Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قومی ٹیسٹ ٹیم کے نئے اور ممکنہ کپتان کا نام سامنے آگیا

ویب ڈیسک اتوار 30 دسمبر 2018
قومی ٹیسٹ ٹیم کے نئے اور ممکنہ کپتان کا نام سامنے آگیا

لاہور۔۔۔۔۔ قومی ٹیسٹ ٹیم کے نئے اور ممکنہ کپتان کا نام سامنے آگیا، ذرائع کے مطابق سرفراز احمد ممکنہ طور پر دورہ جنوبی افریقہ کے اختتام پر ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیں گے، یاسر شاہ کپتانی کیلئے فیورٹ امیدوار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی ٹیسٹ ٹیم کے نئے اور ممکنہ کپتان کا نام سامنے آگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی ٹیسٹ کے موجودہ کپتان سرفراز احمد سے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی واپس لے لیے جانے کا واضح امکان ہے۔ جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ سرفراز احمد دورہ جنوبی افریقہ کے اختتام پر خود کپتانی چھوڑنے کا اعلان کر دیں۔ اس حوالے سے معروف صحافی مظہر عباس نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا کہ سرفراز احمد نے جنوبی افریقہ کے دورے کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی چھوڑنے پر غور شروع کردیا ہے۔
جبکہ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد کی جانب سے کپتانی چھوڑے جانے پر جادوگر سپنر یاسر شاہ قومی ٹیم کی کپتانی کے مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ تاہم اس بات کا حتمی فیصلہ دورہ جنوبی افریقہ کے بعد کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سرفراز احمد قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اپنی بیٹنگ فارم سے محروم ہوگئے ہیں اور ایک وقت میں اپنی بہترین بلے بازی کے لیے مشہور سرفراز احمد اس وقت اپنے بلے سے کوئی قابل ذکر اننگز کھیلنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔
31 سالہ سرفراز احمد اب تک بطور کپتان 11ٹیسٹ میچز کی 19اننگز میں محض25.33کی اوسط سے456رنز سکور کرسکے ہیں جن میں 3نصف سنچریاں شامل ہیں اور ان میں سے بھی دو نصف سنچریاں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف ابو ظہبی ٹیسٹ میں سکور کی تھیں ،یہ سرفراز احمد کی جانب سے قومی ٹیم کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے کسی بھی کپتان کی بلے بازی میں بدترین اوسط ہے۔ سرفراز احمد سنچورین ٹیسٹ میں دونوں اننگز میں صفر کی خفت سے دوچار ہوئے تھے جو کسی بھی پاکستانی کپتان کی جانب سے گزشتہ 16سال کے دوران اپنے کیے جانے والا شرمناک اعزاز تھا ۔ یاد رہے کہ سنچورین ٹیسٹ میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ایک ، صفر کی برتری حاصل کرلی تھی۔

(139 بار دیکھا گیا)

تبصرے