Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جنسی ہراسانی کا معاملہ انو ملک کی حمایت ‘سونو نگم پیش پیش

ویب ڈیسک هفته 29 دسمبر 2018
جنسی ہراسانی کا معاملہ انو ملک کی حمایت ‘سونو نگم پیش پیش

بھارتی گلوکار سونو نگم ’می ٹو مہم‘ کی زد میں آنے والے بھارتی معروف موسیقار انوملک کی حمایت میں میدان میں آگئے۔ بھارتی ٹی وی شو میں بات کرتے ہوئے سونو نگم نے کہا کہ بالی وڈ میں کئی لوگوں نے اپنی طاقت اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور میں اس بات کا گواہ ہوں۔ انو ملک پر ہراسانی کا الزام لگا ، اس کے جواب میں انو ملک بھی بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن وہ کچھ نہیں کہہ رہے۔ سونو نگم کا کہنا تھا کہ ثبوت نہ ہونے کے باوجود بھی انو ملک پر لگائے گئے الزامات کو درست مانا جارہا ہے اور انہیں بدنام کیا جارہا ہے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ان پر پابندی کیوں لگائی جارہی ہے؟، ان کی روزی روٹی کے ذریعے کو کیوں بند کیا جارہا ہے، ان کے خاندان کو اذیت کیوں دی جارہی ہے؟ ہمیں کس نے یہ حق دیا ہے کہ ہم ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے فیصلہ کریں؟، اگر ایسا کرنا ہے تو پھر ان کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم کئے جائیں۔ بھارتی گلوکار کا کہنا تھا کہ میری بھی دو بہنیں ہیں، میں ’می ٹو تحریک‘ کے حق میں ہوں لیکن اس حد تک نہیں کہ کسی کے کام پر پابندی لگادی جائے‘ ان کے خاندان کو سزا نہ دی جائے‘ جس لڑکی نے انو ملک پر ہراسانی کا الزام لگایا، اسی کی جانب سے ایس ایم ایس پر انو ملک کو ہولی اور نئے سال کی مبارک باد دی جاتی ہے۔ کس معاشرے میں ثبوت کے بغیر اتنی بڑی تہمت لگائی جاتی ہے؟، کیا ہم جنگل راج میں رہ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گلوکارہ شویتا پنڈت نے الزام لگایا تھا کہ انو ملک نے انہیں اس وقت جنسی طور پر ہراساں کیا تھا جب وہ صرف 15 سال کی تھی جب کہ بالی ووڈ کے معروف گیت نگار سمیر نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شویتا جس دن کا واقعہ بتا رہی ہے وہ اس وقت وہیں تھے اور ایسا کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔یاد رہے کہ بالی ووڈ میں کئی سپر ہٹ گانے دینے والی گلوکارہ شویتا پٹیل نے اپنی ’’می ٹو‘‘ کہانی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ 2001ء میں جب وہ بالی ووڈ انڈسٹری میں قدم جمانے کی کوشش کررہی تھیں اس وقت انہیں انوملک کے مینیجر کافون آیاتھا اور انہیں گانے کے آڈیشن کے لیے بلایاگیاتھا۔آڈیشن کے بعد انو ملک نے مجھے کہا کہ وہ مجھے سنیدھی چوہان اور گلوکار شان کے ساتھ گانا گانے کا موقع دیں گے لیکن پہلے مجھے انہیں بوسہ دینا ہوگا، شویتا نے کہاکہ اس وقت میری عمر صرف 15 برس تھی اور میں اسکول میں پڑھتی تھی اور انہیں ’’انو انکل‘‘ کہتی تھی، یہ میری زندگی کا سب سے برا تجربہ تھا۔دوسری جانب انوملک مختلف خواتین کی جانب سے لگائے جانے والے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد انڈین آئیڈل سے باہر ہوگئے ہیں۔

(115 بار دیکھا گیا)

تبصرے