Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

خطرے کی گھنٹی

عمران اطہر هفته 29 دسمبر 2018
خطرے کی گھنٹی

متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن قومی اسمبلی اور کراچی کے فعال سیاسی رہنما علی رضاعابدی کے قتل نے ایک بار پھر کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھا دیئے ہیں کیونکہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے پوش اور محفوظ ترین تصور کیے جانے والے علاقے میں انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ سابق ایم کیو ایم رہنما کو ٹارگٹ کرکے قتل کرنا نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوال ہے بلکہ سندھ حکومت کے لیے بھی دہشت گردوں کا کھلا چیلنج ہے جس کا دعویٰ تھا کہ کراچی سے دہشت گردوں کا صفایا کرکے شہر قائد کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنادیا گیاہے تاہم موت کے سوداگروں کی جانب سے محض دس سیکنڈ میں انجام دی جانے والی اس خونی واردات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کراچی کا امن پائیدار نہیں اور دہشت گر د عناصر جب چاہیں حساس اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کرکسی کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کا علاقہ اگرچہ شہر کا محفوظ ترین ایریا تصور کیا جاتا ہے تاہم صرف تین دنوں کے دوان یہ ایسی دوسری بڑی واردات تھی جس میں سیاسی رہنما ؤں کو نشانہ بنایا گیا ، اس واقعے سے دو روز قبل پاک سرزمین پارٹی کے دفتر پر حملہ کیا گیا تھا جس میں پی ایس پی کے دو کارکن جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان دو بڑے واقعات نے شہر کے امن کے لیے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردوں کی کمرمکمل طور پر نہیںتوڑی جاسکی جس کا ایک بڑا ثبوت گزشتہ ماہ کلفٹن کے علاقے میں چینی قونصل خانے پرکیا جانے والا دہشت گرد حملہ بھی ہے۔ ان واقعات سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ یہ کیا جارہا تھا کہ کراچی کا امن واپس آگیااورروشنیاں بحال کردی گئی ہیں۔ لیکن ان واقعات نے نہ صرف ان دعووں کی قلعی کھول دی ہے بلکہ حکومت کی کمزوریاں بھی واضح کردی ہیں۔ کراچی میں اس قسم کی کارروائیوں کا ایک مرتبہ پھر شروع ہوجانا تشویشناک بات ہے کیونکہ چند سال قبل شہر قائد میںقتل وغارت کا کلچر کچھ زیادہ ہی پروان چڑھا تھا بہت بڑے پیمانے پر سیاسی مخالفین کو قتل کیا جاتا رہا ہے بلکہ اس نوعیت کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ اپنی ہی پارٹی کے اندر اختلاف کرنے والوں کے ساتھ بھی کچھ اچھا سلوک نہیں ہوتا تھا تاہم رینجرز کے ایکشن کے بعد صورتحال بہتر ہورہی تھی اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تھم گیا تھا لیکن اب پھرگزشتہ چندروز سے رونما ہونے والے واقعات نے ایک مرتبہ پھر کراچی کے شہریوںکو پریشا ن کردیا ہے اور کاروباری و تجارتی حلقے بھی اس تشویش میں مبتلا ہونے لگے ہیں کہ کیا پھر کراچی کا امن تباہ و برباد ہوجائے گا ۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں اگرچہ یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ سیاستدان ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں مگر وہ اپنے اس اصل دشمن سے بے خبر ہیں جو کہیں بھی اور کبھی بھی ان کی جان لے سکتا ہے۔ یہ دشمن کرائے کے قاتلوں کے ذریعے سے نہ صرف خونی کھیل، کھیل رہا ہے بلکہ شہر کے امن کو بھی تہہ وبالا کرنے کے درپے ہے۔اگرچہ علی رضاعابدی کے قتل کی تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس واردات میں بھارت کا ہاتھ بھی ملوث ہوسکتا ہے لیکن اس امر سے بھی تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت نے مقامی دہشت گردوں کی مدد کے بغیر یہ کارروائی نہیں کی ہوگی لہذا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کا یہ کہنا اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں۔
علی رضا عابدی کے قتل کی تحقیقات کے دوران یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیںاور انہوں نے انتظامیہ سے تحفظ دینے کی درخواست بھی کی تھی جس کی تصدیق متحدہ قومی موومنٹ کے ایک اور سابق رہنما ڈاکٹر فاروق ستا ر نے بھی کی ہے ، تاہم ان سے وہ سیکورٹی بھی واپس لے لی گئی جو چند ماہ قبل تک انہیں حاصل تھی۔ دھمکیوں کی اطلاع دینے اور سیکیورٹی کی فراہمی کی درخواست کے باوجود انہیں تحفظ نہ دینا انتہائی غلط اقدام تھاکیونکہ میڈیا میں حالیہ آنے والی رپورٹس میں بھی واضح کیا گیا ہے کراچی میں دہشت گرد نیٹ ورک پھر فعال ہورہے ہیں اور جیلوں کے اندر تک بیٹھے قاتلوں کے نیٹ ورک اپنا کام کررہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اورعدالتیں ان رپورٹس کو خاطر میں نہیں لارہیں اور اس کے نتیجے میں جیلو ں کے اندربھی دہشت گرد نیٹ ورک منظم ہورہے ہیں اور پھر ملک دشمنوں سمیت بیرونی طاقتیں بھی اس طرح کے لوگوں کو استعما ل کررہی ہیںجیسا کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کے حوالے سے دوران تحقیقات یہ پتہ چلا تھا کہ اس میں بھی کراچی سینٹرل جیل میں منظم دہشت گرد نیٹ کو افغان دہشت گرد گروپ اسلم اچھو نے استعمال کیا ۔
اگرچہ اس امر سے انکار نہیں کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی رکا ہے تاہم اسٹریٹ کرائمز اور ڈکیتی کی آڑ میں قتل و غارت گری کا سلسلہ کسی نہ کسی طور پر جاری رہا ہے اور اس کا ثبوت سی پی ایل سی کی جانب سے سال2018کے بارے میں جاری کردہ جرائم کی رپورٹ ہے جو اس امر کی گواہ ہے کہ نہ صرف اسٹریٹ کرائمز اور رہزنی سمیت ڈکیتیوں کا سلسلہ پورے سال جاری رہا بلکہ متعدد افراد فائرنگ کا نشانہ بن کر اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔علی رضا عابدی کے قتل اور پی ایس پی کے دفتر پر حملے سمیت حالیہ واقعات سے تو بظاہرتو ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی کا ایک وقفہ آیا تھا،اور اب بتدریج ان میںاضافہ ہوتا دکھائی دے رہاہے ۔ سابق ایم کیو ایم رہنما کا قتل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے در حقیقت اس لیے بھی بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ کراچی میں پولیس کے سرکردہ افسران سمیت ڈی جی رینجرز کی جانب سے تواتر سے یہ دعویٰ کیا جاتارہا ہے کہ کراچی میں دہشت گرد وں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور انٹیلی جنس نیٹ ورک مضبوط بنائے جانے کے بعد دہشت گردی کی کسی بڑی کارروائی کے خطرے کو کم سے کم کردیا گیاہے ۔ تاہم علی رضا عابدی کے قتل سے پہلے ایک اطلاع یہ بھی سامنے آئی تھی کہ صرف ایک دو نہیں بلکہ25کے قریب ایسے سیاستدان ہیں جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے اور ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ جبکہ اس سلسلے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ علی رضا عابدی خود کئی بار حساس اداروں کو یہ اطلاع دے چکے تھے کہ ان کو دھمکیاں مل رہی ہیں لہذا ان کو تحفظ فراہم کیا جائے، تاہم ان کو جو سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی وہ بھی واپس لے لی گئی۔علی رضا عابدی کے قتل اور اس سے قبل ہونے والے چند واقعات سے ایسا لگ رہا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی نئی لہر واپس آرہی ہے۔بالخصوص دہشت گردی کے سلیپر سیلز کا پھر قائم ہونا اور جیلوں میں ملک دشمن عناصر کے نیٹ ورک کا فعا ل ہونا سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کے لیے کھلی دھمکی ہے کیونکہ علی رضا عابدی کے قتل اور پی ایس پی کارکنان پر فائرنگ کے واقعہ کو ایک ہی سلسلے کی کڑی سمجھا جارہا ہے ،لہذابیک ٹو بیک واقعات کے بعد کراچی میں سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات ضروری ہوچکے تھے تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سیکیورٹی الرٹ پر توجہ نہیں دی ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حالا ت بظاہر پھر بگڑتے دکھائی دکھائی دے رہے ہیں اور اس سے پہلے کہ صورتحال پھر سے سنگین ہو، حکومت کو ان واقعات کا فوری نوٹس لیتے ہو ئے نہ صرف اپناانٹیلی جنس ورک تیز کرنا ہوگا بلکہ جن رہنماؤں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں ان کو فوری سیکیورٹی فراہم کرنا ہوگی ورنہ شہر قائد ماضی میں جس عذاب سے دوچار رہا ہے خدانخواستہ اب اگر اس صورتحال سے دوچار ہوا تو انسانی جانوں سمیت پہلے سے کمزوری کا شکار معیشت بھی دم توڑ دے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(165 بار دیکھا گیا)

تبصرے