Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 23 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

تبدیلی اور مسائل

ندیم رضا هفته 29 دسمبر 2018
تبدیلی اور مسائل

پاکستان میں 1960 کے بعد سے مختلف شکلوں میں “مسائل” کو بیچا جاتا رہا ہے۔ اس میں مختصر وقفوں کے بعد شدت آتی رہی۔ مذہب کے نام پر تو کبھی برادری اور زبان کے نام پر مسائل بیچے گئے۔ مرکز کی طرح صوبوں اور شہروں میں مخصوص حالات کے تحت “مسائل” کی بولی لگائی گئی۔ کراچی میں بھی مخصوص سوچ کے حامل افراد نے زبان اور مذہب کے نام پر “مسائل” کو فٹ پاتھوں اور ہر گلی محلے میں خوب بیچا۔ ایوب خان کے دور سے شروع ہونے والا سلسلہ ہئیت اور شکل تو تبدیل کرتا رہا لیکن رکا یا روکا کبھی نہیں گیا۔۔ سب نیان مسائل ہی پر سیاست کی ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاست بھی صرف ایک لفظ “مسائل” کے گرد گھومتی رہی لیکن مسائل نے لاسٹک کی ہئیت اختیار کر لی جو ضرورت کے تحت کھینچتی ہی چلی جاتی ہے۔ کراچی میں کبھی کوٹہ سسٹم، حلق تلفی، امتیازی سلوک اور کبھی بھتہ کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار مختلف شکلوں اور ادوار میں گرم رہا۔ ایک طرف شہر قائد کے باسی مذہب اور کبھی زبان کی بنیاد پر مسائل کی گتھی میں الجھتے رہے تو دوسری جانب یہ کھیل کھیلنے والے ملک اور بیرون ملک اپنی تجوریاں بھرتے چلے گئے۔ شہر میں آسیب کا وہ سایہ رہا کہ بوڑھے جوانوں کی لاشوں پر نحیف آوازمیں نوحہ خوانی کرتے رہے
جب بھی شہر قائد میں حالات کچھ بہتر ہوتے ہیں پھراس شہر پر کہیں نا کہیں سے خوف کے سائے بڑھا دیے جاتے ہیں۔ ایسے ہی دیرپا امن کی کوشش میں مصروف ایم کیو ایم کے نوجوان اور خوبرو سابق رکن قومی اسمبلی سید علی رضا عابدی کو کراچی کے پوش ترین علاقے ڈیفنس میں قتل کردیا گیا۔ علی رضا عابدی کو انہی کے گھر کی دہلیز پر قتل کیا گیا۔ جس اسلحہ سے علی رضا عابدی پر فائرنگ کی گئی وہ ہی 30 بور کا پستول 10 دسمبر کو لیاقت آباد میں ایک نوجوان احتشام کے قتل میں استعمال کیا گیا۔ احتشام کو بھی گھر کے باہر مارا گیا۔ اس سے پہلے 23 دسمبر کو رضویہ سوسائٹی میں پاک سرزمین پارٹی کے دفتر پر فائرنگ سے 2 کارکن جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے۔ 9 دسمبر کو گلستان جوہر میں ایم کیو ایم پاکستان کی محفل میلاد میں دھماکا ہوا۔ اس میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ جب کراچی کو نوحہ لکھا جارہا تھا تو پھر کراچی کے علاقے لائنز ایریا سے 27 دسمبر کی رات کو اطلاع آئی کہ مہاجر قومی موومنٹ کے کارکن حماد کو گھر کے باہر قتل کر دیا گیا۔
پے درپے دہشت گردی کے بڑھتے حملوں کے بعد مستقبل کا خطرہ بھانپتے ہوئے ہی علی رضا عابدی مہاجر رہنماوں کو یکجا کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ منتشر مہاجر قیادت بھی اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پہلے سے زیادہ سرگرم ہو چکی ہے۔ چیئرمین مہاجر اتحاد تحریک سلیم حیدر، ڈاکٹر فاروق ستار اور فیصل سبزواری سمیت کئی رہنما کہہ چکے ہیں علی رضا عابدی مہاجروں کو یکجا کرنے کی کوشش کررہے تھے اور ان کی جانب سے بہت جلد مہاجر اتحاد فورم کا اعلان کیا جانا تھا۔ اس فورم میں ایم کیو ایم پاکستان اور ڈاکٹر فاروق ستار گروپ کے سرکردہ افراد بھی شامل ہو رہے تھے۔ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی پاک سرزمین پارٹی اور مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کی جانب سے بھی اس فورم میں شمولیت کے امکانات تھے۔
ایم کیو ایم کو بانی قائد الطاف حسین کی 22 اگست 2016 کی متنازعہ تقریر کے بعد مقدمات ، گرفتاریوں اور طرح طرح کی غیر اعلانیہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن 5 فروری سے پارٹی قیادت کے لیے شروع ہونے والی کھینچا تانی نے تنظیم کو مزید انتشار کا شکار بنا دیا۔۔ ایم کیو ایم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ڈاکٹرفاروق ستار کی جانب سے پارٹی ا?ئین میں تبدیلی کی کوشش انہیں آسمان سے زمین پر لے آئی۔ اس غلطی نے انہیں رابطہ کمیٹی میں تنہا کردیا۔ عامر خان ، خالد مقبول صدیقی فیصل سبزواری اور کنور نوید جمیل کے اتحاد نے 5 فروری 2018 کو فاروق ستار کو اختلافات پر کھل کے بات کرنے پر مجبور کیا۔
فروری کی 5 تاریخ سے جولائی تک 6 ماہ کے دوران ایم کیو ایم بہادر آباد اور ایم کیو ایم پی آئی بی میں ہونے والی بیان بازی نے نا صرف کارکنوں بلکہ بلدیاتی قیادت کو بھی تقسیم کردیا ہے۔ سربراہی کی عدالتی جنگ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے جتنے کے بعد فاروق ستار کو عام انتخابات کے لئے ٹکٹ جاری کرنے سے محروم کردیا یوں ڈاکٹر فاروق ستار پارٹی میں واپس تو آئے لیکن الیکشن میں شکست کے بعد بہادر آباد رابطہ کمیٹی کی جانب سے سرد مہری محسوس کرتے ہوئے۔ رابطہ کمیٹی سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے۔ فاروق ستار کی ایم کیو ایم میں دوبارہ واپسی کے بعد ان کے ہم خیال کامران ٹیسوری اور شاہد پاشا ان سے دور چلے گئے۔ فاروق ستار ایم کیو ایم میں احتساب کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں۔ بائیس 22 اگست 2016 کے بعد ٹکڑوں میں بٹنے والی جماعت کو یکجا کرنے کے لیے مہاجر سیاست کو علی رضا عابدی نے ایندھن فراہم کر دیا ہے۔ اب مہاجر قیادت کے اتحاد کی خبریں ڈرائنگ رومز سے نکل کر باہر آچکی ہیں۔ پی ایس پی ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (بہادر آباد ، پی آئی بی ) مہاجر قومی موومنٹ حقیقی اور دیگرروٹھے ہوئے مہاجر سیاست دانوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی غیراعلانیہ کوششوں کا اعتراف برملا ٹی وی چینلز پر بھی کیا جانے لگا ہے۔
سندھ میں پاکستان تحریک انصاف حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کو اسمبلی میں اور اسمبلی سے باہر کافی ٹف ٹائم دے رہی ہے۔ کراچی میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر متحدہ قومی موومنٹ کا بلاشرکت غیرے قبضہ تھا لیکن 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے جگہ بنالی ہے۔ سندھ اسمبلی کے 168 رکنی ایوان میں سے پیپلز پارٹی نے 99، تحریک انصاف نے 30، ایم کیو ایم پاکستان نے 20، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے 14، نومولود جماعت تحریک لبییک نے 3 اور متحدہ مجلس عمل نے ایک نشست جیتی۔ 2013 کے انتخابات کا موسم ایم کیو ایم کے لیے سازگار تھا۔2013 میں پیپلز پارٹی کی 94، ایم کیو ایم پاکستان 50، مسلم لیگ فنکشنل کی 9، مسلم لیگ ن کی 7، تحریک انصاف 4، نیشنل پارٹی ایک اور ایک آزاد امیدوار منتخب ہوا۔ ایم کیو ایم کی تقسیم نے 2018 کے انتخابی نتائج یکسر تبدیل کر دیے۔ 50 سیٹوں والی جماعت صرف 20 سیٹیں لے سکی اور 4 نشستیں لینے والی تحریک انصاف 30نشستیں لے اڑی۔ پیپلز پارٹی پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئی۔ اس اتار چڑھاو کی بنیادی وجہ ایم کیو ایم کی تقسیم در تقسیم تھی۔
ایم کیو ایم پاکستان میں ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی بھاری اکثریت کے ساتھ سندھ میں سیاہ و سفید کی مالک بن گئی۔ لیکن اسلام آباد سے اٹھنے والی تبدیلی کی ہوا تیزی سے سندھ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاونٹس کی تحقیقات اور پھر جے آئی ٹی رپورٹ نے سندھ کی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری،ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، بلاول بھٹو اور وزیر اعلی سید مراد علی شاہ سمیت 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانے سے تو بہت کچھ واضح ہوگیا ہے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے بھی شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کے گھڑی خدابخش جلسے میں حکومت کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ہے۔ سونامی کی رفتار سے سندھ کی بدلتی صورت حال پر ایم کیو ایم کے گروپوں کو جس طرح متحرک ہونا چاہیے تھا اپنی نام نہاد انا اور دھڑے بندیوں کی وجہ سے وہ حکمت عملی اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ سندھ باالخصوص کراچی کی بدلتی صورت حال پر سیاسی پنڈت بادشاہ گروں پر نظر جمائے بیٹھے ہیں کہ اگر منتشر متحدہ پھر سے متحد ہو گئی تو سیاسی میدان میں گھوڑے اور پیادے سرپٹ دوڑیں لگائیں گے۔ گھوڑوں کے سموں سے اڑنے والی گرد فضا آلودہ کر دے گی۔ اسی گرد آلود ماحول میں کئی مہرے مضبوط اور ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے مورچوں سے ہٹ جائیں گے۔ خالی مورچوں پر نئے محافظ پوزیشنز سنبھال لیں گے۔ اس مرتبہ مسائل پر صرف باتیں، سیاسی نعروں اور بیان بازیوں سے کام نہیں چلے گا۔ کراچی کے عوام عملی طور پر اپنے “مسائل” کا حل چاہتے ہیں۔


(328 بار دیکھا گیا)

تبصرے