Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

2018ء سیاسی منظر نامے تبدیل ہوتے رہے

ویب ڈیسک اتوار 30 دسمبر 2018
2018ء سیاسی منظر نامے تبدیل ہوتے رہے

2018 ء رخصت ہورہا ہے‘ یہ سال اپنے ساتھ ساتھ سیاسی میدان سے کئی تلخ اورکئی شہر میں یادیں بھی ساتھ لے کر رخصت ہورہا ہے‘ شریف فیملی کیلئے جہاں یہ سال ایک ڈرائونا خواب ثابت ہوا‘ وہیں عمران خان کے کئی دہائیوں پر محیط خواب کوبھی اسی سال تدبیر ملی ‘ جاتے جاتے یہ سال کراچی سے تعلق رکھنے والے ایم کیو ایم کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضاعابدی کو بھی ساتھ لے گیا‘ شریف فیملی کی تنزلی کا آغاز 2017 ء میں ہوچکا تھا‘ مگر 2018 ء میں صورتحال قابو سے باہر ہوگئی‘ پانامہ کیس میں نواز شریف کے ریفرنس بھی سال رواں کا اہم ترین واقعہ ہے ‘ مگر نواز شریف کی نااہلی اوربیٹی مریم ‘ داماد صفدرسمیت سزا اور گرفتاری اس سے بھی زیادہ اہم ہیں‘ الیکشن 2018 ء میں تحریک انصاف کی کامیابی اور عمران خان کا وزیر اعظم بننا رواں سال کا ہی نہیں ملکی تاریخ کا اہم ترین واقعہ کہا جاسکتا ہے ۔ رواں سال تبدیل کا آغاز سینیٹ الیکشن میں ہی ہوچکاتھا‘ مگر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں حکومتی امیدوار کی ناکامی اور صادق سنجرانی کی کامیابی نے صورتحال مکمل طورپر تبدیل کردی اور مستقبل میں آنے والی تبدیلی کا بھی اشارہ دے دیا‘ سینیٹ الیکشن میں عرصہ بعد چیئرمین پیپلز پارٹی آصف زرداری متحرک اور فعال دکھائی دیئے اور چیئرمین سینیٹ کے لیے حکومتی امیدوار حاصل بزنجو کی شکست کے باعث بنے حالانکہ دونوں امیدوار بلوچ تھے اور دونوں کا بلوچستان سے ہی تعلق تھا‘ اس سے قبل جنوری میں وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کا استعفیٰ بھی حکمران جماعت (ن) لیگ کے لیے بڑا دھچکا تھا۔ فاٹا کے مکین ایک عرصہ سے ایف سی آر قوانین کے خلاف جدوجہد میں مصروف تھے‘ مالکان اور خواتین کے تسلط سے نجات اور پاکستانی عدالتوں سے رجوع کا حق چاہتے تھے‘ فاٹا کا صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام تحریک انصاف کے منشورکا حصہ تھا‘ مئی میں آخر کار فاٹا کے مکینوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے انہیں عام شہری کے حقوق دیتے ہوئے فاٹا اور فاٹا کے علاقوںکو باقاعدہ طورپر کے پی کے میں شامل کردیاگیا‘ اگر چہ بعض سیاسی جماعتوں نے فاٹا کو نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کررکھا تھا‘ مگرفاٹا کو صوبہ کا درجہ دینے کے بجائے کے پی کے کا حصہ بنادیاگیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے قیام سے قبل کرپشن کیس میں نواز شریف کو کسی بھی عوامی جدوجہد کے لیے تاحیات نااہل قرار دے دیا گیااور نواز شریف ‘ مریم اور صفدر کو سزاسنائی گئی‘ تینوں کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل بھیج دیاگیا‘ تاہم نیب کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کرکے رہائی کا حکم صادر کردیا‘ اس فیصلہ کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کررکھی ہے‘ نظر ثانی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس کے ریمارکس کے ’’مختصر فیصلہ اور اتنا طویل اور نواز شریف کی سزابحالی کے سوا کوئی چارہ نہیں ‘ نواز شریف کے مستقبل کا اشارہ دے رہے ہیں‘اگر چہ یہ ریمارکس تھے فیصلہ نہیں مگر ریمارکس کو مکمل طورپر نظر انداز نہیں کیاجاسکتا‘ نواز شریف کی سزا کی بحالی یا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ بحال رکھنے کے بارے میں نیب کی نظر ثانی اپیل پر بھی فیصلہ اسی سال ممکن دکھائی دے رہا ہے۔
2018 ء میںد ہشتگردی کا تسلسل بھی جاری رہا‘ خاص طورپر کے پی کے اور بلوچستان دہشتگر دی کا ہدف ہے‘ جولائی میں انتخابی مہم کے دوران بم دھماکہ میں اے این پی کے رہنما ہارون بلور سمیت متعدد افراد نے جام شہادت نوش کیا‘ اسی ماہ انتخابی مہم کے دوران بلوچستان کے علاقہ مستونگ میں بم دھماکہ میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے بھائی سمیت 130 افراد شہید ہوئے۔ 25 جولائی کو عام انتخابات کے روزبھی بم دھماکے میں 31 افراد جان سے گئے‘ مگر اس سے بڑا دھماکہ اسی شب عام انتخابات میں مرکز پنجاب ‘ کے پی کے میں تحریک انصاف کی کامیابی تھی‘ سندھ سے ایم کیوایم کی دبائو والی سیاست غنڈہ گردی ‘ قبضوں اور تخریب کاری کا خاتمے کاآغاز گزشتہ سال شروع کردیاگیاتھا‘ مگر2018 ء میں نہ صرف ایم کیوایم کی کمر توڑ دی گئی اور شہر قائد کے مکینو ںکو ایم کیوایم کی غنڈہ گردی سے بھی نجات ملی‘ سندھ اسمبلی میں اگر چہ ان کو کبھی اکثریت نہیں ملی تھی‘ مگر کراچی کی سیاست میں عرصہ بعد قومی سیاسی جماعتوں کو اہمیت نصیب ہوئی‘ پیپلزپارٹی اگر چہ واحد اکثریتی جماعت کے طورپر سامنے آئی تاہم کراچی میں تحریک انصاف کے امیدوارں کی کامیابی نے کراچی کو قومی دھارے میں شامل کردیا‘ عام انتخابات کے بعد حسب توقع پیپلزپارٹی نے سندھ میں حکومت بنائی‘ مرکز اور خیبر پختونخوا میں توقع کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت ہوئی‘ تاہم پنجاب میں(ن) لیگ کی حکومت قائم ہونے کی پیش گوئیاں جارہی تھیں‘ مگر تحریک انصاف نے پنجاب کے شہری اور دیہی حلقوں میں (ن) لیگ کا بھرپور مقابلہ کرکے معمولی سبقت حاصل کی‘ جو بعد میں آزاد امیدواروں کی تحریک انصاف میں شمولیت سے سادہ اکثریت میں تبدیل ہوگئی او ر تحریک انصاف پنجاب میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی‘ اسی سال عمران خان کو 22 سالہ جدوجہد کا ثمر ملااور تحریک انصاف نے (ن) لیگ ‘ پیپلزپارٹی ‘ متحدہ مجلس عمل سمیت تمام روایتی سیاسی جماعتوں کو شکست فاش سے دوچار کیا‘ پنجاب میں انہوںنے روایتی خاندانوں کوپس پشت ڈال کر سردار عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ کیلئے امیدوار نامزد کیا‘ پارٹی کے اندر سے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی گئی مگر عمران خان اپنے فیصلے پر قائم رہے اور عثمان بزدار ثابت قدمی سے آگے بڑھتے رہے ‘ پنجاب میں قبضہ گروپوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرکے کھربوں روپے کی اراضی واگزار کرائی ‘ بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں کا قیام اور ان میں کھانے‘ بستر‘ علاج معالجہ کی سہولت کی فراہمی بھی ان کا بڑا کارنامہ ہے‘ رواں سال چیف جسٹس سپریم کورٹ بھی بہت فعال دکھائی دیئے‘ انہوںنے بہت سے ایسے معاملات کا از خود نوٹس لیا‘ جو قومی اہمیت کے حامل تھے اور عرصہ دراز سے نظر انداز کئے جارہے تھے‘ زیر زمین پانی کا ضیاع روکنے ‘ نئے ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈ کا قیام بڑھتی آبادی کو روکنے کے لیے اقدامات کراچی سے تجاوزات کے خاتمہ منرل واٹر کمپنیوں کی طرف سے پانی اور ٹیکس چوری لاہورمیں قبضہ گروپوں کے خلاف اقدامات ‘ آسیہ مسیح کی رہائی جیسے فیصلے کرکے چیف جسٹس نے نئی عدالتی تاریخ رقم کی‘ اگر چہ آخری فیصلہ کے خلاف ملک میں پر تشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا‘ جس کے نتیجے میں مولانا خادم حسین رضوی کو گرفتار کیاگیا۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بھی ادارہ کو پہیئے لگائے اور نیب تیزی سے حرکت میں آگیا‘ منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری کے خلاف گھیرا تنگ ہوا‘ انور مجید کے ذریعے قومی سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کی تحقیقا ت کا آغاز ہوا‘ فریال تالپور کو بھی اس کیس میں نامزد کیا گیا‘ بلاول کو بھی نیب نے نوٹس جاری کئے‘(ن) لیگ کے سربراہ شہباز شریف کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیاگیا‘ حمزہ شہباز کو بیرون ملک جاتے ایف آئی اے نے جہاز سے اتار لیا‘ سلمان شہباز کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز ہوا‘ شہبار شریف کے داماد علی عمران کے خلاف بھی کروڑوں کی کرپشن کے الزام میں ریفرنس دائر کیاگیا‘ سابق وزیر ریلوے سعد رفیق کو بھا ئی سلما ن رفیق سمیت پیراگون ہائوسنگ اسکینڈل میں گرفتار اور مہنگے ریلوے انجن‘ ادویات ‘ مشینری خریدنے کے الزام میں گرفتار کرکے تحقیقات کا بھی آغازکیاگیا۔018 2ء میں بہت سی اہم شخصیات انتقال کر گئے‘ جن میں اہم ترین تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا عبدالوہاب شامل ہیں‘ مرحوم نے اپنی تمام عمر تبلیغ واشاعت دین میں بسر کی‘ ان کے مریدین معقد ین کی تعداد لاکھوں میں ہے ‘ انسانی حقوق کی رہنما معروف ماہرقانون عاصمہ جہانگیر بھی اسی سال جدا ہوئیں‘ مولانا سمیع الحق کا قتل بھی رواں سال کا بڑا سانحہ تھا‘ مولانا کی افغانستان میں امن کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں‘ قومی سطح پر ملک میں آنے والی تبدیلیوں کے علاوہ پاکستان کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی اہم پیش رفت سامنے آئی‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات ‘ ملائیشیا‘ چین نے پاکستان کی اقتصادیات کی بحالی کے لیے بڑے پیکیج دے کر آئی ایم ایف سے نجات اور دیوالیہ پن کے خطرے سے نجات دلائی‘ پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ نے مقدس شخصیات کے گستا خانہ خاکوں کے خلاف قرار داد منظورکی‘ پہلی مرتبہ کسی پاکستانی وزیراعظم نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیںڈال کر بات کی اور امریکہ کا’’ڈومور ‘‘ کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ امریکہ افغان جنگ میں مسلسل شکست سے بددل ہوچکا ہے اور اب افغانستان میں اپنی موجودگی برقرارکھتے ہوئے طالبان جنگ سے نجات کا خواہش مند ہے اس سلسلے میں جنگ کے بجائے امریکہ نے مذاکرات کو فوقیت دی اورطالبان سے مذاکرات کے لیے بھی پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کی ‘ پاکستان کی کوششو ں سے دبئی میں امریکہ اور طالبان قیادت میں مذاکرات جاری ہیں۔ سال رواں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وجبر اور قتل و غارت کی انتہاکردی ‘ آئے روزآٹھ ‘ دس کشمیریوں کا قتل ‘ بیلٹ گنوں میں فائرنگ معمول ہے‘ اس کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی میں تیزی آئی اور دنیا کو بھارتی مظالم سے آشنائی ہوئی‘ فلسطینیوں نے بھی اسرائیل کے خلاف اسی سال بہت سی قربانیاں دیں ‘ البتہ روہنگیا مسلمانوں کو تھوڑا ریلیف ملا‘ بھارت میں حکمران جماعت کو ریاستی انتخابات میںشکست کا سامنا کرنا پڑا‘ البتہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ کرپشن کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کامیاب مہم چلائی گئی‘ جس کے بعد اعلیٰ عدلیہ بھی کرپشن کے خاتمے کی مہم میں عملی طورپر شریک ہوگئی‘ طویل عرصہ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت فوج اور عدلیہ ایک صفحہ پر ہیںاور ان میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے ‘ 2018 ء میں ہی حکومت سازی سے قبل اپوزیشن کا گرینڈ الائنس وجود میں لانے کوشش کی گئی‘ مگر نواز شریف کے جیل میں ہونے اور شہباز شریف کے پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف ’’تندو تیز بیانات کی وجہ سے فضل الرحمن کی کوشش باآور نہ ہوئی۔ تاہم اپوزیشن آج بھی قانون سازی میں رکاوٹ ہے اور نیب قوانین میں ترامیم پر بضد ہے‘ اس جمودکو توڑنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے کرپشن مقدمات میں گرفتار اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا سربراہ بنا دیااور اسے اپوزیشن نے وزیر اعظم کا خوبصو رت یوٹرن قرار دیا‘ اس اقدام پر بعض حلقوں نے تنقید بھی کی‘ تاہم اس فیصلے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ سال رواں مستقبل کی بنیاد رکھی گئی‘ حکومت نے ان کاموں پر توجہ دی جو عرصہ دراز سے نظر انداز کئے جارہے تھے‘ مگر جن سے قومی ترقی ‘ عوامی خوشحالی منسلک تھی‘ اگر حکومت اسی جذبے سے قدم بڑھاتی رہی تو آئندہ سال حکومت کچھ بڑے اقدامات کرنے کے قابل ہوسکے گی اور ملک وقوم ترقی وخوشحالی کے راستے پر گامزن ہوجائیں گے‘ کرپشن کا خاتمہ ہوگا‘ معیشت ‘ صنعت ‘زراعت ‘ برآمدات کے شعبے بحال ہوںگے‘ بیروز گاری غربت اور جہالت میں کمی آئے گی۔
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اتر
وہ فصل گل جسے اندیشئہ زوال نہ ہو
2018 ء کے اختتام پر بہت پر امیداور 2019 ء کا آغاز بہت امید افزا ہے‘ آغاز بہت اچھا ہواا اور انجام خداجانے ۔

(75 بار دیکھا گیا)

تبصرے