Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بے گھر افراد کو اب بھی گھر نہیں ملے، افتخارقائم خانی

ویب ڈیسک اتوار 30 دسمبر 2018
بے گھر افراد کو اب بھی گھر نہیں ملے، افتخارقائم خانی

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی صوبہ سندھ کا ایک انتہائی اہم ادارہ ہے جو پورے صوبے میں تعمیراتی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور مختلف نوعیت کو عمارتوں کی تعمیر و تکمیل سے متعلق ان کے نقشے پاس کرکے ان کی منطور ی دینے کا اختیار رکھتا ہے،ایس بی سی اے گزشتہ ایک عرصہ سے شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی بھر مار کے حوالے سے تنقید کی نظر رہا ہے اس صورت حال کے پیش نظر ایس بی سی اے کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل افتخار علی قائم خانی نے ادارے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسے سیمینار کے انعقاد کا فیصلہ کیا جس کا موضوع تھا کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹیز اور پرائیویٹ ہائوسنگ اسکیمیز کے مسائل ان کا حل اور تدارک ارینا کلب کارساز پر منعقد ہونے والے اس سیمینار کی خصوصیات یہ تھی کہ اس سیمینار کا انعقاد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور قومی احتساب بیورو کراچی کے اشتراک سے کیا گیا تھا، سیمینار میں عالمی کرپشن ڈے کے موقع پر اس سیمینار کے انعقاد کا مقصد کرپشن کے تدارک اور اس کے مضرا ثرات سے عوام الناس اور خواص کا آگاہ کرنا تھا اس سیمینار میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سینئر افسران سمیت چیئرمین ایسو سی ایشن آف بلڈرزاینڈ ڈیولپرز پاکستان محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین انور دائود، وائس چیئرمین عبدالکریم آڈھیا، اور آباد کے دیگر ممبران بھی موجود تھے، پروفیشنلز ، آرکیٹکس ، انجینئرز، پروفیسرز، سول سوسائٹی اور شہری حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات سمیت نیب کراچی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ہارون رشید، رجسٹرار کو آپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی کنور خان لغاری، ڈپٹی ڈائیریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ طارق قریشی، این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نعمان اور سابق ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کیپٹن فہیم الزماں وغیرہ نے شرکت کی، پرائیویٹ ہائوسنگ اسکیمز کو آپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹیز کے مسائل ان کی روک تھام اور مسائل کے حل کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی افتخار علی قائم خانی نے کہا کہ اس سیمینار کے موضوع سے ملتا جلتا تھیس میں نے ماسٹرز کرنے کے دوران تحریر کیا تھا، اس لیے میرے مطابق 5 اہم نقاط کے ذریعے اس کی وضاحت کی جاسکتی ہے کہ اسکیم نمبر 33اور شاہ لطیف ٹائون اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود آج تک تقریباً 60فیصد خالی کیوں ہے اس کی پہلی وجہ زمین کی ملکیت کے حامل ادارے کی جانب سے الاٹمنٹ سے اسکیم نمبر 33تقریباً 23000 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے اور اس اسکیم کے اعلان کرنے کا مقصد بے گھر افراد کو یہاں پر آباد کرنا تھا، لیکن یہاں ان لوگوں کو زمین الاٹ کی گئی جو کہ شہر کے مختلف علاقوں میں پہلے سے رہائش پذیر تھے، اور ان لوگوں کو گھر کی ضرورت نہیں تھی دوسرے نمبر پر جب سوسائٹیز نے اپنے ممبران کو پلاٹ الاٹ کیئے گئے تب بھی مذکورہ بنیادی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا، اور سوسائٹی کے ممبران سے زائد قیمت وصول کی گئی، رفاعی پلاٹوں کا غلط استعمال کیا گیا کچھ سوسائٹیوں میں اس دوران ترقیاتی کام کیئے جاسکے اور کچھ سوسائٹیوں کو ایسے رہنے دیے دیا گیا تیسرے نمبر پر پلاننگ ، لے آئوٹ، پلان اور منظوری ابتدائی طور پر درست دی گئی تاہم بعد ازاں خلاف ورزیاں کی گئیں اور جہاں خلاف ورزی کی جاتی ہے وہاں بد عنوانی جنم لیتی ہے چوتھے نمبر پر اس سوسائٹیوں میں انفراسٹرکچر تعمیر کرنے پر کام نہیں کیا گیا اور پانچویں نمبر پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنا کام صحیح طور پر سرانجام نہیں دیا اور بعض مقامات پر سنگین نوعیت کیخلاف ورزیاں کی گئیں چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہر کی 58فیصد آباد کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہے جو کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ناکامی ہے کیونکہ ایک بار اثر شخص متعلقہ حکومتی اداروں کی ملی بھگت کی وجہ سے زمین پر قبضہ کرکے اس پر تعمیرات کرکے فروخت کرتا ہے اس کے بعد سرکاری اداروں کے افسران ایسے شخص کو خود کو دوسرے مقام پر سرکاری زمین کی نشاندہی کرتے ہیں اور وہ اس پر بھی اسی طرح قبضہ کرکے فروخت کردیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاسٹ ٹریک ون ونڈو آپریشن کے تحت منظوری کا آغاز کرنا چاہیئے، اگر یہ نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کے تحت نہیں کیا جاسکتا تو ہم حکومت کی اس اسکیم کو نہیں کریں گے کیونکہ حکومت کی جانب سے ہائوسنگ اسکیموں کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے انہوں نے بد عنوانی کے خاتمے کیلئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی تنخواہوں میں اضافے کی سفارش بھی کی اور تنخواہوں میں اضافے کے بعد بھی جو افسر بد عنوانی میں ملوث پایا جائے اس کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی تجویز پیش کی نیب کراچی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ہارون رشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی میں زمین کے حوالے سے موجود قوانین پر ذرا برابر بھی کام نہیں کیا گیا، شیر شاہ سوری نے زمین کے حوالے سے قوانین مرتب کیئے جس کے بعد برطانیہ دور حکومت میں اس پر کام کیا گیا اور انہی قوانین پر آج بھی عملدرآمد کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ کراچی میں اپنی مرضی سے زمین کا تبادلہ کروالیا جاتا ہے شہر میں ناکلاس زمینیں موجود ہیں جبکہ کو آپریٹیو کو زمین کے بارے میں علم ہی نہیں ہے کہیں کوئی ایک کنٹرولنگ اتھارٹی نہیں ہے، ہر ادارہ اپنے طریقے سے زمین کی پلاننگ اور ڈیویلپمنٹ کرنے میں مصروف ہے۔
یہاں تک ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی بھی پلاننگ دکھائی نہیں دیتی اس لیئے برسوں پرانے سوسائٹیز ایکٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور کراچی کا لندن کی طرح ایک ہی میئر ہونا چاہیئے اور میئر پر کنٹونمنٹ بورڈز ، ڈی ایچ اے وغیرہ میں ترقیاتی کام کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیئے انہوں نے کہا کہ ایک شہر کے اتنے اسٹک ہولڈرز ہونے کی وجہ سے کھچڑی پک گئی ہے، انہوں نے کہا کہ ہائوسنگ سوسائٹیوں کے مسائل سیمینارز کی مدد سے حل نہیں کیئے جاسکتے ہیں، کیونکہ میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ سہراب گوٹھ کے علاقے میں ہر قسم کی منظوری ہونے کے باوجود علاقہ پولیس کی منظوری کے بغیر وہاں تعمیرات نہیں کی جاسکتیں انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو جلد منظوری دینی چاہیئے اور عوام کو چاہیئے کہ کسی بھی منصوبے میں بکنگ کرنے سے قبل اتھارٹی ہذا سے ضرور اس کی منظوری سے معلق معلومات حاصل کر لینی چاہیئے۔ رجسٹرارکو آپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی کنور خان لغاری نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کی خرابی کا ملبہ ہم پر ڈالا جارہا ہے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو شہر میں ہونیوالی غیر قانونی تعمیرات کی ذمہ داری قوبول کرنی چاہیئے اور اس کے ساتھ دیگر متعلقہ اداروں کو بھی اس مد میں ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے اور سپریم کورت نے بھی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے کے احکامات جاری کررکھے ہیں انہوں نے کہا کہ کراچی کو ملک کا دارالحکومت بنانے کے بعد سندھ یونیو بورڈ کو ختم کر دیا گیا تھا، تاہم کو آپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹیوں نے شہر کو خوبصورت بنایا اور سندھ ریونیو بورڈ ختم ہونے کے بعد پنجاب کا لو نیز ایکٹ کے تحت کام کیا گیا انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیئے بلکہ ہمیں مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیئے اور ہر ایک کو اپنی ذمہ داری قوبل کرنی چاہیئے، انہوں نے کہا کہ ہم کو آپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت کام کرتے ہیں جبکہ سوسائٹی کی انتظامیہ کے پاس تمام تر اختیارات ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ سوسائٹی کی رجسٹریشن کیلئے زمین کا ہونا شرط نہیں ہے یہ ہماری نہیں سوسائٹی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر کمپلینٹ سیل ندیم رشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبادی میں اضافے اور شہر میں توسیع کے پیش نظر کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے مختلف اسکیم کا اعلان کیا اور کچی آبادیوں کیلئے مناسب انفراسٹرکچر کی بنیاد نہیں رکھی گئی اس لیئے شہر میں ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ سوسائٹیاں قائم ہوئیں انہوں نے کہا کہ کو آپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی اور پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹی میں فرق ہوتا ہے، کو آپریٹیو سوسائٹی کیلئے اتھارٹی ہذا سے این او سی برائے تشہیر و فروخت حاصل نہیں کرنی پڑتی جبکہ سوسائٹی کے اندرونی ترقیاتی کاموں کی ذمہ داری سوسائٹی انتظامیہ کی ہوتی ہے اور بیرونی ترقیاتی کاموں کی ذمہ داری متعلقہ اداروں کی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نقص امن کی خراب صورتحال کی وجہ سے بھی سوسائٹیوں میں ترقیاتی کام نہیں کیئے جاسکے انہوں نے کہا کہ غیر منصوبوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے جن منصوبوں کیلئے اتھارٹی ہذا سے این او سی حاصل نہ کیا جائے ان کے اشتہارات بھی میڈیا کے ذریعے شائع کرنے سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے اور عوام الناس کو بھی غیر قانونی منصوبوں میں بکنگ کرنے سے اجتناب برتنے کی ضرورت ہے اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ طارق قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹیاں اپنے قوانین سے ہٹ کر کام کررہی ہیں اس میں بد عنوانیاں پائی جاتی ہیں۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر نعمان نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زمین کیا ہے اور اسے ڈیویلپ کرنے کا کیا طریقہ کار ہے کیا زمین ایک سماجی سرمایہ ہے یا پھر فروخت کی جانیوالی کوئی چیز ہے انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی یعنی کراچی کی آبادی کو 18کروڑ نفوس سے زیادہ بتایا گیا ہے ہمیں ان اعداد و شمار کو دوبارہ دیکھنا ہوگا ہمارے شہر میں 17لینڈ ڈیویلپمنٹ ایجنسیاں کام کررہی ہیں اور زیادہ تر زمین کی ملکیت حکومت سندھ کی ہے اور کوئی اراضی کی تقسیم کیلئے بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد نہیں کرتا جبکہ قانون کی پاسداری نہ کرنے سے بد عنوانی جنم لیتی ہے شہر کے متعد د مرتبہ ماسٹر پلان تیار کیئے گئے لیکن ضرورت کے مطابق انہیں سراہا نہیں گیا انہوں نے کہا کہ زمین کی خریداری ایک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے اس لیئے ہمیں مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔
گلزار ہجری کو آپریٹیو سوسائٹیز فیڈریشن کے چیئرمین بلال محمد اختر نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایڈمنسٹریٹرز نے سوسائٹیوں کو 25ارب روپے کا نقصان پہنچایا ، کمرشل اور رفاعی پلاٹوں کو انتہائی کم داموں پر فروخت کردیا جبکہ پلاٹ منسوخ کرکے غیرقانونی الاٹمنٹ کی گئیں اور ڈبل فائل بنا کر سوسائٹی کا اصل ریکارڈ غائب کردیا گیا جس کے باعث تمام ممبران لڑتے رہتے ہیں، ایڈمنسٹریٹرز کی وجہ سے تجاوزات قائم ہوئیں اور غیر قانونی بستیاں آباد کردی گئیں جس کی حکومت سندھ پر پرستی کررہی ہے اور نوٹیفکیشن نکال کر کچی آبادیوں اور غیر قانونی بستیوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے اور سوسائٹیوں کی زمین کے سیکٹرز پر نئی انٹریاں کرکے لے آئوٹ پلان پاس کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹیز فراہم کرنے والے ادارے غیر قانونی بستیوں کو کنکشن دے رہے ہیں لیکن سوسائٹیوں کو کنکشن نہیں دیے جارہے ، ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے سمیع صدیقی کی جانب سے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ڈی اے نوید اطہر نے ان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ مسائل کا حل تمام اسٹیک ہولڈرز کے ایک ساتھ کام کرنے سے کیا جاسکتا ہے ۔
اس سے ڈبل الاٹمنٹ کے مسائل بھی حل کیئے جاسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے کی جانب سے جلد چار نئے عوامی منصوبوں کا اعلان کیا جائیگا، کراچی میٹروپولیٹین کے سابق ایڈ منسٹریٹر کیپٹن فہیم الزماں نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلفٹن میں جس مقام پر بحریہ آئی کون تعمیر کیا جارہا ہے ۔
اس زمین کا ہائی کورٹ میں 2014 سے کیس زیر سماعت ہے لیکن 3-2سماعت کے بعد کوئی اور سماعت نہیں کی گئی جبکہ اس زمین سے متعلق نیب اینٹی کرپشن رینجرز سمیت تمام متعلقہ اداروں کو بتایا گیا لیکن اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا گیا حالانکہ اعلیٰ عدالتوں کو اس کیس کے متعلق سب کچھ بتایا ہے، سیمینار سے اختتام پر ڈائریکٹر ایس بی سی اے نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور معزز مہمانوں کو یاد گار کے طور پر اتھارٹی کا سوونیئر دیا گیا جبکہ مذکورہ سیمینار کا انعقاد کرنیوالی اتھارٹی ہذا کی کمیٹی کے ممبران میں بھی سوونیئر تقسیم کیئے گئے جن میں اسماغیور مشتاق سومرو، اشفاق کھوکھر اور ندیم وارثی شامل تھے، واضح رہے کہ مذکورہ سیمینار اپنی نوعیت کا پہلا سیمینار تھا جسے عوامی حلقوں نے بے حد سراہا اور اس نوعیت کے سیمینار سال میں تین چار مرتبہ منعقد کرانے کی استدعا کی اور آباد کو بھی اس طرح کے سیمینار منعقد کرانے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ عوام الناس کو اس سلسلے میں معلومات فراہم کی جاسکیں۔
سیمینار کے انعقاد میں ایس بی سی اے کے سینئر افسران مشتاق سومرو، اسماء غیور، ندیم رشدید، محمد ندیم وارثی اور اشفاق کھوکھر تقریب کے انتظامات میں خصوصی طور پر حصہ لیا اور مہمانوں کا خیر مقدم کرنے میں ڈی جی ایس بی سی اے ذوالفقار قائم خانی کے ساتھ پیش پیش رہے۔

(215 بار دیکھا گیا)

تبصرے