کھیل کے سب سے بڑے فارمیٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کردیا۔482 آسٹریلیا کے خلاف دبئی میںاکتوبر میں سب سے بڑا ٹوٹل تھا ،418/5 نیوزی لینڈ کے خلاف دبئی میں نومبر میں ،جبکہ 400/9 آسٹریلیا کے خلاف ابو ظہبی میں اکتوبر میں اسکور کئے،لیڈز میں جون میں 134 رنز انگلینڈ کے خلاف کمترین اسکور تھا،156 رنز نیوزی لینڈ کے خلاف ابو ظہبی میں دسمبر میں دوسرا کمترین اسکور رہا،سات کھلاڑی200 سے زائد رنز بناسکے،حارث سہیل نے8 میچز میں550 رنز39.28کی اوسط سے بنائے2 سینچریاں شامل تھیں،بابر اعظم نے 8 ٹیسٹ میں616 رنز56.00 کی اوسط سے بنائے،ایک سینچری اور6نصف سینچریاں شامل تھیں،اسد شفیق نے 9 ٹیسٹ میں 536رنزایک سینچری اور تین نصف سینچریوں سے 33.50کی اوسط سے بنائے،اظہر علی نے 9 ٹیسٹ میں517 رنز30.41 کی اوسط سے ایک سینچری اور چار نصف سینچریوں سے بنائے،سرفراز احمد نے337 رنز 9 ٹیسٹ میں24.07کی اوسط سے بنائے،دونصف سینچریاں شامل تھیں،امام الحق نے 8 ٹیسٹ میں391 رنز 30.07کی اوسط سے 3نصف سینچریوں سے بنائے،محمد حفیظ نے5 ٹیسٹ میں200 رنز22.22 کی اوسط سے ایک سینچری سے بنائے۔بالنگ میں محمد عباس نے سات ٹیسٹ میں 38 وکٹیں13.76 کی اوسط سے حاصل کیں5/33 بہترین جبکہ میچ میں10/95 بہترین رہی،یاسرشاہ نے 6 ٹیسٹ میں38 وکٹیں23.52 کی اوسط سے لیں8/41 بہترین جبکہ میچ میں14/184 بہترین کارکردگی تھی،حسن علی نے 6 ٹیسٹ میں22 وکٹیں26.09کی اوسط سے لیں5/45 اننگ میں اور7/83 میچ میں بہترین بالنگ رہی،بلال آصف نے 5 ٹیسٹ میں16 وکٹیں26.50 کی اوسط سے لیں6/36 اننگ میں اور 6/123 میچ میں بہترین کارکردگی تھی،محمد عامر نے 4 ٹیسٹ میں16 وکٹیں19.18کی اوسط سے لیں4/36 اننگ میں اور5/72 میچ میں بہترین کارکردگی تھی۔ان کے علاوہ کوئی اور دس یا زائد وکٹیں حاصل نہ کرسکا۔سرفراز احمد نے 8 میچز میں28 شکار کئے،دو اسٹمپڈ بھی اس میں شامل تھے،اسد شفیق،سرفراز احمد اور اظہر علی تمام 9ٹیسٹ میچز میں شریک رہے۔بابر اعظم اور امام الحق نے سات سات ٹیسٹ کھیلے،یہاں یہ بات واضح رہے کہ یہ تما م ریکارڈ جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ تک ہیں سینچورین ٹیسٹ اس میں شامل نہیں۔

(91 بار دیکھا گیا)

تبصرے